الیکشن 2018ء، انتخابی ہلچل اور سماجی میڈیا

24

الیکشن اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اخبار ہوں، رسائل، ہینڈ بل، پوسٹر پھر آگے بڑھ کر سینما، ریڈیو، ٹی وی اور اب تو ہتھیلی پر موجود موبائل انٹرنیٹ کی بدولت سوشل میڈیا سب پر بھاری بن چکا ہے ۔عالمی منظر نامے پر تو فٹ بال شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد ، فٹ بال ورلڈ کپ کو ہی موضوع بنائے ہوئے ہیں ۔ اسی دوران سعودی عرب میں سینما، کیسینو کے بعد خواتین ٹیکسی کی لانچ بھی موضوع بنی ۔اس دوران یونیسیف نے آگہی کے نام پر NoChuttiکا ہیش ٹیگ ٹرینڈ لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی لیکن ،زیادہ دیر پذیرائی نہیں پا سکا لوگو ںکا خیال تھا کہ اس طرح کی آگہی مہمات سماجی میڈیا پر چلانے کی نہیں کیونکہ جہاں اور جن کو آگہی کی ضرورت ہے وہ تو شایدسماجی میڈیا استعمال ہی نہیں کرتے،دوسرایہ بھی کہ ہمارے دین نے اس حوالے سے واضح آگہی پر مبنی تعلیمات دی ہیں ۔پاکستان میںان دنوں الیکشن گہما گہمی ہے خصوصاً الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کے تناظر میںسوشل میڈیا پر غیر معمولی ہلچل ہے ۔ویسے تمام اُمیدواران اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس ضابطہ اخلاق پر عمل اور منظوری کے دستخط بھی کیے جا چکے ہیں ۔اس لیے اب چیخنے چلانے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ بھی نظر نہیں آ رہا ماسوائے اس کے کہ دماغ کا استعمال کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کو توڑے بغیر نئی ابلاغی راہیں نکالی جائیں۔ ویسے ایک سینئر سیاسی رہنما سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ ایسا ضابطہ اخلاق ہمیشہ بنتا ہے مگر اس پر کوئی خاص قسم کا چیک نہیں لیا جاتا اس لیے سب دستخط بھی کر دیتے ہیں اور ضابطہ اخلاق کو توڑتے بھی خوشی خوشی ہیں ۔اس بار الیکشن کمیشن نے کچھ زیادہ ہی ’نٹ کس دئیے‘اور سب کی چیخیں نکل گئیں۔پینا فلیکس ایک خوبصورت اور اچھا میڈیم ہے عوامی تشہیر کے لیے جس کے ہر قسم کے استعمال پر مکمل پابندی نے شہر کو جہاں صاف ستھرا کر دیاوہاں اس بات کا احساس بھی چھین لیا کہ ملک میں انتخابات ہو رہے ہیں ۔ بڑے شہرو ں کے در و دیوار ، اوور ہیڈ برج ، پول و دیگر نمایاں مقامات پرجو پارٹی خلاف ضابطہ کوئی تشہیری چیز لگاتی ہے اگلے دن سب غائب ہو جاتا ہے ۔ بات یہاں تک نہیں بلکہ مقامی ڈپٹی کمشنر حضرات نے پرنٹرز کو بھی سخت قانونی کارروائی اور جرمانہ کے حوالے سے متنبہ کر دیا ہے ۔ایسی صورتحال میں بہر حال چونکہ فوری متبادل کے طورپر سب کیلیے سوشل میڈیا آسان، تسلی بخش اور سستا ذریعہ محسوس ہوتا ہے اس لیے سب نے سوشل میڈیا پر الیکشن کی مہم ، الیکشن ( فیس بک پولنگ)سمیت کارروائیاں ڈالنی شروع کر دی ہیں۔اُمیدواران کے اپنے اپنے پیجز بنائے گئے ، ویب سائٹ ، ویڈیو میسیجز اور تصاویر، گرافکس پوسٹیں ، الیکشن مہم کی سرگرمیاں ، گانے ،ترانے سب کا سیلاب سوشل میڈیا پر امڈ آیا۔
ایسی صورتحال میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ گجرانوالہ سے تحریک انصاف کے ایک امیدوار نے اپنے الیکشن پوسٹر پر موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کی تصاویر چھاپ دیں ۔اس پر چیف جسٹس نے مقامی کمشنر کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ۔خبر ، تصویر اس بہانے خوب وائرل ہوئی ۔الیکشن سے کچھ قبل سے تحریک انصاف کی جانب سے میڈیامیں چھائے رہنے کی پالیسی بدستور قائم رہی۔الیکشن ٹکٹوں کی تقسیم پر احتجاج کرنے کے لیے ریحام خان کی کتاب کا معاملہ ہو،بنی گالہ میں تحریک انصاف کے کارکنان کا کئی روزہ دھرنا ہویا شاہ محمود قریشی اور جہانگیر صدیقی کے درمیان محاذ آرائی پر مبنی مصالحہ دار خبریں یاپھر عمران خان کا اپنی موجودہ اہلیہ کے ہمراہ اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری کا موضوع۔