الیکشن کے بعد ۔۔۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے!!۔

28

افشاں نوید
یہ امریکا تو ہے نہیں کہ مقابلہ ہو ری پبلکن اور ڈیموکریٹس کے بیچ… ایک دن پہلے تک اپنی ساری توانائی مخالف پر الزام لگانے اور خود کو برتر ثابت کرنے پر لگادی… اپنا پروگرام اور منصوبے بنا سنوار کر پیش کیے… پھر ڈیموکریٹس جیتے یا ری پبلکن، اخبار میں تصویر ہاتھ ملاتے ہوئے ہی آنا ہے اگلے روز۔ قوم بھی ایسی بھلکڑ کہ ایک دن قبل کی تلخیوں کو آن کی آن میں بھلا کر ملک کی تعمیر وترقی کا ایک نیا باب رقم کرنے میں لگ جاتی ہے۔ لندن میں چاہے ٹوری پارٹی جیتے یا لیبر، شاید نتائج کا اعلان ہوتے ہی وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی سیاسی وابستگی کس کے ساتھ تھی۔
اب اگر الیکشن کے دن فائرنگ نہ ہو، مخالفین کے بیچ ہاتھا پائی نہ ہو، ووٹر لسٹوں میں گڑبڑ نہ ہو، راتوں رات پولنگ اسٹیشن نہ بدل دیے جائیں، گھنٹوں لائنوں میں لگنے سے دوچار بے ہوش نہ ہوجائیں، پریزائیڈنگ افسر جانب داری نہ دکھائیں، پولنگ بوتھ سے ڈبے لے کر بھاگنے، دھاندلی، بوگس ووٹنگ اور ٹھپوں کی خبریں نہ ہوں تو پتا کیسے چلے کہ جناب! یہ انتخابات ہیں پاکستان کے…!
2018ء کے الیکشن کے نتائج جو بھی ہوں، ہم بحیثیت قوم سرخرو ہوئے ہیں دنیاکی نظروں میں۔ جن کو خونیں انتخابات کہا جارہا تھا عالمی میڈیا پر… سوائے بلوچستان سے افسوس ناک حادثے کی اطلاع اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے، تین بڑے صوبوں میں پُرامن پولنگ ہوئی۔ ہمارا وقار بلند ہوا۔ 25 جولائی کے غروب ہوتے سورج نے عالمی برادری کو پیغام دیاکہ پُرامن پاکستان جمہوری قدروں کا علَم بردار ملک ہے۔
قوم نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیا… ماضی کے حکمرانوں کو بڑی حد تک مسترد کردیا۔
اس الیکشن کی خاص بات یوتھ کی انتخابی عمل سے دلچسپی تھی۔ یہ وہ باشعور بچے ہیں جنہوں نے دیکھا کہ… میرٹ کا قتل ہوتاہے، انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں، بنیادی ضرورتوں تک عوام کی رسائی نہیں، غریب قوم کے حکمران بادشاہ ہیں… لہٰذا نوجوانوں کی بڑی تعداد گھر سے نکلی اور اس نے ووٹ دیے اُس لیڈر کو جس نے اُن سے وعدہ کیا ہے ایک نئے پاکستان کا… جہاں تعلیم سب کے لیے ہوگی۔ پرائمری تعلیم مفت ہوگی۔ علاج سستا ہوگا۔ انصاف سب کی دسترس میں ہوگا۔ بجلی، پانی قومی مسائل کی فہرست میں شامل نہ ہوں گے۔ کوئی بے روزگار ہوگا نہ کوئی ننگا بھوکا۔ قوم کی گردن قرضوں کے بوجھ سے آزاد ہوگی وغیرہ۔
یوتھ نے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے نئے پاکستان کا خواب دیکھا ہے۔ یہ مٹی سے محبت کرنے والوں کا دیس ہے۔
اللہ کرے کہ نئے حکمران اپنے وعدوں کو وفا کریں۔
