برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

27

قسط نمبر148
(چھٹا حصہ)
۔1970ء کے انتخابات بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے پاکستان کے پہلے انتخابات تھے، اور آج کی طرح اُس وقت بھی یہی کہا جارہا تھا کہ ’’یہ ملکی تاریخ میں ہونے والے سب سے منصفانہ اور شفاف انتخابات ہوں گے‘‘۔ قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے پولنگ 7 دسمبر 1970ء، جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے لیے پولنگ 17 دسمبر کو ہوئی۔ اُس وقت مغربی اور مشرقی پاکستان کچے دھاگے سے بندھے ہوئے تھے۔ کس وقت یہ دھاگا ٹوٹ جائے، کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا۔ انتخابات کا عمل یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) 30 مارچ 1970ء کے تحت ہوا۔ جداگانہ طریقہ انتخاب جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا، ترک کرکے مخلوط طریقہ انتخاب اپنایا گیا، جس کا تمام تر فائدہ علیحدگی پسند قوتوں کو ہوا۔ بھٹو اور مجیب الرحمن سب سے زیادہ فائدے میں رہے، کیونکہ انہوں نے ہی اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس پر اصرار کیا تھا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان سے اپنا کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا، جبکہ شیخ مجیب الرحمن نے مغربی پاکستان کی نشستوں کے لیے اپنے دو امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ جماعت اسلامی نے مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں حصوں سے اپنے امیدوار کھڑے کیے تاکہ کسی بھی طرح سے وفاق کو توڑنے کی سازش کو ناکام بنایا جاسکے۔ جماعت اسلامی نے دستور ساز اسمبلی کے لیے 145 امیدوار میدان میں اتارے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلیوں کے لیے 241 امیدوار عوام کے سامنے پیش کیے۔
ملکی تاریخ کے سب سے طویل دورانیے کی یہ انتخابی مہم ایک سال تک جاری رہی، جس میں پاکستان کی نظریاتی کشمکش کو زیر بحث بنایا گیا۔ جماعت اسلامی کے علاوہ دو ایک پارٹیاں دو قومی نظریے کی بنیاد اور اسلامی نظام کے حوالے سے اپنی مہم کو آگے بڑھا رہی تھیں۔ جماعت اسلامی چونکہ نظریۂ پاکستان کی بات کرتی اور عوام کو یہ باور کراتی کہ سارے مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہے، اسلام ہر ایک کے ساتھ انصاف اور مظلوموں کی دادرسی کی بات کرتا ہے، یہی بات عوامی لیگ کو ناگوار گزرتی۔ اس لیے وہ جماعت اسلامی کے جلسے جلوسوں میں پُرتشدد کارروائیاںکرتے اور جماعت کے کارکنوں کو ڈراتے دھمکاتے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے نظام تعلیم میں اس بات کا خیال ہی نہیں رکھا گیا کہ پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا۔ پاکستان بنانے میں بنگالی آگے آگے تھے۔ نئی نسل کو کچھ پتا نہیں تھا، کیوں کہ ہمیں اس بارے میں پڑھایا نہیں گیا تھا۔ اسکول اور کالج کے نصاب میں زیادہ تر ہندو مصنفین کی کتابیں پڑھائی جاتیں، اس لیے بنگالی اکثریت کو پتا نہیں تھا کہ پاکستان کیسے بنا اور پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا۔ حکمرانوں نے حصولِ پاکستان کے مقاصد بھلاکر صرف اقتدار سے چمٹے رہنے کو اپنا مقصد بنا لیا تھا۔ بنگال سے حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین کو اقتدار ملا بھی تو انھیں جلد ہی فارغ کردیا گیا۔ سول سروس میں اہم عہدوں پر زیادہ تر مغربی پاکستان کے لوگ تعینات تھے۔ یہاں تک کہ فوج میں بھی بھرتی کا معیار قد 6 فٹ اور سینہ 36 انچ رکھا گیا۔ کیونکہ بنگالیوں میں اکثریت کا سینہ 32 انچ اور قد چھوٹے تھے لہٰذا فوج میں بھی اُن کے لیے دروازے تقریباً بند تھے۔ ان سب باتوں نے محرومی اور ناانصافی کو جنم دیا، ہندوئوں نے بھی نفرت پھیلانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
جماعت اسلامی کے مقابلے پر پیپلز پارٹی اسلامی سوشلزم کا نعرہ لے کر آئی تھی اور عوامی لیگ اشتراکیت اور لسانیت کی بنیاد پر انتخابی مہم چلا رہی تھی۔ دینی جماعتوں میں جمعیت علمائے اسلام (ہزاروی گروپ) بھی سوشلزم سے متاثر تھا۔ مولانا عبدالحمید خان بھاشانی کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی علیحدگی پسندوں کے ساتھ مل کر علیحدگی کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھی۔ اگرچہ مولانا بھاشانی کی ہمدردیاں ابتداء￿ سیاست میں کانگریس کے ساتھ تھیں لیکن وہ جلد ہی کانگریسی لیڈروں سے مایوس ہوکر مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ بعد میں علیحدگی کی تحریک میں شیخ مجیب کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کام کرنے لگے۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ 1970ء میں مشرقی پاکستان میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے نتیجے میں باغیوں کا جو پہلا جتھا فرار ہوکر ہندوستان گیا تھا اُس میں مولانا بھاشانی بھی شامل تھے۔ وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد واپس آگئے اور ملکی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔
عوامی لیگ مشرقی پاکستان کی مقبول ترین جماعت تھی، جس نے انتخابات سے قبل ہی چھ نکات کے ذریعے علیحدگی کا پیغام دینا شروع کردیا تھا۔ عوامی لیگ کی ہر شہر میں اکثریت موجود تھی۔ جلسوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے اور مغربی پاکستان کے خلاف کھل کر اظہارِ خیال کرتے۔ جماعت اسلامی کے امیدوار بھی ان ہی کے علاقوں میں جلسے کرتے۔ واحد جماعت اسلامی تھی جو اپنے جلسوں میں نظریۂ پاکستان کی بات کرتی تھی۔ عوامی لیگ کے 6 نکات عوامی لیگ کے جلسوں میں گرما گرم موضوع ہوتے تھے، اس کے ساتھ ہی ساتھ بنگالیوں کے احساسِ محرومی کو بنیاد بناتے ہوئے تقاریر کی جاتیں۔ مشرقی پاکستان میں چونکہ ہندو بڑی تعداد میں تھے، عوامی لیگ کو ان کی پوری حمایت حاصل تھی، اور پھر ایک الزام یہ بھی تھا کہ پڑوسی ملک کے حساس ادارے کے ایجنٹ بھی عوامی لیگ میں ہوتے تھے۔
اسلام اور سوشلزم کی بنیاد پر جاری اس مہم میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب دونوں جانب سے بھرپور قوت کا مظاہرہ کیا گیا۔ سیکولر اور اشتراکی جماعتوں کی جانب سے 19 اپریل 1970ء کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی گئی۔ جیسے ہی اس ہڑتال کا اعلان ہوا، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس کو ناکام بنانے کی اپیل کردی۔ انھوں نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ’’کسی بھی صورت میں اس ہڑتال کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ اس کا مقصد صرف یہ بات ثابت کرنا ہے کہ وہ پورے ملک کو بند کرسکتے ہیں، اور ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ جماعت اسلامی نے بھرپور عوامی رابطے کے ذریعے اس ہڑتال کو ناکام بنایا، جس کے بعد امیر جماعت اسلامی نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے اپنے عزم و شعور اور متحدہ ارادے کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ملک کے دونوں بازوؤں میں اس ہڑتال کو قطعی ناکام کردیا۔ اس ملک میں اسلام کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کو دارالاسلام بن کر رہنا ہے یا مارکس اور لینن کی امت کا ملک بن جانا۔‘‘
اس ہڑتال کے جواب میں مولانا نے تجویز کیا کہ اسلام پسندوں کو بھی چاہیے کہ وہ اسلامی نظام کے حق میں طاقت کا مظاہرہ کریں۔ چنانچہ 31 مئی کو ’’یوم شوکتِ اسلام‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا۔ 31 مئی 1970ء کو مشرقی و مغربی پاکستان میں بھرپور اسلامی قوت اور شوکت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ لاہور سے لے کر چٹاگانگ تک، اور کراچی سے لے کر خیبر تک تمام چھوٹے بڑے شہر ’’پاکستان کا مطلب کیا… لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے نعروں سے گونج رہے تھے۔ ان جلسوں، مظاہروں اور جلوسوں سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ پاکستان کے باشندے اسلام کے سوا کسی بھی نظام کو قبول نہیں کریں گے۔ لاہور کے یوم شوکت اسلام جلوس کی قیادت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور کراچی کے جلوس کی قیادت میاں طفیل محمد نے کی، اور بڑے جلسوں سے خطاب کیا۔
اس قوت کے اظہار نے عالمی استعماری قوتوں اور اسلام بیزار ملکی مشنری کو جماعت اسلامی کے خلاف کھڑا کردیا۔ اور اس طرح عالمی قوتیں جماعت اسلامی کے حوالے سے متحرک ہوگئیں۔ میڈیا پر جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کو روک دیا گیا اور جماعت اسلامی کے اکابرین کے خلاف پروپیگنڈہ مہم شروع کردی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق1970ء کے انتخابات میں 63 فیصد پاکستانیوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور مجموعی طور پر 22 سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا۔ رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 5,69,41,500 تھی، جن میں سے 3,12,11,220 کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور 2,57,30,280 کا تعلق مغربی پاکستان سے۔ ان انتخابات میں 1579 امیدوار قومی اسمبلی کی 300 نشستوں کے لیے لڑ رہے تھے۔
عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی 167 نشستیں حاصل کرکے میدان مار لیا، اور اس طرح یہ واحد سب سے بڑی جماعت بن گئی جسے حکومت بنانے کا مینڈیٹ حاصل ہوا تو مغربی پاکستان میں سب حیران رہ گئے کہ اب کیا ہوگا؟
(جاری ہے)

حصہ