عطارد کے مدار میں

23

قاضی مظہرالدین طارق
اگر آپ سیّارہ عطارد(مرکیوری) پر کھڑے ہوں اور سورج کو طلوع ہوتا دیکھیں؛سورج بہت ہی آہستہ آگے بڑھے گا،دو پہر تک پہنچے گا،اور واپس پلٹ جائے گا اور پھر وہیں غروب ہو جائے گاجہاںسے طلوع ہوا تھا ۔ حیرت انگیز! کیوں کہ اس کا ایک دن ۱۷۶ زمینی دنوں کے برابر ہے اور ایک سال ۸۸ دنوں کے برابر،اورسال سے بڑا دن ،دو سال میں صرف ایک دن گزرے گا ۔
عطارد سورج کے اطراف گھومنے والا؛ سب سے نزدیک،سب سے تیز سیّارہ ہے ، یہ سب سے جلدی صرف ۸۸ زمینی دنوں میں سورج کے گرد ایک چکّر لگاتا ہے ، یعنی اس کا ایک سال؛۸۸ زمینی دنوں کے برابر ہوتا ہے ۔ یہ اپنے محور پر سب سے آہستہ اس کے دو سال میں اپنے محور پر صرف ایک دفعہ گھومتا ہے ، یعنی اس دو سال میں، اس کا صرف ایک دن گزرتاہے ، ۱۷۶ زمینی دنوں کے برابر اس کا ایک دن ہوتا ہے ۔
یہ تقریباًسات زمینی سال میںایک دفعہ،زمین سے دیکھتے ہوئے، سورج اور زمین کے درمیان سے گزرتا ہے، ۲۰۱۶؁ء میں عطارد سورج کے سامنے سے گزرا تھا ، اب یہ زمین اور سورج کے بیچ سے ۲۰۲۳؁ء میں گزرے گا۔یہ اس کے بیضوی مدار میںسورج درمیان سے ہٹ کر ہے ، اس کی مداری گردش کی رفتارسورج سے دور جاتے ہوئے ؛ ۲۴میل فی سیکنڈ، اورقریب آتے ہوئے ۳۰میل فی سیکنڈ تک ہوتی ہے۔ اس کا درجۂ حرارت دن میں مثبت ۴۲۵ اور رات میں منفی ۱۷۳ ’سنٹی گریٹ‘ رہتا ہے۔
ماضی میںعطارد کو صرف زمین سے دور بین کے ذریعہ دیکھا جا رہا تھا ، پھر ۱۹۷۴؁ میں جب ’میرینردہم‘ مہم کے غیر متوقع نتائج سامنے آئے تو اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے کا مزید شوق پیدا ہو ا ۔
عطارد کی طرف بہت کم مہمات بھیجی گئیں ، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ زمین سے اندرونی سیّاروں کی طرف خلائی جہاز بھیجنے کے لئے سورج کی کشش سے مقابلہ ہوتا ہے ، اور اس میں ایندھن بھی بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے ۔
مگرہم کو یہ بات عجیب لگتی ہے ، جب سورج کی طرف جاناہی ہے وہ اپنی طرف کھینچ بھی رہا ہے تو ایندھن کم خرچ ہونا چاہیئے نہ کہ زیادہ؟
ہاں ! یہ بات اُس وقت صحیح ہوگی ؛جب جہاز کو سورج کی طرف جانا ہو، اس میں جا کر گر جانا ہو اور جل کر بھسم ہو جانا ہو ، مگر اس جہاز کو تو سورج پر گر نا نہیں ،بلکہ اس کی کشش کا زور توڑتے ہوئے اور اس کی کشش سے مقابلہ کر تے ہوئے ، اس کے اطراف مدار میں گھو متے رہنا ہے ۔
اللہ جلِ شانہٗ نے عطارد کو بھی سورج پر گر کر جل جانے سے بچانے کے لئے ہی ،اتنی زیادہ رفتار دی ہے، تاکہ یہ سورج پر گرنے سے محفوظ رہے ۔ جو سیّارے سورج سے دور ہوتے جاتے ہیں ان کی رفتاربھی آہستہ ہوتی جاتی ہے ۔