پولنگ ڈے پر دس گھنٹے میں نے بھی مختلف بوتھس کا دورہ کیا اور دیکھا کہ جوق در جوق لوگوں نے گھروں سے نکل کر انہیں مسندِ اقتدار پر بٹھایا ہے۔ اگرچہ کہ پاکستان میں خفیہ ہاتھ بھی کارفرما ہوتا ہے، مگر لوگوں نے دل چسپی لی اور حق رائے دہی استعمال کیا… کہیں حد سے تجاوز بھی ہوا ہوگا، ایسا ہوتا ہی ہے۔
لیکن اگر اِس بار حکمران ماضی کے حکمرانوں سے مختلف نہ ہوئے تو خواب بکھر جائیں گے اس قوم کے… اور اس سے بڑا سانحہ کوئی نہ ہوگا۔ قوم نے اپنا فیصلہ دے دیا، اب ذمے داری شروع ہوتی ہے اُن کی، جن کو منتخب کیا گیا… وہ کیا کرتے ہیں،کیسے کرتے ہیں، کب کرتے ہیں؟ یہ معمولی ذمے داری نہیں ہے۔ اگلے پانچ برس کا امتحان ہے یہ…
اللہ نے یہ ذمے داری ہمیں نہیں دی، ہمیں اس پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے۔ ہم اپنا پروگرام، اپنا منشور، اپنی دعوت رکھتے ہیں۔ ہم وہ نہیں انتخابی سیاست ہی جن کی موت اور زندگی ہو۔ ہم عوام کے رجحانات کا علم ہونے کے باوجود انتخابی میدان میں اترتے ہیں، صرف یہ بتانے کے لیے کہ ہم محض تبلیغی جماعت نہیں، اگر قوم ہمیں اقتدار دے تو نظام عدل کو قائم کرنے کا پورا پروگرام ہم رکھتے ہیں۔
قوم مسترد کرتی ہے ہمیں… اس کی وجوہات اُس کی ترجیحات ہیں۔ اُس کی ترجیحات و رجحانات کیا بنا دیے گئے ہیں آپ کسی چینل کے ایک گھنٹے کے اشتہارات اور ایک دن کے ڈرامے دیکھ لیں تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا۔
ہماری کامیابی نشستوں کو گننے میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ ہم بدستور ایک مشن سے جڑے ہیں۔ ہر بار ایک منشور لے کر قوم کے سامنے حجت تمام کردیتے ہیں کہ ہم بھی اس معاشرے میں متبادل کے طور پر موجود ہیں۔ باوجود اس کے کہ ہم متوقع نتائج سے باخبر ہوتے ہیں، پھر بھی تن من دھن سے اخلاص کی گواہی پیش کردیتے ہیں۔ جواباً نہ انتقامی جذبہ رکھتے ہیں، نہ اپنے مشن سے ذرہ برابر بھی پیچھے ہٹتے ہیں… اس لیے کہ ہم روحِ سفر ہیں، نام ہماری شناخت نہیں۔
مگر انتخاب ایک بیرومیٹر ہوتے ہیں۔ بہت کچھ سماجی رویّے حیران کن انتخابی نتائج کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں… لہٰذا یہ ہماری بدنصیبی ہوگی کہ ہم ایک عظیم الشان تحریک سے وابستہ ہوتے ہوئے اس بدلتے ہوئے سماج کے تقاضوں کے علی الرغم منصوبے نہ بنا سکیں، یا لوگوں، بالخصوص تعلیم یافتہ لوگوں اور نوجوان نسل کو قریب کرنے کے طریقے نہ سوچ سکیں۔ سیٹوں کے نتائج کے برعکس تجزیہ یہ ہونا چاہیے کہ پچھلے پانچ برسوں میں ہمارے عوامی نفوذ میں کتنا اضافہ ہوا؟
اگر کمی ہے تو اس کا ذمے دار سماج نہیں ہم خود ہیں کہ ہم اپنا پروگرام پہنچا ہی نہ سکے۔ پانچ برس میدان ہمارے پاس ہوتا ہے… ہم اسی طرح جدوجہد کریں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے… کوئی ہنگامی جدوجہد تو سماجی رجحانات نہیں بدل سکتی۔
ہم بھی ایک نئی دنیا میں داخل ہوئے ہیں ان نتائج کے بعد، کہ ہمارے کرنے کے تو بہت سے کام ہیں۔ پچھلے پانچ برس کی کوتاہی ان شاء اللہ اگلے پانچ برس میں پوری کریں گے۔ اس راستے کی کوتاہی اور ہمارے عمل کی کمزوری کا اللہ رب کریم پردہ رکھ لے۔