اس میں خان صاحب کے مزارپر کیے گئے ’علامتی سجدے‘ نے سوشل میڈیا پر جو طوفان برپا کیا اُس کی گونج اس ہفتے بھی جاری رہی ،کیونکہ ایک اور ویڈیو اس کے بعد جاری ہوئی جس کے مطابق عمران خان کی حالیہ بیوی کے سابق شوہر خاور مانیکا مزار جاتے ہوئے راستے بھر عمران خان صاحب کی گاڑی کے گزرنے سے پہلے ہر تین قدم کے ب عد زمین پر حالت سجدہ شکل میں نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو کے فیک ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ، بری طرح یہ بھی وائرل ہوئی جس طرح عمران خان صاحب کی پہلی ویڈیو جس کے بعد انہوں نے ٹی وی پروگرام میں وضاحت کی کہ وہ چوکھٹ چوم رہے تھے ، جس کے بعد اور خان صاحب کے بیانیے کی نفی کرتی ہوئی ایک ، بلکہ مختلف اینگل والی کئی اور ویڈیو لیک ہوئیں ۔اُسی میں مانیکا صاحب والی بھی شامل تھی۔اسکے ساتھ ہی دلائل و دفاع کی ، طنز و مزاح سے بھرپور نئے کریٹیو جملوں اور پوسٹوں کی بہار ہر سو پھیل گئی ۔علماء کرام کے مختلف بیانیے بھی وائرل ہوئے ۔ان سب بیانیوں میں ایک بات یہ ضرور سامنے آئی کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنے کی کسی طور کسی فرقہ، مسلک یا مکتب فکر میں اجازت نہیں البتہ چومنے ، تعظیم اور ادب کے مختلف درجات ضرور ہیں ۔اسی طرح بلاول بھٹو نے جب اپنی کراچی میں انتخابی حلقہ ،لیاری NA-246میں قدم رکھے تو شدید عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ۔کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ پیپلز پارٹی کے گڑھ میں ایسا رد عمل ، اتنا شدید رد عمل ہوگا۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جوکلاس ہوئی ہو گی بندکمروںمیں وہ اپنی جگہ لیکن اس واقعہ نے پورے لیاری ،پاکستان میں یہ پیغام دیا کہ عوام میں سیاسی پختگی آئی ہے ۔اُنہیں احساس ہوا ہے کہ الیکشن کے بعد جیتنے والے کو ہمارے مسائل حل کروانے ہوتے ہیں ، جس کے پیسے وہ خود ٹیکسوں کی صورت بھرتے ہیں۔اب لیاری طویل عرصے سے پیپلزپارٹی کا گڑھ رہا ہے ، مگر وہاں کی حالت زار اتنی خراب ہے کہ کیا کہیں ؟ پانی، بجلی ، سڑکیں، گینگ وار کی بد امنی پر مبنی دھاک ایسی بیٹھی ہے کہ آج بھی کسی اوبر، کریم والے کو کہیں بھائی لیاری جانا ہے ، بہار کالونی ، چاکیواڑہ، جا نا ہے تو ہاتھ جوڑ کر کہتا ہے معاف کرو۔ایسے میں بلاول کو پھول پہنانا کہاںکی عقلمندی ہوتی۔بہر حال عوام نے بھرپور غصہ نکالا، کوریج بھی خوبہ ہوئی مگر اسکے باوجود ٹوئٹر پر بدستور عمران خان اور بلاول بھٹو نے پتھر، گالیاں کھانے کے باوجود ٹرینڈ لسٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھی۔ویسے ڈنڈے ، گالیاں کھانے میں عمران خان بھی پیچھے نہیں رہے ، حالیہ کراچی کے دورے کے موقع پر اُن کو بھی ایک سنگین ری ایکشن سے گزرنا پڑا ۔ایک دوست لکھتے ہیں کہ ’’عمران خان جھوٹ بولتاہے توآپ دفاع کرتے ہو۔
جب بدعت کرتاہے توآپ دفاع کرتے ہو۔ جب سجدہ کرتاہے توآپ دفاع کرتے ہو۔جب زناکرتاہے توآپ دفاع کرتے ہو۔جب کسی کو غیر اخلاقی میسج بھیجتاہے توبھی آپ دفاع کرتے ہو۔جب روز روزبیوقوفانہ حرکت یابات کرتاہے توبھی آپ دفاع کرتے ہو۔بتاؤذہنی غلام کون ہیں؟ــ‘‘
