کراچی میں انڈوں کی بارش

20

نون۔ الف
سیاسی نرم گرم کے ساتھ دوبارہ حاضر خدمت ہوں۔ یوں تو کراچی میں رہتے ہوئے ہم نے بہت الیکشن دیکھے ہیں ، مگر اس بار الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق ترتیب دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کو پابند کیا ہے کہ سب اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ مگر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ سندھ میں حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور مقتدر حلقوں کی منظور نظر پی ٹی آئی اس ضابطہ اخلاق کی پکڑ سے آزاد ہے۔
ان پابندیوں اور جکڑ بندیوں کو دیکھ کر لگتا یہ ہے کہ ا س بار بھی انتخابات محض ” کالا دھن ” کی بنیاد پر لڑائے جائیں گے۔
ہر چند کہ کراچی میں اس وقت تک ہونے والی انتخابی سرگرمیوں میں وہ روایتی جوش و خروش اور سیاسی گرما گرمی دکھائی نہیں دے رہی جو ماضی میں یہاں دکھائی دیتی تھی۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ الطاف حسین والی اصلی ایم کیو ایم انتخابی عمل سے دور ہے۔ جبکہ دوسرا فیکٹر عوام کے رد عمل کا بھی ہے جو کراچی کی سیاست میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہا ہے ، اور وہ یہ کہ
یہا ں کے لوگوں نے پرانے سیاسی جغادریوں اور کہنہ مشق نوسر بازوں کو ان کی زبان میں جواب دینا شروع کردیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری صاحب کی پہلی سیاسی انٹری ہی ہڑبونگ اور لیاری کے ووٹرز کی جانب سے کے جانے والے پتھراؤ کی نذر ہوگئی۔ اور سیکورٹی کے نام پر رکھے جانے والے بلاول بھٹو کے جیالے اپنے ہی علاقے میں بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
یہ کراچی کی روایتی سیاسی دکانداری اور اجارہ داری کے خلاف پہلا عوامی رد عمل ہے۔ جو بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا۔ اور پھر لیاری کے عوام کے اس جارحانہ ردعمل الیکشن کے بعد عامر لیاقت حسین جو این اے۔ 245 قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں ، جب اپنے حلقہ انتخاب میں گئے تو ان کو بھی عوام کی جانب سے انڈوں کے استقبال کے بعد واپس جانا پڑا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ متحدہ کے فاروق ستار کے ساتھ پیش آیا جب انہوں نے میمن مسجد میں اپنی انتخابی نماز کے بعد نمازیوں سے گفتگو کرنی شروع کی۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ” پرانا میمن ” ہونے کی بنیاد پر میمن مسجد کے نمازیوں کو اپنی مہم کے سلسلے میں تیار کرلیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا اور ” چور کو پڑ گئے مور ” وا لا معاملہ ہوگیا۔
کچھ ایسا ہی معاملہ گلستان جوہر سے ملحقہ گوٹھوں میں پیش آیا جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار نے مقا می سندھیوں سے خطاب کرنا شروع کیا تب انہیں بھی خاصی ” عوامی پذیرائی” ملی ، جس کی تاب نہ لاتے ہوئے انہیں بھرا جلسہ چھوڑ کر بھاگنا پڑ گیا۔ ابھی عمران خان کراچی کے طوفانی دورے پر آئے ہوئے تھے۔ عامر لیاقت اور ان کے اپنے حلقہ انتخاب این اے 243 گلستان جوہر اور عارف علوی کے حلقہ انتخاب ڈیفنس کلفٹن کے دورے کے دوران جو عوامی مخالفت اور وہی جانے پہچانے ” انڈوں ” کی والہانہ بوچھاڑ نے دورے کا مزا کرکرا کرکے رکھ دیا اور سیکورٹی ریزن کا بہانہ بنا کر خان صاحب نے واپسی کی فلائیٹ پکڑنے میں عافیت جانی۔
فاروق ستا ر سمیت بیشتر عوامی نمائندوں نے اس غیر متوقع ” عوامی پذیرائی ” کے بعد اپنی رہی سہی عزت بچانے کی غرض سے اپنے آپ کو گھروں میں قید کرلیا ہے اور اپنی انتخابی مہم ٹی وی کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ (ہر کو عامر لیاقت تو نہیں ہوتا ) !
مجھے حیرت ہے کہ آج سے پہلے کبھی کراچی جیسے شہر میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ پھر آج کیوں ہورہا ہے ؟ اس کا جواب بہت سیدھا سادھا ہے ، کہ تیس سال سے جو وعدے اور خوش نما نعرے عوامی تائید حاصل کرنے اور الیکشن جیتنے کے لیے لگائے جاتے رہے ، جن کی بنیاد پر انہیں کامیابی بھی ملتی رہی۔ بیلٹ بکس بھرے جاتے رہے ، مگر جب وہی نمائندے اسمبلیوں میں پہنچے تو ایک مرتبہ بھی اپنے حلقہ انتخاب کا رخ نہیں کیا۔ مسائل جوں کے توں رہے۔ کوئی داد فریاد سننے والا نہیں تھا۔ کوئی نہیں تھا جو ان کے برے وقتوں میں اپنے ووٹرز کی آواز بنتا۔ چنانچہ اب کی بار عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔
اس کے برعکس جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے نمائندے بے خطر اور بے خوف ہوکر اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں جارہے ہیں۔ اور انہیں عوام کی جانب سے مثبت اور خیر سگالی کے جذبات مل رہے ہیں ، ظاہر ہے یہ صرف اس وجہ سے ہورہا ہے کہ جماعت اسلامی مکمل طور پر کراچی کے پانی ، بجلی اور شناختی کارڈ جیسے بڑے مسائل کے ساتھ ساتھ ہر مسئلے کے لیے ان کی آواز بنی رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ جماعت اسلامی کی اسمبلی میں کوئی بھی نمائیندگی نہیں تھی۔
کراچی کے انتخابی نتائج کیا ہوسکتے ہیں ؟ یہ بہت اہم سوال ہے ، مگر تادم تحریر حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے کہ ابھی بہت سے کھلاڑیوں کی ” دھلائی ” باقی ہے۔ دھلائی ، صفائی کے بعد جب گرد بیٹھے گی تب ہی کچھ کہا جا سکے گا۔ مگر پبلک نے جو درگت ابھی تک بنائی ہے اس کی مدد سے کچھ نہ کچھ نتیجہ ضرور اخذ کیا جاسکتا ہے۔
باوجود اس کے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی اور سندھ کی انتخابی حلقہ جات کی تقسیم اپنی کامیابی کے حوالے سے مرتب کی ہیں ، مجھے لگتا ہے اس کا کوئی خاص فائدہ پیپلز پارٹی کو نہیں پہنچے گا۔ اس لیے کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک کو پی ٹی آئی اور دیگر آزاد امیدواروں کی بدولت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تحریک انصاف نے جو نمائندے کراچی سے کھڑے کیے ہیں ان میں سے کسی ایک کا بھی پروفائل متاثر کن نہیں ہے ، سوائے نجیب ہارون کے۔ نجیب ہارون انفرادی طور پر تو اچھے آدمی ہیں مگر ان کا سیاسی میدان میں کوئی کردار ہے ہی نہیں ، وہ تحریک انصاف میں عارف علوی کی محبت اور ذاتی دوستی کی بنیاد پر چلے آئے۔ اور اب اپنے پیسے کی بنیاد پر بڑے فنانسرز میں شامل ہیں۔ ان کا مقابلہ مجلس عمل کے ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی سے ہے ، جو پڑھے لکھے ہونے کے علاوہ نفیس اور سنجیدہ سیاستدان بھی ہیں اور جماعت اسلامی سندھ کے امیر بھی ہیں اور اسی حلقہ انتخاب میں رہتے ہیں۔ ان کی ایک صوبائی نشست پر نسیم صدیقی ہیں جو ممتاز ما ہر تعلیم ہیں اور ان کی شہرت عثمان پبلک اسکولز سسٹم کے معماروں میں ہوتا ہے اور اس تمام علاقے میں ان کے ہزاروں شاگرد ووٹرز کی صورت میں موجود ہیں۔
متحدہ مجلس عمل کراچی کے صدر اور امیر جما عت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان ایک قومی اور ایک صوبائی حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کی سیٹ پر بہت ہی سخت مقابلے کی توقع ہے۔ یہاں سے ایم کیو ایم اگر الطاف والی ہوتی تو یہ یکطرفہ مقابلہ ہوتا ، مگر الطاف حسین کی بائیکاٹ والی بات سے اس حلقے میں متحدہ مجلس عمل کے جیتنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ایک اور نششت پر چلتے چلتے تبصرہ کے لیتے ہیں وہ ہے 245 این اے۔ یہ محمد حسین محنتی صاحب اور شہید نصراللہ شجیع کی سابقہ نشست ہے جہاں سے آج کامیاب جوڑی نے اپنے اچھے اثرات مرتب کے ہیں ، دونوں قائدین نے اس علاقے میں بہت کام کروایا ہے۔ اب اس نشت سے سابق ناظم جا معہ کراچی اسلامی جمعیت طلبہ ، سربراہ پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی جناب سیف الدین ایڈوکیٹ متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ جن کی متحرک اور پرعزم شخصیت نے انتخابی مہم کے شروع ہوتے ہی ان کو دیگر امیدواروں میں ممتاز بنا دیا ہے۔۔ ان کے مقابلے پر تحریک لبیک ، تحریک انصاف ، پاکستان پیپلز پارٹی بھی میدان میں ہیں۔ ان کا اصل مقابلہ تحریک انصاف سے ہوسکتا تھا، مگر عامر لیاقت حسین چونکہ تحریک انصاف کے ٹکٹ سے لڑ رہے ہیں جو اپنی حرکتوں سے اپنا وقار اور نام خراب کرچکے ہیں۔ جس کا تمام تر فائدہ سیف الدین صاحب کو پہنچے گا۔ اور تحریک لبیک کے خادم حسین بھی عامر لیاقت کی عزت کو مٹی میں ملانے کے لیے ہمہ وقت تیار و کامران ہیں۔ پیپلز پارٹی کا یہاں کوئی قبل ذکر مقابلہ نہیں ہے۔ فاروق ستار اپنے ہی گھر میں اجنبی ہیں۔
اس مرتبہ سیاسی نرم گرم اس حد تک ہی کافی ہے۔ انشاللہ اگلے اتوار کو کچھ مزید گرما گرم باتوں کے ساتھ۔ اجازت دیجیے۔ آپ کا نون۔ الف

حصہ