اس کتاب سے ملیے دیں ہمہ اوست

39

افشاں نوید
بلاشبہ یہ دجالی فتنوں کا دور ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنے اطراف تین طرح کے لوگ نظر آتے ہیں۔ ایک وہ جو سمجھتے ہیں کہ چودہ سو برس قبل جو آسمانی قوانین ہم پر لاگو کیے گئے تھے ان کو جدید زندگی کے مطابق بنانے کے لیے ان میں کچھ اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کے خیال میں اجتہاد کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔ آج کے جدید کا مہذب انسان ایک غیر متمدن سیکڑوں برس پرانے معاشرے کی تمام قدروں کو کیسے اپنا سکتا ہے۔ چناں چہ وہ تبدیلی اور جدت اور روشن خیالی کی عینک چڑھائے خود کو ’’جدید دنیا‘‘ سے قریب تر کرنے کی سعی میں ہمہ تن مصروف ہیں۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہمارا دین آفاقی ہے۔ قوانین بنانے والے ربّ کو علم تھا کہ دنیا میں کیا تبدیلیاں آنی ہیں جس نے تخلیق کیا وہ جانتا تھا کہ انسانی شعور کہاں تک ’’ترقی‘‘ کرے گا۔ لہٰذا اس کے احکامات ہر دور کے لیے ہیں، ایسے لوگ خود شعائر اسلام پر عمل کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں۔ گھروں میں دینی اقدار کا احترام کیا جاتا ہے، نظام عبادات کی بھی پیروی کرتے ہیں یعنی اچھے مسلمان ہیں۔
ایک تیسری قسم کے لوگ ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہزار ی یالاکھ میں ایک ہی ہوتے ہیں۔ ان کی یہ تعداد بھی سماج کی رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ یہ انفرادی عبادت، نیکیوں اور اپنے اہل خانہ سے آگے وسیع کینوس پر دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں ہماری ذمے داری خود کو بچانے کے علاوہ خیر کو عام کرنے اور اللہ کے بندوں کو بندگی کی سیدھی راہ دکھانے کی بھی ہے۔ اپنے گھر کے دروازے بند کرکے دجالی فتنوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے علم کا جواب علم، دلیل کا جواب دلیل، کردار کا جواب کردار، تحقیق کا جواب تحقیق، کتاب کا جواب کتاب اور مکالمہ کی روایت کو فروغ دینا ہوگا۔
یہ لوگ سماج کا مان ہیں۔ یہ انسانی مادی ضروریات کی فراہمی کو زندگی کا مقصد قرار نہیں دیتے بلکہ جسم و جان کی بہترین قوتیں اور دماغی صلاحیتیں کسی مثبت فکر کے فروغ کے لیے وقف کرتے ہیں۔
اس وقت ایک کتاب میرے سامنے ہے ’’دیں ہمہ اوست‘‘ جس کو ڈاکٹر محمد آفتاب خان صاحب نے تحریر کیا ہے۔ اس وقت جب کہ یہ پرچار کیا جارہا ہے کہ جنسیت کو بحیثیت مضمون اسکول کے نصاب میں شامل کیا جائے، بچوں کو ان امور سے آگہی اوائل عمری سے ہی دی جائے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں نہ صرف خواتین کے حقوق، مقام و مرتبہ بلکہ جنسی زندگی کے بارے میں بھی قلم اٹھایا ہے اور یہ بتایا ہے کہ انسانی زندگی میں جنسیت کا موضوع انفرادی اور اجتماعی زندگی کے دونوں پہلوئوں پر محیط ہے۔ اس کا تعلق تولید و تناسل کے ذریعے نہ صرف نوع انسانی کی دنیا میں فروغ و تسلسل سے ہے بلکہ انسان کی معاشرتی زندگی کے نقطہ نظر سے اس کی ازحد اہمیت ہے۔ نکاح اور شادی بیاہ کے ذریعے اس پاکیزہ خاندان وجود میں آتا ہے جو سماج کی بنیادی اکائی ہے جس کا دائرہ بڑھتے بڑھتے قبائل اور اقوام کے قیام کی صورت میں انسانی تہذیب و تمدن کی شکل میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ معاشرے کی بقا اور نمو انسان کی پاکیزہ جنسی اور خاندانی زندگی کے مرہون منت ہے۔ جب کہ زنا، قحبہ گری، ناجائز تعلقات اس ’’جنسیت‘‘ کے بگاڑ کی مختلف شکلیں ہیں۔ عمل قوم لوط اور ہم جنس پرستی جس کی طرف مغرب گامزن ہے، ماضی میں بھی قوموں اور تہذیبوں کی ہلاکت کا سبب بنے ہیں۔ آزاد جنسیت کا فروغ نہ صرف خاندانی نظام کی تباہی ہے بلکہ مہلک اور جان لیوا بیماریوں کا بھی سبب ہے۔ AID’s جیسی خطرناک بیماری اس بے راہ روی کا شاخسانہ ہے، جس میں انسان اپنے جسم کا موثر دفاعی نظام کھو بیٹھتا ہے۔ بدقسمتی سے انسان تاریخ کے طویل دور میں جنسیت کے حوالے سے دو انتہائوں کے درمیان ہچکولے کھاتا نظر آتا ہے۔ ایک انتہا ’’فری سیکس‘‘ سوسائٹی ہے تو دوسری وہ راہبانہ تصور کہ انسان اپنی فطرت اور نفسیاتی تقاضوں کو کچلنے کے لیے جنگلوں اور پہاڑوں کا رُخ کرلیتا ہے۔ عیسائیت میں رہبانیت کے اس تصور کو سینٹ پال نے فروغ دیا۔
دوسری طرف صنعتی ترقی نے لوگوں کو جہاں سہولیات اور آسائشات مہیا کیں وہیں ان کی زندگی میں تلخیاں بھی بھر دیں۔ اس پرتعیش زندگی کے لیے عورتوں کو بھی اتنا ہی کام گھر سے باہر کرنا پڑتا تھا جتنا مرد کرتے تھے، یوں خاندانی نظام توڑ پھوڑ کی نذر ہوگئے۔ عورت نے مرد کے برابر معاوضے کا مطالبہ اور آزادی تحریک نسواں کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگیا۔ اب طے پایا کہ شادی اور خاندان کا ادارہ عورتوں کو محکوم بنانے کی مردانہ سازش ہے۔ عورت، بیوی اور ماں بننے کا فیصلہ عورت کا ’’خود مختارانہ‘‘ فیصلہ ہونا چاہیے۔ یعنی عورت کا جسم اس کی ملکیت ہے۔ سماج کو اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، اس کی مرضی وہ اخلاقی اقدار کا احترام کرے یا نہ کرے۔ جب کہ قدرت نے دونوں اصناف میں جنسی کشش تعاون اور اشتراک عمل کے لیے رکھی تھی تا کہ خاندان کا ادارہ وجود میں آئے اور والدین بچوں کی پرورش کا کٹھن فریضہ خوشی خوشی ادا کریں اور ایک ہوں، معاشرہ تشکیل پاسکے۔
کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد آفتاب خان صاحب نے جنسیت جیسے حساس موضوع کا نہ صرف حق ادا کیا بلکہ مساوات مرد و زن کے حامی اور منکرین حدیث کے شکوک و شبہات کا بھی تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ نیز اس سوال کا جواب دیا ہے کہ قرآن میں تخلیق و تولید و تناسل کے موضوع پر چار سو سے زائد آیات اور 65 سے زائد صورتوں میں اتنی رہنمائی کی وجہ کیا ہے اور اس تکرار میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے مفسرین، محدثین اور فقہا کرام نے قرآن و سنت کی روشنی میں انسانوں کی معاشرتی اور مذہبی زندگی کے جو قوانین اور ضابطے بنائے ہیں وہ دراصل عمل تولید و تناسل (جنسیت) کا ایک اطلاقی پہلو ہے۔ جس پر اعتراض کرنا جہالت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام شادی بیاہ کو ایک عبادت گردانتا ہے۔ اولاد پیدا کرنے پر بشارتیں دیتا ہے، طلاق، خلع، عدت، رضاعت، مباشرت یہ سب اسلام کی نظر میں عبادت ہیں۔
