سرکاری مکانات خالی کردو

336

قاضی عمران احمد
پاکستان کوارٹرز (لارنس روڈ کوارٹر) سمیت دیگر سرکاری کوارٹرز بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے احکامات کے پیش نظر 1947-8ء میں 213 ایکڑ اراضی پر متروکہ زمین (وقف) پر ہندوستان سے آنے والے سرکاری ملازمین کی آباد کاری کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔ یہ سرکاری کوارٹرز طویل عرصہ گزرنے کے بعد انتہائی مخدوش حالت میں پہنچ چکے ہیں، سرکار کی جانب سے کسی قسم کی بحالی، مرمتی کام اور تزئین و آرائش نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی زبوں حالی کا شکار ہیں لیکن یہاں رہائش پذیر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، ان کی بیوائیں اور ان کے بچے غربت کے باعث ان کوارٹرز میں سکونت پذیر ہیں اور اپنی قلیل آمدنی میں ان کوارٹرز کی مرمت کے کام کو بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیے گئے ایک فیصلے نے کراچی میں قائم سرکاری کوارٹرز پاکستان کوارٹرز، مارٹن کوارٹر، کلیٹن کوارٹر، سیکریٹریٹ سوسائٹی میں رہائش پذیر ہزاروں افراد میں دربدری کا خوف پیدا کر دیا ہے۔ دو روز قبل سپریم کورٹ نے کراچی کے مارٹن کوارٹرز سمیت دیگر سرکاری کوارٹرز کے انخلا کے خلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی ہے۔ سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں مارٹن کوارٹرز سمیت دیگر سرکاری مکانات خالی کرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سرکار کوارٹرز کے انخلا کے خلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت کو سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے پاکستان کوارٹرز اور پاکستان سیکریٹریٹ کے مکینوں کا معاملہ اسٹیٹ آفیسر کو دس دن میں نمٹانے اور مکینوں کی انفرادی درخواستیں سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ تمام سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کی درخواستوں کا جائزہ لیا جائے، ریٹائرڈ ملازمین اور دیگر غیر قانونی طور مقیم افراد سے کوارٹرز خالی کرائے جائیں۔ عدالت نے سندھ حکومت کی رہائش گاہوں کے مکینوں کی درخواستیں سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن کو سننے کی ہدایت بھی کی۔ بعد ازاں سرکاری کوارٹرز خالی کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر شہریوں نے احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرین میں اہلیان مارٹن کوارٹر،کلیٹن کوارٹر و دیگر شریک تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ہراساں کیا جارہا ہے،ایک شہری کا کہنا تھا کہ 2006 میں ہمیں لیٹر ملا تھا۔ ہمیں بے گناہ سزا کیوں دے رہے ہیں۔
ان تمام سرکاری کوارٹرز جن کی مجموعی طور پر تعداد کم و بیش 1500 ہے جن میں ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین یا ان کی بیوائیں اور بچے رہائش پذیر ہیں، ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے کہ جن کو ریٹائر ہوئے یا انتقال کیے کئی عشرے بیت چکے ہیں اور یہاں ان ملازمین کی دوسری یا تیسری نسل رہائش پذیر ہے۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جو کم آمدنی کے باعث اور کہیں اپنا ذاتی مکان بنانے سے قاصر رہے اور اپنی اسی رہائش گاہ کو اپنی مستقل رہائش کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ سرکاری کوارٹرز کی الاٹمنٹ کے حکومتی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھی ان کے ذہنوں میں یہ خیال راسخ ہوتا چلا گیا کہ یہ کوارٹرز ان کی ہی ملکیت ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ مختلف ادوار میں ان سے سیاسی وعدے بھی کیے جاتے رہے اور ان کو یقین دہانی کرائی جاتی رہی کہ وہ یہاں سے نہیں نکالے جائیں گے۔ ان کوارٹرز کے رہائشیوں کے مطابق 1984ء میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق ان کوارٹرز کے مکینوں کو یا تو ان ہی کوارٹرز کا مالک بنا دیا جائے گا یا پھر ان کوارٹرز کے متبادل کے طور پر کوئی جگہ فراہم کر دی جائے گی۔ 1991ء میں بھی نواز شریف کے دور حکومت میں بھی اسی طرح کے وعدے کیے گئے جب کہ 2002ء میں ان سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کو الٹی میٹم دیا گیا کہ وہ 6 ماہ میں ان کوارٹرز کو خالی کر دیں ۔