میرے مقاصد کی تکمیل گاہ

14

صغری نور محمد،جامعۃ المحصنات سنجھورو
میرا نام صغری ہے میں نے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول راجو نظامانی سے F.S.Cکیا ہے۔ F.S.Cکے بعد میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں عالمہ کا کورس کروں گھر والوں کو بتایا مگر میری سنی نہیں گئی۔ آخر کار ناظمہ ضلع میری اجازت لینے میں کامیاب ثابت ہوئیں اجازت ملنے کے بعد جیسے ہی میں نے جامعہ میں داخلہ لیا پہلے کچھ دن تو اداس گزرے اور بوریت بھی ہوئی مگر آہستہ آہستہ میرا دل لگنے لگا
کالج کے ماحول اور جامعہ کے ماحول میں بہت فرق تھا مجھے کالج کی دوستوں کی بہت یاد آئی یہاں بھی کافی دوستیاں ہو گئیں تھیں لیکن کالج کی پرانی سہیلیاں بہت یاد ٓتی تھیں ایک دن ایک کالج کی دوست نے میری دعوت کی اور مجھ سے کالج کی باتیں کرنے لگی کہ ہم تو کالج میں بہت مزے کرتے ہیں کلاسزبھی کم لگتی ہیںکینٹین میں بیٹھتے ہیں اور خوب باتیں کرتے ہیں اور باہر ملنے بھی جاتے ہیں ۔اور اس بارتو کالج میں ویلن ٹائن ڈے کا پروگرام بھی ہوا یہ ساری باتیں سن کر میرا دل اتنااداس ہوا کہ مجھے افسوس ہونے لگا کہ میں اس جامعہ میں کیوں آئی ؟میں بھی وہاں ہی ہوتی کیونکہ آزادای تو ہر ایک کا حق ہے مجھے بہت رونا آیا میرا دل پڑھائی سے اچاٹ ہوگیا۔انہیں بوریت کے دنوں میں ایک دن کلاس میں قرآن کی معلمہ نے بتایا کہ اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں
ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔
(سورۃالقمر)
ان لفظوں نے مجھے بہت متاثر کیا مگر میرا دل مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوا ابھی کچھ دن ہی نہ گزرے تھے کہ پھر انہوں نے بتایا کہ آپ سب طالبات جو یہاں بیٹھی ہیں قرآن کا علم سیکھنے کے لئے چنی گئی ہیں کیونکہ اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کا فہم عطا کرتا ہے۔ اس دن مجھے ایسا لگا کہ اللہ تعالی نے میری معلمہ کی زبان سے یہ الفاظ کہلواکر مجھے مطمئن کیا ہے اس دن کے بعد میرے دل کی حالت بدلی پھر مجھے کبھی کالج چھوڑنے کا خیال نہیں آیا جامعہ میں پڑھنے کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ یہ جامعہ ایک روایتی جامعہ نہیں ہے یہ صرف موجودہ طالبات کی تربیت کے حوالے سے ہی کوشاں نہیں رہتا ہے تاکہ ان کو اپنے سے وابستہ رکھے اور یہ معاشرے کی چکا چوند کا شکار نہ ہوں یہی اس ادارے کی انفرادیت ہے اور بھی بہت سی باتوں کا علم ہوا جو بہت اہم ہیں ۔ہمیں نہ صرف دینی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے بلکہ کوکنگ اور سلائی پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے ۔مہمان نوازی ،طور طریقے،حقوق العباد کی اہمیت کا احساس دلایا جاتا ہے ۔استحکام خاندان کے حوالے سے لیکچرز ،ورکشاپس،ٹیبلوز کروائے جاتے ہیں ۔آج مجھے بہت احساس ہے کہ اگر میں جامعہ میں نہ آئی تو میری زندگی لاعلمی میں گزر جاتی مگر اب میرے اندر بہت تبدیلیاں آئی ہیں ۔میںحق و باطل میں فرق کر سکتی ہوں میں اپنے رب کو پہچان چکی ہوں میں خواہشات نفس کی پوجا نہیں کرتی سب سے اہم بات جو میں نے یہاں سے سیکھی وہ یہ کہ میں لوگوں سے امیدیں نہیں رکھتی صرف اللہ پر بھروسہ کرتی ہوں ۔میں اپنے تمام معاملے اللہ کے سپرد کرتی ہوں ۔
میری آپ سب سے درخواست ہے کہ میرے لئے دعا کریں کہ جو علم میں نے حاصل کیا ہے اللہ مجھے اس پر عامل بنائے سب پڑھنے والوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور جن جن لوگوں نے میری مدد کی اللہ ان کا بہترین حامی و ناصر ہو۔

