بات تو سنو

23

زاہد عباس
پیپلز پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے لیاری میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کے قافلے پر مشتعل افراد نے پتھراؤ کردیا، جبکہ قافلے میں شامل متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔
خبر کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں جب لیاری پہنچے تو مشتعل افراد اُن کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر اٹھا رکھے تھے۔ اس دوران پیپلز پارٹی کا جھنڈا بھی نذرِ آتش کیا گیا۔ مشتعل افراد کو روکنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا، تاہم مظاہرین قابو سے باہر رہے۔ لوگ بلاول زرداری کے واپس جانے کے باوجود بھی احتجاج کرتے رہے۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا گڑھ ہونے کے باوجود لیاری کے عوام بوند بوند پانی کو ترستے ہیں۔ لوگوں نے شدید گرمی میں پانی کی عدم فراہمی پر خالی بوتلیں لہراکر، جبکہ خواتین کی بڑی تعداد نے ہاتھوں میں خالی مٹکے اٹھاکر ’’پانی دو، پانی دو‘‘… اور ’’گو بلاول گو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔
انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی جہاں ایک طرف سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے، وہیں دوسری طرف مسائل میں گھرے عوام نے بھی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر سیاست دانوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے خلاف عوامی احتجاج کوئی نئی بات نہیں، بنوں میں عمران خان، کراچی میں ڈاکٹر فاروق ستار، اندرون سندھ خورشید شاہ، نثار کھوڑو اور مراد علی شاہ، کے پی کے میں پرویز خٹک، جنوبی پنجاب میں سکندر بوسن اور مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے الیکٹیبلز کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے جمال خان لغاری، طلال چودھری، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت متعدد رہنماؤں کو بھی اسی طرح کے عوامی غم وغصے کا سامنا کرنا پڑا، جسں کے ردعمل میں ملک بھر کی تمام ہی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مزاحمتی بیانات جاری کیے جانے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔
بے شک کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور نہ ہی کسی ایسے عمل کی حمایت کی جاسکتی ہے جس سے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو، یا کسی کی املاک سمیت انسانی جان کو کوئی خطرہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کہیں پُرتشدد واقعات رونما ہوئے تو ہر پاکستانی نے ایسے تمام اقدامات کی ہمیشہ ہی بھرپور حوصلہ شکنی کی۔ میری رائے میں تمام ہی سیاسی جماعتوں کو پُرامن ماحول میں بنا کسی خوف و خطر کارکردگی کی بنیاد پر اپنے اپنے منشور کی تشہیر کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے۔
لیکن بقول واجا کریم، یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے، جبکہ تصویر کا دوسرا رخ اس کے برعکس ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ عوام کی جانب سے کیے جانے والے جائز احتجاجوں کو کیوں متنازع بنایا جارہا ہے؟ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کل تک زندہ باد زندہ بادکہنے والے، آج مُردہ باد اور گوگو جیسے نعروں کا انتخاب کرنے پر کیوں مجبور ہوئے! ذرا سی توجہ دینے سے یہ بات بھی صاف ہوجائے گی کہ کل تک جو سیاسی قائدین ایک دوسرے کے خلاف صف آراء تھے، یہاں تک کہ سیاست کے نام پر ذاتی لڑائیاں لڑا کرتے تھے، کس طرح ایک دوسرے کے حق میں بیانات دینے لگے ہیں۔ یعنی ایک سیاست دان دوسرے کی حمایت کرتا دکھائی دینے لگا ہے۔ یوں ان کے درمیان ہونے والا اتحاد احتجاج کرتے عوام کے خلاف ہی ہوا۔ یہاں بھی کسی جماعت نے مسائل میں گھرے پریشان حال عوام کی حمایت میں ایک لفظ تک کہنے کی زحمت نہ کی۔ بقول شاعر ؎

یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں
کہ اقتدار رہے ان کے جانشینوں میں

