پچیس جولائی سے پہلے

31

تنویر اللہ خان
انتخابات کارکن کی تربیت کا عملی امتحان ہیں، جس طرح ایک فوجی کو تربیت کے کڑے مراحل سے گُزار کر میدان جنگ کے لیے تیار کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح جماعت اسلامی کے کارکن کے لیے تربیت گاہیں، اجتماعات کارکنان، شب بیداریاں دراصل ٹرینگ کورس ہیں، فوج میں جانے والا اگر یہ کہے کہ میں صرف تربیت کے کڑے مراحل میں ہی مشغول رہوں گا لیکن میدان جنگ میں نہیں جاؤں گا تو ایسے فوجی کو دوران تربیت ہی نااہل قرار دے دیا جائے گا اسی طرح جماعت اسلامی کا کوئی کارکن یہ کہے کہ میرا سیاسی، انتخابی میدان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ میں صرف تربیت تک ہی محدود رہوں گا تو ایسے کارکن کا معاملہ بھی میدان سے بھاگنے والے فوجی جیسا ہی ہوگا۔
الیکشن کارکن سے ہر طرح کا امتحان لیتا ہے، مثلاً اب تک جو کچھ سنا ہے اُس کے ابلاغ کی کتنی صلاحیت پیدا ہوئی ہے گھروں، دکانوں، بازاروں عرف عام میں عوامی رابطہ مہم، ڈور ٹو ڈور ملاقاتوں میں بات کرنے سے اس کا معلوم ہوگا، لہٰذا کارکن نے اب تک جو سیکھا اور سمجھا ہے اُس کے معیار کو جانچنے اور کمی کوتاہی کے جاننے کا یہ بہترین موقع ہے، انتخابی امیدوار کے ساتھ گلی گلی گشت اور ملاقاتوں کو اپنے لیے غنیمت جانیے اور اس موقع سے فائدہ اُٹھایئے۔گلیوں میں مارے مارے پھرنا دراصل ’’اللہ کے راستے میں اپنے پیروں کو غبار آلود کرنا ہے‘‘ جو پیر اللہ کے راستے میں گرد سے اٹے ہوں ان کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کی خوش خبری ہے، اس موقع سے فائدہ اُٹھائیں۔
عام حالات میں مجمع جمع کرنا محنت کا تقاضا کرتا ہے جب کہ الیکشن میں یہ مرحلہ بہت سہل ہوتا ہے لوگوں میں سننے کا ایک عام رجحان ہوتا ہے، دن میںکئی کئی بار بار چھوٹے بڑے اجتماعات سے خطاب کرنا پڑتا ہے لہٰذا جو لوگ لوگوں سے بات کرنے کی کچھ صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنی اس صلاحیت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو الیکشن اُن کے لیے سنہرا موقع ہے انتخابی اجتماعات سے بات کرنے کے لیے بہت جاننا ضروری نہیں بلکہ اخبارسے بھی آپ کو تقریر کا مواد مل سکتا ہے لہٰذا امیدوار کے ساتھ رہیے اور ضرورت کے مطابق لوگوں کے سامنے اللہ کا نام لے کر اس کا نام بلند کرنے کی خواہش کے ساتھ عوام کے سامنے اپنا پیغام رکھیے، یہ بھی ذکر کی ایک قسم ہے، آپ یہاں جس طرح کے اجتماع میں اللہ کا ذکر کریں گے اللہ آسمان پر اُس سے اچھے اجتماع میں آپ کا ذکر فرمائیں گے۔
الیکشن میں بہت تیزی سے صورت حال تبدیل ہوتی رہتی ہے لمحہ لمحہ مشکلات، مواقع سامنے آتے رہتے ہیں لہٰذا مشکل سے کیسے نمٹنا ہے موقع سے کس طرح فائدہ اُٹھانا ہے ان معاملات سے جتنا ساری زندگی میں سامنا نہیں ہوتا اتنا چند دنوں کے الیکشن میں ان سے سابقہ پڑجاتا ہے لہٰذا الیکشن تربیت اور ہاتھ کے ہاتھ امتحان کا لمحہ ہے اس بات کا کہ آپ مشکل کو کتنی جلدی سمجھتے اور اُسے کس طرح حل کرتے ہیں۔
