میرے وطن

20

اقبال النساء
ڈائریکٹر قرآن انسٹیٹیوٹ
اتوار کا دن صبح سے موسم خوبصورت ہلکی ہلکی بوندا باندی ہوا بھی ٹھنڈی ٹھنڈی۔ بھینی بھینی پھولوں کی خوشبو سے معطر فضا۔ مہینہ بھی تو اگست کا تھا۔ میرے اپنے ملک کے بننے کا مہینہ پاکستان کے معرض وجود میں آنیکا مہینہ اسلام کے نام پر ایک خطۂ زمین حاصل کیے جانے کا مہینہ مسلمانوں کے نظریات کو پروان چڑھانے کا مہینہ۔ مسلمانوں کو اپنے حقوق اور فرائض سمجھانے کا مہینہ۔ پوری مخالف دنیا کے سامنے اپنے حق کی آواز کو بلند کرنے کا مہینہ۔ دو قومی نظریہ کو منوا کر اپنا حق حاصل کرنے کا مہینہ (اپنی جائدادوں، اپنے سرمایہ اپنے سرمایہ اپنے کھیتوں کھلیانوں کو) صرف مسلم ہونے کے ناطے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا مہینہ۔ بڑی بڑی طاقتوں کے سامنے کم مائیگی کے باوجود ڈٹ کے کھڑے ہو جانے کا مہینہ۔ جسم چاہے بیمار رہو۔ کمزور ہو لاغر ہو اپنی بات کو بہ بانگ دہل کہہ جانے کا مہینہ۔ ارے ہال یہ ساری جانتں تو قربانیاں چاہتی ہیں جانوں کی قربانیاں، مالوں کی قربانیاں، احساسات و جذبات کی قربانیاں، رشتوں ناطوں کی قربانیاں، کھیتوں کھلیانوں کی قربانیاں، اپنی جائدادوں کی قربانیاں، عہدوں اور عزتوں کی قربانیاں اور دیکھیں پھر ماہ اگست اور ذی الحج ایک ہی ساتھ آگئے۔ قربانیاں تو صرف اس وطن کو نہیں پیش کی گئیں بلکہ ہر چیز ہی قربانیاں مانگتی ہے۔ یہ قربانی ہی وہ جذبہ ہے جو انسان سے بہت کچھ کروا لیتا ہے۔
یہی سوچتے سوچتے جب گاڑی سے باہر نظر پڑی روڈ پر دور دور تاحد نگاہ اسٹالز ہی اسٹالز نظر آرہے تھے۔ سبز پرچم مختلف سائز کے پرچموں سے بھرے ہوئے اسٹالز نہ صرف پرچم، جھنڈیاں بلکہ جیولری پرچم کی گھڑیاں، ہاتھوں کے باندھنے والے بینڈز، بریسلیٹز، بندے، سروں میں لگانے والے ہیر بینڈز، انگھوٹھیاں، ٹوپیاں، مفلر، دوپٹّے، اسکارف، سوٹ، جرسیاں۔ غرض یہ کہ جس چیز کا تصور کرو وہ سبز ہلالی پرچم کی موجود۔
کیا یہ ملک صرف سبز ہلالی پرچم اوڑھنے لپیٹنے، لہرانے کے لیے حاصل کیا گیا تھا یا اس کو حاصل کرنے کا مقصد کچھ اور بھی تھا۔ کیا ایک دن شور شرابہ کر لینے سے مقصد پورا ہورہا ہے؟
کیا باجے بجانے، گانے سننے، ترانے گنگنانا لینے سے پاکستان بنائے جانے کا مقصد پورا ہورہا ہے؟
قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کا خواب و کوششیں دو قومی نظرئے کے لیے تھیں۔ مسلمان ایک الگ قوم ہندو ایک الگ قوم ان دونوں کے عقائد، نظریات، رہن سہن، مذہب، شادی بیاہ ہر چیز کا طریقہ الگ۔ دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ الگ خطۂ زمین حاصل کیا جائے جس میں نظام تعلیم، الگ سیاست، الگ معیشت، الگ رسوم و رواج، الگ ہوں۔ جس جگہ اسلام کا نظام نافذ ہو ہر مسلم کو مسلم رہنے دیا جائے اور اسلامی طور پر زندگی گزارنا آسان ہوجائے، جہاں مسلم حکمران کی حکومت ہو، جہاں کی عدلیہ قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرتی ہو، جہاں چوروں ڈاکوئوں کو آزادی نہ ہو، جہاں غریب غریب سے غریب تر اور امیر اپنے محلوں میں سونے کے بستروں پہ سونے والے نہ ہوں۔ جہاں امیر اور غریب کے لیے ایگ ہی قانون ہو، جہاں چوہدری وڈیرے اور ہاری کسانوں کے لیے یکساں حقوق ہوں، جہاں ڈاکٹر، لائر، استاد سب اپنے فرائض سے آگاہ ہوں اور ان پر عمل پیرا ہوں۔
جہاں اسلام کا قانون نافذ ہو تو پہاڑ دریا سب خزانے اگلنے لگیں۔ یہ خطۂ زمین جو جنت نظیر ہے، جہاں پہاڑوں بلندی، دریا کی روانی، میدانوں کی وسعت، سمندر کا جوش، باران کا حسن، جنگلات کا گھناپن، جہاں زمینوں کی زرخیزی، معدنیات گیس، ہوا، میٹھا و شولہ پانی سب ہی کچھ موجود ہے۔ اللہ کی دی ہوئی اس نعمت میں چادوں موسم بھی موجود، شمالی علاقہ جات میں برفانی پہاڑ، ٹھنڈ گرمی کا موسم، برسات کا موسم، گرمی کی شدت، بہار کی رونقیں، خزاں ہر طرح کا موسم اس خطۂ زمین میں موجود۔
میرا پیارا وطن دشمنوں کے ہر طرح کے خدشات میں گھرا ہوا۔ اندرونی دشمن، بیرونی دشمن، سرحدوں پہ گھاٹ لگائے دشمن میرے پیارے کی میرا رب حفاظت فرمائے۔ اس مملکت خداداد کے بیرونی دشمن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جب تک کہ اندرونی عوام طاقتور نہ ہو۔ اندرونی دشمن کبھی قومیت کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے، کبھی لسانی فسادات، کبھی گروہی جھگڑے، کبھی مذہبی فسادات، کبھی فرقہ وارانہ فسادات کے نام پر لوگوں کے املاک کا نقصان، کبھی صوبائی بھیت کے نام پر لوگوں کے تفریق، کبھی مسلک کے نام پر لوگوں کے جذبات کی توہین، کبھی مذہب کا مذاق، کبھی لوڈشیڈنگ، کبھی بے روزگاری، کبھی پانی کی کمی، کبھی کوڑے کا دھیر، کہیں بھکاریوں کے ٹولے، کہیں روڈ ٹوٹے ہوئے، کہیں پارک اجڑے ہوئے، کہیں پارک اور اسپتالوں کی زمین پر بنے ہوئے فلیٹ۔
تو کیا یہ سب کچھ دیکھ کر ہم مایوس ہیں نہیں؟ ہرگز نہیں! کیا یہ ملک اس لیے حاصل کیا تھا کہ سب مل کر اس کو لوٹیں، کوئی بینک بیلنس بڑھائے، کوئی جائدادوں میں اضافہ کرے، کوئی بیرونی ملک سپنے اثاثوں میں اضافہ کرے، کوئی غریب کا خون پسینہ نچوڑ کر اپنے اولادوں کی شادیوں میں لگادے۔
آج بھی کوئی تو ہوگا جو محمد علی جناح جیسا قائد اٹھے گا ایک چائے کی پیالی بھی سرکاری خزانے سے نہیں پیئے گا، کوئی تو ہوگا جو لیاقت علی خان جیسا نواب ہوگا اپنا گھر بھی سفارت خانے کے حوالے کر دے گا اور پھٹی ہوئی بنیان پہن کر بھی قوم کا قائد ہوگا۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

حصہ