دلوں کی کشادگی

29

افروز عنایت
میڈم رخسانہ: (غصے سے) مس زرین یہ ہے آپ کا کام Untidy…
پھر میڈم نے بچوں کی حاضری کا رجسٹر مس زرین کے سامنے پٹخ دیا (جبکہ اس رجسٹر میں زیادہ کام پچھلی ٹیچر کا ہی تھا) 35۔ 40 اساتذہ اس وقت اسٹاف روم میں موجود تھے۔ مس زرین کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ یہ ملازمت ان کی مجبوری تھی۔ وہ اپنے شوہر کی محدود تنخواہ کی وجہ سے اس ملازمت کے لیے گھر سے نکلی تھیں۔ ان کے تینوں بچے تعلیم حاصل کررہے تھے۔ مس زرین کوملازمت کا کوئی تجربہ نہ تھا جبکہ یہ جز وقتی ملازمت تھی۔ ان سے کہا گیا تھا کہ اگر پرانی استانی واپس آگئیں تو آپ کی چھٹی…
مس زرین کو آئے ہوئے 15 دن ہی ہوئے تھے۔ وہ بڑی محنت اور احتیاط سے اپنا کام کر رہی تھیں، لیکن انہوں نے نوٹ کیا کہ ان پندرہ دنوں میں میڈم کا رویہ ان کے ساتھ بڑا تلخ ہے، جبکہ میڈم کی ماتحت بڑی شفیق خاتون تھیں۔ مس زرین انہی کی رہنمائی میں ہر کام کررہی تھیں۔ ان کی کوشش تھی کہ میڈم رخسانہ کا ان سے سامنا نہ ہو، لیکن تقریباً روزہی کسی نہ کسی بات پر میڈم انہیں کوئی تلخ بات کہہ دیتیں۔ حالانکہ مس زرین ایک ذہین اور محتاط خاتون تھیں، چھوٹی عمر میں شادی کے بعد انہیںبہت سی تلخیوں سے واسطہ پڑا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر قدم سنبھل سنبھل کر اٹھاتی تھیں۔
٭…٭…٭
مس شبانہ: میڈم اس بات کا بھی اب کوئی حل ہونا چاہیے، پہلا پیریڈ اتنا چھوٹا ہوجاتا ہے کہ پانچ چھ منٹ حاضری لینے، پھر ایک دو اور کام نمٹانے میں پانچ چھ منٹ گزر جاتے ہیں، صرف پندرہ منٹ مشکل سے ملتے ہیں (مس شبانہ کے بولنے پر مزید چار پانچ ٹیچر یہی شکایت کرنے لگیں)۔
میڈیم: پہلے پیریڈ کا دورانیہ پانچ منٹ بڑھا دیا گیا، پھر بھی آپ لوگوں کی طرف سے شکایات آرہی ہیں!
فرسٹ فلور پر تمام سیکنڈری کلاسز ہیں، سیکنڈ فلور پر پرائمری… اس لیے ہمیں ہر صورت میں پرائمری کلاسز کو ہی پہلے اوپر بھیجنا پڑتا ہے، ورنہ وہ تو ان دس منٹ میں ایک ہنگامہ کھڑا کردیں۔ اس لیے اس چیز کا کوئی اور حل نہیں۔ (مس زرین اس تمام عرصے میں اپنی کاپیاں چیک کرنے میں مصروف تھیں، حالانکہ انہیں بھی اس چیز کی شکایت تھی کیونکہ وہ خود بھی کلاس ٹیچر تھیں)
مسز حق: (میڈم کی ماتحت) آپ لوگوں کو کوئی حل نظر آرہا ہے تو بتائیں۔
مس حق کی بات پر زرین نے ان کی طرف دیکھا۔
مسز حق: آپ… زرین کچھ کہنا چاہتی ہیں؟
مس زرین: میڈم… اگر پیچھے والی سیڑھیوں کو بھی استعمال کیا جائے، میرا مطلب ہے وہ سیڑھیاں نویں، دسویں جماعتوں کی لائنوں کے قریب بھی ہیں، بچوں کو صرف پیچھے کی طرف مڑنا ہوگا۔ اس طرح نویں، دسویں کی 8 جماعتیں پانچ منٹ میں فرسٹ فلور (پہلی منزل) پر پہنچ جائیں گی، اس طرح دس منٹ بچ جائیں گے۔
مسزحق: (تعریفی نظروں سے زرین کی طرف دیکھتے ہوئے) آپ کی بات معقول لگ رہی ہے، اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
٭…٭…٭
مسز حق: میڈم، آزمانے میں کیا حرج ہے! مجھے تو مس زرین کی بات صحیح لگ رہی ہے۔
میڈم رخسانہ: یہ بھی تو دیکھو اگر ہم اس کی بات پر عمل کریں گے تو وہ نئی ٹیچر ہمارے سر پر چڑھ جائے گی، اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگے گی۔ اسے اتنا سر پر نہ چڑھائو۔
مسز حق کو میڈم کی بات بری لگی، وہ ہر نئی آنے والی استانی سے ایسا ہی رویہ اختیارکرتی تھیں، جس کی وجہ سے بہت کم استانیاں رک پاتی تھیں۔
مسز حق: میڈم، ہم آج لنچ ٹائم میں تمام استادوں کے سامنے اس بات کو اسکول مالکن کی رائے بتائیں گے۔