ان تمام احکامات کے باوجود کسی بھی حکومت کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی اور ان لوگوں کو وعدوں کے باوجود نہ تو ان کوارٹرز کی ملکیت دی گئی اور نہ ہی انسانیت کے ناتے اور ان ملازمیں کی خدمات کے اعتراف میں کوئی متبادل انتظام کیا گیا۔2007 میں اسٹیٹ آفس کی جانب سے ملنے والے مالکانہ حقوق کے سرٹیفیکٹ کی تقسیم کے بعد بیشتر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور بیواؤں نے اپنی جمع پونجی ان کواٹرز کی بحالی پر خرچ کر دی ہے۔ان ریٹائرڈ ملازمین اور بیواؤں کے پاس ان کوارٹرز کے سوا سر چھپانے کا کوئی آسرا نہیں ہے۔ اگر الاٹمنٹ کے حوالے سے سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ یا انتقال کی صورت میں 6 ماہ میں سرکاری مکان خالی کرنے کے حکومتی قوانین کا نفاذ موجود ہوتا تو نہ تو حکومت کو کوئی مشکل ہوتی اور نہ ہی ان ملازمین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا۔
یہ ریٹائرڈ ملازمین بیوائیں اور ان کے بچے ہر آنے والی حکومت سے یہ امید وابستہ کرتے ہیں کہ 1972ء کے صدارتی حکم اور اس کی تشریح میں 1984ء کے سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں ریٹائرڈ ملازمین بیواؤں اور ان کے بچوں کی بحالی کے لیے جامع منصوبے بنائے جائیں گے۔
ان سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سرکاری کوارٹرز کی خستہ حالی اور ریٹائرڈ ملازمین اور بیواؤں اور ان کے بچوں کی زبوں حالی کو مد نظر رکھتے ہوئے 1972ء میں اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے آباد کاری کے احکامات صادر کیے جس کی تشریح میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے آرڈر نمبر CPLC: No K-213/1980 بتاریخ 15-02-1984ء میں مکینوں کی بے دخلی کے حوالے سے تاریخ ساز فیصلہ لیا اور یہ احکامات جاری کیے کہ انسانی ہم دردی کی بنیاد پر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، بیوائوں اور ان کے متعلقہ افراد کو بے دخل نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ان کی آباد کاری اور مستقل رہائش کا انتظام نہ کیا جائے۔ مذکورہ بالا صدارتی حکم اور سپریم کورٹ کے تشریحی آرڈر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تمام حکومتوں نے سرکاری مکینوں کی آباد کاری اور مستقل رہائش کے انتظام کے منصوبے بنائے جس میں زمین کی لیز سے لے کر نئے تعمیر شدہ فلیٹس میں منتقلی کے منصوبے شامل ہیں، ان منصوبوں کی تفصیلات منسٹری آف ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے پاس موجود ہیں۔ مکینوں کے مطابق اسٹیٹ آفیسرز نے معزز عدالت کو گم راہ کرنے کے لیے ان حقائق کو عدالت میں پیش نہیں کیا۔
ان مکینوں کا مزید کہنا ہے کہ 1958ء سے 2007ء تک حکومتی اعلیٰ حکام نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے لیے مالکانہ حقوق کی سفارش کی، جن میں عباس خلیلی سابق سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس، الہیٰ بخش سومرو سابق وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس، سلیم سیف اللہ خان سابق وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس، طارق محمود سابق وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس، سید صفوان اللہ وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس شامل ہیں اوراسی سلسلے میں 2007ء میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو اسٹیٹ آفس کی جانب سے مالکانہ حقوق کے سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے اور اسٹیٹ آفیسر نے ریٹائرڈ سرکا ری ملازمین کو اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ ان سرٹیفکیٹ کی تقسیم کے بعد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، بیواؤں اور ان کے بچوں کو ان سرکاری مکانات سے بے دخل نہیں کیا جائے گا اور یہ ریٹائرڈ ملازمین اپنے ذاتی اخراجات پر ان مکانات کی بحالی اور تعمیر کا کام انجام دے سکتے ہیں۔
سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کا کہنا تھا کہ حکومت اور ریاست عوام کے لیے ماں کی حیثیت رکھتی ہے اور ماں اپنی اولاد سے ان کے سر کا سایہ نہیں چھین سکتی حکومت اور ریاست کا بنیاد ی کام عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ جن سرکاری ملازمین نے اپنی تمام عمر ریاست پاکستان کی بے لوث خدمت پر صرف کی، ان کی بیواؤں اور بچوں کو بے گھر کر دیا جائے۔
