دین مائینس سیاست

36

(دوسرا حصہ)
امور مملکت کے علاوہ بھی بہت سارے مفاہیم لفظ سیاست میں پوشیدہ ہیں جس سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں جس میں سیاست کا عمل دخل نہ ہو اور سیاست پر چلے بغیر ہم زندگی کی راہوں پر ثابت قدمی سے رواں دواں ہو سکیں۔ اس کی دلیل میں ایک عام سا جملہ ہر عام و خاص کے منہ سے سب نے ہی سنا ہوگا “یار کچھ تو سیاست سے کام لے لیا ہوتا” یا “ذرا بھی سیاسی حکمت عملی اختیار کر لی جاتی تو کام آسان ہو جاتا”۔ یہ بات عموماً کسی بھی معاملے میں کسی اختلاف کے بڑھ جانے کے سبب اپنی اپنی ضد یا انا پر اڑجانے کے بعد کہی یا سنی جاتی ہے خواہ ان معاملات کا تعلق کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے ہو۔
غور کیا جائے تویہاں لفظ سیاست “مصلحت” کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اس کی بجائے کہ “یار کچھ تو سیاست سے کام لے لیا ہوتا” یہ کہدیں کہ کچھ تو مصلحت سے کام لے لیا ہوتا تو سیاست کے وہی معنی نکلتے جولفظ مصلحت کے ہیں۔ خود لفظ مصلحت کی اصل “صلح” ہے جس کے عام معنیٰ و مفہوم ہی یہ ہیں کہ کسی بھی تلخی، تنازع، اختلاف،ضد، ہٹ دھرمی، لڑائی یا جھگڑے میں پڑے بغیر مسئلے کے حل تک پہنچنا نیز یہ کہ ذرہ برابربھی فریقین کے دل و دماغ میں اس حل کے خلاف کوئی ایسی بات جو بعد میں بھی کسی الجھن کا سبب بنے، نہ پیدا ہو سکے۔ اگر ایسا ہی ہوگا تو وہ “صلح” کے معنوں میں گنی جائے گی ورنہ کسی وقتی خاموشی جیسی بات قرار پائے گی۔
روز اول سے متمدن معاشروں میں نہ جانے کتنے معاہدات ہوتے رہے ہونگے جن کا سلسلہ تا حال جاری ہے اور جاری رہے گا۔ پھر تاریخ نے دیکھا ہوگا کہ ان میں سے بیشتر معاہدات ٹوٹے بھی اور توڑ بھی دیئے گئے ہوں گے لیکن کچھ ایسے بھی ہونگے جو ایک مرتبہ کر لیے جانے کے بعد پتھر کی لکیر بن گئے ہونگے۔ جو معاہدات ٹوٹے یا توڑدیئے گئے وہ “صلح” حقیقی نہیں بلکہ “مجبوری” کی بنیاد پر استوار ہوئے ہونگے لہٰذا جب کسی مجبور فریق کی مجبوری اس کی طاقت میں تبدیل ہوئی ہوگی اس نے کئے گئے معاہدے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہوگا لیکن جب ان کی بنیاد “صلح” کی اصل روح رہی ہوگی ان کو دوام حاصل ہو گیا ہوگا۔ بس مصلحت اور صلح میں یہی بنیادی فرق ہے کہ مصلحت کے تحت کوئی کام یا معاہدہ حالات کے دھارے بدل جانے پر ٹوٹ جایا کرتا ہے جبکہ “صلح” کے فیصلے اٹل اور پتھر کی لکیر ہوتے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ “سیاست” مصلحت کے قریب تو ضرور ہے لیکن اس کا تعلق صلح سے بالکل بھی نہیں۔
اگر ہم سیاست کے مفاہیم و معانی کے دائرے کو پھیلانے کی بجائے اس کو ان امور کی تک محدود کردیں جن کا تعلق امور حکومت سے ہے تو ہم اس کے خطوط کچھ یوں کشید کر سکتے ہیں۔