بلوچستان کی رنگا رنگ ثقافت

زبیدہ نصیب، زبیدہ گل داد
(جامعۃ المحصنات کوئٹہ)
بلوچستان پاکستان کا وسائل سے مالامال صوبہ ہے جو اپنی رنگا رنگ ثقافت کے اعتبار سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچ عوا م عموما سادہ زندگی گزارتے ہیں ۔خواتین گھر کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرنا پسند کرتی ہیں اور اس کے ساتھ سا تھ انتہائی بیش قیمت کڑھائی کشیدہ کاری اور سلائی کا کام بھی کرتی ہیں بلوچ اپنی روایات اقدار کے بہت پابند ہوتے ہیں ان کے یہاں بزرگوں کی بہت عزت ہے بہت زیادہ احترام اور بڑوں کی بات مانی جاتی ہیں ان کے درمیان ہونے والے تمام معاملات کو بزرگ ہی حل کرتے ہیں لڑائی جھگڑے اور تنازعات کو جرگوں کے زریعے کیا جاتا ہے اس کو بلوچی میڑھ کہتے ہیں ۔بلوچوں کی ثقافت میں بہترین روایات مہمان نوازی ہے بلو چ قوم بہترین مہمان نواز ہوتی ہے ان کا ایک روایتی انداز مہمانوں کے لیے ہوتا ہے کھانے کے لیے بڑا سا تھال بیچ میں رکھ دیا جاتا ہے تمام افراد ایک ہی تھال سے کھاتے ہیں ۔
بلوچستان میں مختلف قبائل آباد ہیں جن میں سب سے قابل ذکر براہوی ہیں۔قبائلی براہوی لوگ بلوچستان میںبڑے پیمانے پر رہتے ہیں ۔سندھ افغانستان ،ایران میں بھی کچھ براہوی رہائش پزیر ہیں ۔ساتویں صدی میں بلوچستان کا شہر قلات براہوں کے لئے مشہور ہوگیا اگلے ۳۰۰سالوں میں براہوی قوم انگریزوں کے زیر عتاب آئی ۔ برطانیہ نے بالاترانہ طور پر مشہور قلات پر قبضہ کرلیا۔بعد میں ۱۹۴۸ میں اسے پاکستان میں شامل کر لیا گیا۔
براہوی بلوچستان کے صوبہ قلات کے گرد آبادہیں ۔یہاں موسم گرما اور موسم سرما میں بھی موسم ٹھنڈا رہتا ہے ۔براہوی لوگ مہمانوں کو ایک نعمت سمجھتے ہیں اوران کی خدمت اچھے کھانوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔اور وہ اپنے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے مویشی وغیرہ ذبح کرتے ہیں اور مہمان کو پورے گائوںکامہمان سمجھا جاتا ہے ۔یہاں جو زبان بولی جاتی ہے یہ براعظم کے سب سے قدیم ترین زبانوں میں سے ایک ہے اور اسے براہوی ہی کہتے ہیں ۔سندھ میں رہنے والے براہوی براہوی اور سندھی دونوں جانتے ہیں جبکہ بلوچستان میں رہنے والے براہوی براہوی اور بلوچی دونوں زبانیںبولتے ہیں ۔براہوی اسلامی روایات پر عمل کرتے ہیں اورتمام اسلامی رسمی جشن اور تہوار مناتے ہیں وہ سنتوں میں بہت یقین رکھتے ہیں۔یہاں قبیلہ کے سردار کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے لیکن شہروں میں زندگی کچھ مختلف بھی ہوتی ہے۔
بہت سے ذیلی قبائل براہوی بولنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ جن میں قابل ذکر رئیسانی (جمالی،سمولانی،بنگلزئی،محمد شی ہڑی ،بزنجو،محمد حسنی زرکزی،زہری،مینگل،لانگو) ہیں۔
ایک دلچسپ بات یہ کہ برہوی رسمی عدالتوں میں نہیں جاتے ۔ان کے پاس ان کا اپناعدلیہ کا نظام ہے جو جھنگ (پنج )کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں بنیادی طور پر منجھ کے نام سے پانچ افراد جو قبیلے کے سردار ہوتے ہیں وہ فیصلہ کرتے ہیں۔
براہوں میں تعلیم کی شرح بہت کم ہے ان کے نزدیک لڑکیوں کی تعلیم کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔زراعت یہاں کے لوگوں کا بنیادی پیشہ ہے۔
برہوی اور بلوچ قبائل کی کھانے کی روایات بھی بڑی دلچسپ ہیں۔ یہ مختلف قسم کے کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ان میں سے ان کی مشہور ڈش بکری یا ایک بھیڑ کی ٹانگ کا ٹکڑا آگ پر پکایا جاتا ہے جوسجی کے نام سے جانا جاتا ہے منئق برہوی غذا کا اہم حصہ ہے ۔
لباس سادہ ہوتا ہے ۔مردڈھیلے گھیر دار شلوار اور قمیض جبکہ عورتوں کی قمیض چھوٹے گھول آئینے کے ٹکڑوں کے ساتھ خوبصورت کڑھائی کا کام ہوتا ہے اور شلوار سادی لیکن اس میں جیب ہوتی ہیں۔خواتین بڑی چادر پہنتی ہیں اورمرد پگڑی۔
شادیاںعام طور پر قریبی خاندان کے اندر کی جاتی ہیں ۔اس وجہ سے طلاق کی شرح بہت کم ہے لڑکیوں سے اجازت نہیں لی جاتی ۔ لڑکیوں کی بہت کم عمر میں شادی کی جاتی ہے اوربچپن ہی میں رشتے طے ہوتے ہیں ۔شادی سے پہلے خواتین کو اپنے سسرال کے سامنے آنے کی اجازت نہیں ہوتی دلہن کو ایک کونے میں بٹھایا جاتا ہے یہاں سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔شادی سے کم از کم ایک ہفتے ان کے خاندان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو ملنے کی اجازت نہیں ہے ۔دلہن کے اخراجات کے لئے دلہن کے خاندان کو رقم (کب ) ادا کرنی پڑتی ہے ۔
غرض یہ کہ بلوچستان کی روایات منفرد بھی ہیں دلچسپ بھی اور یہی اس صوبہ کی خوبصورتی ہے۔

حصہ