عطارد (مرکیوری) کی تیز رفتاری کی وجہ سے قدیم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ دو ستارے ہیں ؛ ایک صبح کو نکلتا ہے دوسرا شام کو ۔ اُن کو اِس کے ایک سیّارہ ہونے کے بابت اُس وقت معلوم ہوا جب ۱۵۴۳؁ء میں ’ کوپرنیکس ‘ نے اپنا ماڈل پیش کیا، جس میںاُس نے سورج کو نظامِ شمسی کے درمیان رکھا اور سیّاروں کو اُس کے اطراف گرد گردش کرتا ہوا دکھایا ، اس سے پہلے زمین کو مرکزِ کائنات مانا جاتا تھا ۔
مرکیوری، ’جوپیٹر‘ کے چاند ’گینے میڈ ‘ اور’ سیٹرین ‘ کے چاند ’ٹیٹان ‘ سے بھی چھوٹا ہے ، اس کے اندر تین تہیں ہیں؛ کرسٹ ، مینٹل اور کور (قلب)۔
کرسٹ صرف ۶۲سے ۱۸۶ میل موٹا ہے جس میں اس کی سطح بھی شامل ہے ، پھر یہ ٹھوس اور خستہ ہے ۔ مینٹل بھی ۳۷۳ میل موٹا مگر یہ بھی زمین کی نسبت کم موٹا ہے ، زمین پر دراڑیںاور پہاڑ؛ٹیٹونک پلیٹس کی حرکت کی وجہ سے بنتے ہیںجبکہ عطارد کے سُکڑنے کی وجہ پہاڑ بنتے ہیں۔
اس کا دھاتی کور بہت بڑا ہے ،اور ٹھوس کے بجائے مائع ہے، اس کی وجہ سے عطارد کی کئی خاصیّتیں بھی مختلف ہیں ۔
عطارد، زمین کے بعد سب سے کثیف سیّارہ ہے ، اس لئے کہ اس میں دھاتوں اور چٹانوں کی مقدار زیادہ ہے ۔ مگر اس کی کشش زمین کی کشش کا صرف ۳۸ فیصد ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ اپنے گرد ہوائی کرّہ کو نہیں روک سکتا ، شمسی ہوئیں اس کی فضا کو اُڑا لے جاتی ہیں ، جبکہ یہی ہوائیں اس کو مزید گیسیں ، ریڈیو’ اَیکٹوو ‘فضلے اور خلائی گرد کے ذریعہ دوبارہ ہوائی کرّہ عطا کر دیتی ہیں ۔
ایک بحث ایک عرصے سے جاری تھی ،جس کا اب فیصلہ ہو چکا کہ اس کا دھاتی کور ٹھوس نہیں مائع ہے ، جواس کے حجم کا چالیس فیصد ہے ۔
عطارد پر سال بھر کوئی موسم تبدیل نہیں ہوتا،سارا سال ایک ہی موسم رہتا ہے،کیونکہ یہ سورج کے سامنے صرف سات ڈگری جھکا ہوا ہے۔
اس پر اب تک صرف دو مہمات بھیجی گئی ہیں، ۱۹۷۴ء؁ میں’میرینر دہم‘ کے نام اور ۲۰۰۴؁ء میں ’ میسنجر ‘کے نام سے ۔
’ میرینر دہم ‘ تین دفعہ عطارد کے قریب سے گزرا ؛اور اس نے بہت ہلکا سا فضائی کرّہ اوراس کا ایک کمزور مقناطیسی میدان دریافت کیا ،اس دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ لاکھوں سال پہلے اس سے کوئی اور سیّارہ ٹکرایا جو اس کی اُوپری تہوں میں سے کئی تہہ لے گیا ،اسی وجہ اس کا ’کور‘ بہت بڑا ہے۔ اس کے علاوہ اِس نے عطارد کے تقریباً آدھے حصے کا نقشہ بنایا۔
پوراکیوں نہیں بنایا؟یہ اس وجہ سے کہ یہ اتنی آہستہ گھومتا ہے کے اس کے دو سال کے برابر ایک دن ہوتا ہے ، اس کے سامنے سے تین دفعہ گزرنے باوجود وہ آدھے حصے کو ہی روشن دیکھ سکا،اندھیرے حصے کا نقشہ تو وہ بنا ہی نہیں سکتا تھا۔
