۔’’دی پارٹی اِز اُوور‘‘کی تعارفی تقریب

14

صحافتی دنیا میں سہیل وڑائچ ایک قد آور شخصیت ہیں ان کی تحریریں پرنٹ میڈیا کی جان ہیں‘ ان کا ٹی وی پروگرام ’’ایک دن جیو کے ساتھ‘‘ بے حد مقبول ہے۔ ان کے تبصرے‘ ان کی سیاسی بصیرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے ان کے کالموں کی کتاب ’’دی پارٹی اِز اُوور‘‘ کی تعارفی تقریب کا اہتمام کیا جس کی نظامت عظمیٰ الکریم نے کی۔ تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں کسی کی صدارت نہیں تھی۔ اس موقع پر سہیل وڑائچ نے کہا کہ پاکستان کے لیے جمہوری روایات نیک فال ہیں‘ جمہوریت جاری رہنی چاہیے اس عمل سے ادارے مستحکم ہوتے ہیں۔ انھوں نے اشاروں کنایوں میں بتایا کہ دیو جمہوریت کا دشمن ہے یہ اتنی جلدی نہیں جائے گا۔ اس کے لیے شہزادی جمہوریت کو جدوجہد کرنی پڑے گی۔ محمود شام نے کہا کہ کالم نگاری میں سہیل وڑائچ کا اپنا اسلوب ہے وہ بڑی سے بڑی بات بھی باآسانی کہہ جاتے ہیں اس طرح کہ کوئی بات قابل گرفت بھی نہیں ہوتی وہ صحافت میں اُس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں کہ جن کا رشتہ کتاب سے جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کتاب میں سہیل وڑائچ نے شریف خاندان کے زوال کی داستان بیان کی ہے یہ ایک دستاویز ہے جو کہ تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ شکیل عادل زادہ نے کہا کہ سہیل وڑائچ ایک تجربہ کار صحافی و تجزیہ نگار ہیں ان کی تحریریں بامقصد اور سبق آموز ہوتی ہیں امتیاز عالم نے کہا کہ سہیل وڑائچ وسیع المشرب آدمی ہیں انھوں نے اپنے کالموں میں زمینی حقائق بیان کیے ہیں کبھی کسی کی لگی لپٹی نہیں رکھی‘ سہیل وڑائچ روشن خیال‘ جمہوریت پسند ہیں وہ اس طرح اپنے جملے Adjust کرتے ہیں کہ سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ کس طرح اشارہ ہے جب کہ وہ جملے عامیانہ نہں ہوتے ان کی تحریروں میں علمی بصیرت اور سیاسی پیش گوئیاں ہوتی ہیں جو کہ بڑی حد تک سچ بھی ہوجاتی ہیں۔ مظہر عباس نے کہا کہ سہیل وڑائچ کے کالموں میں پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ نظر آتی ہے اس کتاب کا ٹائٹل بھی بہت معنی خیز ہے۔ اس کتاب میں منطقی بحث کی گئی ہے جو کہ موجودہ زمانے کے حالات کے مطابق سو فیصد درست ہے۔ فاضل جمیلی نے کہا کہ سہیل وڑائچ کی ایک بڑی شناخت وہ انٹرویوزہیں جو کہ انھوں نے بڑے بڑے سیاست دانوں کے کیے تھے جو جنگ کے سنڈے میگزین کی زینت بنے ہیں ان کی تحریروں میں ادبی چاشنی اور تمثیل نگاری ہوتی ہے ان کا اندازِ بیاں دوسرے سے مختلف ہے انھوں نے ’’ایک دن جیو‘‘ کے ساتھ بڑے کامیاب انٹرویوز کیے ہیں۔ انھوں نے دنیا دیکھی ہے یہ جہاں دیدہ شخصیت ہیں ان کی تحریریں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ سید محمد احمد شاہ نے کہا کہ سہیل وڑائچ نہایت معتبر صحافی ہیں اور بے لاگ تبصرہ نگاروں کے سرخیل ہیں آرٹس کونسل میں ان کی کتاب کی تعارفی تقریب ہمارے لیے ایک اعزاز ہے۔ اس کتاب کے بارے میں عطا الحق قاسمی نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ مسلم لیگ نون کے بارے میں ان کی قیادت سے سوال کرنے کے بجائے اپنے سہیل وڑائچ سے کیوں نہ پوچھ لیا جائے کہ یہ سب کیسے ہوا‘ اور آگے چل کر کیا ہوگا؟ یہ خیال اس لیے آیا کہ سہیل وڑائچ واحد تجزیہ نگار تھے جنھوں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’پارٹی اِز اُوور‘‘ اور وڑائچ کی بات انتخاب کے رزلٹ کے حوالے سے بالکل صحیح نکلی لیکن اُن سے یہ پوچھنا باقی ہے کہ انتخاب کے جو نتائج سامنے آئے ہیں کیا آپ کے ذہن میں بھی یہی تقریباً یکطرفہ نتائج تھے یا ان میں شاعرانہ مبالغہ آرائی نظر آتی ہے۔ ایک سوال یہ بھی پوچھنے کا ہے کہ جب سہیل وڑائچ نے پارٹی اِز اُوور کہا تھا تو اس سے آپ کی مراد ن لیگ کی مکمل شکست تھی یا آپ سمجھتے تھے کہ پاکستان کی سیاست سے مسلم لیگ آئوٹ ہوگئی ہے۔

