قومی کھیل کو بے آبرو کرنے کا ذمے دار کون؟

22

راشد عزیز
بس یہی دیکھنا رہ گیا تھا، قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے کئی ماہ سے الائونسز کی ادائیگی نہ ہونے پر بغاوت کردی اور ایشین گیمز میں شرکت سے انکارکردیا۔ اس سے زیادہ بری خبر اگلے روز آئی۔ ملک ریاض نے بحریہ ٹائون کا دستر خوان بے چارے کھلاڑیوں کے لیے دراز کرتے ہوئے ان کی ادائیگی بحریہ ٹائون کی جانب سے کرنے کا اعلان کردیا۔
ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، ہمارے کھلاڑیوں نے طویل عرصے تک دنیائے ہاکی پر حکمرانی کی ہے۔ دنیا کا کوئی ٹورنامنٹ، کوئی اعزاز ایسا نہیں جو پاکستان نے حاصل نہ کیا ہو۔ ہمارے کھلاڑی دنیا بھر میں جانے اور مانے جاتے تھے، مگر ہمارے حکمرانوں نے جہاں دیگر تمام شعبوں میں تباہی اور بربادی کے ریکارڈ قائم کیے، وہیں اپنے اس قومی کھیل کو بھی اس جگہ پہنچا دیا کہ وہ ٹیم جو ہر بین الاقوامی مقابلے میں اوّل یا دوم آتی تھی، اب اسے کوالیفائی کرنا بھی دشوار ہوگیا ہے، اور نوبت یہ آپہنچی کہ ان کھلاڑیوں نے، جو پروفیشنل نہیں امیچر کھلاڑیوں کا درجہ رکھتے ہیں، یہ اعلان کرکے دنیا بھر میں اپنے ملک کا سر شرم سے جھکا دیا کہ اگر الائونسز نہیں ملے تو ہم ایشین گیمز میں حصہ نہیں لیں گے۔
کراچی میں قومی ہاکی ٹیم کے کپتان رضوان سینئر اور دیگر سات کھلاڑیوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشترکہ فیصلہ ہے کہ جب تک فی کھلاڑی ڈیلی الائونس اور دیگر مدات میں آٹھ لاکھ روپے کی بقایا رقم ادا نہیں کی جاتی ہم ایشین گیمز میں حصہ نہیں لیں گے۔ کراچی کے عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم میں ان کھلاڑیوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وہ اب پیسے نہ ملنے تک بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پریکٹس کریں گے اور اگر جلد ہی ادائیگی نہ ہوئی تو ایشین گیمز کا بائیکاٹ بھی کریں گے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ بغاوت نہیں کررہے بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔
ہاکی اسٹیڈیم میں اس وقت ایشین گیمز کی ٹیم کے 27 ممکنہ کھلاڑی پریکٹس کررہے ہیں جو سب کے سب پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ قومی ٹیم کے کپتان رضوان سینئر نے کہا کہ ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں، ہمیں بھی زندگی گزارنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے، چیمپئنز ٹرافی کے لیے ایک کیمپ لگایا گیا تھا، اس کے بعد کراچی اور ہالینڈ میں بھی کیمپ لگائے گئے مگر ہم الائونس سے محروم رہے، اس کے بعد الائونس کے بغیر ہی چیمپئنز ٹرافی میں بھی شرکت کی۔ ہم ایشین گیمز کے کیمپ میں بھی حصہ لیں گے، ٹرائلز بھی دیں گے، لیکن اگر ادائیگی نہ ہوئی تو ایشین گیمز میں حصہ نہیں لیں گے۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا، ہاکی ایک امیچر گیم ہے، اس کے کھلاڑیوں کو دیگر پروفیشنل گیمز کی طرح بڑی بڑی فیسیں ادا نہیں کی جاتیں، اور اگر ان بے چارے امیچر کھلاڑیوں کو معمولی الائونسز کی ادائیگی بھی نہ ہو تو یہ کس کی ذمے داری اورنالائقی ہے؟ فیڈریشن کے ذمے داروں کا کہنا ہے کہ ہالینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم نے آخری پوزیشن حاصل کی تھی جس کے بعد حکومت نے ہاکی فیڈریشن کی 20 کروڑ روپے کی گرانٹ واپس لے لی، اس کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے۔ کیا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) خالد کھوکھر یہ بتانا پسند کریں گے کہ اگر چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی آخری پوزیشن آئی تو اس خرابی اور انحطاط کا ذمے دار کون ہے؟ اور اگر حکومت نے گرانٹ روک لی ہے تو اس گرانٹ کو جاری کرانے کے لیے انھوں نے کیا کوششیں کی ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ خالد کھوکھر نواز حکومت کے ایک انتہائی اہم وزیر احسن اقبال کے قریبی عزیز ہیں، اور اگر انھیں فیڈریشن کے سب سے اہم عہدے پر فائز رہتے ہوئے اپنی ذات سے آگے بڑھ کر اس قومی کھیل، کھلاڑیوں اور ملک کا ذرا بھی خیال ہوتا تو کیا ملک و قوم کی اس طرح جگ ہنسائی ہوتی؟