میں یہ بات مانتا ہوں کہ چند سیاسی جماعتیں ضرور ایسی ہیں جو نہ صرف عوامی مسائل پر آواز اٹھاتی رہیں بلکہ عملی طور پر عوام کے ساتھ کھڑی بھی رہیں،جس کی بہترین مثال جماعت اسلامی ہے، جس نے اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود نادرا،اور کے الیکٹرک جیسے بگڑے ہوئے اداروں کا قبلہ درست کروانے کے لیے اپنے شب وروز ایک کر ڈالے، اسی طرح شہر میں پانی کی کمی اور ٹینکر مافیا کی من مانیوں کے خلاف پوری قوت سے میدانِ عمل میں اتری۔ جماعت اسلامی کی جانب سے کیے جانے والے کام اپنی جگہ، لیکن عوام سوال یہاں اُن سیاسی جماعتوں اور اشرافیہ سے کررہے ہیں جو دہائیوں سے برسراقتدار ہیں اور دو گھڑی ٹھیر کر عوام کی فریاد تک سننے کو تیار نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ عوام انڈے اور ٹماٹر مار رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ برسوں سے اقتدار کے مزے لوٹنے والے آج بھی سینکڑوں گاڑیوں کے قافلوں کی قیادت کرتے ہوئے بجائے سننے کے، اپنی ہی سنانے کو ترجیح دیتے ہوئے گزرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ جہاں سے بھی گزرتے ہیں وہاں کرفیو کا سماں ہوتا ہے۔ ہر طرف سوائے پولیس کی نفری اور سرکاری پروٹوکول کے کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے گزرتے ہوئے قافلوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف ہم جیسے غریب عوام ہیں تو دوسری طرف حکمران طبقہ… ایک طرف فقروفاقہ، سسکتے بلکتے عوام جن کے پاس کھانے کو دو وقت کی روٹی نہیں، تو دوسری طرف ان وڈیروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے محلوں کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈ مختص کردیے جاتے ہیں۔ ایک طرف مرگِ انبوہ ہے تو دوسری طرف جشن کا سماں۔ ان کی بنائی ہوئی پالیسیوں کی بدولت لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ غریب نہ صرف اپنے بچے فروخت کررہے ہیں بلکہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنے گردے تک بیچ رہے ہیں۔ انہی کی وجہ سے ملک گمبھیر مسائل کے بھنور میں پھنستا جارہا ہے۔ خوش حالی اور ترقی تو کجا… عوام صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ اس صورتِ حال میں اگر عوام اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کریں تو اس عمل کو پُرتشدد احتجاج کا نام دے کر غریبوں کی ہی زبان بندی کی جاتی ہے۔ عوام تو صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل جن میں امن وامان کی خراب صورتِ حال، رشوت، سودی نظام، قتل وغارت گری، دہشت گردی، انتہا پسندی، ملاوٹ اور کرپشن، چور بازاری، ظلم وناانصافی، تھانہ کلچر شامل ہیں، پر کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ عوام نے سوچ لیا ہے کہ جب تک جواب نہیں ملتا ہم سارے مظلوموں کو یہی کہتے ہوئے باہر نکالیں گے ؎

یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیے
کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں

ظاہر ہے جب کوئی سننے کو تیار نہ ہو تو عوام کی جانب سے ’سب اچھا ہے‘ کا راگ سننے کی توقع رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اب صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اب عوامی امنگوں کے مطابق ہی ملک کو چلانا ہوگا۔ پاکستان کو صحیح معنوں میں ایسی اسلامی ریاست میں تبدیل کرنا ہوگا جہاں ایک شخص کھڑا ہوکر خلیفۂ وقت سے یہ سوال کرسکے کہ آپ کے پاس پورے جوڑے کا کپڑا کہاں سے آیا؟ جہاں خلیفۂ وقت کو بیت المال سے ایک چمچ شہد لینے کے لیے عوام سے اجازت لینی پڑے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران یورپ کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے، حالانکہ ہمارے حکمران تو اُن عمرؓ بن خطاب کے نام لیوا ہیں جن کے پاس بسا اوقات دو کپڑے نہیں ہوتے تھے… لیکن عوام خوش تھے، حالات سے مطمئن تھے۔ ایک مرتبہ نماز میں دیر ہوگئی، آپؓ نے پیغام بھجوایا میرے پاس اس وقت ایک ہی جوڑا ہے اور وہ سوکھ رہا ہے، کچھ دیر میں خشک ہوجائے پھر آکر امامت کروں گا۔ آپؓ راتوں کو بھیس بدل کر گلیوں کا گشت کیا کرتے تھے تاکہ عوام کی اصل صورتِ حال کا اندازہ کیا جاسکے۔ آپؓ نے فرمایا: اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی جانور بھی بھوک سے مر جائے تو قیامت کے روز عمر سے پوچھ ہوگی۔ اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ایک روز دورانِ نماز زارو قطار رو رہے تھے۔ جب نماز پڑھ چکے تو آپ کی اہلیہ نے پوچھا: کیوں رو رہے تھے؟ فرمایا: میں نے خلافت قبول کرکے اپنے اوپر بوجھ لاد لیا ہے، اب میری ذمے داری ہے کہ میں اتنے بڑے علاقے کے غریبوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کی تمام ضرورتیں پوری کروں، یہ اتنے بڑے بوجھ کا خیال ہی مجھے ہر وقت رلاتا ہے۔
ایک طرف یہ صورتِ حال ہے، تو دوسری طرف قربان جاؤں اپنے لیڈران پر، جو الیکشن جیتنے کے لیے اپنی جیب سے کروڑوں روپے محض اس لیے لگا دیتے ہیں تاکہ عوام کی خدمت کرسکیں۔ ان کے اس جذبے کو سلیوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے، جس کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی۔
سنو! پاکستان بدل رہا ہے، لوگوں میں سیاسی شعور آتا جارہا ہے، عوام بیدار ہوچکے ہیں۔ اب حکمرانوں کو جواب دینا ہوگا، بصورتِ دیگر عوامی احتجاج کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا۔

حصہ