عام زندگی ایک گتھی کی طرح ہوتی ہے بعض کی بہت الجھی ہوتی ہے اور سلجھانے کی ہر کوشش اُسے مزید الجھا دیتی ہے، الیکشن میں ایسے الجھاوؤںسے آپ کو قدم قدم سابقہ پڑے گا اگر آپ اپنے حواس کو قابو میں رکھتے ہوئے الیکشن کے الجھاوؤں سے نبرآزما ہوں گے تو یقیناً انھیں سلجھا بھی لیں گے اور یہ تربیت عام زندگی میں ہمیشہ آپ کے کام آئے گی۔
ہمیں اپنی عام زندگی میں اکثر خوف اور خدشات کا سامنا رہتا ہے جب کہ الیکشن میں یہ خوف اور خدشات لحمہ لحمہ کارکن کے سامنے منہ پھاڑے کھڑے ہوتے ہیں، خوف کو کس طرح امید میں بدلنا ہے، خدشات کو کس طرح امکان بنانا ہے الیکشن اس کی بہترین تربیت دیتا ہے لہٰذا میدان میں کھڑے رہیے اور استقامت سے آگے بڑھنے کی جستجو کرتے رہیے استقامت کے نتجے میںاللہ خوف کو امید اور خدشات کو امکان میں تبدیل کردیں گے اور چند دن کی یہ تربیت عمر بھر آپ کے کام آتی رہے گی۔
کوئی بھی مشکل طویل ہوسکتی ہے لیکن دائمی نہیں ہوتی، مشکل کی عمر کی طوالت یا اختصارکی ڈوری ہمارے اعصاب سے بندھی ہوتی ہے ہمارے اعصاب جتنے مضبوط ہوں گے مشکل اتنی ہی جلدی ختم ہوگی اور ہمارے اعصاب جتنے کمزور ہوں گے مشکل اتنی ہی طویل ہوگی، الیکشن اعصاب کے امتحان اور اسے مضبوط کرنے کے بہت ہی موثر مشق ہے لہٰذا اسے ضائع نہ کریں اور میدان میں کھڑے ہوکر اپنے آپ کو ’’آئرن مین‘‘ بنانے کی کوشش کریں، آج کی تربیت زندگی بھر آپ کے کام آئے گی۔
جو لوگ زندگی گزارنے کا نظریہ رکھتے ہوں وہ کبھی بھی اور کہیں بھی ناکام نہیں ہوتے، نظریاتی آدمی کو اگر کال کوٹھری میں بند کردیا جائے اور کسی سے ملنے نہ دیا جائے تب بھی وہ مشن کو آگے بڑھانے کا کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرلیتا ہے لہٰذا وہ کم از کم اپنی نگرانی پر مامور پہرے دار کو ہی اپنے نظریے سے متاثر کرتا ہے۔ جس طرح زمین سے نکالے جانے والے تیل سے پیڑول اور ڈیزل کے علاوہ سینکڑوں اور مصنوعات تیار کی جاتی ہیں بالکل اسی طرح الیکشن سے ہار جیت کے سوا اور بہت سے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ مقابلہ ہار کے لیے نہیں جیت کے لیے کیا جاتا ہے لہٰذا اگرکوئی جان بوجھ کر ہار جائے تو یہ بددیانتی ہے اور اگر جیت کے لیے جان نہ لڑائے تو یہ ذمہ داری سے فرار ہے، اسی لیے نظریاتی افراد یا جماعت کا الیکشن میں حصہ لینے کا مقصد صرف جیتنا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ اس موقع کو اپنے نظریے اپنی جماعت اور اپنے آپ کو عوام سے قریب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
عام محاورہ ہے کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں لیکن جماعت اسلامی کا معاملہ اس کے برعکس ہے، جو لوگ جماعت اسلامی کو دور سے اور اوروں کے ذریعے جانتے ہیں وہ جماعت اور اس کے افراد کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں ایسے بدگمان لوگوں کا جماعت کے کسی کارکن سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے تو ان کی رائے یکسر تبدیل ہوجاتی ہے لہٰذا الیکشن کے موقع کو عوام سے قربت کا ذریعہ بنائیں تاکہ اُن کو اپنے حق میں ہموار کیا جاسکے۔
