آتے ہیںشاد سے یہ مضامین خیال میں

240

ڈاکٹر باقر رضا

دل میں بسا ہے شاد وہی شہر اب تلک
جس شہر میں رہا ہے سخنور لہو میں تر

در اصل مسلسل جبر اور گھٹن کے ماحول نے ہمارے ملک کے اوسط درجے کے لکھنے والوں کے اذہان پر نہایت ناگوار اثرات مرتب کیے ہیں۔ آپ کو ایسے کئی کالم نویس مل جائیںگے جو یہ دعویٰ کریں کہ فیض صاحب کو اگر اسیر نہ کیا جاتا تو ان کی شاعری کو جلا نہ ملتی، اسی طرح سے بہت سے ایسے لوگ بھی ہوںگے جو اشرف شاد صاحب کی بے وطنی کو ان کی تخلیقی کامیابی کا باعث قرار دیںگے جبر، گھٹن اور آمریت ذہنوں پر نہایت برے اثرات مرتب کرتی ہے۔
وہ شوقِ فضول و جرأتِ رِندانہ کی بات بیچ میں رہ گئی۔ ایک شوق فضول شاد صاحب کا یہ بھی ہے کہ جہاں جاتے ہیں مشاعرے منعقد کراتے ہیں اور ان میں مشہور شعرا کو بلواتے ہیں۔ یہ بڑا جان جوکھم کا کام ہے۔ ویسے تو شاعر کبھی کسی کو درست مشورہ نہیں دیتے اور دے بھی نہیں سکتے کہ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں، پھر بھی فراز صاحب نے شاد صاحب کو ایک نہایت صائب مشورہ دیا تھا کہ شعرا کو بلانا اور ان کی آئو بھگت کرنا ہاتھی پالنے کے برابر ہے۔ شاد صاحب کہ خود بھی شاعر ہیں نے کسی شاعر کے دیے گئے واحد درست مشورے کی قدر نہ کی۔ یہ جہاں بھی گئے مشاعرے کرواتے اور شعرا کو بلواتے رہے اور ہاتھی بلکہ مست و مدہوش ہاتھی پالتے رہے۔ آشفتہ حال، پراگندہ خیال، بے چین روح اور ژولیدہ موشعرا کو بلوانا اور پھر مشاعرے کے دوران ان کو کرسیٔ صدارت پر متمکن رکھنا اور باری آنے پر انہی کا کلام ان سے بہ حسن و خوبی پڑھوالینا، یہ شیکسپیئر کی زبان میں Herculean task ہے اور اسی بات کو میر صاحب یوں کہتے ہیں ’’جو کام ہوا ان سے وہ رستم سے نہ ہوگا ‘‘
یہاں اس بات کی بھی داد دینا چاہیے کہ کتنا ہی بے قابو، مرکھنا، اڑیل، بدمست شاعر کیوں نہ ہو ان کے سامنے آکر موم ہوجاتا ہے۔

سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے، سب نے تجھے امام کیا

(میرؔ)
در اصل شاعری شاد صاحب کی پہلی مجازی محبت ہے۔ انہوں نے طالب علمی کے زمانے میں کیا تھا۔

مجھ کو بھی پڑھ کتاب ہوں مضمونِ خاص ہوں
مانا ترے نصاب میں شامل نہیں ہوں میں

جوانی کے اس شعر کے مضمون کے تیور اور بعد میں پیش آنے والے واقعات تصدیق کرتے ہیں کہ یہی شعر حقیقی محبت اور بعد میں رشتہ مناکحت کا سبب بنا ہوگا۔ واﷲ عالم بالصواب
پرانے زمانے کے رئوسا و نوابین کثیر الازدواج ہوتے تھے۔ بڑی زوجہ عموماً خاندان کی ہوتی تھیں اور گھر پر حکم انہی کا چلتا تھا۔ شاد صاحب کے ہاں شاعری کا وہی درجہ ہے۔ سیاست، صحافت دوسرے تیسرے اور سب سے چھوٹی بانکی سجیلی ناول نگاری نئی نویلی کے درجہ پر ہے۔ ہر چند کہ شاد صاحب کی منعقد کردہ ہر تقریب کی تان مشاعرے پر ٹوٹتی ہے جس کو زیر موش مسکراہٹ کے ساتھ یوں کہتے ہیں ’’پھر ہم اپنا کام کریںگے‘‘ لیکن وہ اپنے شعر بڑی رواروی، سرعت اور بے دلی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ فیض صاحب بھی ایسے ہی اکھڑے اکھڑے لہجے میں شعر پڑھ کر بلا ٹال رہے ہوتے تھے۔ استاد ہوش بلگرامی نے جب فیض صاحب کو شعر پڑھتے ہوئے سنا تو تڑپ گئے، کہنے لگے یہ کیسے شعر پڑھ رہے ہیں لگتا ہے کہ سن یاس کو پہنچی منکوحہ کا حق زوجیت ادا کررہے ہیں۔ شاد صاحب کے دو شعر سنیے اور سوچیں کیا یہ عجلت سے پڑھنے کے قابل ہیں:

