سیکولر جناح؟۔

43

احمد سعید
(دوسرا اور آخری حصہ)
یہ بات بھی کیسی عجیب لگتی ہے کہ1912ء میں اسی سیکولر جناح نے بحیثیت ِ رکن امپریل قانون ساز کونسل میں اسلامی قانون وقف علی الاولاد کا مسودہ پیش کیا اور اسے قانونی حیثیت دلوائی۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ہندستان کی آئینی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کونسل نے ایک پرائیویٹ ممبر (Private Member) کے بل کو قانونی شکل دی تھی۔(وحید احمد(مرتب) ، The Nation’s Voiceجلد ہفتم، قائداعظم اکادمی، کراچی،2003ء ، ص 153)
قائداعظم کو’سیکولر‘ بنانے کے لیے ان کی 11اگست1947ء کی تقریر کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ قائداعظم نے شاید اپنی تمام سیاسی زندگی میں صرف 11اگست کو ہی تقریر کی تھی، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ آیئے اس تقریر کا جائزہ لیتے ہیں:
سب سے پہلے تو یہ وضاحت کر دی جائے کہ قائداعظم کی تقاریر کے مندرجہ ذیل مجموعے اب تک شائع ہوچکے ہیں:
٭محمدعمر کی مرتبہ: Rare Speeches ، 1910ء تا 1918 (مطبوعہ صفحات:251) ٭جمیل الدین احمد مرحوم کی مرتبہ: Speeches and Writings of Mr. Jinnah(شیخ محمد اشرف، لاہور،2جلدیں)، ٭ڈاکٹر وحید احمد کی مرتب کردہ: The Nation’s Voice(چھے جلدیں)، ٭ ڈاکٹر ایم رفیق افضل کی مرتبہ: Speeches in the Legislative Assembly(مطبوعہ ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان، لاہور، صفحات:388)، ٭ڈاکٹر ایم رفیق افضل ہی کی Selected Speeches and Statements of the Quaid-i-Azam، ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان، لاہور، مئی1973ء ، صفحات: 475، قائداعظم کی تقاریر بحیثیت گورنر جنرل 1947ء تا 1948ء، ٭گفتارِ قائداعظم، 1911تا1947ء ، مرتبہ احمد سعید۔
تقاریر کے یہ مجموعے ثابت کرتے ہیں کہ قائداعظم نے 11اگست 1947ء کی تقریر کے علاوہ بھی تقاریر کی تھیں۔ قائداعظم کی پبلک زندگی کی آخری تقریب سٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب تھی جس میں آپ نے معاشی ماہرین پر زور دیا تھا کہ چوں کہ سرمایہ داری نظام اور سوشلسٹ نظام انسانی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے وہ دْنیا کے سامنے اسلامی نظام کی خصوصیات لے کر آئیں۔
11اگست کی تقریر کے بارے میں بے شمار غلط فہمیاں پیدا ہوچکی ہیں جن کا دْور کیا جانا نہایت ضروری ہے۔2005ء میں اے آر وائی ٹیلی ویڑن پر ایک مو?رخ نما دانش ور نے ایک مضحکہ خیز دعویٰ یہ کیا ہے کہ ’حکومت نے قائداعظم کی اس تقریر پر پابندی لگا دی تھی‘۔ اور یہی غیرمنطقی بات ضمیر نیازی نے بھی لکھی۔
سوال یہ ہے کہ آیا یہ پابندی حکومت ِ پاکستان نے عائد کی تھی یا جواہر لال نہرو کی حکومت ِ ہند نے یا پھر برطانوی حکومت نے؟11اگست کو حکومت ِ پاکستان تو ابھی معرضِ وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔ ابھی تک حکومت انگریز کی تھی۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستان بننے سے تین دن پہلے ہی مسلم لیگ کاروبارِ حکومت و ریاست پر کنٹرول حاصل کرلے؟ اگر ایسا ہونا ممکن نہیں تو پھر وہ کس طرح یہ پابندی عائد کرسکتی تھی۔ دوسرا یہ کہ پنڈت نہرو کی حکومت کے لیے یہ بہترین موقع تھا کہ وہ قائداعظم کے نظریات میں تبدیلی کے معاملے کو اْچھالتی لیکن مسئلہ یہاں بھی یہی ہے کہ پنڈت جی نے 14اگست کو اپنے عہدے کا حلف اْٹھایا تھا۔ رہی برطانوی حکومت تو اس کا بھی مفاد اسی میں تھا کہ وہ اس تقریر پر پابندی لگانے کے بجاے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی، مگر اس کے بھی کوئی مظاہر سامنے نہیں آتے۔