دوران الیکشن امیدوار اور کارکن کا واسطہ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری افراد اور اداروں سے پڑتا ہے خصوصاً پولیس اور دیگر انتظامی اہلکاروں اور اداروں سے جو کارکن جتنا فعال ہوگا وہ اتنا ہی پہچانا جائے گا آپ کی یہ پہچان آئندہ کئی برس جماعت اسلامی کے کام آسکتی ہے، لہٰذا جہاں آپ کو بلایا جائے وہاں حاضر ہوں جو کام آپ کے ذمہ لگایا جائے اُسے احسن طریقے سے کریں تو بہت امکان ہے کہ آپ ’’مرجع خلائق‘‘ بن جائیں۔
سنہ اٹھاسی کے بعد جب سے ایم کیو ایم نے الیکشن لڑنا جھگڑنا شروع کیا اس وقت سے آج تک خواہ ایم کیوایم میدان میں موجود ہو یا نہ ہو کوئی الیکشن ایسا نہیں ہوا جس میں امیداوار آزادی اور اطمینان کے ساتھ اپنی بات عوام سے کرسکا ہو اگر جماعت اسلامی کے امیدوار اپنی جان ہھتیلی پر رکھ کر عوام کے پاس چلے بھی جاتے تھے تو خوف کی وجہ سے عوام کا رویہ غیریت کا ہوتا تھا تیس برسوں بعد کراچی میں کھلے اورآزاد ماحول میں الیکشن ہورہا ہے اب کسی کو یہ خدشہ نہیں ہے کہ نہ جانے کس کونے سے اور کب الطاف حسین کا بھوت نکل آئے۔
میں لائنزایریا، مارٹن کواٹر، جمشید روڈ، گارڈن، سوسائٹی کی گلی محلوں سے واقف ہوں ایسا پہلی بار دیکھنے میں آرہا ہے کہ این اے 245 کے امیدوار سیف الدین گلی، محلے، مسجد، چائے خانوں ہوٹلوں پر جاکر ہنستے مسکراتے عوام سے مل رہے ہیں اور عوام بھی ان کی بات سن رہے ہیں، کراچی کے مقدر میں جو بھیانک وقت لکھا تھا وہ اب گزر چکا ہے عوام نے بھی آگ کے جس دریا سے گزرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا وہ بھی اس کے نتائج دیکھ اور بھگت چکے ہیں لہٰذا یہ وقت گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ سازگار ہے، جماعت اسلامی نے ہر الیکشن میں اپنی بساط اور ذمہ داری سے بڑھ کر حصہ لیا جانی اور مالی قربانیاں دیں لیکن اس کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی اب حالات بدل گئے ہیں عوام کے سارے شوق پورے ہوگئے ہیں لہٰذا وہ بھی اپنا آپ بدلنے پر راضی نظر آتے ہیںیہ موقع اگر ہم نے اپنی کاہلی، عدم یکسوئی یا اختلاف کی وجہ سے ضائع کردیا تومستقبل میں کسی کامیابی کے امکانات بہت کم ہوجائیں گے۔
تفصیل، تشریح، جزئیات کا بیان کرنا اکثر اوقات بات کی اہمیت کو کم کردیتا ہے جب کہ تفصیلات یاد بھی نہیں رہتیں لہٰذا جب کہ اختصار کی تہہ میں چھپی بات یاد بھی رہتی ہے اور اس کی ہر پرت بات کی اہمیت کو بھی بڑھاتی ہے اسی لیے دستور، منصوبہ بندی کے ساتھ نصب العین کا بھی تعین کیا جاتا ہے کہ آدمی جب کسی مقصد پر اپنی آنکھیں گاڑ دے اور اپنی ساری توجہ اس پر مرکوز کردے تو دستور اور منصوبے کے تقاضے آپ سے آپ پورے ہوجاتے ہیں لہٰذا آپ انتخابی سرگرمیوں میں اپنی حاضری اور دلچسپی کو یقینی بنائیں آپ کی اس کوشش کے نتیجے میں اللہ آپ کو دیدہ اورنادیدہ ثمرات سے نوازیں گے۔
پچیس جولائی پولنگ ڈے تک میرے مخاطب صرف کارکن ہوں گے، ان شاء اللہ۔

حصہ