سماجی میڈیا کی توپیں

46

جی ہا ں سماجی میڈیا کو ایک اہم ابلاغی ہتھیار سے بھی تشبیہہ دی جاتی ہے ، جس کے ذریعہ آپ اپنے مخالفین کا جو حشر کرنا چاہیں کر دیں، انہی ہتھیاروں میںتوپ ایک ایسا ہتھیار جانا جاتا ہے جس کا گولہ سامنے والے کے پرخچہ اڑا دیتاہے۔ایسا ہی کچھ اس ہفتہ منظر نامہ سماجی میڈیا کے منظر نامے پر جاری رہا۔گذشتہ ایک سال سے میں اس بات کو ریکارڈ کا حصہ بناتا رہا ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے عموماًروزانہ ہی کی بنیاد پرٹرینڈ بنانے کا عمل جاری رہا۔ اب یہ فیک آئی ڈیز سے ہوا کہ ،کسی ایجنسی سے کروایاگیا کام ہوتا یا ’باٹ ‘کروا کر یا پھر واقعی اپنی ٹیم اور چاہنے والوں سے کروایا جاتا،کچھ بھی تھاوہ کم ازکم دو سال سے سماجی میڈیا کے منظر نامے پر چھائے رہنے کی کامیاب تگ و دو میں رہے ۔اس میں زیادہ تر وہ اپنا ہی راگ الاپتے رہتے ، اہم موقعوں کے علاوہ، جیسے جلسوں کے حوالے سے ، قائدین کے دوروں کے حوالے سے ، حکومتی کار کردگی کے حوالے سے دیگراعلانات و الیکشن منشور وغیرہ۔یہ سب تو الیکشن کے لیے تھا مگراب الیکشن ہو گئے ، تحریک انصاف جس طرح کامیاب ہوئی ہے اور جس طرح سے وہ مزید کامیابیاں سمیٹ رہی ہے اُن سب اعمال کا پوسٹ مارٹم سوشل میڈیا پر نہایت زور و شور سے جاری رہا۔جس طرح اپوزیشن جماعتیں ایک ہو گئی ہیںتواب دوڑ میں ایک جانب تحریک انصاف ہے تو دوسری جانب تمام جماعتیں اور ان کے کارکنان ، ووٹر، ہمدرد سب مل کر ماحول کو گرم رکھے ہوئے ہیں۔
کاشف نصیر اس گولہ باری کو دیکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ، ’’عمران خان کے دیرینہ رفیق گلوکار سلمان احمد مریم نواز کی جعلی تصویر لگاکر بازاری جملہ کس رہے ہیں، متوقع وزیر مذہبی اُمور عامر لیاقت 57 سالہ شیریں رحمان کو اپنی فحش زبان کا نشانہ بنارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر سارے انصافی دو کڑور چوتیس لاکھ ووٹ لینے والی حزب اختلاف کی جماعتوں کی تصویریں لگاکر لگاکر باجماعت گالیاں دے رہے ہیں۔ یہ کس قسم کی فاشسٹ حکومت بننے جارہی ہے؟‘‘۔ ایسا نہیں کہ ایک جانب سے گولہ باری ہو ، دوسری جانب سے بھی عمران خان، تحریک انصاف کی پالیسیز، حکومت بنانے کے لیے کی جانے والی ہارس ٹریڈنگ ،خصوصاً تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا نجی طیارہ اہم ترین موضوع بنے رہے ۔اس طیارے نے جہاںآزاد اُمیدواران کو بنی گالہ کی جانب سفر کے مزے دلوائے ،وہیں ایک سیلفی نے اِن کے ریکارڈ بھی بجا دیئے ۔یہ ریکارڈ دونوں جانب سے بجائے گئے،جیسا کہ میں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر بھی خاصی مضبوط گرپ ہے۔ ایک جانب پی ٹی آئی کے جا نثار جہانگیر ترین کی خدمات ، وفاداری اور بقول ڈاکٹر عارف علوی ’بہترین انتظامی صلاحیت ‘کو سراہتے ہوئے ،ڈھٹائی کے ساتھ ’شکریہ جہانگیر ترین ‘کا ٹرینڈ بنانے میں لگے رہے ، دوسری جانب سے اسی ٹرینڈ میں اِن کی بینڈ بھی بجتی رہی ۔بی بی سی نے بھی ان ’میمز‘پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی جس کا موضوع ’ جہانگیر خان ترین دی ٹرانسپورٹر‘ دیا۔اس کے علاوہ سماجی میڈیا پر مقبول چند پوسٹو ںاور میمز کے نمونے ملاحظہ کیجیے :’’جہانگیر طیارہ ، اوور لوڈ ہو گیا۔‘‘ دودھ مانگو گے ،کھیر دی گے ،آزاد اُمیدوار مانگو ،خرید لیں گے۔‘‘اسی طرح ایک اور وائرل میم میں عمران خان نعیم الحق کو ہدایت دیتے نظر آئے اس کیپشن کے ساتھ کہ’’جہانگیر ترین کو بولو سارے پیسوں سے اُمیدوار ہی نہ خرید لے ۔ابھی شیروانی بھی لینی ہے ۔‘‘
’’لیجیے نااہل وزیراعظم اور چور چور کی آوازیں بلند کرنے والے میڈیا گرو اور قوم یوتھ کے لیے جہانگیر ترین کا طیارہ ـ’کشتی نوح‘بن چکا ہے۔‘‘
’’نااہل ترین کا طیارہ تک ڈیزل کے بغیر نہیں چل سکتا تو حکومت خاک چلے گی…‘‘
’’ خان صاحب ،اگر گنتی پوری کرنی ہے تو ۲،۳آزاد اُمیدوار آرڈر پر بنوا لوں؟‘‘
’’تیز ترین آزاد اُمیدوار اکھٹے کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے والے ،جہانگیر خان ترین،‘‘
’’پاکستان کی تاریخ میں دو طیارے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گیکیونکہ اتنی تباہی تو ایم۔ایم۔عالم کے طیارے نے بھی مچائی تھی جتنی تباہی جہانگیرترین کا طیارہ مچارہا ہے۔‘‘
’’ لوگوں نے رکشوں پر طیارہ لکھا ہوتا ہے ، مگرہم نے طیارے پر آٹو رکشہ لکھ دیا ہے ۔منجانب جہانگیر ترین۔‘‘
آزاد اُمیدواران کی بھرپور تلاش میں سرگرداں ایک نا اہل کا معصومانہ سوال ’’ یہ بتاؤ محمد حسین آزاد اور ابوالکلام آزاد کہاں سے جیتے ہیں۔میرا طیارہ تیار کھڑا ہے ۔‘‘
’’ اس دفعہ 14اگست کے ہوابازی شو میں جہانگیر ترین کا طیارہ بھی اہم قومی خدمت کی وجہ سے لازمی شامل کرنا چاہیے ۔‘‘
’’ٹن ٹنا ٹن ٹن ٹارا۔وزیر اعظم بنوائے گا طیارہ۔جہانگیر ترین جہاز پر سیر کروا کر ،اُمیدوارو کی حلال ہارس ٹریڈنگ کرتے ہوئے۔‘‘
طیارہ کیسے اوور لوڈ ہوا؟ جہانگیر ترین کہتے ہی کہ ’’میں کسی کو زبردستی نہیں لایا ، بس میں نے یہ کہا کہ یا تو فٹا فٹ میرے طیارے میں چلو گے یا پھر سی ون تھرٹی میں جاؤ گے۔تھوڑی دیر میں سب دوڑ کر میرے طیارے میں سوار ہو گئے ۔ ‘‘
’’جہانگیر ترین کو سنبھالو۔بارڈر کراس کر کے ہمارے ممبران کو بھی ورغلا رہا ہے ۔نریندر مودی کا عمران خان کو فون۔‘‘
’’واقعی تبدیلی آگئی ہے ۔پہلے زمانے میں غلام بکتے تھے آج کل آزاد بِک رہے ہیں۔‘‘
مبشر زیدی لکھتے ہیں کہ ، ’’ ہم فلاحی ریاست کا انتظار کر رہے تھے یہ تو خلائی ریاست بن گئی۔‘‘
’’ ق لیگ کے دور میں چینی بحران کے مرکزی کردار، خیبر پختونخوا میں قیمتی پتھروں کی کانیں ،ٹمبر مافیا کے سرغنہ بن کر ،اربوں روپے کے اثاثے چھپاکر عدالت عظمیٰ سے نا اہل ہونے کے بعد آزاد اُمیدواران کی سرعام منڈی لگانے پر شکریہ جہانگیر ترین ۔‘‘