سیاست اقتدار کے حصول کی لیے
سیاست حقوق کے حصول کی لیے

سیاست جمہوری اقدار اور روایات کے تحفظ کی لیے

ذاتی مفادات کے تحفظ کی لیے
مذہبی اقدار و روایات کے تحفظ کی لیے

یہ جو چند نکات بیان کئے گئے ہیں ان کے حصول کی لیے کسی بھی قسم کی جدوجہد کرنا سیاست ہے لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ ان تمام باتوں کے حصول کا لارا لپا دینے والے اور قوم کو اپنے پیچھے لگانے والے اپنے لگائے گئے نعروں اور دعوں میں کہیں سے کہیں تک بھی مخلص اور سچے نہیں ہوتے۔ ان کے سارے دعوں اور وعدوں کے پیچھے جھوٹ، مکر، فریب اور دھوکہ دہی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے سیاست جھوٹ، مکر، فریب اور دھوکہ دہی کا دوسرا نام بن کر رہ گئی ہے بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ جھوٹ، مکر، فریب اور دھوکہ دہی ہی سیاست کہلانے لگی ہے تو کہیں سے کہیں تک بے جا نہ ہوگا۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ آج کل کی سیاست پر وہ لوگ چھائے ہوئے ہیں جو دنیوی لحاظ سے بہت مضبوط و توانا ہیں، دولت مند ہیں، جاگیروں کے مالک ہیں، مل اونرز ہیں، ہیلی کوآپٹر اور ہوائی جہازوں کے مالک ہیں یا پھر عسکری قوت رکھتے ہیں اور اپنی طاقت، دولت اور قوت کے سبب سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جن کو عوام کہاجاتا ہے وہ بھی ایسے ہی بڑے بڑے مگرمچھوں کو اپنا “مائی باپ”، پالنہار، نجات دہندہ اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور اگر ان کے مقابلے پر کوئی سرپھرا لیکن لائق، فائق، قابل، اہل، جرات و استقلال کاحامل لیکن غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا کھڑا ہوجائے تو وہ اسی ننگے بھوکے عوام کی نظر میں مکھی اور مچھر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ جن جن مشکلات کو وہ دور کرنے کی لیے لٹیروں، بدقماشوں، بدماشوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، مل آنروں اور صاحب طاقت و قوت والوں کو اپنا ملجا و ماویٰ سمجھ بیٹھتے ہیں وہ ان کے دکھ درد کو کم کرنے کی بجائے مزید اضافے کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ بات بھی نہیں کہ وہ اپنے بڑھتے ہوئے مسائل، تکلیف اور پریشانیوں کا سبب نہ سمجھتے ہوں لیکن وہ تمام ڈاکوؤں اور ان کی بربریت کے خلاف اپنی رائے کا استعمال کرتے ہوئے ڈر اور خوف کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ انھیں اپنے انجام بد کا خیال آجاتا ہے۔
اسلام اس سلسلے میں کیا ہدایت کرتا ہے اس بات کا جائزہ لینا بھی بے حد ضروری ہے۔ سورت البقرہ آیت 247 ، ارشاد باری تعالیٰ ہے” ان کے بنی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے باد شاہ مقرر کیا ہے۔ یہ سن کر وہ بولے، ہم پر با دشاہ بننے کا وہ کیسے حق دار ہوگیا اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ وہ تو کوئی مالدار آدمی نہیں ہے۔ نبی نے جواب دیا اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیت فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ وہ اپنا ملک جس کو چاہے دے اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے”۔
یہاں یہ بات واضح ہو گئی کہ دنیوی لحاظ سے مضبوط اور متوول شخصیات ہی حکمرانی کا حق نہیں رکھتیں بلکہ حکمرانی کا اہل وہی ہے جو علم میں طاق ہو اور جسمانی لحاظ سے معذور نہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ مضبوط اور متوول بھی ہوں اور جسمانی لحاظ سے بھی معذورین میں شمار نہ ہوتے ہوں ان کو حق حکمرانی سے محروم نہیں کیا گیا لیکن اس سوچ کو کہ وہی لوگ حکمرانی کے لائق و اہل ہیں جو مال و دولت اور قدرت و اخیتارات کے حامل ہوں صرف انھیں کو اپنا ملجا و ماویٰ مانا جائے، یہ آیت اس کی نفی کرتی ہے۔