ہانی ویلفیئر آرگنائزیشن کا سمندری مشاعرہ

ہانی ویلفیئر آرگنائزیشن ایک سماجی ادارہ ہے جس کے تحت معاشرتی فلاح و بہبود جاری ہے اس ادارے کا ہیڈ آفس ریڑھی میاں گوٹھ لانڈھی میں ہے جہاں ایک شاندار اسپتال اور دینی تعلیم کے مدرسے کے علاوہ نرسری سے میٹرک تک کے طلبا و طالبات کے لیے جدید تعلیمی سہولیات میسر ہیں یہ تینوں شعبے ’’چیری ٹیبل‘‘ کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں‘ ان اہم خدمات کے علاوہ یہ ادارہ اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں بھی فعال ہے اس ادارے کے روح رواں مظہر ہانی شاعر بھی ہیں اس لیے وہ ہر ماہ ایک سمندری مشاعرے کا اہتمام کرتے ہیں اس کا طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ جس شاعر کے اعزاز میں سمندری مشاعرہ ہوتا ہے وہ بارہ شعرا کا انتخاب کرتا ہے جس میں صدر مشاعرہ بھی شامل ہوتا ہے‘ تین شعرا اور مہمان خصوصی مظہر ہانی منتخب کرتے ہیں اس طرح کل پندرہ شعرا اپنا کلام سناتے ہیں پہلے تمام شعرا کو ایک گھنٹے تک سمندر کی سیر کرائی جاتی ہے اور پھر سمندر میں کشتی لنگر انداز کرکے مشاعرہ ہوتا ہے۔ اب تک اختر سعیدی‘ رشید خان رشید اور اسحاق خان اسحاق کے لیے سمندری مشاعرے ترتیب دیے جا چکے ہیں جب کہ اختر سعیدی کی صدارت میں گزشتہ اتوار کو راقم الحروف (نثار احمد) کے اعزاز میں سمندری مشاعرہ منعقد ہوا جس میں عارف شیخانی مہمان خصوصی تھے اور نظامت کے فرائض رشید خاں رشید نے انجام دیے۔ اس مشاعرے کی پوسٹ جب فیس بک پر لگائی گئی تو بہت سے لوگوں نے تبصرے کیے‘ میں نے اُن سب کا جواب فیس بک پر ہی دے دیا تھا تاہم یہ بات عرض کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ جب کوئی تنظیم مشاعرہ کراتی ہے تو وہ اپنے پسند کے شاعروں کو دعوت دیتی ہے‘ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ زبردستی مشاعرہ پڑھنے کی کوشش کرے یا بلاجواز تنقید کرے۔ اس وقت کراچی میں شعرا کی بہت بڑی تعداد موجود ہے اور یہ ممکن نہیں کہ سب کو مشاعرے میں بلایا جائے۔ دوسری بات ہے کہ میں اپنے ہی کالم میں اپنی تعریف کروں گا تو بھی لوگ اعتراض کریں گے لہٰذا میں اس مشاعرے کی رپورٹنگ میں بہت محتاط رہوںگا ویسے بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنی تحریروں میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کروں۔ مشاعرے کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبولؐ سے ہوا جس کی سعادت عزیز الدین خاکی نے حاصل کی۔ مظہر ہانی نے خطبۂ صدارت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مشاعرے کے مہمان توقیری کرنل سعید ارشد بہت عمدہ کلام کہتے ہیں ہم انھیں بہت مدت بعد سن رہے ہیں جب کہ عارف شیخانی معروف سماجی رہنما ہیں اور خدمتِ خلق خدا میں مصروف عمل ہیں ان کا شکریہ کہ انھوں نے ہمارے پروگرام کے لیے وقت نکالا جب کہ صدر مشاعرہ اختر سعیدی کی ادبی خدمات سے ہم سب واقف ہیں یہ ہمارے لیے قیمتی سرمایہ ہیں ہم ان کی قدر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں مزید عزت و شہرت عطا فرمائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج کے صاحبِ اعزاز ڈاکٹر نثار ہمہ جہت شخصیت ہیں میں انھیں اخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مہمان خصوصی نے اعلان کیا کہ ہانی ویلفیئر آرگنائزیشن کی طرف سے مستحق شعرا کی بیٹیوں کی شادی میں پچاس ہزار روپے کا جہیز فراہم کیا جائے گا۔ صاحبِ صدر نے کہا کہ مشاعرے ہماری تہذیبی اقدار کا حصہ ہیں چاہے وہ زمین پر ہوں یا سمندر میں ان سے ہماری زندگی جڑی ہوئی ہے۔ اس پُر آشوب دور میں ذہنی آسودگی کے لمحات کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ مظہرہانی نے سمندری مشاعروںکی روایت زندہ کی ہے امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا انھوں نے اس مشاعرے کے انتظامات پر مظہرہانی اور ان کے رفقا کار کو مبارک باد پیش کی۔ سلمان صدیقی نے راقم الحروف کے فن و شخصیت پر سیر حاصل بحث کی جس کو میں اس لیے تحریر نہیں کر رہا کہ یہ ’’اپنے منہ میاں مٹھو‘‘ بننے والی بات ہوگی۔ اس موقع پر صاحب صدر‘ مہمان اعزازی‘ مہمانِ توقیری اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ جن شعرا نے کلام سنایا ان میں اقبال خاور‘ سلمان صدیقی‘ مقبول زیدی‘ حامد علی سید‘ مظہر ہانی‘ صفدر علی انشاء‘ یاسر صدیقی‘ عارف شیخ عارف‘ افضل ہزاروی اور اسحاق خان اسحاق شامل تھے۔

حصہ