وقت کی قدر

31

حذیفہ عبداللہ
موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد آج اسکول کا پہلا دن تھا تمام بچے خوش تھے ان کے چہرے دمک رہے تھے جو کہ ان کے روشن مستقبل کی گواہی دے رہے تھے۔ تعطیلات تو دو ماہ کی ہوتی ہیں میں مگر اس مرتبہ قومی انتخابات کی وجہ سے 15 دن کا اضافہ کر دیا گیا۔
تمام بچے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے آپس میں گفتگو میں مصروف تھے چھٹیوں کے دوران کی سرگرمیوں پر بات چیت کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ انہوں نے چھٹیوں کے مزے کیسے اٹھائے اور کہاں کہاں گھومنے گئے کون کون سے تفریحی اور تاریخی مقامات کی سیر کی…
گفتگو یہ سلسلہ جاری تھا کہ کلاس ٹیچر داخل ہوئے کلاس میں خاموشی چھا گئی کلاس ٹیچر سر انوار بچوں کے ہر دلعزیز استاد تھے جہاں وہ بڑھائی کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں کرتے تھے اسی طرح تمام بچوں پر خصوصی توجہ دیتے اور تفریحی اور بچوں کے دلچسپی کے پروگرام بھی منعقد کرتے تھے کبھی لطائف کی دنیا سجائی جاتی تو کبھی شعر شاعری کی کبھی معلومات عام کا پروگرام ہوتا ہر ہفتہ ایک دن ضرور پہلے پریڈ میں پر تقریب ہوتی۔
سر انوار صاحب نے کلاس میں داخل ہو کر بچوں سے دعا سلام اور خیر خیریت کے بعد کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پیارے بچوں اس مرتبہ تو آپ کی تعطیلات میں 25 فیصد اضافہ ہو گیا یہ بتائے آپ نے اس اضافے سے کیا فائدہ اٹھایا پوری کلاس پر ایک خاموشی سی طاری ہو گئی سب بچے خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ سر کے پاس سوال کا مطلب کیا ہو کیا معلوم کرنا چاہتے ہیں آخر ارشد سے نہ رہا گیا ارشد نے کھڑے ہو کر انور صاحب سے سوال کیا کہ سر آپ سے اس سوال کا مطلب کیا اور فائدے سے مراد کیا ہے۔
سر انوار مسکرائے اور کہا بچوں آپ تعطیلات دو ماہ کی ہوتی ہیں لیکن اس مرتبہ قومی انتخابات کے باعث ان میں 15 دن کے لیے اضافہ ہو گیا ظاہر ہے اس اضافی سہولت سے کیا نفع حاصل کیا آپ نے اپنی اصل چھٹیوں میں سیر تفریح اور اسکول ہوم ورک تو مکمل کر ہی چکے ہوں گے اور آرام بھی خوب کیا ہو گا مگر اس اضافے سے بلکہ جس کو بونس کہوں گا اس سے آپ نے کوئی فائدہ بھی اٹھایا یا یہ یوں ہی سونے اور آرام میں ضائع کر دیا کیوں کہ وقت سب سے بڑی قیمتی شے ہے اس کی قدر کرنا چاہیے۔ اس کے بعد انہوں نے تمام بچوں سے ان کی اضافی چھٹیوں کی مصروفیت سے متعلق معلوم کرنا شروع کیا اکثر بچے خاموش تھے ان کے پاس اس کا جواب نہیں تھا کیونکہ انہوں نے دو ماں میں اپنا ہوم ورک تو مکمل کر لیا تھا اور اس اضافی چھٹیوں کو غیر ضروری مشاغل میں صرف کیا صرف کھلینے کودنے اور سونے میں وقت گنوایا وہ آخر کیا بناتے سر انوار کلاس کے ذہین ترین طالب علم امجد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ امجد میاں آپ بتایے اضافی چھٹیوں کا استعمال کیسے کیا امجد نے بتایا کہ اصل چھٹیوں میں ہوم ورک اور سیر وتفریح ہو چکی تھی اب جب ان کی اضافی چھٹیاں آگئیں تو میں نے سوچا ان کا بھی درست استعمال ہونا چاہیے اور اس قیمتی وقت کا فائدہ ہونا چاہیے ٹائم ٹیبل مرتب کرکے اپنے نصاب کو دھرایا، اپنے کیے ہوئے کام کا از سرِ نو جائزہ لیا اور جہاں جہاں خامیاں نظر آئی ان کو دور کیا۔ انوار صاحب نے امجد کو شاباش دیتے ہوئے کہا بچوں وقت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں جو وقت کی قدر کرتا ہے ہمیشہ فائدے میں رہتا ہے اور وقت کو ضائع کرنے والے نقصان کا سودا کرتے ہیں۔

حصہ