حقیقی خوشی

29

صبا احمد
دسمبر کے شروع میں ہے۔ سامنے والے گھر کے فرسٹ فلور پر ایک نئے کرائے دار آئے۔ ان کے تین بڑے بیٹے تھے۔ اور ایک چھوٹا چھ سالہ بچہ اکثر ٹیرس پر کھڑا رہتا۔ نیچے کبھی نہیں دیکھا۔ ان کو آئے ہوئے چار ماہ ہو ئے تھے۔ وہ کبھی روڈ پر دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے نہیں آیا۔ ورنہ ہر بچہ دس بارہ دن کے بعد محلے میں کھیلنے کے لیے آجاتا دوستی اور تعارف ہونے کے بعد جبکہ ہمارے گھر میں تین چار بچے اس کی عمر کے تھے۔ ہماری جوائنٹ فیملی تھی۔ ہمارے تین منزل گھر میں سارا سسرال مقیم تھا۔
میرا بڑا بیٹا 15 سال کا تھا اسے چھوٹے بچے بہت پسند تھے۔ وہ بچہ بہت بھولا بھالا اور معصوم اور کافی خوبصورت اور صحت مند بچہ تھا۔ میری چھوٹی بیٹی 9 سالہ اسے وہ معصوم بچہ بہت اچھا لگتا۔ اکثر یہ لوگ ٹیرس سے ایک دوسرے کو ہاتھ ہلاتے اشاروں سے باتیں کرتے۔ مگر اس بچے کی ماں جب دیکھتی غصہ ہوتی۔ بچوں کو کھڑے دیکھ کر بچے کو فوراً اندر بلا لیتی میں بھی کھڑے ہو کر سب منظر دیھکتی اور حیران ہو جاتی کہ وہ ماں ہو کر ایسا کیوں کرتی ہے۔ وہ بچہ اسکول سے آکر سارا دن گھر پر رہتا بالکل گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی کبھار وہ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ گاڑی میں بازار جاتا ہاتھ میں چپس کا پیکٹ ہوتا۔ میں نے بھی کتنی بار کوشش کی کہ اس کی والدہ سے دعا سلام کروں۔ پھر گھر جائوں اپنے گھر آنے کی دعوت دوں۔ مگر وہ کسی سے بات نہیں کرتیں۔ میری ساتھ والی پڑوسن آمنہ نے بھی یہ ہی بات کہی۔
ایک دن وہ بچہ میرے بیٹے احمد کو اپنے والد کے ساتھ مسجد میں مل گیا۔ تو مصافحہ کرنے پر اس کے والد نے بڑے محبت سے ملے۔ وہ بچہ ایان نے بھی سب سے ملا۔ گلی میں کرکٹ اور فٹبال کھیلتے مسکراتا اور سلام کرتا تھا اشارے میں اپنی امی کی غیر موجودگی میں پھر اس نے کہا کہ مجھے فٹبال کھیلنا بہت پسند ہے۔ اس کے بھائی بھی کسی سے بات نہ کرتے تھے۔ اگر کوئی سلام کرتا تو وہ جواب دے دیتے ورنہ کسی سے بات نہ کرتے۔ جبکہ اس کے والد مصطفی صاحب سب سے ملتے۔ تب ایان نے اپنی امی کا نام فاطمہ بتایا پھر اکثر وہ بچہ اپنے والد کے ساتھ آتا جاتا نظر آنے لگا موٹر بائیک پر یا گاڑی پر کبھی پیدل جاتے نہیں دیکھا۔ سیڑھیاں چڑھتا تو بہت آہست آہستہ سے چلتا تھا۔ احمد نے کہا کہ انکل آپ ایان کو نیچے کھیلنے کے لیے بھیج دیا کریں۔ وہ اوپر سے ہمیں دیکھتا رہتا ہے۔ ہم گلی میں ہفتہ اور اتوار کو چھٹیوں میں کھیلتے ہیں۔ کوئی کھیل کا میدان یہاں قریب نہیں اس لیے ہم یہاں گلی میں کھیلنے پر مجبور ہیں۔ انکل مصطفی اداس ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا اس کی ٹانگ میں پولیو کی وجہ سے اسے چلنے میں تھوڑی مشکل پیش آتی ہے۔ احمد کے ساتھ دوسرے بچے بھی افسردہ ہو گئے۔ انہیں شرمندگی ہوئی کہ انکل برا نہ مان جائیں۔ مگر انہوں نے بڑے پیار سے ہمیں سمجھایا احمد نے کہا کہ ٹھیک انکل لیکن کبھی کبھار دیکھنے کے لیے نیچے بھیج دیا کریں۔ ہمیں خوشی ہو گی۔ ٹھیک بیٹا۔
