انصافی نا انصافی

274

تنویر اللہ خان
metanviruk@gmail.com
پاکستان کوارٹر، جہانگیر روڈ، مارٹن کوارٹر،کلیٹن کوارٹر، ایف سی ایریا کے سرکاری مکانات میںگزشتہ کئی دھائیوں سے رہنے والوں کے سر پر بے گھری کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔
جس طرح کرائے کے ڈھنڈورچی ڈھنڈورہ پیٹنے کے لیے صرف اپنے معاوضے سے مطلب رکھتے ہیں انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ گلا پھاڑ کر وہ جو اعلان کررہے ہیں اس میںکتنا جھوٹ اور کتنا سچ ہے اور یہ کہ ان کے اعلان سے کیا نقصان ہونے والا ہے، ایسے ہی شوروغوغا سے متاثر ہوکر حکومتی اور عدالتی ایوانوں میں یہ بات گشت کررہی ہے کہ سرکاری مکانات پر ریٹائرڈ ملازمین نے قبضہ کررکھا ہے۔
ان آبادیوں میں رہنے والوں کی تیسری نسل یہاں جوان ہورہی ہے ان کا یہی ایک استحقاق نہیں ہے کہ وہ عرصہ دراز اسے یہاں آباد ہے بلکہ کچھ اور حقائق ایسے ہیں جن پر فیصلہ سازوں کو توجہ کرنی چاہیے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے وزیراعظم ہوتے ہوئے اس آبادی کے بارے میں کہا تھا کہ آپ کو یہاں سے کوئی بے دخل نہیں کرے گا اور کچھ مکینوں کو الاٹمنٹ کا کاغذ بھی دیا تھا۔
اس کے بعد ہر آنے والے حکومت نے یہاں کے مکینوں کو دلاسا دیا کہ انھیں بے گھر نہیں کیا جائے گا، کسی نے Allegeable for Allotment کے کاغذ تقسیم کیے اور کسی نے مالکانہ حقوق کا یقین دلایا، کسی نے یہاں ملٹی اسٹوری بلڈنگ بناکر دینے کا وعدہ کیا جب کے یہ سارے وعدے کرنے والے حاضر وزراء اور سربراہ حکومت تھے اگر انھوں نے غیر سنجیدگی، خرمستی اور دھوکے بازی سے کام لیا تو اس کی سزا عوام کو دینے کاکیا جواز بنتا ہے ؟ حکمرانوں کے مالکانہ حقوق کی یقین دہانی پر یہاں رہنے والے لوگوں نے اپنی تمام جمع پونجی لگا کر ان مکانات کو رہنے کے لائق بنایا۔
اس آبادی کی ایک کمزوری یہ ہے کہ یہاں انڈیا سے ہجرت کرکے آنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے، پاکستان بھر سے کراچی میں آباد ہونے والوں کی آبادیوں کو تو انسانی ہمدردی کے بنیاد پر لیز دی جاسکتی ہے، تیس سال پہلے آنے والے افغان مہاجر ہونے کی بناء پر ہمدردی کے مستحق قرار دیئے جاسکتے ہیں اب یہ افغان خیمہ بستیاں مستقل آبادی بن چکی ہیں اور یہاںغیر قانونی بڑے بڑے کاروبار ہورہے ہیں یہ آبادیاںجرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہیں ہیں لیکن یہ پھر بھی ہمدردری کی مستحق ہیں لیکن انڈیا سے آکر یہاں آباد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی اولادوں کوغیر قانونی قابضین کہا جا رہا ہے۔
گزشتہ تین دھائیوں سے کراچی دنیا کا انوکھا شہر رہا ہے یہاں ہائی کورٹ کے جج بھی جان بچا کر بھاگ کر تھانے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، اس شہر میں عدالت عالیہ کا گھیراو کیا گیا، یہاں یہاںحاضرحکمرانوں کی اپیل پر ہڑتالیں ہوتی رہی ہیں یہاں پولیس کے پاس دادرسی کے لیے جانے والوں مظلوموں کو ظلم کرنے والے کے حوالے کیا جاتا رہا ہے یہاں عدالتی فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اور سرکاری احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر وزارتیں چلائی گئی ہیں، یہاں بیرون ملک سے جہاز میں بٹھا کر مسلح مجرم جتھے قتل غارت کے لیے لائے جاتے رہے ہیں،کراچی کو قانون والوں نے لاقانونیت کی راہ پر لگایا ہے۔
اہل کراچی سے اس امتیازی سلوک کے رد عمل میں کراچی آگ اور خون کے دریا میں غرق ہوا یہاں کے رہبروں نے اسے بے راہ کیا ہے، ردعمل کے نتیجے میں وجود میں آنے والوں نے بھی حق کے نام پر اس شہر کی حق تلفی ہی کی ،جب اس شہر کے حالات اور معاملات سب سے الگ رہے ہیں تو اب اس کو راہ راست پر لانے کے لیے خصوصی سلوک کی ضرورت ہے۔
کراچی کی سرکاری آبادیوں میں رہنے والوں سے محض قانونی اورکاروباری حوالے سے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس کی ملازمت ختم ہوگئی ہے اُسے سرکاری گھر خالی کردینا چاہیے اور یہ کہ مالک وہی ہوتا ہے جس نے قیمت ادا کی ہو لیکن یہاں معاملہ نہ قانونی موشگافیوںکا ہے اور نہ کاروباری لین دین کا بلکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے لہٰذا اسے انسان بن کر سوچنا اور حل کرنا چاہیے۔
ریاست کو ماں کہا جاتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ماں اپنی اولاد کے سر سے چھت چھین لے اور اُسے اس سے کوئی غرض نہ ہو کہ اُس کے اولاد کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتی پھرے گی۔
ان آبادیوں میں رہنے والوں کے نمائندوں اور حکومتی فیصلہ سازوں کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے اور اس حل کی بنیاد قانونی، کاروباری کے بجائے انسانی ہونی چاہیے۔

حصہ