اِسی ترتیب میں جب یہ خبریں وائرل ہونا شروع ہوئیں کہ دوبارہ گنتی میں پی ٹی آئی کی سیٹیں کم ہو رہی ہیں ، یا پی ٹی آئی کے جیتنے والے اُمیدواران میں مسائل آنا شروع ہوئے تو مزید ہلچل پیدا ہوئی ۔
جہانگیر ترین کی ایک میم اس کیپشن کے ساتھ لگائی گئی کہ ’میں اتنی مشکل سے ایک ممبرلاتا ہوں، پھر ری کاؤنٹنگ میں ہمارا ایک شارٹ ہو جاتا ہے ۔اتنے چکر لگانے کے بعد بھی ہماری گنتی وہیں موجود ہے ۔‘‘
پی ٹی آئی کے کراچی سے ایک اہم رکن قومی اسمبلی محمد اسلم ، جوکہ ایم کیو ایم کے گڑھ عزیز آباد سے کامیاب ہوئے تھے ،اُن کے حوالے سے کراچی کے ایک سینئر کورٹ رپورٹر بلال احمد نے اپنی وال پر دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ’’نیا پاکستان: پی ٹی آئی کا اشتہاری اسمگلر (کراچی،عزیز آباد سے) قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب‘‘سے یہ داستان رقم کی ۔’’پی ٹی آئی کے ووٹرز،سپورٹرز،کارکنان ہرگز حیران نہ ہوں،جب سپریم کورٹ سے سرٹیفائیڈ نااہل اور اثاثے چھپانے والے شخص کے اثاثے نئے پاکستان کی پہلی حکومت بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں تو نیچے پھر سب چلتا ہے۔آپ حیران تو ہوں گے،ہو سکتا ہے یقین بھی نہ آئے مگر حقیقت تو یہی ہے کہ NA-254 عزیز آباد سے اسمگلنگ، مس ڈیکلریشن کا مفرور،اشتہاری ملزم ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوگیاہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق 1997 کو ڈائریکٹوریٹ اینڈ جنرل انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن کے ائیر فلائیٹ یونٹ کسٹمز کو اطلاع ملی کہ پاکستان ائیر فورس کے درآمد شدہ سامان کی آڑ میں اسمگلنگ ہو رہی ہے۔کسٹم حکام نے کارروائی کی اور اسمگل شدہ سامان پکڑ لیا،دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ محمد اسلم خان عرف اسلم سنگا پوری اور دیگر ملزمان نے ائیر فورس کے کچھ عناصر کی مدد سے اسمگلنگ شروع کی،1995 سے 1997 تک درجنوں کنسائنمنٹ آئے جن میں ائیر فورس کے سامان کی آڑ میں اسلم سنگا پوری نے الیکٹرونکس سامان اسمگل کیا۔دستیاب دستاویزات کے مطابق محمد اسلم خان و دیگر ملزمان نے 28.57ملین روپے کی مس ڈیکلریشن کی اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ائیر فورس کے سامان کی آڑ میں اسمگلنگ اس لیے کی گئی کیونکہ ائیر فورس کا سامان چیک نہیں ہوتا تھا۔14 دسمبر 1998 کو کسٹم کورٹ نے اسلم سنگا پوری کی غیر موجودگی میں دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کیجبکہ کسٹم حکام نے حتمی چالان جمع کراتے ہوئے اسلم خان کو اشتہاری قرار دے دیا۔