فاضل مصنف کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے علم حدیث اور اس کے ارتقاء کے طائرانہ جائزے کے ساتھ حقوق نسواں سے متعلق وہ احادیث جن پر معترضین اعتراض کرتے ہیں ان کے اعتراضات کی حقیقت عقلی اور علمی دلیلوں کے ساتھ پیش کی ہے۔ منکرین حدیث کے اس خیال کو کہ چونکہ ان احادیث میں اللہ کے رسولؐ کی نجی زندگی کا تذکرہ جس سے ان کے بقول اہانت کا پہلو نکلتا ہے اور یہ آپؐ کی شان سے فروتر ہے۔ بظاہر یہ جذبہ خیر سگالی ہے لیکن مصنف کے نزدیک اگر ایک دفعہ ان احادیث کو غیر مستند مان لیا جائے تو پھر باآسانی دوسری احادیث کو بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
کتاب میں چار ضمیمے جو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد شفیع صاحب کے فیصلے پر کہ ’’کچھ احادیث ایسی ہیں جنہیں داخلی شہادت کی بناء پر صحیح مانا مشکل ہے‘‘ کا جواب سید مودودی کی کتاب ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ کی روشنی میں دیا ہے۔ انہوں نے فرداً فرداً تمام احادیث کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔
ضمیمہ ’’ج‘‘ میں مرد کی قوامیت میں لفظ قوامیت کی مفصل وضاحت کی ہے۔ تحریک آزادی نسواں کا پرچار کرنے والوں اور اسلام کی نظر میں عورت کو مظلوم ثابت کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس علمی بحث سے مستفید ہوں۔
ضمیمہ آخر میں عورتوں کی باجماعت نماز سے متعلق تصریح کردی گئی ہے۔
اس وقت ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جہاں مہنگی فیسیں دے کر بچے داخلہ لیتے ہیں اور ان اداروں سے فارغ طلباء و طالبات اچھی ملازمتوں پر تعینات کیے جاتے ہیں۔ بڑے اداروں سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کو اعلیٰ مناصب پر ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ ان اداروں کا سروے کریں تو پتہ چلے گا کہ یہ ادارے کس طرح تشکیک پھیلارہے ہیں، نوجوان ذہنوں کو وہ اساتذہ گمراہ کررہے ہیں جو خود یورپ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سند یافتہ ہیں۔
ایسے میں ضرورت ہے کہ اس محاذ پر جہاد کرنے کی، ہم اپنی نوجوان نسل کو اس طرح کی کتابوں کا مطالعہ کریں تا کہ اسلامی احکامات کی صحیح تصویر ان کے سامنے آئے۔ مذکورہ کتاب علم حدیث پر بھی ایک معتبر تصنیف کا درجہ رکھتی ہے۔ مصنف نے دور جدید کے تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے اس کتاب کا انگلش ترجمہ بھی شائع کیا ہے جو جلد منظر عام پر آنے والا ہے۔
ضرورت ہے کہ ہم اس علمی کاوش میں معاون ثابت ہوں، اپنی نوجوان نسل کو ٹھوس علمی مطالعہ کراکے ان کی پختہ ذہن سازی کریں۔ آنے والے وقت کے چیلنجز اور سخت ہوں گے، ضرورت ہے ہمیں علم اور دلیل کے ہتھیار سے لیس ہونے کی۔ اللہ مصنف کے دنیا و آخرت میں درجات بلند کرے اور اس کاوش کو خیر کا سبب بنائے۔ آمین۔
نوٹ: 320 صفحہ کی اس کتاب کو ادارہ مطبوعات سلیمانی نے شائع کیا ہے جس کی قیمت 500 روپے ہے۔

حصہ