تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ

36

مریم بتول
تعلیم انسان کی بنیادی ضروریات میں سے سب سے اہم ضرورت ہے اگر ہم تخلیق آدم سے دیکھیں تو بھی سب سے پہلی چیز جو نظر آتی ہے وہ علم ہے اللہ تعالی نے آدم علیہ اسلام کو اشیاء کے نام سکھائے اور علم کا یہ سلسلہ چلتے چلتے آکر نبی مہرباں پہ روکا۔ آپ پر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی وہ تھی ’’اقراء‘‘ یعنی (اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا۔ اس کے بعد آپ پر جو وحی نازل ہوئی اس میں آپ کو کہا گیا کہ اب لیٹنے کا وقت نہیں آپ پر ایک بھاری ذمے داری ڈال دی گئی ہے لہٰذا اب اس کی تیاری کریں یعنی اب علم کے بعد عمل کا وقت ہے۔
علم انسان کے اندر شعور بیدار کرتا ہے اور انسان کو خود شناسی اور خدا شناسی سیکھاتا ہے لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ صرف علم انسان کے اندر یہ صلاحیت پیدا کر دیتا ہے تو یہ درست نہیں،علم کے ساتھ ساتھ تربیت بہت ضروری ہے۔ انسان دو سال کی عمر میں بولنا سیکھ جاتا ہے لیکن کیا؟ کیسے؟ اور کب بولنا ہے یہ وہ سوالات ہیں جو علم کے ساتھ ساتھ تربیت ہو تو ہی حل ہو پاتے ہیں ورنہ انسان ساری زندگی گزار کر چلا جاتا ہے اور وہ ان سوالات کے جوابات تلاش نہیں کر پاتا۔
اگر ہم نبی مہربانؐ کی زندگی پر نظردوڑایں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ آپ نے نا صرف زبان سے دعوت دی بلکہ اپنے عمل سے دعوت دی۔ جو کہا اس پر عمل کر کے بھی دیکھایا۔ کہا کہ ’’سچ بولو‘‘ تو خود بھی اس پر عمل کیا کہ صادق و امین کہلائے۔ کہا کہ کہو ’’میرا رب ایک ہے اور اس پر ڈٹ جائو‘‘ پھر خود اس پر ڈٹ کر دیکھایا۔ کہا ’’لوگوں کہ قصوروں کو معاف کر دیا کرو‘‘ تو خود اس پر عمل کر کے دکھایا کہ وہ ہندہ جس نے آپ کے عزیز چچا کا کلیجہ چبا دیا تھا اس کو بھی معاف کر دیا۔ غرض زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں کہ جس پر عمل نا کر کے دیکھایا ہو۔
قرآن پاک میں بھی اللہ تعالی نے علم و عمل اور قول و فعل کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے۔ ’’تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے‘‘، (البقرہ:44) ایک اور جگہ فرمایا ’’اے لوگو!جو ایمان لائے ہو تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں‘‘۔ (الصف:2_3)
آج اگر ہم معاشرے میں نظر دوڑایں تو ایک جملہ ’’پڑھے لکھے جاہل‘‘ بہت گردش کرتا نظر آتا ہے۔ تو یہ وہی جاہل ہیں جن کے پاس علم تو ہوتا ہے لیکن ان کو اس علم کو عملی جامہ پہنانے کی تربیت نہیں دی گئی ہوتی،جن کو یہ علم تو دیا گیا کہ ’’ہمیشہ سچ بولو کیونکہ سچ نجات دلاتا ہے‘‘ لیکن جب بھی سچ بولنے کا وقت آیا تو کبھی مصلحت،تو کبھی مصالحت کے نام پر جھوٹ بلوایا گیا,جنکو یہ علم تو دیا گیا کہ ’’بڑوں سے ادب سے بات کرو‘‘ لیکن دوسری ہی طرف ان ہی کے سامنے اپنی عمر سے کہیں گنا بڑے ملازم کی عزت کی دھجیاں اڑا دی گئیں لہٰذا بچے نے یہ جملہ صرف اور صرف علم کی حد تک لے لیا۔
انسانی نفسیات ہے کہ وہ زباں سے زیادہ عمل سے سیکھتا ہے۔ انسان تو اشراف المخلوقات ہے ہم اگر اس کے علاوہ بھی باقی مخلوقات کو دیکھیں تو ’’تربیت‘‘ وہاں پر بھی اک لازمی عنصر ہے کیونکہ علم اور عمل لازم و ملزوم ہیں اور عمل کے لیے ضروری ہے کہ علم کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی تربیت دی جائے ورنہ خالی علم انسان کے کسی کام کا نہیں۔ انسان اگر عمل کے بغیر محض علم کی بدولت کوئی کامیابی حاصل کر بھی لے تو وہ وقتی ہوگی اور وہ ’’پڑھا لکھا جاہل‘‘ ہی کہلائے گا۔

حصہ