خالد کھوکھر کو یاد ہوگا کہ چیمپئنز ٹرافی کی ابتدا 1978ء میں پاکستان ہی سے ہوئی، اس کا آئیڈیا ائر مارشل (ریٹائرڈ) نور خان نے پیش کیا تھا، اور 1978ء اور 1980ء کی چیمپئنز ٹرافی کی فاتح پاکستانی ٹیم ہی تھی۔
دنیا بھر میں اپنی قوم کو رسوا کروانے کے بعد خالد کھوکھر نے بڑا جذباتی بیان داغا ہے ’’گھر کا سامان بیچ کر بھی کھلاڑیوں کے واجبات ادا کروں گا‘‘۔ اگر ایسا ہی ہے تو کیا آپ اب تک اس انتظار میں تھے کہ آپ کے کھلاڑی یہ بیان دے کر ساری دنیا کو بتائیں کہ پاکستان کا مالی خسارہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ قومی ہاکی کھلاڑیوں کی ادائیگی کے لیے بھی پیسے نہیں! کھوکھر صاحب فرماتے ہیں کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خلاف سازش ہورہی ہے، کھلاڑی کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، ایسا بیان نہ دیں جو ملک کی بدنامی کا سبب بنے، کھلاڑی صرف کھیل پر دھیان دیں، ان کی پائی پائی ادا کردی جائے گی۔ سب جانتے ہیں کہ میں بات کا پکا ہوں، کھلاڑیوں کو جکارتا روانہ ہونے سے قبل ادائیگی کردوں گا چاہے مجھے اپنے گھر کا سامان ہی کیوں نہ بیچنا پڑے۔ کھوکھر صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اب کیا کسر رہ گئی ہے، اب وہ خود کو اور ملک کو کس بدنامی سے بچانا چاہتے ہیں!
یہ بات درست ہے کہ قومی کھلاڑیوں کو اس طرح ملک و قوم کی رسوائی نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن یہ حقیقت سب سے بڑی ہے کہ زندہ رہنے کے لیے روزگار کی ضرورت اوّلین ہے، ہاکی کے ان کھلاڑیوں میں سے اکثر کا دارومدار فیڈریشن سے ملنے والے الائونسز پر ہی ہے۔ کیمپ کے ان کھلاڑیوں میں تین سینئر کھلاڑیوں کا تعلق پی آئی اے سے ہے اور وہ تین ماہ سے اپنے ادارے کی جانب سے بھی تنخواہ سے محروم ہیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ معمولی الائونس حاصل کرنے والے ان کھلاڑیوں کو اس بات کا بھی گلہ ہے کہ فیڈریشن غیر ملکی کوچز اور دیگر آفیشلز کو بھاری معاوضہ ادا کرتی ہے اور ادائیگی بھی ڈالرز میں کی جاتی ہے۔ موجودہ آفیشلز میں ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے ہیڈ کوچ رولینڈ آلٹمینز اور فزیو ڈینیل بیری شامل ہیں، اور ان غیر ملکی کوچز کی کوششوں اور کارکردگی ہی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کی وہ ہاکی ٹیم جو کسی دور میں اولمپک اور عالمی کپ سمیت دنیا کے تمام ٹورنامنٹس میں اوّل یا دوم رہتی تھی اب یا تو اس کے کوالیفائی کرنے کے لالے پڑ جاتے ہیں، اور اگر رو دھو کر کوالیفائی کر بھی لے تو پھر آخری پوزیشن حاصل کر پاتی ہے۔
کھلاڑیوں کی اس بغاوت پر فیڈریشن کے کرتا دھرتا چراغ پا ہیں، انہی میں ایک شہباز احمد بھی ہیں جو عملاً سب کچھ ہیں، لیکن اگر شہباز حافظہ پر زور دیں تو شاید انھیں یاد آجائے کہ اس ’’شاندار‘‘ روایت کے بانی وہی ہیں اور انہی کی قیادت میں 1996ء میں قومی ہاکی ٹیم نے ادائیگی نہ ہونے پر پہلی بار بغاوت کی تھی۔
جیسا کہ ہر معاملے کا حل اس ملک میں آخرکار بحریہ ٹائون کی صورت میں نکلتا ہے، ملک ریاض نے ہاکی ٹیم کے الائونسز کی ادائیگی کا اعلان بھی کردیا ہے، لیکن یہ حل خوش آئند نہیں افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔ یہ مسئلہ کسی غریب، یتیم اور بے سہارا فرد کا نہیں، قومی ہاکی فیڈریشن کا ہے جسے بھیک یا خیرات سے چلانے کے بجائے بند کردینا بہتر ہوگا۔

حصہ