جب وقت انتخاب آیا

37

سید اقبال چشتی
انتخابات میں تین ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کچھ پرانے اور کچھ نئے طریقے اختیار کر رہی ہیں تا کہ عوام کی اکثریت کو اپنا حامی اور ووٹر بنایا جائے مگر ووٹر اس الیکشن میں کسی کو گھانس ڈالنے کو تیار نہیں یہ الیکشن کسی حد تک اس بات کی نشا ندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان کے ووٹر جو اپنی پسندیدہ پارٹی کو ووٹ دیتے تھے وہ بھی سوچ بچار کر رہے ہیں کہ اس دفعہ کس کے حق میں اپنا حق راہی دہی استعمال کریں کیو نکہ روز بروز ایسے واقعات رو نما ہو رہے ہیں جس سے عوام اپنا ذہن تبدیل کر رہی ہے جیسے تحریک انصاف کے چیئر مین نے جب پاکپتن کے مزار پر سجدہ کیا تو ان کے راسخ العقیدہ ووٹرز نے عمران خان کے اس عمل کو سخت نا پسند کیا اور اس عمل کو یہی کہا گیا کہ عمران نے یہ سجدہ ووٹ لینے کے لیے کیا لیکن یہ تو آنے والا وقت بتا ئے گا کہ کس کا عمل ووٹ کے لیے تھا اور کون عوام کو بیوقوف بنا کر اقتدار کی سیڑھی چڑھنے کا خواہش مند ہے۔
انسان کا میابی کے لیے کیا کیا جتن کرتا ہے اس کا مشاہدہ ہم روز مرہ کی زند گی میں دیکھتے ہی ہیں لیکن جب وقت انتخاب آتا ہے تو سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور امیدواران اسمبلی جن کے پاس اقتدار کے دنوں میں عوام کے لیے وقت نہیں ہو تا عوام کے ہمدرد بن کر عوام کی ہمدر دریاں سمیٹنے کے لیے جگہ جگہ اپنی کامیابی کے لیے عوامی دورے کرتے ہیں جوکہ الیکشن مہم ہو تی ہے مگر جو پانچ سال تک عوام کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دینے والے حکمران اور سابقہ ممبران اسمبلی جب اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں جا رہے ہیں تو ان سابقہ حکمرانوں کا عوام سوال کے ذریعے اور کہیں غم اور غصہ کا اظہار کر کے اپنی محرو میوں کا حساب ما نگ رہے ہیںکہ تم نے تمام وسائل اور اختیارات رکھنے کے باوجود ہمارے لیے کیا کیا ملک کے کو نے کونے سے خبریں آرہی ہیں کہ فلاں مقام پر سابقہ ممبر اسمبلی کو عوام نے گھیر لیا اور فلاں حلقہ کے عوام نے اپنے سابقہ ممبر اسمبلی کا انڈے مار کر استقبال کیا کسی کو مخالف نعروں کا سامنا کرنا پڑا تو کسی کے قا فلے کو عوام نے پتھر مار کر یہ ثابت کیا کہ اب ہم مزید بیوقوف نہیں بن سکتے الیکشن احتساب کا بہترین موقع ہوتا ہے اور عوام جس کے پاس ووٹ کی طاقت ہے اور اس الیکشن میں عوام اپنی اس ووٹ کی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کر رہے ہیں مختلف پارٹیوں کے قائدین کے ساتھ عوام کا رویہ اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ اس دفعہ کسی بھی پارٹی یا فر د اور ایلکٹبلز کے لیے جیت آسان نہیں ہو گی اس بات کا اندازہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری کی اپنے حلقہ انتخاب لیاری میں جو پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے انتخابی مہم کے سلسلے میں آمد پر لیاری کی بھوک پیاس کے مارے‘ بے روزگاری سے عاجز بد امنی اور قتل و غارت گری سے تنگ بجلی پانی سے محروم عوام نے جس طرح کا سلوک پارٹی قائد کے ساتھ کیا یہ شیش محل میں پہلا پتھر مارنے کے مترادف ہے اور لیاری کے عوام ہی نہیں پورے پاکستان کی عوام نے سیاسی قیادت کے سامنے جس طرح کھڑے ہو کر سوال کیا ہے اور احتساب کیا ہے اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ اب کسی پارٹی کا کو ئی بھی علاقہ گڑھ نہیں ہے عوام کے تیور بتا رہے ہیں کہ اب عوام کسی کے زر خرید غلام نہیں ہے پانچ سال عوام کو نہ پو چھو اور وقت انتخاب پر ہم آپ کے خادم کہہ کر آجائو اب ایسا نہیں چلے گا عوام اپنی محرومیوں کا جواب حکمرانوں کی شکست سے لینے کے موڈ میں ہیں یہی وہ خوش آئند بات ہے جو عوام کے شعور آجانے اور جاگ جانے کی علامت ہے اس احتجاج اور شعور کو سیاست دان شر پسندی کا رنگ دے کر پاکستانی قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کریں گے مگر اب عوام نے بھی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا فن سیکھ لیا ہے اگر عوام کو سچ بو لنے اور اپنا حق رائے دہی آزادنہ استعمال کرنے کی اجازت ہو گی تو یقینا کرپٹ قیادت کا خاتمہ بہت جلد ہو جائے گا
