امجد اور اسجد دو بھائی

27

حبیب الرحمٰن
بچو یہ کافی پرانے زمانے کی بات ہے جب بہت بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی بھی پورے ماہ کی تنخواہ 15 روپوں سے زیادہ نہیں ہوا کر تی تھی۔ جو کہانی میں آپ کو سنانے لگا ہوں وہ مجھے میری بڑی باجی نے سنائی تھی اور ان کو ان کی اور میری امی نے سنائی تھی۔ بہت اصلاحی، دلچسپ اور مزے کی کہانی ہے اس لئے ذرا غور سے سننا۔
دو بھائی تھے۔ ایک بھائی کی عمر آٹھ برس کی تھی اور دوسرے کی چھ برس۔ دونوں بہت پیارے پیارے اور نیک تھے۔ بڑا بھائی سمجھ دار اور سنجیدہ تھا جبکہ چھوٹا بھائی سمجھ دار تو بہت تھا لیکن کسی قدر شوخ تھا مگر پھر بھی ایسی کوئی شرارت نہیں کرتا تھا جس کی وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف یا اذیت پہنچے۔
ان دونوں کے والدین ہی کیا سارے خاندان والے بہت نیک اور شریف لوگ تھے۔ ایک قصبے میں رہتے تھے اور اوسط درجے کے زمیندار تھے۔
یہ زمانہ کوئی زرعی مشینری کا زمانہ تو تھا ہی نہیں بس بیلوں کی جوڑیاں ہوتیں، ہل ہوتے، گنا بیلنے کی دیسی مشینیں ہوتیں اور رہٹ، جس کی مدد سے کنوئیں سے پانی نکال کرکھیتی باڑی ہوتی اور اپنی اپنی ضرورتیں پوری کی جاتیں۔
ہوا یوں کہ عید کا دن تھا، امجد جو بڑا بھائی تھا اور اسجد جو چھوٹا بھائی تھا، جب عید کی نماز پڑھ کر گھر لوٹے تو ان کو ایک ایک روپیہ عیدی ملی، ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ پرانے زمانے کے لحاظ سے یہ بہت بڑی رقم تھی، سب سے عید ملنے کے بعد انھوں نے اپنے امی ابو اور دا دا دادی سے اجازت لے کر یہ طے کیا کہ قریب کے بازار سے اپنے لئے کچھ کھلونے اور کھانے پینے کی چیزیں خریدیں گے اور گھر آکر چیزیں کھائیں گے بھی اور دوستوں کو کھلائیں گے بھی کیونکہ ان کو یہ بات سمجھائی ہوئی تھی کہ گھر سے باہر بازار میں کھانا پینا مناسب نہیں ہوتا۔ ایک تو باہر کا ماحول اچھا نہیں ہوتا اور دوئم یہ کہ معاشرے میں بہت لوگ، خواہ وہ بچے ہوں یا بڑے، غریب بھی ہوتے ہیں اور جب کچھ لوگ مزے مزے کی چیزیں کھا رہے ہوتے ہیں تو ان کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ کاش ان کے پاس بھی اتنے پیسے ہوتے تو وہ بھی خوب مزے اڑاتے۔ یہ سوچ کر ایسے غریب بچوں اور بڑوں کا دل دکھتا ہے اس لئے اچھے بچے ہمیشہ کھانے والی کوئی بھی چیز راستے میں نہیں کھاتے، گھر آکر ہی کھاتے ہیں۔
گھر اور بازار کے درمیان جتنا بھی ’’رقبہ‘‘ تھا وہ ان ہی کے والدین کا تھا، درمیان سے ایک پک ڈنڈی جیسا راستہ تھا، یہ دونوں آگے پیچھے اسی راستے پر رواں دواں تھے۔ کچھ فاصلہ طے کر لینے اور بازار قریب آجانے سے پہلے ایک اور زمیدار کی زمین پڑتی تھی۔ جب وہ اس راستے سے گزرنے لگے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک گھنے درخت کے نیچے کسی کے پرانے جوتے پڑے ہوئے ہیں۔ جوتوں کو اس طرح پڑے دیکھ کر دونوں کو حیرت ہوئی کہ یہ آخر کس کے ہو سکتے ہیں۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ درخت سے لٹکے ہوئے کچھ برتنوں پر نظر پڑی۔ جب انھوں نے غور کیا تو انھیں وہ سمجھ گئے کہ کھانے کے اور پانی کے برتن ہیں جن کو کتوں بلیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے درخت پر لٹکایا گیا ہے۔ لیکن وہ سوچ رہے تھے کہ آخر یہ ہیں کس کے۔ یہ سوچ کے انھوں نے ادھر ادھر کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ ایک کسان دور کھیت میں ہل چلا رہا ہے۔ اب ان دونوں کو یہ بات خوب سمجھ میں آگئی کہ یہ جوتے اور یہ کھانے پینے کے برتن اسی کے ہونگے۔
چھوٹے بھائی اسجد کی آنکھوں میں شرارت چمکنے لگی، اس نے بڑے بھائی کا ہاتھ ہلاتے ہوئے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔

