سیاست اور اخلاقیات

17

قدسیہ ملک
qudsiamcdian@gmail.com
شعبہ ابلاغ عامہ …جامعہ کراچی
اخلاق خُلق کی جمع ہے، جس کے معنی انسان کی باطنی قدرت اور عادت کے ہیں، جسے باطنی آنکھوں سے نہیں بلکہ چشم بصیرت سے درک کیا جا سکتا ہے، یہ(خُلق) خَلق کے مقابلے میں ہے جو ظاہراً قابل حس و درک شکل وصورت کے معنی میں ہے اور ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے قابل ہے۔
علم اخلاق وہ علم ہے جو اچھی اور بری نفسانی صفات اور ان کے مطابق اختیاری اعمال و رفتار کو بیان کرتا ہے اور اچھی نفسانی صفات کو حاصل کرنے، پسندیدہ اعمال کو انجام دینے اور بری نفسانی صفات اور ناپسندیدہ اعمال سے پرہیز کرنے کے طریقے بتاتا ہے۔ اس تعریف کی بناء پر علم اخلاق اچھی اور بری صفات کے بارے میںگفتگو کرنے کے علاوہ ان کے مطابق انجام پانے والے اعمال و رفتار کے بارے میں بھی بحث کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نفسانی یا عملی فضائل تک پہنچنے اور برائیوں سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں بھی بحث کرتا ہے۔ اس طرح علم اخلاق کے موضوع کو یوں بیان کیا گیا ہے: اچھی اور بری صفات اور اعمال، اس وجہ سے کہ انسان کے لیے ان کا حاصل کرنا اور انجام دینا یا ترک کرنا ممکن ہو۔
اردو نیوز میں اللہ بخش آفریدی رقم طراز ہیں کہ اخلاق کسی بھی قوم کی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔ اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں۔ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل شئے اخلاق ہے۔ اچھے اور عمدہ اوصاف وہ کردار ہے جس کی قوت اور درستی پر قوموں کے وجود، استحکام اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔ معاشرے کے بنائو اور بگاڑ سے قوم براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قوی، صحت مند اور باصلاحیت قوم وجود میں آتی ہے، اور اگر معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتی۔ اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات، اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ جس ماحول یا معاشرے میں اخلاقیات کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں اور جہاں شرم و حیاء کے بجائے اخلاقی باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو، اُس قوم اور معاشرے کا صفحۂ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے، جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔
اب کچھ بات کرلیتے ہیں ہم اپنے موجودہ اخلاق کی، جس میں ماں باپ، بہن بھائی، رشتہ داروں، احباب و اقرباء، دوست، ساتھی اور ہم خیال افراد کے علاوہ ایک طبقہ جسے فریقِ مخالف کہا جاتاہے، جس میں فریقِ ثانی آپ کی قوم، مذہب، رنگ و نسل، زبان اور معاشرے کا ہونے کے باوجود آپ کا ہم خیال نہیں ہے۔ اس کے ساتھ عمومی رویہ کیا رکھا جاتا ہے؟ کیا رکھا جانا چاہیے؟ کیا رکھا جارہا ہے؟
