تاریخ جب دہرائی گئی

48

اسد اللہ ابراہیم
(آخری حصہ(
خوشبو کی اس زمین سے رہبر کاملﷺ کو بھی ربانی خوشبو آتی تھی، کیونکہ اس زمین پر ماضی قدیم میں اللہ کے کئی نبیوں نے توحید کے چراغ جلائے اور یہیں مدفون ہوئے۔بشارت نبویﷺ کے مطابق یہ وہ زمین ہے جس کے حصول کے لیے ابوہریرہؓ سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار تھے۔ لیکن بعد میں مسلمانوں کو آپس کے جھگڑوں میں اتنی فرصت نہ رہی کہ اس پر خاطر خواہ توجہ دیتے۔حالانکہ نبی رحمتﷺ کے حیات میں ہی جنوبی ہند کے علاقے مالابارمیں اسلام کی کرن پہنچ چکی تھی۔ان سیاسی چپقلش سے بیزار اولیاء اللہ اور ان میں بالخصوص خاندان اہل بیت کے بعض افراد نے دعوت دین کے لیے اس زمین کا رخ کیا۔سیاسی طور پر محمد بن قاسم سندھ کی زمین پر آئے لیکن وہ بھی آپس کی سیاسی چپقلش کی وجہ سے زیادہ بارآور ثابت نہ ہوسکے۔ تاہم اللہ کے بندوں نے انفرادی طور پر کام جاری رکھا جس کے تحت مقامی لوگ متاثر ہوکر ایک اللہ کی بندگی میں اپنے آپ کو سپرد کرنے لگے۔ لیکن ایران سے لے کر ہند تک قابض آرین اس دعوت کے اثر کو نہ روک سکے تو انہوںنے چالاکی سے اس دعوت توحید میں شامل ہوکر تصوف کا وہ رنگ دے دیا جو آج بھی جاہلانہ رسوم اور قبرپرستی کی صورت میں مسلمانوں کے اندر موجود ہے۔
پھر بڑی دیر بعد محمودغزنوی سے ہندوستان باضابطہ آمد کا سلسلہ شروع تو ہوا لیکن اس کے محرکات بھی سیاسی تھے نہ کہ دین اسلام کی ترویج ۔ابتداََ غزنوی سے لے کر تغلق اور غوری دور میں پھر بھی کچھ نہ کچھ اشاعت اسلام کا کام ہوتا رہا۔ اس دور میں اسلام کے بنیادی مزاج کے مطابق مظلوم ہندوؤں کو جابر طبقے سے نجات دلانے کی کوشش کی گئی اور یہی کوشش بہاروبنگال سے لے کر دکن تک کی فتوحات کا باعث بنی۔ اس کے بعد جب مغل آئے تو انہوں نے اپنے ذاتی اقتدار کے لیے نہ صرف اپنوں کا خون بہایا بلکہ اقتدار کے دوام کے لیے ہندوؤںکے جابر طبقے سے دوستیاں قائم کیں۔جس کے نتیجے میں توحید کے علمبرداروں کے خود ایوان حکومت میں دین الٰہی کے نام پر کفر و شرک نے راہ پکڑی۔ان حالات میں اللہ رب العالمین نے مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسے مجددین کو پیدا کیا۔ان بزرگوں اور ان کے مصاحبین نے حتی المقدور مسلمانوں کو واپس اپنے ڈگرپرلانے کی کوشش کی۔کچھ اصلاح تو ہوئی لیکن مجموعی طور پر بگاڑ موجود رہا۔لہٰذا ان کی سزا یہ ٹھہری کہ انگریزوں کے ہاتھوں انہیں غلامی کا طوق پہنایا گیا۔جب انہیں احساس غلامی نے ستایا تو آزادی کے لیے پھر اللہ سے رجوع ہوئےاور عہد کیا کہ اللہ کی بندگی میںنظام چلائیں گے۔اللہ رب العالمین نے وہ زمین دے دی جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا ،لا الٰہ الااللہ‘‘۔زمین حاصل کرنے کے بعد وعدے سے پھرنے لگے اور جب اللہ کے بندوں نے اس کے خلاف جدو جہد کی تو انہیں پابند سلاسل کیا گیا۔آخر کارسید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ اور شبیر احمد عثمانیؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد کے نتیجے میںقرارداد مقاصد کے ذریعے اللہ کی حاکمیت اعلیٰ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے تو ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر لگ گئے۔ایک حصہ پاکستان ہی رہا اور دوسرا حصہ بنگلہ دیش کہلایا ۔بنگلہ دیش میں بھی اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن وہ اسلام کو نظام زندگی قبول کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔اور وہاںجو لوگ اسلام کو نظام زندگی اپنانے کے داعی ہیں انہیں پھانسیاں دی جارہی ہیں۔اپنے ہی برادر ملک پاکستان سے نفرت ہے اور کفر و شرک کے ملک سے یارانہ ہے۔