پھر انکل نے بتایا کہ بیٹا پچھلے محلے میں بچے اس پر بہت ہنستے تھے۔ دوستی کوئی نہیں کرتا تھا۔ مگر آپ سب بچے بہت خلوص سے اس سے بات کرتے ہیں۔ تو یہ بہت خوش رہتا ہے۔ اس کی امی کا رویہ بھی پہلے سے بہتر ہو گیا ہے وہ مطمئن نظر آتیں ہیں۔ اس لیے یہ بازار بھی زیادہ جانے لگ گیا ہے۔ ہمیں بھی سکون ہو گیا ہے۔ اس کے بڑے بھائی بھی خوش ہیں کہ اس محلے کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ کام سے کام رکھتے ہیں۔ کسی کو کوئی طعنہ زنی نہیں کرتے لوگ مسجد میں ملتے ہیں۔ خود سلام میں پہل کرتے ہیں۔
بڑے چھوٹوں کو خود سلام میں پہل کرتے ہیں نئے پڑوسیوں کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتے ہیں چھ سات مہینوں میں ہم اتنے خوش ہیں کہ پچھلے محلے میں ہم دس سال تک رہ کر آئے ہم وہاں اخلاقیات کو بھول گئے تھے حسن اخلاق کی اعلیٰ اقدار یہاں آکر دیکھتی ہیں۔ یقینا یہاں کے بزرگ اور بہت سلجھے اور پڑھے لکھے ہیں۔ محلے میں ماہانہ مرد و خواتین کا درس ہوتا ہے ایک میں ہم نے بھی شرکت کی بہت اچھا لگا۔ میری وائف بھی کہتی ہے کہ وہ آئندہ درس میں ضرور آئیں گی۔ جب یہ ساری باتیں میرے بیٹے نے بتائی تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔
اگلے دن ایان باہراحمد کے ساتھ بیٹھا تھا اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ اس کی امی تھوڑے تھوڑے وقفے سے آکر اسے دیکھتی رہتیں۔
ایک دن ایان نے کہا کہ میرا دل کرتا ہے کہ میں بھی فٹ بال کھیلو ہٹ لگائوں۔ میں نے کہا کہ بیٹا اس کو ہٹ سے لگوا دینا۔ احمد نے کہا کہ نہیں امی مجھے ڈر لگتا ہے کہ اس کی امی ناراض نہ ہو جائیں ابھی تو وہ ذرا مسکرا کر بات کرنے لگی ہیں ۔
اگلے دن میں نے دیکھا کہ ایان بچوں کو کھیلتا دیکھ کر اٹھا جب بال اس کے قریب آئی تو اس نے بھی ٹانگ ہٹ لگانے کے لیے اٹھائی اور ماری بھی مگر فوراً لڑکھڑا گیا۔ پاس کھڑے احمد نے فوراً اسے تھام لیا۔ مگر اس کے چہرے پر ایک الگ ہی خوشی جھلک رہی تھی کہ جیسے میں نے دیکھا۔ پھر اکثر وہ کھیل کے وقت اپنے بھائی کے ساتھ نیچے اترتا تھا۔ بیٹھا رہتا۔ جب اس کا بھائی واپس آتا وہ اسے اوپر لے جاتا۔ کبھی کبھی اس کا بہت دل کرتا کھیلنے کو تو بچے اس کے قریب آجاتے کوئی لڑکا پکڑتا وہ ہٹ لگاتا تو ہم نے دیکھا وہ ڈاج بہت زبردست دیتا ہے سامنے والے کو۔ سب کو اس کا اسٹائل پسند آیا۔ وہ ہر مرتبہ نئے طریقے سے بال کو ہٹ لگاتا احمد نے پوچھا کہ تم ایسا کیسے کرتے ہو۔ ’’وہ کہتا خود بخود ہو جاتا ہے میں نہیں کرتا۔ ہم حیران ہو جاتے یہ اس کی خدا داد صلاحیت ہے۔ پھر جب کبھی پچھلی گلی کے لڑکوں سے فٹ بال کا میچ ہوتا اور فیصلہ کرنے کے لیے پینلٹی سٹروک لگانے کے لیے اس کو بلاتے وہ اسی جگہ پر کھڑے ہو کر ایسا لگاتا کہ گول تو ضرور ہوتا ہم سب خوش ہو گئے کہ ہمیں اتنا اچھا سٹروکر مل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی صلاحیت دی ہے۔ اگر ایک چیز سے محروم کیا تو دوسری خوبی دی ایسا ہی ایان کے ساتھ تھا شروع میں بچوں ہم نے اسے پکڑا تھا سہارا دینے کے لیے لیکن پھر آہستہ آہستہ اس نے چھوڑ دیا۔ پھر دائیں ٹانگ کمزور ہونے کے باوجود وہ بسم اللہ پڑھ کر پینلٹی سٹروک لگاتا اور گول کیپر اسے پکڑنہ پاتا۔ ہوہ بڑے دل سے خوشی خوشی کھیلتا کبھی ضد کرتا میں ڈی میں آکر کھیلوں گا وہ گرا بھی مگر پھر بھی کوشش کرتا۔ اس کی امی سب کے ساتھ مسکرا کر باتیں کرتی۔ اور ہم ان کو خوش دیکھ کر حقیقی خوشی محسوس کرتے۔ کیونکہ وہ ایان کی وجہ سے پریشان رہتی تھی۔ اس کے والد اور بھائی بھی مگر ان کے گھر میں خوشی آگئی تھی اور اداسی کے بادل چھٹ گئے۔

حصہ