2004 میں عدالت کا فیصلہ سامنے آیا اور عدالت نے اسلم خان کے بھائی کو بری کردیا،چونکہ اسلم خان عدالت میں پیش ہی نہیں ہوا تھا اس لیے عدالت نے اس کے دائمی یعنی زندگی بھر کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ویسے کراچی والوں کی تو قسمت ہی خراب ہے30 سال سے ان کے ’اپنے ‘ جبر سے مسلط تھے, اب تبدیلی آئی تو ایسی کہ اسمگلر منتخب ہوگیا۔رہا نیا پاکستان تو جہانگیر ترین کے خرچے پر بننے والا نیا پاکستان ایسا ہی ہوگا۔‘‘
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں ، انتخابی نتائج میں دھاندلی پر بدستور چلاتی نظر آئیں ، گوکہ سب نے جمہوری طریقہ یعنی دستیاب سیٹوں کے ذریعہ اسمبلی جا کر احتجاج کرنے کا راستہ پسند کیا ۔پی ٹی آئی کو یہ اپوزیشن اتحاد بھی نہیں بھایا اور بھرپور گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔ حکومتی منظر نامے پر جو پارٹیاں حکومت کے ساتھ جاتی نظر آ رہی تھیں ، ان میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی پشت پناہی کے حوالے سے بھی ایک ہی عنوان کا ہونا بھی سماجی میڈیا کے مختلف تجزیوں، تبصروں کا موضوع بنا۔اسی طرح دینی جماعتوں کے اتحاد کی شکست کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔وقت کے ساتھ جب اخبارات و میڈیا میں ’’الیکشن کمیشن کی جانب سے ریٹرننگ افسران کو ڈیجیٹل سسٹم استعمال نہ کرنے کی ہدایت ‘‘کی خبر سامنے آئی، کراچی کے علاقے سے جلے ہوئے بیلٹ پیپرز اور حلقہ 247کے ایک اسکول کی میز سے بیلٹ پیپرز ملنے کا معاملہ پھر ووٹوں کی دوبارہ گنتی یاجاری ہونے والے حتمی نتائج میں ایسے واضح اعداد و شمار سماجی میڈیا کے ذریعہ سامنے لائے گئے جن سے دھاندلی کا ہونا یقینی طور پر واضح ہو رہا تھا ۔
یہ تو ایک جانب پاکستانی سوشل میڈیا کا منظر نامہ تھا جہاں ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش جاری رہی ، دوسری جانب عالمی منظر نامے پر بھی ایک نظر ڈالی تو گرتے پڑتے اور ناچتے لوگوں کی قطار نظر آئی ۔جی ہاں یو ٹیوب ، ٹوئٹر پر دس دن قبل آغاز لینے والا ’کی کی چیلنج‘شاید دنیا بھر کے فارغ لوگوں کے لیے بھر پور مشغلہ بن کر اُبھرا۔لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے ٹوئٹر، انسٹا گرام، فیس بک پر اپنی ویڈیوز پوسٹ کیں۔کرنا کیا تھا بس ایک انگریزی گانے پر کسی ایڈونچر ماحول میں ناچنا تھا۔اس گیت پر ناچنے کے عمل کو جو کہ ایک ’چیلنج‘ کی صورت وائرل ہو چکا تھا،معروف ہالی ووڈ اداکار ول اسمتھ و دیگر کئی سیلیبریٹیز نے بھی اس میں حصہ لیا۔ویسے اکثریت نے اس گیت پرچلتی گاڑی سے اتر کر ناچنے کی کوشش کی ۔ ٹوئٹر پرکی کی چیلنج ، ان مائی فیلنگزکے ہیش ٹیگ کے ساتھ لا تعداد ویڈیوز پاکستان ، بھارت سمیت دنیا بھر سے مستقل ڈالی جا رہی ہیں ، جن میں بیشتر افراد شدید چوٹیں کھاتے نظر آ ئے۔

حصہ