آئیں پاکستان کو مضبوط کریں

46

رقیہ فاروقی
پاکستان ایک نظریاتی سلطنت ہے، جس کی بنیاد عقیدہ توحید پر رکھی گئی ہے۔ یہاں کے لوگ چاروں قسم کے موسم سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ہر قسم کی معدنیات اس دیس کے پہاڑوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس پر مستزاد تخلیق کار نوجوانوں کی کھیپ ہے، جو ستاروں پر کمند ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہم اتنی بھر پور سلطنت کے باسی ہیں کہ جس پر دشمن ہر رخ سے نظر جمائے ہوئے ہے۔ دشمنوں کے جھنڈ میں یہ دیس کسی ستارے کی طرح جگمگا رہا ہے۔ یہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظتی حصار کی ایک جھلک ہے۔ تمام اندرونی بیرونی انتشار کے باوجود ملکی سالمیت کوئی معجزہ ہی لگتی ہے۔
ہم اس ارض پاک کے پاسبان ہیں۔اس کی تعمیر وترقی کے لیے ہم نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہر شخص اپنے دائرہ کار میں محنت کر سکتا ہے۔ جیسے کوئی معلم ہے تو وہ صرف افراد تیار کرنے کے بجائے شخصیات پر محنت کرے۔ جس کے نتیجے میں معاشرے کو تہذیب وتمدن سے آراستہ معمار دیے جا سکیں۔بد اخلاق راہ رو پورے قافلے کو گمراہی کے دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ پھر ہر صدا صد بصحرا ثابت ہوتی ہے۔ قومیں بانجھ ہو جاتیں ہیں۔ کوئی غزالی یا رازی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا سبب ہم خود ہو تے ہیں۔ہم اپنے وطن سے محبت کے بلند وبانگ دعوے تو کرتے ہیں، لیکن کردار تشکیل کرنے کی محنت نہیں کرتے۔ کتنی نسلیں ہماری اس بے حسی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر دھرتی کی ناقدری کیا ہوگی؟
جس مملکت کے افراد خانہ اپنے وطن کے ساتھ مخلص ہوں وہ ریاستیں بہت جلد ترقی کے زینے طے کر جاتی ہیں۔ ہر اعتبار سے وہاں برکتوں کا نزول نظر آتا ہے۔ ہر کوئی شاداں و فرحاںدکھائی دیتا ہے۔ مسائل کے پہاڑ اجتماعیت کے سامنے خس و خاشاک بن کر اڑ جا تے ہیں، لیکن اس ترقی کو پانے کے لیے مجموعی اعتبار سے ہر فرد محنت کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ تنزل سے ترقی کے راستے طے کیے جا تے ہیں اور پھر وہ قطعے نور کے بقعے بن جا تے ہیں۔ قومیں ان کے طرز زندگی کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں۔ تاریخ میں ان کو کامیاب مرقوم کر دیا جاتا ہے۔
ہم من حیث القوم تنزلی کا شکار ہیں۔ اس کی وجوہات کا تعین کئے بغیر اس کا سدباب ناممکن ہو گا۔ سب سے پہلے ہمیں اختلاف وانتشار کو ختم کرنا ہوگا ۔ یہ اختلاف مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔ کبھی افرادی اور کبھی اجتماعی سطح پر ایسی صورت حال پیش آ تی ہے کہ میڈیا ہمارے سیاستدا نوں کو دست و گریباں دکھاتا ہے۔ جس کے برے اثرات ساری قوم کو بھگتنے ہوتے ہیں۔قومی وقار کو دھچکا لگتا ہے۔ باہر کی دنیا میں پاکستانیوں پر پھبتیاں کسی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں نسل نو اپنے تشخص کو بھلا کر غیروں کی گود میں پناہ لینے کو بے تاب دکھنے لگتی ہے۔ کتنے ہی شعبے ترقی یافتہ افراد کی راہ تکتے ہوئے ختم ہو جاتے ہیں۔
ان تمام مسائل کے حل کے لئے پاکستان کے ہر شہری پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس دیس کے لیے اپنے آپ کو مخلص بناے جس طرح گھر کا سربراہ اپنے اہل خانہ کے متعلق بہترین سوچ رکھتا ہے اور یہی فکر اتحاد کا ذریعہ بنتی ہے۔ تمام لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رہتے ہیں، بالکل اسی طرح ہمیں اجتماعی طور پر بھی فکر کرنی چاہیے کہ کیسے اختلافات سے پاک معاشرے کی داغ بیل ڈالی جا سکتی ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جو امن و امان کا پیغام بر ہو۔ جس کے باسی باہم شیر و شکر ہوں ،دشمن نگاہ غلط اٹھانے سے پہلے سو بار سوچ و بچار کر نے پر مجبور ہوجاے، لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم غلط کو سوچتے سوچتے مایوسیوں کے پاتال میں اتر گئے ہیں۔ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ناممکن کبھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہم ترقی کی راہوں میں منزل سے بہت دور ہیں۔ کسلمندی نے ناامیدی کو ہوا دے کر ہمیں مطمئن کر دیا ہے۔ ہم دوسروں کو ملزم ٹھہرا کر خود مطمئن ہو بیٹھے ہیں، جس کی بنا پر پوری قوم قرض کی نحوست میں جکڑ گئی ہے۔