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
٭٭٭
شام کے چار بجے تھے، یہ پولنگ ڈے تھا… ہم گلشن اقبال کے ایک بوتھ پر بہت دیر سے تھے۔ دائیں ہاتھ سے یک دم ایک قافلہ برآمد ہوا، آگے تین پجیرو گاڑیاں، ان کے پیچھے درجن بھر چمچماتی کاریں… کسی نے تحریک انصاف کا پرچم شانوں پر ڈالا ہوا تھا، کسی نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا… انہوں نے لوگوں کو دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا، مگر نہ ہاتھ ہلائے، نہ وکٹری کا نشان بنایا… ضرورت بھی نہ تھی، اس لیے کہ وکٹری تو ان کے چہروں سے عیاں تھی۔ وہ منٹ بھر میں گزر گئے… مگر پیغام پورا دے گئے… شہر بھر میں جہاں جہاں سے گزرے ہوں گے، پیغام ’’پورا‘‘ ہی منتقل ہوا ہوگا۔
میں بھی ایک مغموم سے دل سے پیغام کی اثریت سے معمور سوچنے لگی کہ اس’’اسٹیٹس کو‘‘ میں ہماری جگہ کہاں ہے؟ جہاں انسانوں کو ناپنے کے ترازو ہی کچھ اور ہوں، جہاں انسانوں کی منڈیاں لگیں، کھلے عام بیوپار ہوں، چمک آنکھوں پر پٹی باندھ چکی ہو ایسے میں صداقت، امانت کو کون تولے گا…؟
مگر جب لیاری سے سید عبدالرشید کی فتح کی خبر سنی تو آپ ہی اپنے خیالات کی نفی کردی۔ یہ ایک شخص کی فتح نہیں، ایک پپغام ہے سماج کے لیے، ہمارے لیے۔
ایک سادہ درویش نوجوان، دفعہ باسٹھ، تریسٹھ پر پورا اترنے والا، گلی محلہ والوں کے دلوں پر راج کرنے والا… ’اسٹیٹس کو‘ کو شکست دے کر کہتا ہے کہ میں ہوں ڈاکٹر نذیر شہید کا جانشین، آج بھی اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے سب باطل ہتھکنڈوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ سندھ اسمبلی کو اس دور کا ڈاکٹر نذیر مبارک۔
یہ وہ اسمبلیاں ہیں جہاں منڈیاں سجی ہیں، نرخ لگ رہے ہیں، بھاؤ تاؤ ہورہے ہیں۔ سب کچھ الیکشن کمیشن کی ناک تلے ہورہا ہے۔ الیکشن مہم کے لیے بجٹ مختص کیا گیا تھا، سیاسی جماعتوں نے ان ضابطوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ پورے پورے ٹی وی چینل بک کرا لیے گئے۔ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں کہ بڑی سیاسی پارٹی نے 9ارب روپے اپنی مہم پر خرچ کیے، دوسری بڑی پارٹی نے 7 ارب روپے خرچ کیے۔ کہاں ہے عدلیہ؟ کہاں ہے الیکشن کمیشن؟ اور اب جو اُبر اور کریم کی طرح جہازوں میں، خریدے ہوئے امیدواروں کو بٹھاکر بنی گالہ لے جایا جارہا ہے ، وزارتوں کی پیشکش کی جارہی ہے… ایک لوٹ کھسوٹ ہے آزاد امیدواروں کی… ہونا یہ چاہیے کہ آزادانہ انتخاب لڑنے پر پابندی لگائی جائے، کیونکہ ان آزاد امیدواروں نے ملک کے وقار اور انتخابی عمل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ روٹھے محبوب کو منانے والے عاشق کی طرح سیاسی پارٹیوں نے عہدے اور مناصب ان کے قدموں میں ڈال دیے ہیں۔ ان اسمبلیوں کا کیا وقار باقی رھا…! اس کی فکر کون کرے…!

حصہ