افواہوں کے بہائو میں

58

خرم عباسی
آج فیس بک پر بچپن میں سنی ہوئی ایک کہانی پڑھی۔کہانی کچھ یوں تھی کہ 1258ء میں منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور خلافت عباسیہ کے خاتمے کے وقت 10,00,000 انسانوں کو قتل کیا گیا، ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟جواب آیا:ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا کر حاضر کیا گیا۔
شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی:
کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟عالم:
یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔
شہزادی: تو کیا اللہ نے آج ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم: یقیناً کردیا ہے-
شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟
عالم: نہیں
شہزادی: کیسے؟
عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟
شہزادی: ہاں دیکھا ہے
عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے
اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟
شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔
عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی دوسری طرف کو نکل کھڑی ہوں،اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں،تو چرواہا کیا کرتا ہے؟
شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے۔تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔
عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
عالم نے کہا: تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا۔ جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے۔ اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔
آج پھر وہی حال ہے،آج کتے ہم پر مسلط ہیں،یہود و نصاریٰ اورلبرلز کی صورت میں، بقول نجیب ایوبی یہ ”لبرل بقراطیے” ذرائع ابلاغ پر مسلط ہیں۔ٹی وی اور سوشل میڈیا پر تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جا رہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ جب یورپ میں یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنا رہے تھے۔میری یہ تحریر مختلف مصنفین کے متعلقہ کالمز اور پروفیسرز، مورخین یا محققین کی تحقیق کے اس حصہ پر مبنی ہے جو میں نے تحقیق کے بعد درست پائے، اس تحریر میں میرے اپنے الفاظ کم اور مندرجہ بالا شخصیات کے الفاظ زیادہ ہیں۔ تاریخ کی گواہی بعد میں پیش کروں گا پہلے بنیادی عقل کے حوالے سے ایک نقطہ پیش کروں کہ ان ٹی وی چینلز یا پروگرامز میں اگر کوئی سمجھ بوجھ والا آدمی بیٹھا ہوتا تو اسکو سمجھنے میں یہ مشکل نہیں آتی کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئی، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔ پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں۔ دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت، اس قدر مضبوط کے وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں۔ معاشی حوالے سے ہندوستان بالعموم مسلم ادوار اور بالخصوص مغلیہ دور (اکبر – عالگیر) میں دنیا کے کل GDP میں اوسطاً 25% فیصد حصہ رکھتا تھا۔ در آمدات انتہائی کم اور برآمدات انتہائی زیادہ تھیں اور آج ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کامیاب ملک وہ ہے جس کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہوں۔ سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکیوس برنئیر ہندوستان آیا اور کہتا ہے کہ ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں۔ اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو سونے کی چڑیا کہتے تھے۔
اب تعمیرات والے اعتراض کی طرف آتے ہیں۔ فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ، مقبرہ ہمایوں، دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ انکے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے۔ تاج محل کے چاروں مینار صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے تاکہ زلزلے کی صورت میں گرے تو گنبد تباہ نہ ہوں۔ مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں، اس میں حساب کی باریکیاں شامل ہیں۔ پورا تاج محل 90 فٹ گہری بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اس کے نیچے 30 فٹ ریت ڈالی گئی کہ اگر زلزلہ آئے تو پوری عمارت ریت میں گھوم سی جائے اور محفوظ رہے۔ لیکن اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا شاہکار دریا کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کنارے اتنی بڑی تعمیر اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی، جس کے لئے پہلی بار ویل فاونڈیشن (well foundation) متعارف کرائی گئی یعنی دریا سے بھی نیچے بنیادیں کھود کر انکو پتھروں اور مصالحہ سے بھر دیا گیا، اور یہ بنیادیں سیکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی گویا تاج محل کے نیچے پتھروں کا پہاڑ اور گہری بنیادوں کا وسیع جال ہے، اسطرح تاج محل کو دریا کے نقصانات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا۔ عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا نظارہ فریب نظر یعنی (Optical illusion) سے بھرپور ہے۔ یہ عمارت بیک وقت اسلامی، فارسی، عثمانی، ترکی اور ہندی فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ یہ فیصلہ کرنے کے لئے حساب اور جیومیٹری کی باریک تفصیل درکار ہے۔ پروفیسر ایبا کوچ (یونیورسٹی آف وینیا) نے حال میں ہی تاج محل کے اسلامی اعتبار سے روحانی پہلو واضح (decode) کئے ہیں۔اور بھی کئی راز مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں۔ انگریز نے تعمیرات میں (well foundation) کا آغاز انیسویں صدی اور (optical illusions) کا آغاز بیسویں صدی میں کیا۔ جب کہ تاج محل ان طریقہ تعمیر کو استعمال کر کے سترھویں صدی کے وسط میں مکمل ہو گیا تھا۔ آج تاج محل کو جدید مشین اور جدید سائنس کو استعمال کرتے ہوئے بنایا جائے تو 1000 ملین ڈالر لگنے کے باوجود ویسا بننا تقریباً ناممکن ہے۔‘ٹائل موزیک’فن ہے، جس میں چھوٹی چھوٹی رنگین ٹائلوں سے دیوار پر تصویریں بنائی جاتی اور دیوار کو منقش کیا جاتا ہے۔ یہ فن لاہور کے شاہی قلعے کی ایک کلومیٹر لمبی منقش دیوار اور مسجد وزیرخان میں نظر آتا ہے۔ ان میں جو رنگ استعمال ہوئے، انکو بنانے کے لئے آپ کو موجودہ دور میں پڑھائی جانے والی کیمسٹری کا وسیع علم ہونا چاہیے۔ یہی حال فریسکو پینٹنگ کا ہے، جن کے رنگ چار سو سال گزرنے کے باوجود آج تک مدہم نہیں ہوئے۔ تمام مغل ادوار میں تعمیر شدہ عمارتوں میں ٹیرا کوٹا (مٹی کو پکانے کا فن) سے بنے زیر زمین پائپ ملتے ہیں۔ ان سے سیوریج اور پانی کی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا۔ کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ مسلم فن تعمیر کا مکمل علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور موجودہ دور کے سائنسی پیمانوں پر ایک نصاب کی صورت تشکیل دیا جائے تو صرف ایک فن تعمیر کو مکمل طور پر سیکھنے کے لیے پی ایچ ڈی (phd) کی کئی ڈگریاں درکار ہوں گی۔ کیا یہ سب کچھ اس ہندوستان میں ہو سکتا تھا، جس میں جہالت کا دور دورہ ہو اور جس کے حکمرانوں کو علم سے نفرت ہو؟؟ یہ مسلم نظام تعلیم ہی تھا جو سب کے لئے یکساں تھا، جہاں سے بیک وقت عالم، صوفی، معیشت دان، طبیب، فلسفی، حکمران اور انجینئر نکلتے تھے۔ شیخ احمد سرہندی رہے ہوں یا جہانگیر ہو یا استاد احمد لاہوری ہو، یہ سب مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی تعلیمی نظام میں پروان چڑھے، اسی لئے ان سب کی سوچ انسانی مفاد کی تھی۔
مزیدمیں مغربی مصنفین کی گواہی پیش کروں گا، اسلئے کہ میرے ان‘‘عظیم’’صاحبان علم کو کسی مسلمان یا مقامی مصنف کی گواہی سے بھی بو آتی ہے۔ ول ڈیورانٹ مغربی دنیا کا مشہور ترین مورخ اور فلاسفر ہے۔ وہ اپنی کتاب story of civilization میں مغل ہندوستان کے بارے میں لکھتا ہے:‘‘ہر گاوں میں ایک اسکول ماسٹر ہوتا تھا، جسے حکومت تنخواہ دیتی تھی۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے صرف بنگال میں 80 ہزار ااسکول تھے۔ ہر 400 افراد پر ایک اسکول ہوتا تھا۔ ان اسکولوں میں 6 مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ گرامر، آرٹس اینڈ کرافٹس، طب، فلسفہ، منطق اور متعلقہ مذہبی تعلیمات۔ ’’اس نے اپنی ایک اور کتاب A Case For India میں لکھا کہ مغلوں کے زمانے میں صرف مدراس کے علاقے میں ایک لاکھ 25 ہزار ایسے ادارے تھے، جہاں طبی علم پڑھایا جاتا اور طبی سہولیات میسر تھیں۔ میجر ایم ڈی باسو نے برطانوی راج اور اس سے قبل کے ہندوستان پر بہت سی کتب لکھیں۔ وہ میکس مولر کے حوالے سے لکھتا ہے‘‘بنگال میں انگریزوں کے آنے سے قبل وہاں 80 ہزار مدرسے تھے’’۔ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں ایک سیاح ہندوستان آیا’جس کا نام الیگزینڈر ہملٹن تھا، اس نے لکھا کہ صرف ٹھٹھہ شہر میں علوم و فنون سیکھانے کے 400 کالج تھے۔ میجر باسو نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہندوستان کے عام آدمی کی تعلیم یعنی فلسفہ، منطق اور سائنس کا علم انگلستان کے رئیسوں حتیٰ کہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ ہوتا تھا۔ جیمز گرانٹ کی رپورٹ یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ اس نے لکھا ’’تعلیمی اداروں کے نام جائیدادیں وقف کرنے کا رواج دنیا بھر میں سب سے پہلے مسلمانوں نے شروع کیا1857ء میں جب انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہوئے تو اس وقت صرف روحیل کھنڈ کے چھوٹے سے ضلع میں، 5000 اساتذہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے۔’’مذکورہ تمام علاقے دہلی یا آگرہ جیسے بڑے شہروں سے دور مضافات میں واقع تھے۔ انگریز اور ہندو مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کا عروج عالمگیرکے زمانے میں اپنی انتہا کو پہنچا۔ عالمگیر نے ہی پہلی دفعہ تمام مذاہب کے مقدس مذہبی مقامات کے ساتھ جائیدادیں وقف کیں۔ سرکار کی جانب سے وہاں کام کرنے والوں کے لئے وظیفے مقرر کئے۔ اس دور کے 3 ہندو مورخین سجان رائے کھتری، بھیم سین اور ایشور داس بہت معروف ہیں۔ سجان رائے کھتری نے‘‘خلاصہ التواریخ’’، بھیم سین نے‘‘نسخہ دلکشا’’اور ایشور داس نے‘‘فتوحات عالمگیری’’لکھی۔ یہ تینوں ہندو مصنفین متفق تھے کہ عالمگیر نے پہلی دفعہ ہندوستان میں طب کی تعلیم پر ایک مکمل نصاب بنوایا اور طب اکبر، مفرح القلوب، تعریف الامراض، مجربات اکبری اور طب نبوی جیسی کتابیں ترتیب دے کر کالجوں میں لگوائیں تاکہ اعلیٰ سطح پر صحت کی تعلیم دی جا سکے۔ یہ تمام کتب آج کے دور کے MBBS نصاب کے ہم پلہ ہیں۔ اورنگزیب سے کئی سو سال پہلے فیروز شاہ نے دلی میں ہسپتال قائم کیا، جسے دارالشفاء کہا جاتا تھا۔ عالمگیر نے ہی کالجوں میں پڑھانے کے لیے نصابی کتب طب فیروزشاہی مرتب کرائی۔ اس کے دور میں صرف دلی میں سو سے زیادہ ہسپتال تھے۔
تاریخ سے ایسی ہزاروں گواہیاں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ہو سکے تو لاہور کے انارکلی مقبرہ میں موجود ہر ضلع کی مردم شماری رپورٹ ملاحظہ فرمالیں۔ آپکو ہر ضلع میں شرح خواندگی 80% سے زیادہ ملے گی جو اپنے وقت میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تھی، لیکن انگریز جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تو صرف 10% تھی۔ بنگال 1757ء میں فتح کیا اور اگلے 34 برسوں میں سبھی ااسکول و کالج کھنڈر بنا دیئے گئے۔ ایڈمنڈ بروک نے یہ بات واضح کی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلسل دولت لوٹی جس وجہ سے ہندوستان بدقسمتی کی گہرائی میں جاگرا۔ پھر اس ملک کو تباہ کرنے کے لئے لارڈ کارنیوالس نے 1781ء میں پہلا دینی مدرسہ کھولا۔ اس سے پہلے دینی اور دنیاوی تعلیم کی کوئی تقسیم نہ تھی۔ ایک ہی مدرسہ میں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، فلسفہ بھی اور سائنس بھی۔ یہ تاریخ کی گواہیاں ہیں۔ لیکن اشتہار و پروگرام بنانے والے جھوٹ کا کاروبار کرنا چاہے تو انہیں یہ باطل اور مرعوب نظام نہیں روکتا۔
مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ان تعمیرات کا مشاہدہ کیا ہے، آپ یقین کیجئیے کہ ان عمارات کے سحر سے نکلنا ایک مشکل کام ہوتا تھا اور فخر اور حیرانی ہوتی تھی کہ ان ادوار میں مشین کا وجود نا ہونے کے باوجود ایسے شاہکار تعمیر کرنا ناممکن لگتا ہے۔ لاہور میں مغلیہ فن تعمیر پر کبھی نظر دوڑائیے، آپ انجینئرنگ کے کارناموں پر محو حیرت رہے گے کیونکہ جب یورپ یونیورسٹیاں بنا رہا تھا تو یہاں وہ تعلیمات عام ہو چکی تھیں۔ لیکن یہ موجودہ ظالم نظام جہاں ہمیں اپنی اعانت کے لئے اپنا کلرک بناتا ہے وہاں ہماری عظیم تاریخ کو بھی مبہم بناتا ہے۔
تحریر کا اختتام کرنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن ایک سنہری قول سے اختتام کروں گا۔ مولانا شاہ سعید احمد رائیپوری فرمایا کرتے تھے
‘‘آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہیں ذرائع ابلاغ (Media) کا پروپیگنڈا بہا کے لے جاتا ہے”

حصہ