اس سے ایک بات اور واضح ہوتی ہے کہ انسان کسی بھی دور کا ہو، ماضی کا ہو یا حال کا، اس کی سوچ کی وسعت میں ابھی تک کوئی فرق نہیں آیا وہ اسی انداز میں سوچ رہا ہے جس طرح وہ صدیوں قبل سوچا کرتا تھا۔ اسلام دراصل اسی سوچ اور فکر کو ختم کرنے کی لیے آیا ہے اور انسان کو انسانیت سکھانے آیا ہے۔
آئیے، قرآن کی روشنی میں سیاست اور اسلامی ریاست کو سمجھنے کی مزید کوشش کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے “اے برادران قوم اللہ کی بندگی اختیار کرو (کیونکہ) اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں”۔ (الاعراف 65)۔ “اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو”۔ (الشعرا 163 )۔
یہاں جو بات سب سے زیادہ قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ریاست کا مقتدر اعلیٰ انسان نہیں بلکہ اللہ ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ “اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کر” یعنی میں جو کچھ بھی تمہیں حکم دے رہا ہوں وہ میری گڑھی ہوئی باتیں نہیں ہیں یہ سب وحی الٰہی اور احکامات خداوندی ہیں میں تو صرف حق نیابت نبھارہا ہوں جبکہ جتنے بھی فلسفہ ہائے حیات یا ریاست کو چلانے کی لیے دستور، آئین اور قوانین دنیا اور دنیا والوں نے اپنے اور اپنے عوام کی لیے بنائے ہیں اس میں مقتدر اعلیٰ کہیں سے کہیں تک اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں بلکہ یا تو عوام ہی طاقت و قوت کا سر چشمہ ہیں یا پھر سب کچھ ملک کا سر براہ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے “اے پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو داخل کر سچائی کے ساتھ داخل کراور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی جانب سے ایک اقتدار کو میراا مددگار بنادے”۔ (بنی اسرائیل 80)۔ یہ حکم اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد میری اس بات کی تائید کرتا ہے کہ بغیر اقتدار و قدرت اصلاح معاشرہ یا اللہ کے احکامات کا نفوذ ممکن نہیں۔ اب دو ہی صورتیں ایسی ہیں جو اس بات کا سبب بنیں گی جس کی مدد سے اللہ تعالیٰ کے احکامات معاشرے (ریاست) میں نافذ کئے جانا ممکن ہو سکتا ہے، یا تو خود وہ فرد جو مسلمانوں کا رہنما و قائد ہو وہ اقتدار میں آئے یا پھر کوئی صاحب اقتدار اس کا مددگار بن جائے۔ کوئی تیسری شکل، مثلاً محض دعائیں اور وظیفے کام نہیں آئیں گے۔
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے “ہم نے اپنے رسول واضح نشانیاں دے کر بھیجے ہیں اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (عدل) اتاری ہے تاکہ انسان انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے اتارا لوہا (ریاست کی قوت و جبروت) جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کی لیے بہت فوائد ہیں”۔ (الحدید 25)۔ ثابت ہوا کہ قوانین، آئین اور دستور خواہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مطابق معاشرے میں نافذ کئے جائیں یا ان کو انسانوں نے خود بنایا ہو، اگر وہ متوازن نہیں ہوئے یا ان بنائے ہوئے قوانین کے نفاذ کی لیے قوت نافذہ موجود نہیں ہوئی تو پھر معاشرے میں امن و سکون کی توقع رکھنا دیوانے کا خواب یا مجذوب کی بڑ تو کہلائی جا سکتی ہے حقیقت نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب (دستور)، میزان (عدل) اور لوہے (قوت نافذہ) کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے اور یہی وہ تین چیزیں ہیں جو کسی ریاست کی اساس ہیں ورنہ دنیا کے نقشے میں ریاست کا نام تو بے شک موجود ہو سکتا ہے لیکن اس میں ریاست نام کی کوئی شے موجود نہیں ہوسکتی۔