٭…٭…٭
اگلے دن اسمبلی ختم ہوئی تو نویں اور دسویں کے بچوں کو پچھلی سیڑھیوں سے پہلی منزل پر بھیجا گیا جس سے کافی نمایاں فرق سامنے آیا۔ صرف یہی ایک موقع ایسا نہ تھا کہ جس میں مس زرین کی ذہانت کی نشاندہی ہوئی، بلکہ بعد میں کئی ایسے مواقع آئے، جنہیں دیکھ کر میڈم رخسانہ کو بھی احساس ہوا، لیکن وہ اپنی عادت سے مجبور تھیں، ان کے اس تلخ رویّے کی بنا پر مس زرین نے دو سال بعد نئی برانچ میں اپنا تبادلہ کروا لیا جس پر میڈم رخسانہ بہت تلملائیں کہ میں نے سب کچھ تمہیں سکھایا اور جب تم سیکھ گئی ہو تو اپنا تبادلہ دوسری شاخ میں کروا لیا۔
٭…٭…٭
میڈم رخسانہ جیسی ذہنیت کے بہت سے لوگ ہمیں اپنے چاروں طرف نظر آتے ہیں، جو نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے اُن کے راستوں میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ نئے آنے والوں کے لیے اپنے دلوں کو کشادہ رکھنا ضروری ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی سے ان کے کاموں میں بہتری آتی ہے۔ مس زرین نے ایک مرتبہ مجھے بتایا کہ مسز حق کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی میرے ساتھ نہ ہوتی تو شاید میں اپنے اتنے نجی مسائل کے باوجود اس اسکول میں چند دن بھی کام نہ کرپاتی۔ ویسے بھی نئے ماحول اور نئی جگہ پر ایڈجسٹ ہونے اور مطابقت پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اگر ماحول سازگار ہو تو نہ صرف نیا آنے والا جلد مطابقت پیدا کرلیتا ہے بلکہ اسے سکون سے کام کرنے کا موقع میسر آتا ہے جس کی بنا پر اس کے کام میں بہتری آتی ہے۔ میں اپنی ہی مثال لیتی ہوں، میرے اسکول کی میڈم (مسز مرزا) نے میری ہر قدم پر نہ صرف حوصلہ افزائی کی اور سراہا، بلکہ اکثر وہ مجھے کہتی تھیں کہ تم میں یہ خوبی ہے، تم ہی یہ کام کرسکتی ہو۔ اس طرح نئے ماحول میں، پُرسکون اور خوشگوار فضا میں میری بہت سی ایسی خوبیاں بھی اجاگر ہوئیں جن سے میں خود بھی واقف نہ تھی۔ اس طرح میں ان سطور میں جسارت میگزین کے لکھاریوں اور خصوصاً اجمل بھائی کی تعریف ضرور کروں گی کہ انہوں نے مجھ نئی لکھنے والی کو نہ صرف سراہا بلکہ خاص جگہ دی ہے۔
اسی طرح گھروں میں بھی اہلِ خانہ نئے آنے والے، خصوصاً گھر کی بہو کے لیے نہ صرف دل کشادہ رکھیں بلکہ اس کی چھوٹے چھوٹے کاموں میں حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ جو پیچھے اپنے اتنے پیارے رشتے چھوڑ کر نئے رشتے استوار کرنے آئی ہے، اسے ان رشتوں کو نبھانے میں آسانی ہو۔ یہ سب اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب گھر والے اُسے پُرسکون ماحول میسر کریں۔ اگر بہو میں کوئی خوبی ہے تو سراہا جائے، اگر وہ زیادہ تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند ہے تو اس کی قدر کرنی چاہیے، اگر اس سے کوئی غلطی سرزد ہورہی ہے تو ایک بیٹی کی طرح اس کی اصلاح کریں۔ نہ کہ اسے دوسروں کے سامنے تنقید کا نشانہ بنائیں اور رسوا کریں۔ افہام و تفہیم سے گھر کے اندر ہی مسائل کو سلجھانے کی کوشش کی جائے۔ اکثر لڑکیاں سسرال سے بدظن اور دور اسی لیے ہوجاتی ہیں۔ دوسری طرف ایسی اچھی سوچ اور ذہنیت کے لوگوں کی قدر کرنا بھی لازمی ہے جو نئے آنے والوں کو راستہ دیتے ہیں، بلکہ ان کے لیے راستے سنوارتے ہیں، ان کی ہر قدم پر رہنمائی و حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ کیونکہ ایسے ہی لوگ خوشنما معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

حصہ