جنت کی کنجی

43

سید حذیفہ احمد
اسد نے انگڑائی لی اور گھڑی کی جانب دیکھا۔
’’اوہو… رات کے بارہ بج گئے۔‘‘
اس سے قبل کے امی جان دوبارہ آخر ڈانٹتیں اسد ٹی، وی بند کرکے سونے کے لیے اٹھ گیا۔
’’اسد عشاہ کی نماز پڑھ لینا۔ امی پانی پینے جا رہی تھیں اسد پر نگاہ پڑھتے ہی امی جان نے کہا جواباً اسد برے برے منہ بناتا اپنے کمرے میں آگیا۔
’’اوہو… ہر وقت نماز… نماز!‘‘ وہ بڑبڑاتے ہوئے بستر پر لیٹ گیا جلد ہی وہ خواب نگر میں پہنچ گیا۔
’’وہ سر سبز درختوں سے ڈھکا خوبصورت سا راستہ تھا۔ سفید، گلابی، لال ہر قسم اور ہر طرح کے پھولوں کے درخت سروں کو جھکائے کھڑے تھے اس راستے سے بہت سارے بچے گزر رہے تھے ان بچوں پر درختوں سے پھول جھڑ رہے تھے۔ اسد نے وہاں سے گزرنے کی کوشش کی تو سارے پھول مرجھا گئے اور ایک بدبو نے فضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
’’اے بچے تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘ اچانک ہی ایک درخت کی کرخت آواز سنائی دی۔ اسد نے ڈر کر اسے دیکھا۔
’’یہ جگہ اچھے بچوں کی ہے جو نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ بس وہی بچے یہاں سے گزر سکتے ہیں‘‘۔
’’میں بھی یہاں سے گزروں گا۔‘‘ درخت کی باتوں نے اسد کو مشتعل کر دیا۔ ’’ پھر نماز۔‘‘
وہ بھاگتا ہوا سیدھا سرخ سرخ پھولوں سے بنے دروازے پر پہنچا۔ درخت بابا کافی غصے سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اسد نے وہ دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو بے شمار کانٹوں نے اس کے ہاتھوں کو زخمی کردیا۔
’’آپ کے پاس جنت کی کنجی نہیں ہے۔ آپ اس کے حقدار نہیں ہیں۔‘‘ ایک بی فاختہ اڑتے ہوئے وہاں آگئی۔ اچانک ہی تین لمبی بیلیں تیزی سے اسد کی جانب بڑھیں۔ انہوں نے اسد کو مضبوطی سے پکڑ کر اس جگہ سے نکال دیا۔
’’یاد رکھو نماز جنت کی کنی ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ جنت میں داخل ہو سکو تو نماز پڑھو، والدین کی فرمانبرداری کرو، درخت بابا اسد سے کہہ رہے تھے۔ اسی دوران اسد کی آنکھ کھل گئی۔
’’اف اللہ۔‘‘ وہ جلدی جلدی بستر سے نیچے اترا اور وضو کرنے غسل خانے کی طرف بھاگا۔ اسے بھی جنت کو دیکھنے کا شوق اب بے چین کر رہا تھا۔

حصہ