ایک اور مقام پر فرمایا “وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو”۔ (الصف 9)۔ پھر ایک جگہ فرمایا “اور وہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی کافر ہیں”۔ المائدہ 44)۔ یہاں یہ بات طے ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان موجود ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے قوانین کو معاشرے میں نافذ کرنے اور ان کو عوام الناس سے منوانے کے پابند ہیں۔ یہ کام آسان تو نہیں لیکن اس کام کو اپنی تمام زندگی جاری رکھنا بہر حال لازم و ملزوم ہے۔ ہر مسلمان اپنی صلاحیتوں کے مطابق اصلاح معاشرہ کا پابند ہونا چاہیے اور اپنی سی جد و جہد کو جاری و ساری رکھنا چاہیے۔ بے شک یہ ہر اس فرد اور قوم کو برا لگے گا جو کفر کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے لیکن یہ کڑوا گھونٹ تو پینا ہی ہے کیونکہ کہ یہ حکم خداوندی ہے جس کا نفاذ بہر لحاظ ضروری ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے “یہ مسلمان وہ ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں صاحب اقتدار کر دیا تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکیوں کا حکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار اللہ ہی کے ہاتھوں میں ہے”۔ (الحج 41)۔ گویا صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ ہر وہ مسلمان جو صاحب اقتدار ہو جائے۔ اسے کسی ایسے خطہ زمین کی حکمرانی مل جائے جو ہر لحاظ سے آزاد، خود مختار اور خاص طور سے ایسی آبادی والا علاقہ ہو جس میں مسلمان ہی آباد ہوں تو پھر تو اس کو ہر صورت میں صرف اور صرف ا اللہ اور اس کے رسول (ص) کے دین کو ہی نافذ کرنا ہے اور کسی کی مرضی کو چلنے ہی نہیں دینا ہے۔ اس آیت کی روشنی میں پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کوکچھ تو خدا کا خوف کرنا چاہیے کہ وہ خطہ زمین جس کو حاصل ہی اللہ اور اس کے رسول (ص) کے نظام کو نافذ کرنے کی لیے کیا گیا تھا وہاں کس بیدردی کے ساتھ اسلام کے احکامات کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور یہاں کے حکمران اللہ کے حکم کی کس کس طرح دھجیاں بکھیر رہے ہیں اور اس گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کی کوئی پکڑ ہی نہیں ہوگی۔ صاف صاف کہا جا رہا ہے کہ “یہ وہ مسلمان ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں صاحب اقتدار کردیا تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکیوں کا حکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار اللہ ہی کے ہاتھوں میں ہے”، اس کے باوجود گزشتہ 70 برس سے مسلسل اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں اور پھر بھی یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ان کی کوئی گرفت ہی نہیں ہوگی۔ اس آیت کی روشنی میں 57 سے زیادہ اسلامی ریاستوں کا بھی وہی فرض بنتا ہے جس کا پابند پاکستان کے حکمرانوں کو لازماً ہونا تھا۔ کیا ان ریاستوں میں اقتدار مسلمانوں کے پاس نہیں ہے؟۔ اگر غور کریں تو یہ ساری مسلمان ریاستیں جس میں پاکستان سر فہرست ہے، نام کی مسلمان ریاستیں ہیں۔ حقیقتاً یہ ساری ریاستیں کفر پر قائم ہیں اور عملاً ان کے مسلمان حکمران “کافر” ہی ہیں کیونکہ مسلمان وہ نہیں ہوتا جس کا نام مسلمانوں جیسا ہو، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی ساری زندگی اللہ کے احکامات کی پابند ہو۔
(جاری ہے)

حصہ