ناکامی کامیابی کی بنیاد ہے

34

ڈاکٹر زرینہ
کوئی بھی دینی یا دنیاوی کام پوری محنت اور اخلاص کے ساتھ کرنے کے بعد اگر نتیجہ توقع کے مطابق نہ بھی آیا ہو تو دل کا اطمینان ضرور حاصل ہوتا ہے، جس نے بھی یہ کام کیا ہوتا ہے اور جس جس نے بھی اس کام میں حصہ ڈالا ہوتا ہے سب کے چہرے شاداں و فرحاں ہوتے ہیں، اور ایسا چین و سکون ملتا ہے جسے صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ فلاں کام کرو گے تو تم کامیاب ہوگے اور مفلحون اور فائزین میں شمار کیے جائو گے۔ بڑی دل چسپ بات ہے کہ اچھے مسلمان کی دنیا اور دین الگ نہیں ہے۔ اس دنیا کو گزار کر ہی تو جنت کا تمغا سجانا ہے اور مفلحون اور فائزون میں شامل ہونا ہے۔ یہ احسن طریقہ جو ہمیں اس منزل تک پہنچاتا ہے، یہ ہمیں قرآن اور سنت سے ملتا ہے۔
ناکامی سے بچنے کے لیے سب سے بہتر فارمولا یہ ہے کہ جب کوئی کام کرنے چلیں تو سب سے پہلے اس کا جو طریقہ قرآن اور سنت میں بتایا گیا ہے اُس کو معلوم کریں اور پھر وہ کام کریں۔ زندگی میں شروع سے آخر تک اس فارمولے پر عمل کیا جائے تو پھر ناکامی نہیں ہوگی، ہاں آزمائشیں ضرور آئیں گی۔ ان آزمائشوں کو ناکامی مت سمجھ لیجیے گا، وہ تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آئی ہیں حالانکہ ان کا مشن تو آیا ہی تھا کامیاب ہونے کے لیے، لیکن اللہ کی سنت یعنی طریقہ یہی ہے کہ وہ ایسے ٹھنڈے ٹھنڈے کوئی کام تھوڑی کرواتا ہے۔ آزمائش اس لیے آتی ہے کہ وہ اجر و ثواب کا ذخیرہ بڑھا دے۔ علامہ اقبال نے فرمایا ہے:
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
یعنی آزمائش ناکامی نہیں، دراصل کامیابی ہی کی ایک سیڑھی ہے اگر آپ کی سمت صحیح ہے۔ ہمارے اللہ نے ہماری فلاح اور کامیابی کے لیے چودہ سو سال پہلے جو قوانین وضع کیے اُن کو جان کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ قرآن اور سنت ایسے نوادرات سے مالا مال ہیں۔ تجارت کے اصول لے لیجیے۔ قرض دار اور قرض خواہ کے درمیان کا رشتہ۔ ہر چیز لکھ لینی چاہیے، اس لیے کہ بھول چوک انسانی فطرت ہے۔ املا وہ کروائے جو قرض لے رہا ہو، گواہ بنانا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ ناکامیاں اُس وقت ہوتی ہیں جب ہم قرآن اور سنت کے بجائے اپنے بنائے ہوئے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ پھر یا تو دھوکا کھاتے ہیں، یا دھوکا دیتے ہیں۔ ہماری تو اذان تک میں ہے حی علی الفلاح یعنی ’’آئو کامیابی کی طرف‘‘۔ بظاہر نماز پڑھنے میں دنیا کی کون سی کامیابی نظر آتی ہے، ثواب ملے گا آخرت میں، ابھی آخرت کس نے دیکھی ہے! ابھی تو دنیا پر ہی نظر ہے۔ لیکن دراصل اجتماعی نماز پڑھنے میں بے شمار فوائد ہیں۔ ایک دوسرے سے ملاقات سے دل خوش ہوتا ہے، ایک دوسرے کا حال معلوم ہوتا ہے، آدمی ایک دوسرے کے کام آتا ہے، مختلف دنیاوی معلومات ہوتی ہیں۔ انفرادی طور پر بھی نماز میں بہت فوائد ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ صحت کا ہے ان لوگوں کے لیے جن کا کام دن بھر بیٹھ کر روزگار کمانا ہے، وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر نماز کے لیے جاتے ہیں، چنانچہ یہ پیدل چلنا اور پانچ مرتبہ کی اٹھک بیٹھک جسم کو چاق و چوبند رکھتی ہے، رکوع سے جوڑ صحیح رہتے ہیں، سجدہ کرنے سے دماغ میں دورانِ خون بڑھتا ہے، نگاہ تیز ہوتی ہے۔ سوچتے جایئے اور گنتے جایئے، قرآن اور سنت کے یہ موتی ختم نہیں ہوں گے، آپ کی سوچ ختم ہوجائے گی۔ ہماری کامیابی کا راز کہاں کہاں اور کب کب قرآن اور سنت پر اپنے کام کرنے میں مضمر ہے اور ہم ناکام وہاں ہوئے ہیں جب ہم نے قرآن اور سنت سے رشتہ توڑا۔ قرآن اور سنت کو اپنا طریقہ کار بنانے میں آخرت کا فائدہ تو ہے ہی، دنیاوی کامیابی بھی ہے۔ اور اللہ کرے ہم اس نکتہ کو جان لیں اور اس پر عمل پیرا ہوجائیں، آمین۔

حصہ