شریکِ مطالعہ

66

نعیم الرحمن
جہلم بک کارنر کا شمار پاکستان کے بہترین اور منفرد پبلشرز میں کیا جاتا ہے، جنھوں نے حالیہ برسوں میں اردو ادب کی شمع کو روشن رکھا ہے اور اَن گنت شاہکار نئی کتب اور کئی برسوں سے ناپید منفرد کتابوں کے نئے ایڈیشن شائع کیے، جن کی چھپائی کا معیار اعلیٰ اور کاغذ بھی بہت عمدہ استعمال کیا جاتا ہے۔ منفرد افسانہ نگار اور دانش ور محمد حمید شاہد کے صاحبزادگان گگن شاہد اور امر شاہد صوری اور معنوی اعتبار سے ان شان دار کتابوں کی اشاعت کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور تقریباً ہر ہفتے ادارے کی جانب سے علم و ادب کی کوئی نئی کتاب منظرعام پر آجاتی ہے۔
گگن اور امر شاہد نے گزشتہ سال اردو کے سب سے منفرد ادیب، دانش ور اور سابق بیوروکریٹ مختار مسعود کی رحلت کے کچھ ہی روز بعد اُن کی یادوں اور باتوں سے مزین شان دار کتاب شائع کی تھی جس میں مختار مسعود کے بارے میں خاکے، سوانح اور کتابوں کے اقتباسات شامل تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اردو ادب کے بڑے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے انتقال کے صرف ایک ماہ بعد امر شاہد نے ’’مشتاق احمد یوسفی، کچھ یادیں اورکچھ باتیں‘‘ کے عنوان سے ایک دل کش گل دستہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ بہترین کاغذ اور صوری و معنوی حسن سے آراستہ بڑے سائز کے 576 صفحات کی اس بے مثال کتاب کی قیمت پندرہ سوروپے بھی مناسب ہے۔ اتنے کم وقت میں اور ایسی عمدہ کتاب ترتیب دینے پر امرشاہد اور جہلم بک کارنر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ان سے یہ درخواست ضرور ہے کہ دورِ حاضر کے سب سے بڑے افسانہ نگار انتظار حسین اور منفرد ناول نگار عبداللہ حسین کے بارے میں بھی ایسی کتب ترتیب دینے پر توجہ دیں۔
کتاب کا انتساب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دو باکمال نثر نگاروں مشتاق احمد یوسفی اور مختار مسعود کے نام ہے۔

گئے زمانے میں زندہ ہیں یہ جو آج کے لوگ
یہی تو لوگ ہیں یارو مرے مزاج کے لوگ

ابتدائی 32 صفحات میں مشتاق احمد یوسفی کی کئی عمدہ اور یادگار تصاویر دی گئی ہیں، جو قارئین کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ تصاویرکے درمیان ڈاکٹر اسلم فرخی مرحوم کی یوسفی صاحب کی اہلیہ ادریس فاطمہ کے بارے میں ایک یادگار تحریر ہے، لکھتے ہیں:

’’بارے بیگم کا کچھ بیاں ہو جائے
خامہ ابر گہر فشاں ہو جائے

بیگم ادریس فاطمہ صحیح معنوں میں یوسفی صاحب کی رفیق ِ حیات تھیں۔ یوسفی صاحب اور ان کی بیگم کو فلمی اصطلاح میں ہنسوں کا جوڑا کہنا چاہیے۔ ایک دوسرے کے سنگی ساتھی، متوالے، ایک دوسرے پر فدا۔ یوسفی صاحب کسی محفل، جلسے، تقریب میں بیگم کے بغیر شریک نہیں ہوتے تھے۔ کیا دل نواز رفاقت تھی۔ نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔ بیگم یوسفی بیمار پڑ گئیں اور ایسی بیمار پڑیں کہ بس، اور آخر ساری نیک بیبیوں کی طرح یوسفی صاحب کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ یوسفی صاحب اب محفلوں میں تنہا نظر آتے ہیں تو اداسی کا احساس ہوتا ہے۔ اب یہی اداسی ان کی رفیقِِ حیات ہے۔ لیکن اس اداسی کے باوجود کوئی فقرہ، کوئی جملہ ایسا کہہ دیتے ہیں کہ ماضی کے یوسفی کی بازیافت ہوجاتی ہے۔‘‘
’’زبانِ یارِمن یوسفی‘‘ کے عنوان سے دیباچہ میں امر شاہد لکھتے ہیں کہ ’’ہم جیسوں کے لیے مطالعۂ یوسفی خود پرکیے احسان کے مترادف ہے، اسی لیے تو ہم قبلہ والدِ گرامی، ناشر و ادیب ’’شاہد حمید‘‘ کے شکرگزار ہیں جنھوں نے کم عمری میں ہی مشتاق احمد یوسفی اور مختار مسعود کی کتابیں تھما دیں۔ اُن کتابوں سے متعدد اقتباسات ذہن میں محفوظ کرتے اور احباب کو مزے لے لے کر سناتے۔ پوری محفل کو ہر فقرے پرغورکرنا پڑتا کہ اس بات میں کون کون سے خزانے پوشیدہ ہیں۔ پھر ہوا یوں کہ یوسفی صاحب کی دی ہوئی بہت سی دل چسپ اصطلاحات ہماری گفتگو کا حصہ بن گئیں۔ کتاب سے پہلے مضمون لکھنے بیٹھے تو یوسفی ہی کی بگاڑی ہوئی ضرب الامثال کی طرز پر یہ عنوان دے ڈالا: زبانِ یارِ من یوسفی‘‘۔
گویا یہ لکھ کر امر شاہد نے مشتاق احمد یوسفی کے طرزِ تحریر اور اسلوب کے بارے میں دریا کوکوزے میں بند کردیا ہے۔ پھر مضمون کے آخر میں کیا سچا جملہ لکھا ہے:’’ملاحظہ کیجیے، یوسفی صاحب کے مرنے کے بعد بھی عہدِ یوسفی کیسے باقی بلکہ لافانی ہے!!‘‘
کتاب کے چھ ابواب ہیں جن میں پہلا زندگی نامہ ہے، جس میں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے مشتاق احمد یوسفی کی سوانح نوعمری ان کی کتابوں ہی سے کشید کی ہے۔ جبکہ طارق حبیب نے شخصی اور ادبی سوانح تحریر کی ہیں۔ اشفاق احمد ورک اپنے مضمون میں یوسفی صاحب کی زبانی ہی بیان کرتے ہیں کہ ’’اس صدی کی تیسری دہائی میں ایک خاتون نے، جو اردو میں معمولی شدبد رکھتی تھیں، اُس زمانے کا مقبول ناول ’’شوکت آرا بیگم‘‘ پڑھا جس کی ہیروئن کا نام ’’شوکت آرا‘‘ اور معاون کردار کا نام ’’فردوس‘‘ تھا۔ اُن کے جب بیٹیاں ہوئیں تو دونوں کے یہی نام رکھے گئے۔ ایک کردار کا نام ادریس اور دوسرے خدائی خوارکا اچھن تھا۔ یہ دونوں انھوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بطور نام اور عرفیت بخش دیے۔ بچے کل چار دستیاب تھے۔ جب کہ ناول میں ہیرو کو چھوڑ کر، ابھی ایک اور اہم کردار ’’پیارے میاں‘‘ نامی ولن کا باقی رہ گیا تھا۔ چناں چہ ان دونوں ناموں، دہرے رول کا بوجھ بڑے بیٹے کو اٹھانا پڑا جس کا نام ہیرو کے نام پر مشتاق احمد رکھا گیا تھا۔ یہ سادہ لوح خاتون میری ماں تھی۔ بحمدللہ ناول کی پوری کاسٹ، باستثنائے شوکت آرا، جس کا طفولیت ہی میں انتقال ہوگیا تھا، زندہ سلامت ہے۔ والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور عرب جاکر بدوؤں کا مفت علاج کروں، اس لیے کہ ناول کے ہیرو نے یہی کیا تھا۔ مولا کا بڑا کرم ہے کہ ڈاکٹر نہ بن سکا ورنہ اتنی خراب صحت رکھنے والے ڈاکٹرکے پاس کون پھٹکتا۔‘‘
طارق حبیب صاحب مشتاق احمد یوسفی کی زندگی ہی میں ’’یوسفیات‘‘ کے نام سے اُن کے فن اور شخصیت پر کتاب تحریر کر چکے ہیں، جس میں یوسفی صاحب کی چار کتابوں سے جملے اور پورے پیرے اڑاکر ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کئی کتابوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ’’شخصی اور ادبی سوانح‘‘ میں یوسفی صاحب کے خاندان اور اجداد کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے مشتاق احمد یوسفی کی تاریخ پیدائش پر بحث کے ذریعے بھی روشنی ڈالی ہے۔ غرض دونوں مضامین صاحبِ کتاب کے بارے میں کافی معلومات افزا ہیں اور قاری کو ان کے ذریعے یوسفی صاحب کے بارے میں کئی نئی باتوں کا علم ہوتا ہے۔
