ہم زمین کی مخلوق نہیں!۔

47

قاضی مظہر الدین طارق
ہاں! اب تو سائنسدان کہہ رہے ہیں،انسان اس زمین کی اصل مخلوق نہیں ہے،ایک اجنبی مخلوق ہے،کسی اور سیارے کی مخلوق ہے، جو زمین پر بھیج دی گئی ہے۔
ایک امریکی ’ایکولوجسٹ‘ایلیس سِلور(Ellis Silver)نے ایک کتاب لکھی ہے،جس عنوان ہی (Humans are not from Earth) ہے۔
اُس نے اپنی اِس کتاب میںسائنسی دلائل کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے۔
اس کا دعویٰ ہے کہ انسان اس سیارہ زمین کااصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اس کودوسری جگہ تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کو وہاں سے زمین پر پھینک دیا گیا۔
Raenae Wann نے بھی ایک مضمونAre‘ Humans actually ALIENs on Earth‘یہ مضمون اس ویب سائیٹ پر دیکھا جا سکتا ہے:(https://www.gaia.com)
رینی وانRaenae Wann نے لکھا کہ جنوری ۲۰۱۵ ؁ایک برطانوی جریدے The Express نے ایک تصویر چھاپی ہے جس میں ایک خردبینی پتھر دکھایا گیا ہے جواپنے اندر سے نامیاتی مادّے خارج کر رہا ہے ، سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ اس نامیاتی مادّے میں جینیاتی مادّہ بھی ہو سکتا ہے جواس زمین پر حیات کے پھیلنے کا باعث بنا ہو۔
بہت سے سائنسدان یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ یہ پتھر کائنات میں موجود کسی فنا ہوتی ہوئی قدیم تہذیب کا بھیجا ہوا ہے جواپنی حیات کے تسلسل کو جاری رکھنا چاہتی تھی۔ صا ف محسوس ہوتا ہے کہ یہ پتھرکسی ذہین ہستی کا تخلیق کردہ ہے۔
ایک اورپروفیسر’ مِلٹن وَین رائیٹ‘
Wainwright) (Milton اور ان کی ٹیم
( جن کا تعلق بیکنگم یونیورسٹی کے’ اَیسٹرو بائیلوجی‘ سنٹرسے ہے)جو اس پتھراور اس سے نکلنے والے نامیاتی مادّوں پر تحقیق کررہے ہیں۔نتیجتاً نظریہ قائم کیا ہے کہ یہ تحقیق نہ صرف اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ اس کائنات سے باہر بھی کوئی موجود ہے، بلکہ یہ بھی کہ وہ جس نے یہ حیات زمین پر بھیجی ہے وہ اس کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اُس نے اپنے آپ کو ہم سے چُھپایا ہوا ہے۔
ڈاکٹرایلیس سِلورجو ایک محقق مصنّف اور امریکہ کے ناموراِیکالوجسٹ(Ecologist)ہیں،مگریاد رہے یہ ایک سائنسدان ہیں، جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے ، مگراِس کی باتیں اور دلائل قابلِ غور ہیں۔
ڈاکٹر سِلور نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب میں سترہ۱۷ سائنسی دلائل دیئے ہیں۔
اِس کا کہنا ہے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رہتا رہاہے ،وہ جگہ آرام دہ ، پر سکون اور مناسب ماحول والی تھی،وہاں وہ وی وی آئی پی تھا،نرم و نازک ماحو ل میں رہتاتھا،اس کی نازک مزاجی اور آرام پسندطبیعت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو وہاں اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا تھا،وہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جس کو زبردست شاہانہ زندگی میسر تھی۔
وہ مزید کہتے ہیںکہ وہ ماحول ایسا تھاجہاں سردی گرمی کا کوئی احساس نہ تھا،ہر وقت بہار جیسا موسم تھا،وہاں سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور ’الٹراوائلیٹ‘شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باہراور تکلیف دہ ہوتی۔
تب اس مخلوق سے کوئی غلطی ہوئی!
جس کی وجہ سے اُس کواِس آرام دہ اور عیّاشی کے ماحول سے نکال کریہاں پھینک دیا گیا۔
جس نے انسان کواُس سیّارے سے نکالا، لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتورہستی تھی جس کے کنٹرول میں کائنات کا پورہ نظام تھا۔وہ جسے چاہتا،جس سیّارے پر چاہتا،بھجوا سکتا تھا،اور وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔
ڈاکٹر سِلورایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے بعد رائے قائم کرتا ہے۔اس کی کتاب میںسائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
یہاں ان میں سے چند ایک کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
پہلی دلیل ؛ زمین کی کشش ثقل اور انسان جہاںسے آیا ہے اس جگہ کی کششِ ثقل زمین کی کششِ ثقل سے بہت کم تھی،جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اُٹھانا بہت آسان تھا۔انسان کے اندرکمردرد کی شکایات عام ہونے کی وجہ زمین کی کشش کی زیادتی ہے۔