قائداعظم کی 11اگست1947ء کی تقریر کو اس کے سیاق و سباق سے علیحدہ کرکے اس کے اصل مفہوم کو سمجھنا ایک لاحاصل امر ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قائداعظم نے اپنی اس تقریر میں اقلیتوں کے حوالے سے جو کچھ کہا، وہ کوئی اَنہونی یا نئی بات نہیں تھی۔ قائداعظم کی تقاریر میں آپ کو جابجا اقلیتوں کے حوالے سے یہی کچھ نظر آتا ہے، مثلاً 10نومبر 1946کو بنگال کے فرقہ وارانہ فسادات پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے آپ نے ہندو اور مسلمانوں دونوں سے اس قتل و غارت کو بند کرنے کی اپیل کی۔(احمد سعید (مرتب) گفتارِ قائداعظم، اسلام آباد، 1976 ،ص303)
26مارچ1946کو قائداعظم نے گوہاٹی میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا پورا تحفظ کیا جائے گا اور انھیں تمام جائز مراعات حاصل ہوں گی۔ اس کے متعلق کسی قسم کے خوف یا بدگمانی کی ضرورت نہیں۔ وہ پاکستان کے ایسے ہی آزاد شہری ہوں گے جیسے کسی اور مہذب ملک کے ہوسکتے ہیں‘‘۔(بحوالہ پیسہ اخبار،10مارچ 1946 ، گفتارِقائداعظم، ص294)
یکم جولائی 1947 کو پاکستان اچھوت فیڈریشن کے صدر اور لاہور میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر سکھ لال نے قائداعظم سے دہلی میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ایک بیان میں انھوں نے اس ملاقات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ: ’’قائداعظم نے مہربانی سے پاکستان میں اقلیتوں کے بارے میں تمام شکوک و شبہات کو دْور کردیا ہے اور مسٹر جناح نے یہاں تک کہا ہے کہ ہم رنگ و نسل اور ذات پات کی تمیز کے بغیر بھائیوں کی طرح رہیں گے‘‘۔(وحید احمد (مرتب)،The Nation’s Voiceجلدششم، قائداعظم اکادمی، کراچی ،200ء،ص25)
13جولائی1947ء کو قائداعظم نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں اقلیتوں کو یقین دلایا کہ’’ ان کے مذہب، ثقافت، جان اور جایداد کی حفاظت کی جائے گی اور وہ پاکستان کے مکمل شہری ہوں گے اور اس سلسلے میں کسی سے کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔(بحوالہ پیسہ اخبار، 24جولائی1947، گفتارِقائداعظم، ص313)
13جولائی 1947کو قائداعظم کی پریس کانفرنس کے بعد آئین ساز اسمبلی کی 11اگست کی تقریر ایک تسلسل ہے اور اس پس منظر میں کی گئی ہے کہ نہ صرف مشرقی پنجاب بلکہ دہلی، یوپی اور ہندستان کے دیگر صوبوں میں مسلم کش فسادات اپنے عروج پر تھے جس کا ردعمل مغربی پنجاب میں بھی ظاہر ہوا۔ اب ایک طرف تو انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور دوسری جانب ہندو اور سکھ صنعت کار اپنا سرمایہ سمیٹ کر ہندستان منتقل ہورہے ہیں اور یوں پاکستان کو دہری ضرب لگ رہی ہے۔ اس آگ و خون کے پس منظر میں قائداقلیتوں کو یقین دلا رہے ہیں نہ کہ وہ اپنے ’سیکولر‘ ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں ہم اس دور کے چند اخبارات کے تراشے پیش کرتے ہیں:
آل انڈیا مسلم لیگ کا ترجمان ڈان ابھی دہلی سے شائع ہورہا تھا۔ قائدکی یہ تقریر12اگست کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ ڈان نے اس تقریر کی جو سرخیاں جمائیں وہ ملاحظہ فرمایئے:Jinnah Assures Minorities of Full Citizenship and asks for Co-operation
ایک سابق کانگریسی اور اشتراکی خیالات کے طرف دار لیڈر میاں افتخار الدین کے اخبار پاکستان ٹائمز نے اپنی13اگست کی اشاعت میں قائداعظم کی مذکورہ تقریر کا مکمل متن جس پر درج ذیل سرخیاں لگائی گئی تھیں، شائع کیا۔ اگر یہ تقریر قائد کے پرانے خیالات سے براء￿ ت اور سیکولرازم کی قبولیت کا اظہار ہوتی تو کم از کم میاں افتخار الدین کا اخبار اس طرف تھوڑا بہت اشارہ ضرور کرتا۔ اخبار پاکستان ٹائمز کی سرخیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ یہ تقریر اقلیتوں کو یقین دہانیوں کا چارٹر ہے نہ کہ اپنے سیکولر ہونے کا اعلان۔ تین سرخیاں ملاحظہ ہوں:
– Jinnah calls to concentrate on Mass welfare.
– Hope for End of Hindu-Muslim distinction in Politics.
– Equal rights for all citizens in Pakistan State.