دوسری جانب لاہور میں ہونے والی ریکارڈبارش اس ہفتہ حکومت پنجاب کے نمائشی کاموں کی ’قلعی ‘کھولتی نظر آئی۔کہا گیا کہ گذشتہ 80سال کی تاریخ میں صرف دس گھنٹوں میں لاہور میں ایسی بارش کبھی نہیں ہوئی۔لاہور کے جناح ہسپتال کا جو حال ہوا اُس کی تصاویر، پوسٹیں وقفے وقفے سے وائرل ہوتی رہیں۔ اتفاق سے کچھ دن قبل ہی شہباز شریف ، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے کراچی میں اپنی انتخابی مہم کے دوران کراچی کو لاہور جیسا بنانے کی بات کی تھی ۔لاہور کی حالت دیکھنے کے بعد لوگوںنے ، مسلم لیگ ن کی سابقہ کار کردگی پر خوب پھبتیاں کسی۔ایسے میں ثاقب راجہ نے برطانیہ میں 2016میں ہونے والی 100ملی میٹر بارش کی ویڈیو شیئر کراتے ہوئے دکھایا کہ دنیا کے بہترین سسٹم کے باوجود وہاں بھی پانی نے نکلنے میں 3 دن لیے ، ایسے میں لوگ حکومت کو گالیاں نہیں بلکہ ساتھ مل کر امدادی کام کروا رہے تھے۔مگریہاں سوشل میڈیا پر توپی ٹی آئی اور ن لیگ مخالفین نے دل کھول کر بھڑاس نکالی، شہباز میں شگاف جیسے ہیش ٹیگ لائے گئے۔حمزہ عباسی کہتے نظرا ٓئے کہ ’’ عین الیکشن سے قبل لاہور میں بارش اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے ۔‘‘ ویسے ایک اور اہم بات بتاتے چلیں کہ اس دوران پشاور میں بھی بارش ہوئی تھی ، مگر اس کو موضوع نہیں بنایا گیا ، جبکہ وہاں بھی پانی کی صورتحال ایسی ہی تھی۔اسے خراب قسمت کہیں یا زیادہ نقصان یا مخصوص ایجنڈا کہ نہ الیکٹرانک میڈیا میں بیلنس کیا گیا اس صورتحال کو نہ ہی سوشل میڈیا پر مکمل انصاف ہو سکا ۔ شاید تحریک انصاف کے مخالفین سوشل میڈیا سے زیادہ امدادی کاموں میں مصروف ہونگے۔
اس کے بعد چونکہ کراچی میں بارشوں کی پیشین گوئی کی گئی ہے لہٰذا کراچی میں تھوڑی بہت ہلچل ضرور ہوئی ہے ، لیکن چونکہ نگراں حکومت کا دورہے اس لیے کوئی واضح بات نہیں کی جا سکتی کہ وہ کتنا کام کروا سکے گی ، البتہ جسطرح ڈالر اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیںہیں اُس میں اگر نگراں حکومت نے بارشوں میں بھی اہل کراچی کو یونہی مرنے ڈوبنے چھوڑ دیا تو پھر اللہ ہی حساب لے گا۔اسی کے ساتھ الیکشن کے دنوں میں ن لیگ کو ایک اور دھچکا لگا جب ختم نبوت والے معاملے پر عدالتی فیصلہ سامنے آیا اور سابقہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی ایک وزیر انوشہ رحمٰن اور زاہد حامد جبکہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے شفقت محمود کوبھی ذمہ دار قرار دیا گیا ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلے میں یہ بات بھی کہی گئی کہ یہ باقاعدہ منصوبہ بند کوشش تھی ، راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو منظر عام پر لائی جائے۔پوری قوم تذبذب کا شکار تھی ، ن لیگ کی حکومت اور تحریک انصاف کا بیانیہ سب کے سامنے تھا ۔الیکشن قوانین بناتے وقت نئے حلف نامے بناتے ہوئے کچھ بنیادی چیزیں حذف کی گئی تھیں۔اس پر راجہ ظفر الحق کو تحقیقاتی کمیٹی کا صدر بنایا گیا تھا ، مگر اُن کی رپورٹ کو مسلم لیگ ن نے منظر عام پر لانے سے روک دیا تھا۔پھر فیض آباد کا تاریخی دھرنا ہوا ، ملک بھرمیں شور مچا ،زاہد حامد کا استعفی لیا گیا ۔معاملہ عدالت میں گیا ۔پھر عین الیکشن کے ایام میں یہ فیصلہ سامنے آگیاجس میں ن لیگ کے ساتھ تحریک انصاف کے اہم رکن شفقت محمود کا نام بھی لیا گیا۔ اب آپ میڈیا کنٹرول دیکھیں کہ شفقت محمود کے نام کے باوجود نہ ہی پی ٹی آئی اور نہ ہی اُس کا اپنا نام لیا گیا۔ یہ سوشل میڈیا کی بدولت ممکن ہوا کہ رپورٹ واٹس ایپ ، فیس بک ٹوئٹر پر نازل ہوئی اور لوگوں نے خود فیصلے میں تحریر کردہ نام کو مارک کر کے شیئر کر دیا۔اب جو اگلے دو دنوں میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ کے مخالفین شور مچائیں گے اُس کی گونج کو کب تلک قابو میں رکھا جا سکے گا یہ دیکھنا ہے ۔الیکٹرانک میڈیا کوتو ویسے ہی سانپ سونگھ گیا ہے ، ’کسی‘کی محبت میں وہ ن لیگ کو رگڑنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہونگے کرلیں گے ۔اگر سماجی میڈیاپر تحریک انصاف کیخلاف ختم نبوت ﷺ کے قانون کے حوالے سے ترمیمی سازش کا ایشو وائرل ہو گیا تو سب کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا ۔

حصہ