تم آئو آکے سارے اجالے سمیٹ لو
میں نے دیے کو رکھا ہے شب بھر لہو میں تر
اندھیرے طاق پہ سر رکھتے سوچتا ہوں میں
دیے کی رگ میں لہو بن کے رات جل جائے

اب دنیا میں ناول نگاری کو ادبی اظہار کا معروف ذریعہ سمجھا جاچکا ہے۔ شاعری کم از کم مغربی دنیا میں اپنا سابقہ مقام کھوچکی ہے۔ Ben Larner کی نئی شائع شدہ کتاب Hatred of Poetry میں اس کے اسباب کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تاہم اجتماعی دکھ کو بیان کرنے میں شاعری کو جو ملکہ حاصل ہے اس کا انکار بھی ممکن نہیں ہے۔ شاد صاحب شاعری اور ناول نگاری دونوں میدانوں کے شہ سوار ہیں۔ نثر نگاری میں شاد صاحب شکیل عادل زادہ اور شاعری میں احمد فراز صاحب کے قائل اور قتیل ہیں۔ فراز صاحب بحیثیت شاعر اور انسان کے شاد صاحب کو بے حد پسند ہیں۔ انہوں نے جس محنت سے فراز صاحب کی فراموش کردہ ڈائری کی ترتیب و تدوین کی ہے وہ ان کی دلی محبت اور خلوص کی آئینہ دار ہے۔ شوق سندیلوی کی ’’اصلاحِ سخن‘‘ کہ جس میں ایک ہی غزل کو مختلف اساتذہ کی اصلاح کے ساتھ شائع کیا گیا ہے، ’’احمد فراز بہ قلم خود‘‘ دوسری ادبی کاوش ہے جو شعر کے پس پردہ شاعر کے تخلیقی عمل کو سامنے لاتی ہے۔ یہ الگ بات کہ جہاں فراز صاحب کے اشعار شاد صاحب کے نازک معیارِ سخن پر پورا اترتے ہیں وہاں فراز صاحب کی محبوبائیں اپنی فرہبی کی وجہ سے شاد صاحب کی میزان حسن کو توڑ پھوڑ ڈالتی ہیں جس کا وہ عموماً گلہ کرتے رہتے ہیں۔ مٹاپے اور حسن کا ایک تعلق تو ہے جو 35000سالہ قدیم Venus of Hohle Fels سے لے کر ڈاونچی، مائیکل اینجلو اور روبنرز Rubens کے کینوینر پر چھلکتا نظر آتا ہے۔ انگریزی میں جس کو Bulges اور Ceuutite یعنی گداز اور موٹاپا کہتے ہیں وہ مصوری میں حسن سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ عہد گزشتہ کے مصوری کے شاہکاروں کا مقابلہ عہد حاضر کے عالمی ملکہ حسن کے معیار سے کریں تو بہ قول کرنل محمد خان کے حسینۂ عالم آپ کو تیامیٰ و مساکین کی ملکۂ حسن نظر آئے گی۔ عربی شاعری میں امرالقیس سے لے کر ابو خواسی تک حسن کو کمر پر چربی کی دوہری بلکہ تہری تہوں سے گنا گیا ہے۔ فراز صاحب سے تو ہمیں شرفِ نیاز حاصل نہیں رہا تاہم ثروت حسین کہ جدید اردو کے ممتاز شاعر ہیں ایک دفعہ ہم سے کہنے لگے ’’میاں پشتو فلم دیکھنے چلتے ہیں‘‘ ہم نے عرض کی ’’ہم کو پشتو نہیں آتی ہے‘‘ (یہاں یہ بات دھیان میں رہے کہ پشتو اور عربی بولنے والے اپنی زبان نہ بولنے والوں کو گونگا سمجھتے ہیں) وہ فرمانے لگے ’’فلم سننے کی نہیں دیکھنے کی چیز ہوتی ہے‘‘ ہم نے پوچھا ’’پھر پشتو فلم میں کیا دیکھیںگے؟‘‘ بولے ’’حسن دیکھیںگے۔ حسنَ ہونا چاہیے اور بہت سا ہونا چاہیے‘‘ ہمارے عہد کے ممتاز شاعر جون ایلیا بھی ہر چند کہ مخنی تھے لیکن تھے اسی مزاج کے آدمی۔ ذرا یہ قطعہ ملاحظہ فرمائیں:

جو رعنائی نگاہوں کے لیے فردوس جلوہ ہے
لباس مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
یہ لڑکی فاقہ کشی ہوتی تو بد صورت نظر آتی

