شریف خاندان کو سزا، نئے پاکستان کی شروعات

47

محمد انور
شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا۔
اس فیصلے کو ملک بھر میں گہری دلچسپی سے سناگیا۔اس فیصلے کے بعد مجموعی طور پر قوم یہ سمجھ رہی ہے کہ ملک میں سیاسی شخصیات کا سخت احتساب شروع ہوچکا ہے۔یہ اور بات ہے کہ یہ احتساب اسی ’’قومی احتساب بیورو‘‘ کے اقدامات سے ہورہا ہے جس کی بنیاد میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور میں رکھی تھی میاں نواز شریف نے نیب بناکر اس کا چیئرمین اپنے ساتھی سیف الرحمن کو بنایا تھا اس بیورو نے جو کارروائیاں کیں انہیں سیاسی انتقام کہا گیا کیونکہ اس بیورو نے بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کے خلاف مقدمات بنائے اور انہیں گرفتار بھی کیا۔
تاہم موجودہ نیب پر اب ماضی کی طرح سیاسی کارروائیوں کا الزام لگانا آسان نہیں ہے کیونکہ اس بیورو کو مسلم لیگ نواز حکومت میں ہی اس قابل بنایا گیا کہ وہ بلا امتیاز و بلا رعایت کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کرتے رہیں۔ نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا تقرر بھی مسلم لیگ حکومت اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی مشاورت سے ہی ممکن ہوسکا تھا۔ اس لیے یہ یقین ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی کارروائی مکمل طور پر غیر سیاسی ہونے کے ساتھ دیانتدارانہ اور ایماندارنہ کی گئی ہے۔
احتساب عدالت کے فیصلے پر اگرچہ سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دس دن کے اندر کی جاسکتی ہے لیکن فوری طور پر اس فیصلے کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ نواز اب ختم ہونے کی طرف چل پڑی ہے۔ اسے بچانے کے لیے نواز شریف کو نہ صرف وطن واپس آنا پڑے گا بلکہ سخت سزا کا سامنا کرنا بھی پڑے گا۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ اس بات کا بھی اظہار ہوگا کہ ان کی سیاست ملک کے لیے ہے۔ لیکن اگر نواز شریف ملک واپس نہیں آئے تو یہ بات بھی طے ہے کہ آئندہ انتخابات میں عمران خان کی تحریک انصاف کی کامیابی اور عمران خان کے آئندہ کے وزیراعظم منتخب ہونے کے امکان واضح ہے ۔ اس طرح یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں تبدیلیاں آنے لگی ہیں۔
نواز شریف کے حمایتی لوگوں کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے فیصلے سے انتخابی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ لیکن اکثریت کو یقین ہے کہ انتخابات کا انعقاد یقینی ہوگا۔ بعض دانشور ذہن کے لوگوں کا ماضی کے مشاہدات کے تناظر میں یہ بھی کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مسلم لیگ نواز کو فائدہ پہنچے گا۔ اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ مسلم لیگ اس فیصلے کے حوالے سے مظلوم بن کر زیادہ ووٹ حاصل کرلے گی تب بھی اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوگا کہ لوگ کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ ہیں یا عدالتوں کے فیصلوں کے تحت نااہل اور کرپٹ قرار پانے والوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔
کڑوا سچ تو یہ ہے کہ پوری قوم مختلف حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف تو وہ ہجوم ہے جو یہ ماننے کو ہی تیار نہیں کہ وطن عزیز میں کوئی فیصلے ایمانداری اور دیانتداری سے ملکی مفاد میں قانون کے تحت کیے جاتے ہیں۔یہ ہجوم قانون سے نابلد اور سیاسی چالوں سے لاعلم ہے۔ دوسرے نمبر پر وہ گروپ ہے جو معمولی مفاد کے لیے شاطر اور مفاد پرست سیاست دانوں کا ساتھ دیا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان دنوں جو بھی عدالتی فیصلے سامنے آرہے ہیں وہ سب کے سب قانون کے مطابق اور ملک و قوم کے مفاد میں کیے جارہے ہیں۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ریفرنس کا تعلق سیاست سے بالکل بھی نہیں ہے یہ فیصلہ کرپٹ عناصر کے خلاف ہے۔ اگر نواز شریف ملک اور قوم سے مخلص ہوتے تو وہ اپنی ناجائز دولت کا حساب دیتے اور یہ ثابت بھی کرتے کہ انھوں نے جائز آمدنی سے یہ دولت جمع کی اور اس سے جائداد خریدی ہے۔لیکن وہ اور ان کی بیٹی اور بیٹے یہ ثابت نہیں کرسکے جس کی وجہ سے انہیں سزائیں ہوئیں وہ یہ اب مجرم ہوگئے۔
قوم کا مسلہ اور خواہش ایک ہی ہے وہ چاہتی ہے کہ جس طرح نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتسابی کارروائی کی گئی اسی طرح کے ایکشن دیگر کرپٹ سیاستدانوں ،جرنیلوں ، تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف بھی بلا امتیاز کرنا چاہیے۔ اور یہ احتساب کا سلسلہ ہر دور میں ہر قیمت پر جاری رہنا چاہیے۔ جب ایسا ہوگا تو پھر کسی کو یہ شبہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ کارروائی سیاسی یا انتقامی ہے۔
سب کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ چاہیے کہ ملک میں سخت احتساب کے لیے سب سے پہلے جماعت اسلامی نے مہم چلائی اور عدالت سے رجوع کیا تھا۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ملک میں پہلی بار بااثر افراد اور سیاستدانوں عدالت کے ذریعے سزائیں نہیں ہوئی۔نواز شریف کو گزشتہ سال جھوٹ بولنے اور امانت میں خیانت کا جرم ثابت ہونے پر نااہل قرار دیکر وزیراعظم کے عہدے سے ہٹادیا تھا۔ نواز شریف کو پرویز مشرف کے دور میں بھی قید اور دس سال تک نااہلی کی سزا سنائی جاچکی ہے۔اس سے قبل سابق صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی جاچکی ہے۔مگر ان سزاؤں کو متنازع بنایا گیا۔ اور یہ اسی وجہ سے مشکوک لگنے لگی کہ ان کے بعد سخت احتساب یا جرائم پر سخت کارروائیوں کا سلسلہ طویل عرصے کے لیے روک دیا گیا۔ حالانکہ یہ سخت سزاؤں اور قانون پر عملدرآمد کا سلسلہ کبھی بھی نہیں رکنا چاہیے اگر احتساب کا تسلسل جاری رہا تو وہ دن دور نہیں ہوگا جب اس ملک سے کرپشن ہی نہیں بلکہ کریمنلز بھی ختم ہوجائیں گے۔
نواز شریف‘ ان کی بیٹی اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ تاریخ میں سیاہ حروف میں لکھا جائے گا، پورے مقدمے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ انہوں نے ایون فیلڈ ریفرنس فیصلے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں ایک ایسی شخصیت کے حوالے سے نیب کی عدالت نے ایسا فیصلہ دیا جس کے بارے میں نیب کورٹ کا کہنا ہے کہ اصل دستاویز موجود نہیں اور چونکہ فوٹو کاپی ہیں اس لیے ہم اس کیس کو خارج کرتے ہیں، اس طرح نیب نے بڑی شخصیت کو بہت بڑا ریلیف دیا۔ شہباز شریف کے فوری ردعمل سے ایسا تاثر ملا کہ جیسے وہ اس فیصلے پر مطمئن ہیں اور انہیں اس کا کوئی زیادہ افسوس نہیں ہے۔ شہباز شریف نے نواز شریف‘ اپنی بھتیجی مریم اور داماد صفدر کی سزا کے حوالے سے کم اور دیگر ایشوز کا اپنے ردعمل میں زیادہ ذکر کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف کو یہ یقین ہو رہا ہے کہ اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ انہیں حاصل ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 25 جولائی کے عام انتخابات کے نتائج سے کس کی قسمت بدلتی ہے۔ خیال ہے کہ اب مسلم لیگ وفاق میں حکومت بنانے میں ناکام بھی ہوئی تو صوبہ پنجاب میں اس کی حکومت ضرور بن جائے گی۔ایسی صورت میں بھی شہباز شریف کی لاٹری کھل جائے گی۔

حصہ