ان مکینوں کا کہنا تھا کہ ہم اہالیانِ پاکستان کوارٹرز اور دیگر سرکاری کوارٹرز کے مکین آپ سے دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ آپ 1972ء کے صدارتی حکم کی روح کی مطابق اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے1984ء کے تشریحی آرڈر کی روشنی میں ہم دردی اور انسانی حقوق کی بنیاد پر سرکاری ریٹائرڈ ملازمین ان کی بیواؤں اور ان کی اہل خانہ کی آباد کاری کے لیے اعلیٰ سطح کا حکومتی بورڈ تشکیل کرنے کے احکامات صادر کریں اوراس بورڈ کو اس بات کا پابند بنائیں کہ چھ ماہ کے دوران آباد کاری کے جامع منصوبے کو حکومت کے سامنے پیش کریں تاکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، بیواؤں اور ان کے اہل خانہ کی مستقل آباد کاری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے اور ساتھ ہی ساتھ اسٹیٹ آفس کو پابند بنایا جائے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، بیواؤں اور ان کے اہل خانہ کو منصوبے کی تکمیل تک ان سرکاری مکانات سے بے دخل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی قسم کے نوٹس جاری کیے جائیں۔
ان مکینوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ محترم چیف جسٹس صاحب! ہم تمام ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، بیوائیں اور ان کے اہل خانہ زندگی بھر آپ کے مشکور رہیں گے اور آپ کے لیے دعاگو رہیں گے۔
کراچی شہر میں بڑھتی ہوئی زمین کی قیمتوں نے غریب، کم آمدنی والوں اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے اپنے مکان کا حصول یا تعمیر خواب بنا دی ہے۔ بدقسمتی سے کسی بھی دور حکومت میں سستے مکانوں کی تعمیر کا کوئی منصوبہ نہیں بنا۔ ایسے میں اگر ان سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کو بے دخل کیا جاتا ہے تو ان کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا اور ہزاروں افراد جن میں بزرگ مرد و خواتین اور بچے بھی شامل ہیں دربہ در ہو جائیں گے اور معصوم بچوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ کچھ سماجی حلقوں کی طرف سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان کوارٹرز اور مارٹن کوارٹرز کے رہائشیوں کو مالکانہ حقو ق دے دیے جائیں کیوں کہ سرکاری ریٹائرڈ ملازمین اور ان کی بیوائیں عرصہ دراز سے ان مکانات میں رہائش پذیرہیں اور انہوں نے ان مکانات میں رہتے ہوئے اب تک جو کرایہ اداکیا ہے وہ ان مکانات کی لاگت سے بھی کہیں زیادہ ہے جب کہ یہ مکانات اپنی مدت بھی پوری کر چکے ہیں اس لیے جو رقم رہائشی کرائے کی مد میں حکومت کو ادا کر چکے ہیں اسے کرائے کے بجائے اس مکان کی اصل قیمت تصور کرتے ہوئے ان ملازمین کو یہ مکانات لیز کی بنیاد پر د ے د یے جائیں۔ سماجی حلقوں کے مطابق ان مکانات پر حکومت کی جانب سے جو لاگت آئی تھی وہ ان مکانات میں رہنے والے ملازمین حکومت کو کرائے کی شکل میں پہلے ہی ادا کر چکے ہیں اور جن ملازمین نے ان مکانات میں رہتے ہوئے اس کا کرایہ ادا نہیں کیااور ڈیفالٹر ہیں ان سے بقایا جات وصول کیے جائیں اور ان سرکاری کوارٹرز پر ناجائز قبضہ کرنے والوں سے مکانات کو فوری خالی کرا یا جائے۔ سماجی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ ان کالونیوں کے اندر لینڈ مافیا نے کثرت سے تجاوزات قائم کر لی ہیں جن میں چار چار منزلہ عمارتوں کے علاوہ دیگر تجاوزات بھی شامل ہیں، ان تجاوزات کو ختم کیا جائے کیوں کہ کسی بھی قسم کی تجاوزات قائم کرنا قانوناًً جرم ہے مگر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بد عنوان راشی عملے نے ان تجاوزات کی جانب سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے ان کالونیوں میں جتنے سرکاری کوارٹرز نہیں ہیں ان سے کہیں زیادہ یہاں تجاوزات قائم ہیں۔ لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا نے جس طرح کراچی میںتجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے یہاں کا نقشہ ہی بدل دیا ہے اسی طرح ان تمام وفاقی کالونیوں میں بھی سرکاری کواٹرز کے درمیان تجاوزات نے یہاں کی کالونیوں کی اصل شکل ہی تبدیل کردی ہے۔ غیر قانونی تجاوزات جو چار چار منزلہ عمارتوں کی شکل میں یہاں تعمیر ہوچکی ہیں انہیں بھی منہدم کیا جائے۔

حصہ