کھڑکی کے پار

29

بینش جمیل
دو بہت ہی بیمار آدمی اسپتال کے ایک ہی کمرے میں زیر علاج تھے۔ وہ دونوں اس قدر علیل تھے کہ بستر سے اٹھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ صرف ایک شخص کو ایک گھنٹے کے لئے اپنے بستر سے اٹھ کر بیٹھنے کی اجازت تھی اور اس شخص کا بستر ان کے کمرے کی واحد کھڑکی عین سامنے تھا جبکہ دوسرا شخص اپنے بستر سے بالکل بھی اٹھ نہیں سکتا تھا وہ چوبیس گھنٹے اسی بستر پر لیٹا رہتا۔
وہ دنوں ایک دوسرے سے زندگی کے گزرے لمحات اپنے خاندان اور ملازمت کی باتیں کرتے رہتے اور اپنے احساسات ایک دوسرے سے بانٹتے رہتے۔ روزانہ جب وہ پہر کے بعد کھڑکی کے سامنے والے آدمی کے اٹھ کر بیٹھنے کا وقت ہوتا تو وہ اس ایک گھنٹے میں اپنے ساتھی کو کھڑکی کے باہر کے تمام مناظر بتایا کرتا تھا۔
دوسرا آدمی اپنی اس دن کی زندگی اسی ایک گھنٹے میں جی لیتا تھا جب ا س کی بے رنگ زندگی میں باہر کی دنیا کے رنگ شامل ہو جاتے تھے۔
جب اس کا ساتھی اسے بتاتا کہ باہر بہت خوب صورت جھیل ہے۔ راج ہنس اور بطخیں اس جھیل میں کھیل رہے ہیں۔
بچے پانی میں اپنی اپنی کشتیاں چلا رہے ہیں۔فضا خوشیاں بکھیرتی نظر آ رہی ہے۔ جھیل کے چاروں طرف محبتیں ہی محبتیں ہیں۔ پھولوں کے رنگ بالکل قوسِ قزح کی طرح زمین پر بکھرے ہوئے ہیں۔ہر ے بھرے درخت ان کو دیکھ کر خوشی سے جھوم رہے ہیں اور اس طرح وہ اپنے ساتھ کو تمام مناظر تفصیلاََ بتاتا جاتا اور دوسرا شخص آنکھیں بندکئے ہر چیز کا تصور کرتا جاتا۔
اسی طرح ایک شام کھڑکی جانب والا شخص اپنے ساتھی کو کھڑکی کے باہر کے مناظر تفصیلاََ بیان کر رہا تھا کہ دوسرا شخص اپنی آنکھیں بند کیے ہر چیز کا تصور کر رہا تھا۔ بند آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک شیطانی خیال نے اسے بھڑکایا۔
اس کے اندر حسد نے سر اٹھایا اور اس نے سوچا کہ صرف یہی شخص تمام مناظر کیوں دیکھے اور ان سے لطف اندوز ہو؟ ان مناظر پر میرا بھی حق ہے اگر میں کھڑکی کی جانب ہوتا تو خود ان تمام مناظر سے براہِ راست لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ یہ ٹھیک نہیں کہ تمام خوشی اسی کو ملے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا حسد رفتہ رفتہ غصے میں بدلنے لگا۔ اس کا دل اپنے ساتھی سے متنفر ہونے لگا اور وہ سوچنے لگا کہ کھڑکی والی جانب اْسے ہونا چاہیے۔ ان خیالات نے اس کے اندر بے چینی کی ایک لہر پیدا کر دی اس کی نیند اْڑ گئی اور وہ سوچنے لگا کہ کس طرح کھڑکی والی جگہ حاصل کر سکتا ہے۔
انھی خیالات میں گم ایک رات وہ چھت کو گھور رہا تھا کہ کھڑکی کی جانب والے شخص کو اچانک کھانسی شروع ہوگئی۔ کھانسی کی دورہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی سانس اکھڑنے لگی۔ اس میں اتنی ہمت نہیں ہو پار ہی تھی کہ وہ ایمرجنسی کا بٹن دبا دیتا۔
حسد اور غصے سے بھرا شخص اپنے ساتھی کی موت کے منھ میں جاتا دیکھتا رہا اور اس کی کوئی مدد نہ کی یہاں تک کہ اس کی کھانسی رک گئی اور پورے کمرے میں گہرے خاموشی چھاگئی موت کی خاموشی۔
اگلی صبح جب نرس کمرے میں آئی تو کھڑکی والے شخص کو مردہ پایا۔
جب اگلے روز اس شخص کی میت کو کمرے سے لے جایا جا چکا تو کمرے میں رہ جانے والے اکیلے آدمی نے نرس سے اپنا پلنگ کھڑکی کی جانب گانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ نر س نے اس کی اس خواہش کو بخوشی قبول کر لیا اور اس کا بستر کھڑکی کی جانب منتقل کروا دیا گیا۔
جب کمرا صاف ستھرا کر دیا گیا تو وہ اکیلا شخص بہت خوش ہوا کہ اب میں خود تمام مناظر سے لطف اٹھا سکوں گا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے بہت ہمت کر کے اپنی کہنی کا سہارا لے کر تھوڑا سا سر اٹھا کر کھڑکی سے باہر دیکھنے کی کوشش کی کہ اب خود ان تمام مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے گا۔
باہر کی دنیا کے رنگ دیکھ سکے گا۔ جھیل اور بچے دیکھ سکے گا اور خوشیاں اور محبتیں سب کچھ خود محسوس کر سکے گا۔
لیکن جب اس نے انتہائی تکلیف سے سر اٹھاکر کھڑکی سے باہر دیکھا تو وہاں اسے ایک بڑی سی دیوار کے سواکچھ نظر نہیں آیا۔
اْس دیوار کو دیکھ کر وہ حیرت اور غم سے ساکن ہو گیالیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
یہی حال ہماری زندگی کا ہے۔ دیکھنے میں سامنے والا بہت خوش اور مطمئن نظر آرہا ہوتا ہے۔ مگر خوشیاں صرف آپ کے اپنے انتخاب کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
حالات کیسے بھی ہوں ،اگر آپ چاہیں گے تو خوشی آپ کی ہوگی، اگر آپ خود ہی خوش اور مطمئن رہنا نہیں چاہتے تو آپ کبھی زندگی میں اسے پا نہیں سکتے۔
خوشی اور اطماینت آپ کے دروازے پر دستک دے کر نہیں آتی بلکہ یہ صرف ہمارا اپنا رویہ ہوتاہے۔
جو لوگ انتظار کرتے ہیں کہ ان کو خوشی ملے گی تو وہ ان کی زندگی میں کبھی نہیں آئے گی۔ خوشی اور اطمینان آپکے اندر ہوتا ہے اور اگر آپ کا رویہ مثبت ہے تو آپ کے ہر جانب سکون اور اطمینان ہوگا۔ اور خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔

حصہ