قائداعظم کے متعلق برطانوی سیاست دانوں اور اخبارات کا معاندانہ رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لارڈ لن لنلتھگو (Linlithgow) کی سوانح، پنڈرل مون کی مرتب کردہ لارڈ ویول کی ڈائری اور مائونٹ بیٹن کی سوانح اور انٹرویو کا ایک ایک لفظ قائد کے خلاف زہر اْگلتا نظر آتا ہے۔ برطانوی پریس کے معاندانہ رویے کے جائزے کے لیے ڈاکٹر کے کے عزیز کی کتاب Britain, India and Pakistanکا مطالعہ کافی ہوگا۔ اب اگر قائداعظم اپنی اس تقریر کو سیکولرازم کی قبولیت کا ذریعہ بنا رہے ہیں تو کم از کم لندن کے اخبار ٹائمز کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ قائداعظم کے کردار کی منافقت کو ظاہر کرتا۔ ٹائمز کے13اگست کے شمارے میں ص۶ پر یہ تقریر اس سرخی کے ساتھ شائع ہوئی تھی:A Call for Tolerance۔یاد رہے کہ اخبار نے یہ تقریر کراچی میں اپنے خاص نمائندے کے حوالے سے شائع کی تھی۔
1949ء میں ایس اے آر بلگرامی نے کراچی سے ایک کتاب Pakistan Yearbook شائع کی تھی، جس میں قائداعظم کی مذکورہ بالا تقریر ص 8 تا 15 پر موجود ہے۔ اس تقریر پر یہ سرخی جمائی گئی ہے: Jinnah’s Charter of Minorities Announced
اقلیتوں ہی کے حوالے سے ایک اور نہایت اہم واقعہ اس تقریر کے ٹھیک تین دن بعد پیش آتا ہے، جو ہمارے اس دعوے کو مزید تقویت بخشتا ہے کہ قائد ہرگز ہرگز اپنے گذشتہ عقائد و نظریات سے دست بردار نہیں ہوئے تھے۔ 14اگست1947 کو مائونٹ بیٹن نے انتقالِ اقتدار کے وقت اپنی تقریر میں یہ اْمید ظاہر کی کہ: ’پاکستان میں اقلیتوں کے سلسلے میں اکبر بادشاہ کی تقلید کی جائے گی‘۔ اس کے جواب میں قائداعظم نے کہا کہ:
اکبر بادشاہ کی وہ رواداری اور نوازش جو اس نے اپنی غیرمسلم رعایا پر کی، کوئی حالیہ اختراع نہیں بلکہ تیرہ سو سال قبل ہمارے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں اور یہودیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد نہ صرف لفظی بلکہ عملی طور پر عالی ظرفی اور فیاضی کا سلوک کیا تھا۔ آپ? نے ان سے حددرجہ رواداری کا برتائو کیا اور ان کے مذہب اور عقائد کا احترام کیا۔ مسلمانوں کی تمام تاریخ جہاں جہاں انھوں نے حکمرانی کی، ایسے ہی تہذیب و شائستگی سکھانے والے عظیم اصولوں سے بھری ہوئی ہے جن پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔(وحید احمد (مرتب) ،The Nation’s Voice،جلدششم، ص377)
قائداعظم کے سیکولر ہونے والے معاملے کا ایک اور دل چسپ پہلو یہ ہے کہ اگر وہ سیکولر تھے تو ان کی قائم ہونے والی ریاست بھی سیکولر ہونی چاہیے۔ اس بارے میں خود قائداعظم کا کیا موقف تھا؟ سنیے: 13جولائی 1947 کو دہلی میں آخری پریس کانفرنس کے دوران آپ نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے مذہب، عقیدہ، زندگیوں، جایدادوں اور ثقافت کی مکمل حفاظت کی جائے گی اور وہ تمام معاملات میں پاکستان کے مکمل شہری تصور ہوں گے۔
پریس کانفرنس میں ایک اخباری نمایندے نے سوال کیا کہ:’کیا پاکستان ایک سیکولر ریاست ہوگی یا مذہبی (Theocratic)؟‘ قائداعظم نے اس پر کہا کہ: ’آپ جو سوال پوچھ رہے ہیں وہ بے معنی اور فضول(absurd) ہے۔ مَیں نہیں جانتا کہ تھیوکریٹک سٹیٹ کا کیا معنی ہے۔ ایک اخباری نمایندے نے کہا کہ: ’تھیوکریٹک سٹیٹ کا مطلب ہے کہ وہ ریاست جہاں مسلمانوں کو تو مکمل شہریت حاصل ہو، جب کہ غیرمسلموں کو یہ حیثیت حاصل نہ ہو‘۔ قائداعظم نے کہا کہ: ’اس کا مطلب ہے کہ اس سے پہلے میں نے جو کچھ کہا وہ بطخ کی پشت پر پانی ڈالنے کے مترادف ہوا۔ خدا کے لیے اپنے ذہنوں سے اس بکواس (nonsense) کو نکال دو‘۔ ایک اور نمایندے نے گرہ لگائی کہ: ’شاید سوال پوچھنے والے کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی ریاست، جسے مولانا حضرات چلائیں گے‘۔ اس پر جب قائداعظم نے کہا کہ: ’ہندستان میں پنڈتوں کی حکومت کے متعلق کیا خیال ہے؟‘ تو سب نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔(وحید احمد (مرتب) ،The Nation’s Voice،جلدششم، ص283)

حصہ