کراچی میں تیس پینتیس سال سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حکمرانی رہی ہے لیاری نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پیپلز پارٹی کو پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اسی طرح 1988میں مہاجروں نے ایم کیو ایم کو اپنے نوٹ، ووٹ اور خون سے سیاسی قوت فراہم کر کے ملک کی تیسری بڑی سیاسی پارٹی بنانے میں اہم حصہ ڈالا تھا لیکن بد قسمتی سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے اپنے اپنے مضبوط گڑھ کے باسیوں کی فریاد پر کان نہیں دھرا جس کے باعث دونوں پارٹیوں سے کراچی کے لوگ مایوس ہو نا شروع ہو گئے کیو نکہ ان دونوں پارٹیوں نے کراچی کو گندگی ، اُبلتے گٹر، کچرے کے ڈھیر ، بد امنی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ پانی بجلی سے بھی محروم کردیا اس لیے اب ان دونوں پارٹیوں کے چاہنے والوں کے ہاتھوں میں پتھر اور منہ میں سوال پو چھنے والی زبان آگئی ہے اور عوام کی یہ بغاوت یہ پیغام دے رہی ہے کہ چہرے نہیں نظام کو بدلو
تسلسل کے ساتھ جمہوری نظام چلنے سے سیاسی پارٹیوں کو ہر پانچ سال بعدالیکشن کی صورت میں عوام کے پاس جانا ہو تا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب عوام اپنے نمائندوں کا احتساب کرتے ہیں کہ اس فرد یا اس پارٹی نے ملک اور قوم کے لیے کیا کیااگر عوامی مسائل حل ہوئے ہیں تو عوام شاندار استقبال کرتے ہیں لیکن اس کے بر عکس نتیجہ ہو تو گندے انڈے اور پتھروں سے ہی استقبال ہو گا جمہوری تسلسل اگر اسی طرح برقرار رہے تو کرپٹ عناصر اور کرپٹ پارٹیوں کا پا کستانی سیاست سے ایک دو الیکشن میں صفایا ہو جائے اور کرپشن سے پاک قیادت ایک دن عوام اپنے ملک کے لیے چن لے‘ کھرا اور کھوٹا آج بھی الگ ہے مگر بیورو کریسی کو عوام کا شعور میں آنا خطرے کی علامت لگتا ہے اس کے علاوہ حکومتوں پر شب خون مار کر مارشل لاء لگانے والے بھی کرپٹ سیاسی قیادت اور پارٹیوں کی کرپشن پر پردہ ڈالتے رہے ہیں جس سے ان پارٹیوں کو مظلومیت کا لبادہ اُوڑھ کر معصوم بننے کا موقع ملتا رہا لیکن جمہوری تسلسل نے اس الیکشن میں کرپٹ پارٹیوں اور ان کے نمائندوں کو عوام نے اپنے تیور دکھا کر آئینہ دکھا دیا ہے اس لیے کہا جا رہا ہے کہ شفاف انتخابات ضروری ہیں ورنہ خونی انقلاب کا راستہ کھل سکتا ہے اسی لیے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی پسند کی پارلیمنٹ لانے کی خواہاں ہے اس حوالے سے سابقہ حکمران الزامات بھی لگا رہے ہیں کہ ہمیں عوام سے رابطہ نہیں کر نے دیا جارہا ہمارے نمائندوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور کسی کے لیے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔
یہ بات کسی حد تک درست ہوکیونکہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق بنا یا ہے اور الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کسی پارٹی کی سیاسی سرگر میوں میں حصہ نہیں لے سکتے لیکن یہ سب بیانات اور کاغذی کارروائی کی حد تک ہی ہوتا ہے عملاً اس ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں ہوتاگائوں دیہات میں الیکشن کمیشن اور پولنگ کا عملہ بے بس اور لاچار ہوتا ہے جہاں نہ کو ئی ضابطہ اخلاق ہوتا ہے اور نہ ہی کو ئی قانون یہ تو دیہات میں ہو تا ہے مگر جو حال شہروں میں الیکشن سے قبل اور پولنگ والے دن الیکشن کمیشن کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے صرف یہ کہہ دینا کہ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا اور عملاًاس کے بر عکس ہونا الیکشن کمیشن کے لیے امتحان ہے جس طرح کراچی میں ٹھپہ مافیا سرگرم ہو کر عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالتی رہی ہے اور جس طرح سرکاری ملازمین اور پریزائیڈنگ افسران پارٹیوں کے دفاتر میں جاکر حاضری لگاتے رہے ہیں اس دفعہ بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ وہ لوگ جو عوامی شعور کی بیداری سے خوف کھائے ہو ئے ہیں وہی پرانا طریقہ کار کے مطابق اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اگر دھاندلی اور ٹھپہ مافیا کو قانون کی نگرانی میں اجازت ہو ئی تو سراج الحق کی بات صحیح ثابت ہوگی کہ شفاف انتخابات میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ خونی انقلاب کا راستہ ہموار کرسکتی ہے اس لیے نگراں حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کو غیر جانبدار رہ کر شفاف انتخابات کرانے کے لیے اپنا کرادار ادا کرے تاکہ عوام اپنے نمائندے اپنی مرضی اور آزادی کے ساتھ منتخب کرسکے کیونکہ اس انتخابات سے پا کستان کا مستقبل وابستہ ہے۔

حصہ