ََ۳؍اگست ۲۰۰۴؁ ء کو ناسا نے’میسینجر‘ کے نام سے ایک خلائی جہاز روانہ کیا جس میں جدید کمپیوٹر روبوٹ اور بہت سارے آلات نسب ہیں،تاکہ عطارد کی ساخت، بناوٹ اور اس کی کیمیائی ترتیب کی معلومات حاصل کی جائے،مزید اس کے اطراف فضا و خلا کے بارے میں بھی یہ معلومات حاصل کیا جاسکے،یہ ساڑھے چھ سال بعد (۲۰۱۱؁ء) میں عطارد کے مدار میں پہنچا،اس سے پہلے(۲۰۰۵ء؁ )میں ’میسنجر‘ دوبارہ زمین کے قریب سے گزرا،اور دو مرتبہ(۲۰۰۶ء؁ اور ۲۰۰۷؁ء) میںزہرہ ’وینس ‘ کے قریب سے گزرا۔
اس میںسمشی توانائی سے بجلی بنانے کے لئے خاص سَیلز لگائے گئے ہیںتاکہ سورج سے قریب سخت تپش میںبھی کام کر سکے،اس کے ساتھ نازک آلات کو تیز حدّت سے بچانے کے لئے خاص چھتری سے ڈھاپا گیا۔
میسنجر مہم کا بنیادی کام ایک لاکھ تصاویر لینے کے بعد ۱۷؍مارچ ۲۰۱۲؁ء میں ختم ہو جانا تھا، مگر اس نے عطارد کا مکمل نقشہ بنانے کا کام ایک سال اور لگاکر ۱۷؍مارچ ۲۰۱۳ء؁ میںپورا کیا۔
یہ جہاز عطارد کے قریب ہوتے ہوئے۲۰؍اپریل۲۰۱۵ء؁ سے پہلے پہلے اس پر گر کر ختم ہونے تک بھی سائنسی معلومات زمین پر بھیجتا رہا۔
یورپی اور جاپانی اسپیس ایجنسیوں کی مشترکہ مہم جس کو’ بیپی کولمبو‘ کے نام سے موسوم کیا گیاہے۔اس مشن میں دو خلائی شامل ہیں ،یہ بھی پہلے دو جہازوں کی طرح چاند، زہرہ اور عطارد کی کششِ ثقل سے مدد لے کر عطارد کے مدار میں پہنچیں گے۔
اس مہم کو ۲۰۰۹؁ء میں منظور کیا گیا تھا،اس نے اکتوبر ۲۰۱۸ ؁ء میںاُڑان بھرنی ہے،اور فروری ۲۰۲۴؁ء میں اس نے عطارد کے مدار میں داخل ہونا ہے۔یہ ایک سے دو سال تک تحقیق کر کے پچھلے دو مہمات کے تجزیوںتصدیق کرے گا۔
آپ سوچ رہے ہوں گے اس تحقیق سے کیا حاصل ہوگا؟
کیوں کہ عطارد کی کیمیا،بناوٹ اور ساخت میں اس کی پیدائش کے وقت سے اب تک زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی ہے اس لئے، اس کے مطالعے سے ہم کومعلوم ہوگا کہ اس کائنات کی تشکیل کی ابتدا کیسے ہوئی اور کائنات کے کئی رازوں سے پردہ اُٹھ سکے گا۔
یاد ہے !پندرہ سو سال پہلے خالقِ کائنات نے انسان کو حکم دیا تھا کہ’’معلوم کرو کہ میں(اللہ)نے اس تخلیق کی ابتدا کیسے ،پھر تم یہ یقین کرسکوگے کہ میں اس کو دوبارہ بھی پیداکر سکتا ہوں!‘‘
جب وہ ہم کو دوبارہ پیداکر سکتا ہے توپھر ہم کو یہ بھی یقین آ سکتا ہے کہ اس زندگی کے محروموں اور مظلوموں کونعمتیں عطا کی جا ئیں گی، اور ظالموں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دیا جا ئے گا!!!
٭…٭…٭

حصہ