تنگ دلی اس حد تک ہے کہ اپنے ہی نسب کے بچھڑے ہوئے بھائی ’’روہنگیا‘‘ مسلمانوں کی پشت پناہی سے انکاری ہیں۔دوسری جانب پاکستان ہے جو خود کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتا ہے وہ بھی اسلام سے جان چھڑانے کے درپئے ہے۔روشن خیالی کے نام پر مجرموں کا ٹولہ ملک پر قابض ہے۔کرپشن عام ہے اور عدل و انصاف اٹھ چکا ہے، سینکڑوں افراد زندہ جلا دیئے جاتے ہیں اور قاتلین انہی معززین کے صف میںشامل ہیں ۔معصوم بچیاں آبرو ریزی کے بعد قتل کردی جاتی ہیں، بے گناہوں کو بلوائی جھوٹے الزام لگا کر قتل کردیتے ہیں۔دوسری جانب سفاک قاتلین باعزت بری کئے جارہےہیں۔مذہبی جنونی جہاد کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں اور تفرقہ بازوں کو اسلام کا علمبردار بنا کر سہولتیں دی جارہی ہیں۔ان حالات میں دونوں ملکوں تک ملک چین کی رسائی مکمل ہوچکی ہے۔ پاکستان میں سی پیک(CPEC) کا غلغلہ ہے اور بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش ، چائنا،انڈیا،میانمار اکنامک کوریڈور(BCIMEC ) پر کام ہورہا ہے۔ پاکستان میں چین گوادر پورٹ پر کام کررہاہے جبکہ بنگلہ دیش میں چٹاگانگ پورٹ پر کام کررہاہے۔
یہاں پر تاریخ کے دوسرے صفحے کو روک ر ہا ہوں ۔امید ہے کہ آپ نے تاریخ کے دونوں صفحات غور سے پڑھ لیے ہونگے۔اب میں جو بات آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں وہ ذیل میں تاریخ کے دونوں صفحات کے تقابلی جائزےسےانشاءاللہ واضح ہو جائےگی۔
تاریخ کے دونوں صفحوں کاتقابلی جائزہ
*-جس طرح بنی اسرائیل کی ذمہ داری تھی کہ وہ فلسطین میں اسلام کا عادلانہ نظام قائم کرکے اردگرد کے مشرکانہ نظام کا خاتمہ کرتے۔اسی طرح ہماری ذمہ داری تھی کہ ہندوستان میں اسلام کا عادلانہ نظام قائم کرکے اس کے ارد گرد کے تمام ریاستوں سے مشرکانہ نظام کا خاتمہ کرتے۔
*-جس طرح بنی اسرائیل نے ابتدا میں اسلامی نظام قائم کیا ، پھر مشرکانہ نظام سے متاثر ہو کرمشرکوں کےسورج دیوتا’’بعل‘‘ کو مقدس جاننے لگے۔اسی طرح ہم نے بھی ایک عرصہ تک عادلانہ نظام قائم کیا پھربادشاہ اکبر کے دور میں مشرکانہ نظام سے متاثر ہوکر دین الٰہی بنا ڈالا اور آگ و سورج کو مقدس جاننے لگے۔
*-جس طرح بنی اسرائیل میں متعدد انبیاء نے اصلاح کی کوشش کی تو انہیں تضحیک و تشدد کا نشانا بنایا گیا اسی طرح ہم نے مجدد الف ثانیؒ و دیگر علماء حق پر جبر روا رکھا۔
*-جس طرح بنی اسرائیل نہ سدھرے تو ان پر فلستی قوم مسلط کردی گئی جس نے ان پر تباہ کن حملہ کیا اسی طرح ہم نہ سدھرے تو انگریز قوم ہم پر مسلط کردی گئی جس نے ہمارے اقدار کو تبا کر کے رکھ دیا۔
*-جس طرح بنی اسرائیل کوہوش آیا تو اللہ نے طالوت ؑ کی قیادت میں انہیں آزادی بخشی اور داؤد و سلیمانؑ جیسی عظیم الشان حکومت عطا کی۔اسی طرح ہمیں ہوش آیا تو اللہ نے ہمیں پاکستان عطا کیاجسے دنیا نے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا۔
*-جس طرح بنی اسرائیل نےاللہ کے انتخاب طالوتؑ کو پسند نہیںکیا جو علم و صلاحیت سے مزین تھے۔اس کے مقابلےمیں انہوں نے اپنے بڑے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو اقتدار دلانا چاہا اسی طرح ہم نے بھی باصلاحیت قیادت کے بجائےسرمایا داروں اور جاگیرداروں کو اقتدار کا حقدار جانا۔
*-جس طرح بنی اسرائیل نے اللہ کی حاکمیت اعلیٰ میں موسیٰ علیہ السلام کی قائم کردہ اسلامی جمہوری نظام کے مقابلے میں ملوکیت کو پسند کیا اسی طرح ہم نے بھی اسلامی جمہوری نظام قائم کرنے کے بجائے آمریت کا انتخاب کیا۔
*-جس طرح بنی اسرائیل نے اس عظیم ریاست کی قدر نہ کی اور دو حصوں میں تقسیم ہو کر ریاست اسرائیل اور ریاست یہودا بنا ڈالی۔ اسی طرح ہم نے بھی اس عظیم ریاست ’پاکستان‘ کی قدر نہ کی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا۔
