پھر دعا قبول ہوئی

45

مریم شہزاد
فرح باجی بچوں کی پسندیدہ باجی تھی۔ اگر کسی بچے کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوتا یا کوئی پریشانی ہوتی تو وہ سیدھا ان کے پاس پہنچ جاتا اور وہ نہ صرف اس کی بات غورسے سنتی بلکہ اس کا مسئلہ منٹوں میں حل بھی کر دیتی تھیں۔
اگر کوئی بچہ اپنے امی ابو کا کہنا نہیں مان رہا ہوتاتو وہ اس کو اتنے پیار اور محبت سے سمجھاتیں کہ وہ اچھا بچہ بن جاتا اور اپنے امی ابو کا فرمانبردار ہوجاتا۔
وہ ٹیوشن بھی پڑھاتی، اور قرآن مجید بھی، اس کے علاوہ وہ بچوں کو اخلاقی تعلیم بھی دیتی تھی سب ان کو آل راؤنڈر کہتے تھے ان کے پاس سب مسئلوں کا حل بھی تھا۔ سب بچے ان سے بہت خوش ہوتے تھے اور ان کے والدین بھی۔
آج کل محلے کے بچے بڑے، بزرگ سب ہی پریشان تھے گرمی نے سب کا حال برا کیا ہوا تھا شہر میں بارش ہونے کانام نہیں لے رہی تھی ہر طرف دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔
فرح باجی نے بھی اپنے سب شاگرد بچوں کو ایک دعا یاد کرائی اور کہا کہ سب صبح سویرے ان کے پاس آجائیں دوسرے دن جب سب بچے ان کے پاس آگئے تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت پر ایک قطار میں کھڑا کیا اور کہا کہ آپ سب کو معلوم ہے نا کہ اللہ تعالی بچوں کی دعائیں جلد قبول کرتے ہیں تو میں نے کل جو دعا کی یاد کرائی تھی وہ بارش کی دعا ہے، اب سب مل کر ہاتھ اٹھائیں اور یہ دعا پڑھیں۔
سب بچوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو باجی نے بتایا کہ بارش کے لئے دعا مانگتے وقت دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اوپر کے بجائے نیچے کی طرف کرتے ہیں۔
چنانچہ سب بچوں نے گڑگڑا کر دعا مانگی اور اس یقین کے ساتھ گھروں کی طرف چلے گئے کہ ان شاء اللہ جلد ہی بارش ہو جائے گی اور ہوا بھی یہی رات سے ہی بادل آنے شروع ہو گئے اور صبح بچے اٹھے تو ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور پھر آہستہ آہستہ بارش شروع ہوگئی سب کی خوشی کا پوچھوں نہیں دوپہر تک موسلادھار بارش ہونے لگی، جس نے گرمی کا زور توڑ دیا۔ بچے بڑے سب خوش تھے انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے ان کی دعا قبول کی اور رحمت کی بارش برسائی۔

حصہ