دہشت گردی کا ناسور گھن کی طرح ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ مہنگائی کا طوفان پورے ملک کو اپنے لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ہر کس و ناکس اس کا شکار ہے۔ اس کے سدباب کے لیے ہمیں اپنے طور پر عملی اقدامات کرنے ہو ں گے۔ جیسے کراچی میں کچھ عرصہ قبل صفائی مہم شروع کی گئی۔ تو وہاں کے عوام نے قوت بازو کا استعمال کیا۔ خود عملی طور پر اقدامات کیے۔ خود باہر نکل کر وطن سے محبت کا ثبوت دیا۔
ہم نے تنقید برائے تنقید کی مجالس سجا کر اخلاقی آ لودگی میں اضافے کا سبب نہیں بننا ہے۔ بلکہ اس ملک پر اپنی صلاحیتوں کو آزمانا ہے اور اس کی ترقی کے لیے ہر دم کوشاں رہنا ہے۔اس کے لیے عملی صورت یوں ہونی چاہیے کہ ہر شخص اپنا محاسبہ کرے۔ اپنی پہنچ کے دائرہ کار کا احاطہ کرے پھر دوسروں سے قطع نظر کرکے خود اپنے وطن عزیز کے مفاد کے لیے جدو جہد کی ابتدا کرے۔ جیسے ہم افرادی قوت کے اعتبار سے ایک گھر کو دیکھتے ہیں۔ ہمیں وہ گھر مضبوط نظر آتا ہے۔ جس کے افراد باہم مربوط ہوتے ہیں۔ مسائل کو انا کا مسئلہ نہیں بناتے، بلکہ باہم خوش اسلوبی سے حل کر کے ماحول کو اخلاقی آ لودگی سے بچا لیتے ہیں اور باہم شیر و شکر زندگی کی ساعتیں بتا جا تے ہیں پھر کسی ویرانے میں سپرد خاک ہو کر دنیا میں زندہ رہتے ہیں۔ محفلوں میں لوگ ان کا نام لینا باعث فخر سمجھتے ہیں۔ جب اجتماعی قوت کا معاملہ ہو تو ہمیں اسی کو مثال کو سامنے رکھ لینا چاہیے کہ ہم نے اس بگاڑ کو سدھار میں کیسے بدلنا ہے؟ صرف غلط کا راگ الاپنے سے مسائل حل نہیں ہوا کرتے۔ ہم صرف ٹاک شو ز کو تبدیلی کا ذریعہ سمجھتے ہیں حالانکہ صرف آگاہی قوموں کے حالات بدلنے کے لیے کافی نہیں ہوا کرتی۔ تمام اعضاء و جوارح کی جدو جہد ضروری ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک بڑی خامی قول وعمل کا تضاد بھی ہے۔ ایک آدمی لکھی ہوئی تحریر پڑھتا ہے کہ موٹر وے کو صاف رکھیں، لیکن خود ڈرائیو کرتے ہوئے بے فکری سے ریپر باہر اچھال دیتا ہے۔ہم خود انصاف کر سکتے ہیں کہ اس صورت حال میں ہمیں گندگی پر ناک بھوں چڑھانے کا حق کہاں باقی رہے گا ؟ جب تک پاکستانی قوم کے قول وعمل میں تضاد باقی رہے گا۔ یہ خطہ ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے ’’بے شک اللہ تعالیٰ اس قوم کے حالات نہیں بدلتا جو اپنے آپ کو بدلنے کا ارادہ نہ کر لے‘‘۔ ہم تو مسلمان قوم ہیں۔ ہمیں قرآن کو دستور حیات بنانا چاہیے۔ قرآن کریم سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہم نے خود کو بدلنا ہے۔ اپنے کردار کو سنوار کر معاشرے کی اصلاح کرنی ہے۔ ہمارے دل میں ایمان کی نعمت موجود ہے۔ جس کی بنا پر ہمیں برائی کھٹکتی ضرور ہے اگرچہ پھر ہم ضمیر کو تھپک کر سلا دیتے ہیں اور سب ٹھیک ہے کہہ کر اپنے کو مطمئن کر لیتے ہیں، لیکن ایسا کب تک چلے گا؟
دھرتی تو ماں ہوتی ہے وہ تو ہمارے اس غدر کو برداشت کر جاتی ہے۔ ہم پر سکون جیتے ہیں۔ کہیں سے گولیوں کی گونج کی آواز ہمیں خوفزدہ نہیں کرتی۔ ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں اور جیتے چلے جاتے۔لیکن مومن کے عقیدہ آخرت کا کیا کریں گے جب سب کچھ عیاں ہوگا۔ ان تمام نعمتوں کے متعلق باز پرس ہو گی۔ کہیں وہاں پشیمانی نہ ہو، جس کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوسکے گا۔ دھرتی بھی ہم سے اپنا حق مانگے گی۔
آ ئیے! ابھی بھی وقت ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا حق ادا کریں جو پاکستان کی صورت میں ہمیں عطا کی گئی۔ اپنے عملی اقدام کے ساتھ وطن کی محبت کا ثبوت دیں۔ہر شخص اپنے طور پر آگے بڑھے۔ کڑی سے کڑی مل کر مضبوط زنجیر بنا کرتی ہے۔ اسی طرح ہم بھی مضبوط قوم بن جائیں گے۔ ان شاء اللہ

حصہ