*-جس طرح بنی اسرائیل کی ریاست’اسرائیل‘ نے مشرک ملک صیدا سے دوستی قائم کی اور اس کے اشارے پر برادر ملک یہودیہ سے دشمنی جاری رکھی ۔ اسی طرح بنگلہ دیش نے ہندوستان سے دوستی قائم کی ہوئی ہے اور اس کے اشارے پر برادر ملک پاکستان سے دشمنی جاری رکھی ہوئی ہے ۔
*-جس طرح بنی اسرائیل کی ریاست ’اسرائیل‘ میں بے حیائی اور مشرکانہ عقائد کو فروغ دیا گیا اسی طرح بنگلہ دیش کی مسلمان بیٹیاں کلکتہ اور بمبئی سے لے کر عرب کی ریاستوں میں فروخت ہو رہی ہیں تو دوسری جانب انصاف کی یونانی دیوی کے مجسمے کو ساڑھی پہنا کر نصب کیا گیا ہے۔*-جس طرح بنی اسرائیل کی ریاست ’اسرائیل‘ میں جب وقت کے نبی نے اصلاح کی کوشش کی تو ان کے قتل کے درپے ہوئے۔اسی طرح بنگلہ دیش میںان لوگوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں جو اصلاح کی کوشش کرتے ہوئے مسلمانوں کو اسلام کے نظام بندگی کی طرف لانا چاہتے ہیں۔
*-جس طرح بنی اسرائیل کی ریاست یہودا کے اندر اخلاقی گراوٹ سست رہی اور انبیاء وقت کو کام کرنے کی کسی قدر آزادی دی گئی۔اسی طرح پاکستان میں داعیان دین کو کام کرنے کی کسی قدر اجازت تو رہی لیکن اخلاقی گراوٹ بھی جاری ہے۔
*-جس طرح بنی اسرائیل کی ریاست یہودا نے اخلاقی گراوٹ کی وجہ سے آشوریوں سے دب کر معاہدہ کیا اور ان کے طفیلی ریاست بن کر رہے۔اسی طرح پاکستان نے امریکہ سے دب کر معاہدہ کیا اور اس کے طفیلی ریاست بن گئے۔
*-جس طرح بنی اسرائیل کی ریاست یہودا کے کچھ لوگوں نے یرمیاہ نبی کے منع کرنے کے باوجود بغیر منصوبہ بندی کے جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اسی طرح پاکستان میں بھی بغیر منصوبے کے محض جذبات کی بنیاد پر جہاد کرنے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے فساد میں بدل دیا۔
*-جس طرح بنی اسرائیل کی ریاست یہودا نے بھی رہی سہی اسلامی نظام سے جان چھڑا لیا اور آزادی و روشن خیالی کی طرف چل پڑے۔اسی طرح پاکستان میں مشرف دور حکومت سے روشن خیالی کے نام پر اورجعلی جہادیوں کے فساد کو بنیاد بناکر اسلامی نظام سے لوگوں کو برگشتہ کیا جا رہا ہے اور اس کی آڑ میں۱۹۷۳؁ء کے رہی سہی اسلامی دستور کو لپیٹنے کی تیاری ہورہی ہے۔
تو اس وقت
*-جب بنی اسرائیل کی دونوں ریاستوںنےدین اسلام سے جان چھڑا لی اور روشن خیالی کے نام پر بے راہ روی کے راستے پر چل پڑے تو اللہ نے ان دونوں ریاستوں پرعراق کے بادشاہ ’’بخت نصر‘‘کو مسلط کردیا۔جس نے ان دونوں ریاستوں کو تباہ کردیا اور بنی اسرائیل در بدر ہوگئے۔
اوراب
اب جبکہ چین ہم دونوں ملکوں میں CPEC اور BCIMEC کے ذریعہ داخل ہوچکا ہے۔اس کے بعد کا مرحلہ اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔اگر ہمارا رویہ بنی اسرائیل کی طرح برقرار رہا تو چین کو بخت نصر بنتے دیر نہیں لگے گی۔اس کے برعکس ہم واقعی ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا رویہ فی الفور بدلنا ہوگا۔ہمارے پاس مصطفوی اخلاقی کردار ہے جس میں اپنے آپ کو ڈھال کر چینیوں کے سامنے انسانیت کا بہی خواہ اور عدل و انصاف کا حقیقی علمبردار بنا کر پیش کرنا ہوگا ۔جبھی وہ اس دین متین کی طرف متوجہ بھی ہونگے اور اسے قبول بھی کریںگے۔اس کے نتیجے میں ہمیں بھی حقیقی معاشی خوشحالی نصیب ہوگی ورنہ ایک بار پھرنہ ختم ہونے والی معاشی و سیاسی غلامی کے شکنجے میں کسے جائیںگے۔
اگر آپ میرے اس تجزیئے سے متفق ہیں تو اپنے آپ کو بدلیے،اس پیغام کو دوسروں تک بھی پہنچایئے اور معاشرے کو بدلنے کی کوشش کیجئے۔مقصد کے حصول کے لیےصالح اور باصلاحیت لوگوں کو اپنا رہنما بنایئے۔

حصہ