دوسرا باب ’’سوانحی خاکے اور مضامین‘‘ ہے، جس میں شان الحق حقی، مجتبیٰ حسین، سید ضمیر جعفری، ڈاکٹر محمد احسن فاروقی، احمد جمال پاشا، مجنوں گورکھپوری، ڈاکٹر اسلم فرخی اور رضا علی عابدی سمیت 21 ادیبوں کے مشتاق احمد یوسفی کی زندگی میں ان کی شخصیت اور فن پر لکھے مضامین اور خاکے شامل ہیں۔ احمد جمال پاشا، مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری پر مضمون میں ان کی مختلف تحریروں کے نمونے درج کرتے ہیں۔ اب چارپائی کے بارے میں سنیے: ’’چارپائی جس پر دن بھر شطرنج یا رمی کی پھڑ جمی، اور جو شام کو دسترخوان بچھا کے کھانے کی میز بنائی گئی، یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بناکر سگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقتِ ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر اسٹریچر بنا لیتے ہیں اور بجوگ پڑ جائے تو انہی بانسوں سے ایک دوسرے کو اسٹریچر کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ اسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب قمچی کے ذریعے اخلاقیات کے بنیادی اصول ذہن نشین کراتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر اسلم فرخی دبئی میں منعقدہ جشنِ مشتاق احمد یوسفی کے صدارتی خطبے میں کہتے ہیں کہ ’’صاحبو! اگر میں محمد حسین آزاد ہوتا تو یہ خطبہ یوں شروع ہوتا: ڈنکا بجتے ہی شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربارکے سارے دروازے ایک ساتھ کھل گئے۔ شاہانِ ذی وقار، طالع آزمایان کامگار، جوق در جوق اندر داخل ہونے لگے۔ ادب وشعرکے دروازے پر بڑی ریل پیل اور دھکا پیل تھی۔ اتنے میں چارکہار ایک سبک، خوش نما، طرح دار ہوادار کاندھوں پر اٹھائے نمودار ہوئے۔ ہوادار بسم اللہ کہہ کر دروازے کے سامنے رکھ دیا۔ دروازے پر مرزا فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، ڈاکٹر شفیق الرحمن اور ابن انشا چشم براہ تھے۔ چاروں پیشوائی کے لیے آگے آئے۔ طنز و مزاح کے ایوانِ عالی شان کی مسندِ زرنگار پر بٹھا دیا۔ سواروں نے مسندکے اردگرد چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت اورآبِِ گم کے پھریرے لہرا دیے۔ معلوم ہوا کہ یہ سنجیدہ اور بردبار، مردِ عالی وقار، مسکراہٹیں بانٹنے اور بے راہ معاشرے کی ظلمت میں خوش مذاقی کی پھلجھڑیاں چھوڑنے والے محرمِ آشوبِ آگہی مشتاق احمد یوسفی ہیں۔ یوسفی کے آتے ہی پیراہنِ یوسفی کی خوشبو سے سارا دربار مہک اُٹھا۔‘‘
کیا دل کش اور دل ربا انداز سے اسلم فرخی صاحب نے مشتاق احمد یوسفی کے فن کو خراج ِ تحسین پیش کیا ہے، سبحان اللہ۔ سب مضامین کے اقتباسات کی گنجائش کالم میں نہیں ہے۔
تیسرے باب ’’الوداع یوسفی صاحب‘‘ میں مرحوم کے فن اور شخصیت کو نامور ادبا، صحافیوں اور دانش وران کی جانب سے خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اس باب میں28 نامور ادبا، صحافیوں اور دانش وروں کے یوسفی صاحب کے فن اور شخصیت کے بارے میں مختلف اخبارات و جرائد میں شائع شدہ کالموں اور مضامین کو جگہ دی گئی ہے۔ جبکہ 29 مضامین کے اقتباسات بھی شامل ہیں۔ معروف براڈ کاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی اپنے مضمون ’’وضع داری، یوسفی صاحب پرختم تھی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’دنیا یوسفی صاحب کو ان کی بے مثال تحریروں سے یاد رکھے گی، میں خود کو ان خوش نصیبوں میں شمار کرتا ہوں جنہیں ان کا قرب حاصل ہوا اور جو انھیں ان کی شفقت، رواداری، عنایت اور محبت کے سبب یاد رکھیں گے۔ لندن میں اپنے قیام کے جو دوچار بڑے فائدے یاد رہیں گے اُن میں ایک یہ ہے کہ میں نے کئی برس یوسفی صاحب کے قریب رہ کر گزارے، اُن کو نزدیک سے دیکھا اور اُن کے مشفقانہ برتاؤ سے میں نے کیسے کیسے فیض اٹھائے، میں ہی جانتا ہوں۔‘‘
اس باب کے دوسرے حصے میں شعرا کے منظوم خراجِ عقیدت کو شامل کیا گیا ہے جس میں 15 شعرا کے منظوم خراجِ تحسین شامل ہیں۔ عقیل عباس جعفری نے کیا خوب کہا ہے:

لفظ ملتے ہی نہیں شایانِ شان یوسفی
اِک جہانِ لطف و حیرت ہے جہانِ یوسفی
یوسفی کے عہد میں اب سانس لیتا ہے مزاح
سر پہ ہے اردو ادب کے سائبانِ یوسفی
نہ تھا کوئی ان سے پہلے نہ ہے کوئی ان کے بعد
ثبت ہے اردو زباں پہ اب نشانِ یوسفی

کتاب کے چوتھے باب ’’نگارشاتِ مشتاق احمد یوسفی‘‘ میں یوسفی صاحب کی کتابوں’’چراغ تلے‘‘، ’’خاکم بدہن‘‘، ’’زرگزشت‘‘ اور ’’آبِ گم‘‘ پر مظفرعلی سید، ڈاکٹر اسلم فرخی، ابن انشا، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر ظہیر فتح پوری، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، امجد اسلام امجد، پروفیسر آل احمد سرور، احمد ندیم قاسمی اور محمد خالد اختر کے مضامین ہیں جن میں یوسفی صاحب کے فن کی تفہیم بہت خوبی سے کی گئی ہے۔
پانچویں باب ’’بزبانِ یوسفی(چراغ تلے سے شامِ شعر یاراں تک)‘‘ میں مشتاق احمد یوسفی کی پانچوں تصانیف کے انتساب، فہرست، پیش لفظ اور چمکتے جملے کے عنوان سے ان کتب میں شامل ہمیشہ زندہ رہنے والے فقروں اور جملوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ کتاب کا چھٹا اور آخری باب ’’انٹرویوز، ملاقاتیں‘‘ ہے جس میں شفیع عقیل، آصف فرخی، ماریہ میمن کے یادگار انٹرویوز اور رحمن فارس اور مبشر علی زیدی کی یوسفی صاحب سے یادگار ملاقاتوں کے تذکرے ہیں۔
اس بے مثال کتاب کو اتنے کم وقت میں مرتب کرنے پر امر شاہد بھرپور داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ انھوں نے یادگار کتاب کی ایک اور جلد مرتب کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کا مشتاق احمد یوسفی کے پرستار انتظارکریں گے۔ اس قسم کی کتب اردو ادب کے دیگر ادبا اور شعرا کے بارے میں بھی شائع ہونی چاہئیں۔ جہلم بک کارنر نے ایک اچھی روایت کا آغاز کیا ہے، اسے جاری رہنا چاہیے۔

حصہ