دوسری دلیل ؛ انسان میں جتنے دائمی امراض ہیںوہ زمین پر رہنے والی باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیںکہ آپ اِس زمین پرایک بھی انسان ایسا دیکھا دیجئے جس کو کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دست بردار ہوسکتا ہوں،جبکہ میںہر جانور کے بارے میںکہہ سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کرکسی دائمی مرض میںگرفتار نہیں۔
تیسری دلیل ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا،کچھ ہی دیر بعد اس کو چکّر آنے لگتے ہیں،اُس کو’سَن اسٹروک‘ ہوسکتاہے، جبکہ جانوروں کواَیسا کوئی مسئلہ نہیں۔وہ مہینوں دھوپ میں رہنے کے باوجود نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں، نہ ہی سورج کی تیز روشنی اور دھوپ کے تعلق سے کسی اور بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔
چوتھی دلیل ؛ ہر انسان یہی محسوس کر تا ہے،اس کو ہر وقت احساس رہتا ہے کہ زمین پراس کا گھرنہیں ہے۔ کبھی کبھی بلا وجہ اس پر ایسی اُداسی طاری ہو جاتی ہے جیسے کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے،چاہے وہ اپنے گھر میں اپنے خونی رشتے داروں کے پاس نہ بیٹھا ہو۔
پانچوی دلیل ؛ زمین پر بسنے والی سب مخلوقات کی صحت کو درجۂ حرارت کی تبدیلی کچھ فرق نہیں پڑتا ،جبکہ انسان ذرا سی تبدیلی سے بیمار ہو جاتا ہے،موسمی بخارصرف انسان کو ہوتا ہے۔
چھٹی دلیل ؛ انسان اس زمین پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے۔اس کا دو پیروں پر چلنا سب سے جدا ہے۔صرف یہی ہے جو کپڑے پہننے اور کھانا پکانے پر مجبور ہے۔یہی ہے جو اس زمین کے وسائل کو تلاش کرتا ہے،اس کومحفوظ کرتا ہے اور استعمال کرتا ہے۔انسان ہی ہے جو مشاہدا ت اور تجزیے کرتا ہے،زبان سے اور لکھ کر دوسروں تک پہنچاتا ہے جو مزید تجزیے کر کے اس تحقیق کو آگے بڑھاتے ہیں۔
ساتویں دلیل ؛ زمین پر رہنے والی اصل مخلوقات کواپنی غذاحاصل کرنااور اس کو کھاناکچھ مُشکل نہیں وہ اس کوبراہِ راست ایسے ہی کچّا کھاجاتے ہیں،جبکہ انسان کو اپنی غذا کے حصول کے لئے بڑی محنت اور ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں،پھر اس کو پکا کر نرم کرنا ہوتا ہے تب جا کر معدہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو ہضم کر سکے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان اس زمین کا اصل رہنے والا نہیں ہے۔جب یہ اپنے اصل سیّارے پر تھا تو اس کووہاں کھانے پکانے کی زحمت نہیں اُٹھانی پڑتی تھی،وہ ہر چیز براہِ راست (ڈائریکٹ) کھاتا تھا۔
آٹھویں دلیل ؛ انسان کو زمین پرسونے کے لئے نہایت نرم و گداز بستر کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس کے اصل باسیوں کو نرم بستر کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔یہ اس چیز کی علامت ہے کہ انسان جہاں پیدا کیا گیا تھاوہاں اس کے سونے اور آرام کرنے کی جگہ اس کی نزاکت کے مطابق نرم و نازک تھی۔
نویں دلیل ؛ انسان زمین کے سب باسیوں سے نسلاً الگ ہے، لہٰذا یہ یہاں کے کسیٍ جانور(بندر،چمپنزی یا بن مانس) کی اِرتقائی شکل نہیں ہے بلکہ اس کو کسی اور سیّارے پرتخلیق کیا گیا اور زمین پر بھیج دیا گیا۔
انسان کو جہاں پہلے پہل پیدا کیا گیا تھا وہاں اس کی نرم و نازک جِلداس کے ماحول کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی۔یہ اتنا نازک مزاج ہے کہ زمین پر آنے کے بعد بھی ہروقت اس کے ماحول کواپنی نازک مزاجی کے مطابق بنانے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کے دلائل کو ابھی تک جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔
اگرچہ اِن سائنسی دلائل سے مسلمانوں کے ایمان میںذرا بھی اضافہ نہیں ہوا، کیوں کہ مسلمان پندرہ صدی سے محکم ایمان رکھتے ہیں کہ کائنات پوری کی پوری عارضی ہے،ایک وقت یہ ختم ہوجائے گی۔پھر دوسری کائنات بنائی جائے گی جو دائمی ہوگی۔
یہاں اللہ رب العزّت نے حضرت آدمؑ و حوّاؑ کو اُن کی خطا معاف کرنے کے بعداپنا نائب بنا کر پورے اعزاز اوراختیارات کے ساتھ بھیجا تھا۔یہ زمین قید خانہ نہیں ہے، یہاںانسان کوہرگزہرگز سزا ء و جزاء کے لئے نہیں پھینکا گیاہے۔
یہاں کی مشکلات مشقّتیں اور آسائشیں صرف انسان کی آزمائشوں کے لئے ہیں، یہ دنیا عارضی امتحان گاہ ہے، مگراس کا نتیجہ دائمی ہوگا !
٭…٭…٭

حصہ