میں آپ کو یہاں ایک ایسا واقعہ سنانا چاہوں گی جو 2013ء میں پیش آیا۔ ہمارے ابو کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمیں شمالی علاقہ جات کی سیر کو لے جاتے تھے۔ کراچی سے نکلتے ہی سب سے پہلے ہمارا قیام لاہورکے کسی ہوٹل میں ہوتا تھا۔ لیکن اِس دفعہ ابو نے تمام بچوں کو منصورہ گھمانے کا وعدہ کیا تھا۔ ابو نے کہا: یہاں جو مہمان خانے ہیں ہم اُس میں رہیں گے، جو ہوٹل میں ادا کرتے تھے وہ یہاں ادا کریں گے۔ خیر مزے سے اے سی کمرہ کرواکر ہم بہن بھائی آرام سے لاہور پہنچے۔ رات کا وقت تھا، سفر کی تھکن تھی، منصورہ پہنچتے ہی اپنا سامان مہمان خانے میں رکھا۔ مہمان خانے کشادہ اور پرانی طرز کے تھے۔ کھانا کھاکر پُرسکون نیند سوگئے۔ صبح فجر کی اذان پر سب کی آنکھ کھل گئی۔ نماز پڑھنے کے بعد ہم بہنوں نے سوچا کیوں ناں ایک چکر منصورہ کا ہوجائے۔ یہ سوچ کر ہم اپنے مہمان خانے سے نکلے۔ صبح کا وقت تھا، فضا بہت پُرسکون تھی۔ مہمان خانے کے دروازے سے ایک پارک نظر آرہا تھا، ہم نے سوچا چلو پارک چلتے ہیں۔ پارک میں صبح سویرے ہی لوگ دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔ خواتین مختلف گروپوں کی صورت میں بیٹھی تھیں۔ ہمیں بھی ایک آنٹی نے بڑے پیار سے اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔ ہم اُن کے گروپ میں جاکر بیٹھے۔ وہ لوگ قرآن کی ایک آیت پر باہمی گفتگو کررہی تھیں۔ ایک اور گروپ میں جاکر دیکھا، وہاں دعوت دینے کے طریقوں پر بات کو احسن انداز میں کرنے پر بات ہورہی تھی۔ ہم تھوڑی دیر یہاں بیٹھے، پھر اٹھ کر آگے گئے۔ وہاں قواریر نام کا ایک آئوٹ لٹ تھا جہاں مختلف رنگوں کے جاذب نظر مکمل اسلامی طرز سے آراستہ ہر طرح کے عبائے اور اسکارف موجود تھے۔ ہم نے وہاں سے کچھ اچھے اسکارف پسند کیے۔ استقبالیہ پر موجود خاتون بہت پُرتپاک انداز میں ملیں جیسے کہ وہ ہمیں بچپن سے جانتی ہوں۔ واپس مہمان خانے جانے لگے تو راستے میں جو خاتون بھی ملتیں، ہمیں سلام کرتیں۔ ہم ان لوگوں کے اخلاق پر، ان کے باہمی ربط پر دل ہی دل میں بہت حیران ہوئے اور دل سے یہ دعا نکلی کہ اے اللہ! انہوں نے اتنی محبت و الفت سے جو یہ بستی بسائی ہے اسے تاقیامت قائم و دائم رکھیے گا۔ دل میں سوچا: یااللہ یہ اتنی سی جگہ پر اتنی ڈھیروں الفتیں و محبتیں پھیلا سکتے ہیں تو صاحبِ اقتدار ہوکر کتنی رونقیں اور الفتیں بحال کریں گے۔ اللہ ہمارے درمیان بھی ایسی محبتیں پیدا کردے۔
یہ تو تھا ایک چھوٹا سا واقعہ جس نے ہمارے دل و دماغ پر ایسا اثر چھوڑا کہ اتنے سال گزر جانے کے باوجود اس کی مٹھاس و چاشنی ہم آج تک محسوس کرتے ہیں۔
اب میں آپ سے ایک اور واقعے کا ذکر کرتی ہوں، اس سے قطع نظر کہ لوگ پی ٹی آئی اراکین کو کیا کچھ کہتے ہیں اور پی ٹی آئی کے کارکنان کا اپنا رویہ عام فرد کے ساتھ کیا ہے۔ آئے روز ہم ان سیاسی کارکنوں کے ہاتھوں گدھے زخمی ہوتے اور کتے مرتے دیکھتے ہیں۔ لیکن میں ان سب باتوں سے قطع نظر اس بات پر زیادہ یقین رکھتی ہوں کہ لوگ اپنے ان سیاسی مفادات کی خاطر اپنے چاہنے والوں، اپنے اعزہ و اقرباء سے دوستی کو خراب نہیں کریں گے۔ لیکن کچھ دن قبل ہم نے اپنی فیس بک وال پر کوئی ایسی پوسٹ ڈالی جو شاید میری کسی پرانی سہیلی جو اب پی ٹی آئی کی ممبر بھی ہے، کو گراں گزری۔ اس نے کمنٹ میں مجھے جماعتی، اسلام پسند اور دقیانوس ہونے کے طعنے دینے کے علاوہ ایک اور کام کیا کہ وہ مجھے بلاک کر گئی۔ ایک سیاسی پوسٹ کی خاطر اُس نے اپنی پرانی دوست و سہیلی کو خیرباد کہہ دیا۔ یہ ایک واقعہ نہیں، اس طرح کے کئی واقعات میری اپنی دوستوں کے ساتھ ہوئے ہیں۔ لیکن ان سب باتوں سے ایک بات تو واضح ہے کہ یہ سیاست ایک اچھی، پرامن اور مثبت فضا کو پروان چڑھانے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ نفرتوں کو فروغ دینے کے لیے۔ یہاں رشتے مشکل سے بنتے ہیں مگر ایک سیاسی لڑائی میں بہن بھائیوں، دوستوں کے درمیان بداخلاقی کوئی اچھی بات نہیں۔ ہمارا مذہب تو اخلاقیات کو فروغ دیتا ہے، یہاں تو غیر مسلموں کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے… تو ہم تو آپس میں ہم مذہب بھی ہیں، ہم قوم بھی اور ہم زبان بھی… لیکن صرف سیاسی مخالفت کی وجہ سے ہم ایک دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں، یہ بالکل بھی درست طرزعمل نہیں۔ پاکستان کے قیام کی تاریخ آنے ہی والی ہے۔ یہ ملک ہم نے جس جذبے کے تحت حاصل کیا آج اسی جذبے کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ امید کی کچھ رمق ہے تو انہی سرپھروں کے ہاتھوں، کہ جنھیں اس قوم نے مسترد کردیا یا کروا دیا۔ بہرحال خبر بھی سن لیں، بقول سر اسامہ شفیق، کراچی میں مثبت سیاسی کلچر کی بحالی پر مبارکباد۔ یہ مناظر دو بچھڑے دوستوں کے ملنے کے نہیں بلکہ کراچی حلقہ NA-256 سے ایک دوسرے کے مدمقابل امیدواروں کے ہیں۔ تحریک انصاف کے نجیب ہارون کو جیت کی مبارک باد دینے جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اُن کے دفتر گئے۔ ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہے۔ جس چاؤ، محبت اور بردباری کا اظہار ان دونوں رہنماؤں نے کیا وہ ان تصاویر سے واضح ہے۔ اللہ کرے کراچی کا یہ مثبت سیاسی کلچر پورے ملک کی سیاست اور سیاسی کارکنوں میں پروان چڑھے۔ تین دہائیوں کے بعد کراچی میں مثبت سیاسی کلچر کا آغاز کرنے پر دونوں جماعتوں کو دلی مبارک باد۔ ہم سب کو باہمی الفت و محبت اور اخلاقیات کے دائرے میں اپنے سیاسی عمل کو آگے لے کر چلنا ہوگا۔ ورنہ مارشل لا کے جن کو سیاست میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اجتماعی زندگی کا اصل حُسن احسان، ایثار، حُسنِ معاملات، اخوت، رواداری اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔ جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے، وہ اپنے فرائض ذمے داری اور خوش دلی سے ادا کرتے ہیں، اور جب یہ حس مُردہ اور وحشی ہوجاتی ہے تو پورے معاشرے کو مُردہ اور وحشی کردیتی ہے اور وہ لوگوں کے حقوق خونی درندے کی طرح کھانے لگتا ہے، ایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔ انسان میں حیوانی حس کا وجود صرف لینا جانتا ہے، دینا نہیں چاہے اس کا لینا دوسروں کی موت کی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو۔ اور بدقسمتی سے یہی صورت حال آج ہمارے معاشرے میں جنم لے چکی ہے۔ ہمیں اس حس کو لوگوں کے اندر سے ختم کرکے محبت کی فضا کو فروغ دینا ہے۔ بقول شاعر:

میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سر بلند ہی رکھنا
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
…………
ہر ایک دشمن کی سازشوں سے یہ دیس ہم کو بچانا ہوگا
محبتوں کو فروغ دے کر شعورِِ ملت جگانا ہوگا
یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کرہمارے گھر کو جلارہے ہیں

حصہ