اتنی مضبوط دلیلوں اور شواہدات کے بعد اب تو لگتا ہے کہ غالبؔ صاحب نے بھی یوں کہا ہوگا

چاہتے ہیں تن درستوں کو اسد
آپ کی صحت کو دیکھا چاہیے

احمد فراز بہ قلم خود میں یوں تو کہی ابہام نہیں ہے بس ایک جگہ شاد صاحب نے اشارتاً لکھا ہے کہ شعرا کو شین سے شروع ہونے والی چیزیں ہمیشہ سے مرغوب رہی ہیں۔ ہم نے ذہن پر بہیترا زور ڈالا تاہم شفتالو، شلجم، شعر، شکوہ اور شہد کے علاوہ کوئی لفظ ذہن میں نہ آیا۔ ہاں یاد آیا کہ عمران خان کے حالیہ اسقاط شدہ دھرنے والا Aborted Sitin کا ترجمہ کے دوران میں ان کی پارٹی کے ایک رہنما نشہ آور مشروب کی بوتل کے ساتھ پکڑے گئے تھے۔ رہنما کا اصرار تھا کہ محلول شہد ہے، پولیس کچھ اور بتاتی تھی لیکن پولیس کی بات پر کون کان دھرتا ہے۔ شاعروں کی بد حواسی، مجذوبیت، خالی الذہنی اور دیوانگی اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج تک کوئی شاعر نشہ آور محلول کی بوتل میں شہد لے جاتے ہوئے نہیں پکڑا گیا ہے۔ اردو میں خمریات کے امام حضرت ریاض خیر آبادی تھے جو انگریزی اصطلاح میں Teeto taler تھے مئے ناب کا ایک قطرہ چکھنا تو دور کی بات ہے دیکھا تک نہیں تھا اور دیوان کے دیوان بنت عنب کی شان میں لکھ گئے۔ کیا ثقہ بزرگ تھے۔ دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کریں۔ ویسے بھی فرشتے نورانی مخلوق ہیں ان کا پینے پلانے سے کیا مطلب۔
اشرف شاد صاحب خود ہی شاد نہیں ہیں بلکہ ان کی یہ شادمانی کی کیفیت ہر اس شے اور شخصیت پر طاری ہوجاتی ہے جو ان سے متعلقہ ہے۔ آپ اردو نظم و نثر کو شاداب کرتے ہیں۔ شعرا کو بلاکر شادمان کرتے ہیں اور سامعین کی شادابیٔ طبع کا سامان کرتے ہیں۔ ولایتی اصطلاح میں ایسی شادمانی کو Infections Hilarity یعنی وبائی شادمانی کہتے ہیں۔ دور کیوں جائیں قریب کی مثال ہے ڈاکٹر کنیز فاطمہ شاد صاحب سے شادی کے بعد کنیز فاطمہ شاد ہوئیں۔
اردو زبان کی تاریخ ہے کہ اس کی خدمت فرد واحد نے اداروں سے زیادہ کی ہے جب اردو زبان کا ادبی جغرافیہ مرتب کیا جائے گا تو صرف اشرف شاد صاحب کی ادبی خدمات کی وجہ سے اس میں آسٹریلیا کا نام آئے گا جدید اردو ناول نگاری میں ہمارے عہد کا ایک معتبر نام اشرف شاد ہیں خدا ان کی عمر طویل اور ان کے قلم کو پرشباب و شادب رکھے آمین Jonathan Swift کے الفاظ میں may you all the day of your life خدا کرے کہ آپ اپنی زندگی کے ایک ایک دن کا بھرپور لطف اٹھائیں۔

بے وطن میں شان وطن تم، شاد رہو آباد رہو
رنج چمن میں گرم سخن تم شاد رہو آباد رہو
جیتے رہیں دامان دریدہ زندہ رہیں یہ جسم بریدہ
اور بڑھے دیوانہ پن تم شاد رہو آباد رہو
کیسے تمہاری خلاقی نے آنسو ڈھالے تاروں میں
زخم کیے ہیں غنچہ دہن تم شاد رہو آباد رہو
شیفتۂ نو طرز عرصع، ہر لمحہ تجرید کے جویا
خستہ گر افکار کہن تم شاد رہو آباد رہو
نثر روان کی شادانی ہو، نظم جواں کی شادابی ہو
تم سے بہارِ رنگِ سخن تم شاد رہو آباد رہو
دار کانخل ہرا ہے تم سے، رونقِ مقتل تم سے ہے
عازمِ منزلِ دار ورس تم شاد رہو آباد رہو
خیر تمہارے جام و سبو کی، خیر ہو ان مے خواروں کی
پیر مفاں اے خواجۂ من تم شاد رہو آباد رہو

حصہ