بھائی ایسا کر تے ہیں اس کے جوتے کہیں چھپا دیتے ہیں اور سامنے والی جھاڑیوں میں چھپ کر تماشہ دیکھتے ہیں۔ جب وہ کسان کام ختم کرکے یہاں آئے گا اور اس کو اپنے جوتے دکھائی نہیں دینگے تو وہ بہت پریشان ہوگا۔۔۔۔ کتنا مزا آئے گا۔۔۔ آؤ چلیں اس کے جوتے چھپائیں۔
نہیں یہ تو بہت ہی بری بات ہوگی، بڑے بھائی امجد نے کہا، مجھے تو یہ کوئی بہت ہی غریب کسان لگتا ہے، دیکھ نہیں رہے اس کے جوتے کتنے پرانے ہیں، جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے ہیں اور دیکھو وہ کپڑا جس میں اس نے کھانے پینے کے پرتن لٹکائے ہوئے ہیں کتنا پرانا اور پھٹا ہوا ہے۔
تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ چھوٹے بھائی نے سوالیاں نظروں سے بڑے بھائی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
میرے ذہن میں ایک اور ترکیب آئی ہے، کیوں نہ ہم اپنا اپنا روپیہ اس کے جوتوں میں رکھ دیں؟ جب وہ کسان کام ختم کرکے کھانے کے لئے آئے گا اور اپنے جوتوں میں ایک ایک رپیہ رکھا ہوا پائے گا تو کتنا حیران ہو گا۔
چھوٹے بھائی کو اپنے بڑے بھائی کی یہ تجویز اچھی لگی چنانچہ انھوں نے ایک روپیہ ایک جوتے میں اور دوسرا روپیہ دوسرے جوتے میں رکھ دیا اور خود گھنی جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گئے۔
دن اچھا خاصہ چڑھ چکا تھا۔ گاؤں والے صبح اٹھ کر اور چھاچھ وغیرہ پی کر کاکھیتوں میں کام کرنے نکلنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جب دن چڑھ جاتا ہے تو کچھ کھا پی لیتے ہیں۔ یہی ان کا ناشتہ اورکھانا ہوتا ہے، کسان نے بھی ہل چلانا بند کیا، بیلوں کو ان کی اپنی جگہ باندھا اور اور کھانا کھانے کے لئے اسی درخت کے سائے میں آگیا جہاں اس نے کھانے پینے کے لئے کچھ رکھا ہوا تھا۔
یہ دونوں بھائی بہت ہی انہماک اور تجسس کے ساتھ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔
کسان نے برتن اتارے، جب اس کو کھولا تو ایک برتن میں سے کچھ سوکھی روٹیاں باہر نکالیں۔ سوکھی ہوئی روٹیوں کو دیکھ کر یہ دونوں بھائی حیران رہ گئے، پھر انھوں نے جب یہ دیکھا کہ کسان نے دوسرے بر تن میں پانی بھر کر ان روٹیوں کو بھگویا اور نرم کرکے کھانے لگا تو یوں لگا جیسے دونوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر رو دیں گے۔
کھانے سے فارغ ہو کر جب گھر جانے کے لئے اس نے جوتوں پر نظر ڈالی اور ہر جوتے میں ایک ایک روپیہ رکھا ہوا دیکھا تو حیرانی کے عالم میں ان کے منہ سے ’’یااللہ‘‘ اتنی زور سے نکلا کہ دور دور تک اس کی آواز گئی ہوگی۔ اس نے دیوانہ وار اپنے چاروں اطراف کابہت غور سے جائزہ لیا لیکن اسے دور دور تک کوئی نظر نہیں آیا۔ (جاری ہے(

حصہ