چراغ۔۔۔ شاکر القادری کے فکر و فن کا منبعِ نور

27

ڈاکٹر عزیز احسن
شاکر القادری کے فکروفن کاچراغ میرے سامنے روشن ہے۔ میںحیرت کے عالم میں ایک آئینہ خانہ دیکھ رہا ہوں جہاں ایک چراغ کے عکس سے ہزاروں چراغ روشن نظر آرہے ہیں۔ نعتیہ ادب میںچراغ روشن کرنے کی عجیب وغریب مثال قائم ہورہی ہے۔ پہلی ہی نعت کی ردیف ’’چراغ‘‘ ہے اور ہرشعر میںردیف کی معنویت کامختلف اور روشن تر ہے۔
’’چشمِ نم‘‘ ہجروفراق کے حوالے سے مذکور ہوتو،آہ وزاری کی عکاس ہے۔ اگر یہی ’’چشمِ نم‘‘ دیدارِ مطلوب کی سرشاری کی علامت بن جائے تو مسرت افزا ہے۔ عشق کی انتہائوں کے حوالے سے لذتِ فراق کی بات کی جائے تو غمِ دوری میںبھی’’چشمِ نم‘‘حضوری کی علامت دکھائی دیتی ہے۔ نعت میں شاعر گلہ نہیں کرسکتا اس لیے کہتا ہے:

مرے کریم ترے لطف اور کرم کے چراغ
ازل سے مجھ کو ملے ہیں یہ چشمِ نم کے چراغ

گویاشاعر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں عرض گزار ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لطف وکرم کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کاایمانی ’’نور‘‘ مجھے مسلسل میسر ہے۔ میری آنکھوں سے مسلسل بہنے والے اشک بھی چراغوں کی صورت روشنی بکھیررہے ہیں۔ یقینایہ اشک یاتوآپ سے وابستگی کی سرشاری میں بہتے ہیں یا شاعر کی ذات یا اس کے معاشرے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے وابستگی کے معیارات کی پست سطح کی ندامت میں بہتے ہیں۔ اس طرح یہ اشکوں کے چراغ دونوں صورتوں میں شاعر پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لطف وکرم کے عکاس ہیں۔
پھرانسانی فلاح وفوز کی بات ہوتی ہے تو نعت میں اس قسم کے اشعار آنے لگتے ہیں:

فلاح و فوز کی ضامن ہے پیروی تیری
نشانِ خلدِ بریں ہیں ترے قدم کے چراغ
شعور و فکر کی تابندگی تمھی سے ہے
تمھارے علم سے روشن ہیں کیف وکرم کے چراغ

اس ردیف کے ساتھ قافیہ بدل کر جو نعت کہی گئی ہے، اس کاانداز بھی پُرکشش ہے:

بہت قریب کارشتہ ہے خاک و نور کے بیچ
حریمِ نور میں روشن ہوئے بشر کے چراغ

بشرکاجسم مٹی سے بنااوراس میں اللہ تعالیٰ نے اپناامر، روح کی صورت میں پھونکا۔ یہ امر خالص نور تھا۔اس پورے عمل کواگر ہم بلاتشبیہ کمپیوٹر کی زبان میں واضح کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ Hard Ware میںSoftware ڈال کرتیار کردیاتواس کو Command( حکم۔امر) کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے روح کو ’’امر‘‘ کے لفظ سے متعارف کروایا ہے۔ آج ہم اس حقیقت کو اس مثال سے سمجھنے کے قابل ہوگئے ہیں کہCommand دینے کے لیے کمپیوٹرکی بنیادی ضرورتElectricity ہے۔ برقی رو نوری ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح بشر کے جسم میں یہ برقی رو، اللہ کے امر سے دوڑائی گئی ہے۔ گویا یہ تمام معاملہ عالمِ نور میں ہوا لیکن وہاں خاک کو نوری امر کے ذریعے نور سے پیوستہ کردیاگیا۔ صوفیانہ انداز میں اس مسئلے کو یوں سمجھاگیا ہے کہ جسم تاریک ہے کیوںکہ یہ سفلی ہے۔ روح روشن ہے کیوں کہ یہ نوری ہے۔ اس لیے روح تاریکی سے نکلنے کے لیے بے چین ہے کیوںکہ، امر(روح) آمر(خالق) کے وصال کے لیے مضطرب ہے۔ بہرحال شاکرالقادری نے یہ کہہ کر:
حریمِ نور میں روشن ہوئے بشر کے چراغ
ایک ماورائی عالمِ نور سے خاک کے رشتے کواستوار بتایا ہے۔ اس ضمن میں حقیقتِ محمدیہ علی صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کاتصورسامنے رکھیں تو یہ محسوس کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ خاک سے پیداہونے والاانسان اپنی روح کے باعث بھی نورسے منسلک ہے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کے نورسے وابستگی کی وجہ سے بھی اس کانور ہی سے انسلاک ہے۔ جس کااشارہ حضرت فریدالدین عطارؔ نے کیا ہے:

در آدم بود نوری از وجودش
وگرنہ کی ملک کردی سجودش؟

شاکرالقادری کے ایک شعر کی تفہیمی کوشش نے ہمیںصوفیانہ ذوق وشوق کے دائرے میں داخل کردیا ہے اورصوفیانہ ذوق وشوق وہ بحر ہے جس کاکوئی کنارہ نہیں۔ اس شعری مجموعے میںصوفیانہ ذوق کے عکاس بہت سارے اشعار ہیں۔ حقیقتِ محمدیہ کااظہارایک نعت کے درجِ ذیل چنداشعار میں ملاحظہ:

’’عالم کی ابتدا بھی ہے تُوانتہا بھی تُو ‘‘
ہر سو تعینات میں جلوہ نما بھی تُو
شامِ شبِ الست کا بدرالدجیٰ بھی تُو
اور صبحِ کائنات کا شمس الضحیٰ بھی تُو
نقطہ بھی تُو ہے قوس بھی تُو زاویہ بھی تُو
مرکز بھی تُو، محیط بھی تُو، دائرہ بھی تُو
تُونور بھی ،بشر بھی ہے فخرِ بشر بھی ہے
پہچان ہے بشر کی خدا کا پتا بھی تُو
گنجینۂ صفات تری ذات یا نبیؐ
شاہد بھی تُو بشیر بھی تُو مصطفیٰ بھی تُو

بخوفِ طوالف میں’’حقیقتِ محمدیہ‘‘ کے عکاس دوسرے اشعاریہاں پیش نہیں کرتا۔ ان اشعار کی روشنی میں پہلے شعر کی تفہیمی کاوش پر نگاہ رکھی جائے تو میرا مدعاواضح ہوسکے گا کہ شاکرالقادری کے شعری نگارخانے میںصوفیانہ فکری پرچھائیاں جگہ جگہ نظر آتی ہیں:

حضور ہاتھ سے چھُوٹا ہے رشتۂ وحدت
جلا رہے ہیں مرے گھر کو ،میرے گھر کے چراغ

اس شعر میں چراغ کی منفی جہت کاذکرہے کیوںکہ ہرشے کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں۔ چراغ، ایک طرف تو خضرِ راہ ہے ۔ دوسری طرف چراغ روشن کرنے والوں کی نیتوں کے باعث تخریبی استعمال کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ اُردوشعری روایت میں یہ مصرع ضرب المثل بن چکا ہے:

 اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

علامہ اقبال نے ایک خواب میںحضرت سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کی زیارت کی۔عرض کیا ’’آپ ہمارے آزار[ بیماری۔دکھ] کاکوئی علاج تجویزفرمائیں‘‘تو حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہٗ نے فرمایا:

 آب و تاب از سورۂ اخلاص گیر

یعنی سورۂ اخلاص کی روشنی میں’’توحید‘‘ کے تقاضے سمجھ کر عملی طورپروحدت کامظاہرہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے والا معاشرہ، ہرصورت میںوحدتِ فکر وعمل کامظاہرہ کرے۔ وہ اللہ کے علاوہ ہرایک قوت سے بے نیازہوجائے۔ہرمسلمان فرد کارشتہ نسل اورخون کی بنیادپرقائم نہ ہوبلکہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان کی بنیادپرقائم ہو۔ جب ایسے اوصاف پیداہوجائیں گے تو ملتِ اسلامیہ کی ہمسری کادعویٰ کرنے والی کوئی قوم روئے زمین پرنہیں ہوگی…لیکن افسوس کہ آج تک اسلامی دنیا کوئی ایسامعاشرہ تشکیل دینے میںکامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اس لیے شاکرالقادری کو کہنا پڑا کہ:

 جلارہے ہیں مرے گھر کو میرے گھر کے چراغ

اس مصرعے کی قرأت میںہم،علمائے دین کی طرف سے اپنے اپنے مسلکوں کے چراغ روشن کرنے اوران سے تخریبی نتائج برآمد ہونے کی طرف بھی اشارہ پاتے ہیں۔ تکفیری فتووں کو پیشِ نظر رکھیںتوعالمِ اسلام کی بیشترآبادی دائرۂ اسلام سے خارج محسوس ہوتی ہے۔
اگلے شعرپرگفتگو کرنے سے قبل یہ بات خاطرنشین رہے کہ عروضی حضرات مصرع اول کے جزوِ اول کو’’صدر‘‘ اور جزوِ آخر کو ’’عروض‘‘ کہتے ہیں۔ مصرعۂ ثانی کے جزوِ اول کو ’’ابتدا‘‘ اور جزوِ آخر کو ضرب وعجز‘‘ کہتے ہیں۔ بیت کے درمیان میں جو کچھ ہو، اسے ’’حشو‘‘ کانام دیاجاتا ہے۔ یہ شعرا کی، صنعتوں سے دلچسپی کے باعث اشعار میںرونماہونے والی ’’صنائع لفظی‘‘ کی خوبیاں ہیں۔ پہلے زمانے کے شعراایسی صنعتوں کاباقاعدہ التزام رکھتے تھے اور مصنوعی انداز سے اشعارسجاتے تھے۔ تاہم استادانہ منبت کاری کے ذریعے کچھ نہ کچھ خوبی پیدا کرلیتے تھے۔اب یہ چلن نہیں رہا۔ تاہم بغیرشعوری کوشش کے اگر شعرمیں کوئی تکرارِ لفظی ایسی مناسبت سے آجائے کہ مصرع جس لفظ سے شروع ہورہا ہو، اسی پر ختم ہو اور دونوں مصرعوں میں یہی تکنیک برتی جائے تورواں دواں مصرعوں کی داددینے کے ساتھ ساتھ صنعتِ تکرار لفظی کی دادبھی دی جاسکتی ہے۔ شاکرالقادری کے درجِ ذیل اشعار میں یہ خوبی نمایاں ہے:

درود روح کی بالیدگی کاساماں ہے
جبینِ شوق کو دیتا ہے اک نکھار درود
درود نغمۂ نعتِ نبی کا سرگم ہے
سدا بہار دعائوں کا ہے وقار درود
درود زمزمۂ وقت ہے ،ترانہ ہے
حریمِ ذات میں پڑھتا ہے کردگار درود
سلام چہرۂ انور پہ نور بار سلام
درود گیسوئے مشکیں پہ مشک بار درود

تعقیدسے بری ہونا کسی بھی شعرکے لیے فصیح ہونے کاثبوت ہوتا ہے۔ چناںچہ ان اشعار میں بھی رواں دواںبحر اور بنت کے ساتھ ساتھ ’’فصاحت‘‘ کاعنصرپوری طرح ظاہر ہورہا ہے۔
تضمین نگاری میں یہ بات پیشِ نظر ہوتی ہے کہ جواشعار تضمین کے لیے منتخب کیے جائیں، ان پرتضمینی مصرعے اس طور لگائے جائیں کہ پیوندکاری کاشائبہ باقی نہ رہے۔ نہ مضمون میں، نہ بنت میں اور نہ ہی شعری آہنگ واسلوب میں۔شاکرالقادری کے ہاں یہ خوبی متعدد اشعار کی تضمین نگاری کے مواقع پر ضوریز ہوئی ہے۔ احمدرضاخانؒ کے معروف سلام پر جوتضمین کی ہے، اس کے مطلع ہی کی تضمینی بنت اس بات کامنہ بولتا ثبوت ہے کہ شاعر پر تضمین نگاری کا فن پوری طرح منکشف ہوگیا ہے:

ای دلا از رہِ عشق خیرالانام
ہم چو بادِ صبا سویِ طیبہ خرام
باادب خوش بخواں گردِ دارالسلام
’’مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام‘‘

اس سلام کے منتخب اشعار میںشاعرنے اصل سلام کے جواشعار تضمین کے لیے منتخب کیے ہیں۔ ان کی روشنی میںشاکرالقادری کا ’’تفضیلیت‘‘ پسندرجحان، نمایاں ہے جس پر میرے کچھ تحفظات ہیں لیکن شعری خوبیوں کے حوالے سے میں ان کی تضمین نگاری کوبھرپور انداز میں داددیے بغیرنہیں رہ سکتا۔تضمین نگاری کے یہ نمونے اور ملاحظہ ہوں:

از مقامِ مصطفیٰ جز حق کسی آگاہ نیست
این قدر دانم دگر واللہ اعلم بالصواب

اس شعر کا مصرعۂ ثانی مولاناغلام قادرگرامی کا ہے۔ جبکہ درج ذیل شعر میںبیدم وارثی کے مصرعے پر گرہ لگائی گئی ہے:

گہی بہ وادیٔ ایمن گہی بہ دشتِ بلا
’’کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجوئے رسولؐ‘‘

(جاری ہے)

الوداع اے ماہِ رمضاں الوداع

مرزا عاصی اختر

الوداع اے ماہِ رمضان الوداع
کچھ دنوں کے میرے مہماں الوداع
تو ہر اک مسلم کا ارماں الوداع
سب نے تھاما تیرا داماں الوداع
تجھ پہ میری جاں ہے قرباں الوداع
آخرت کا تو ہے ساماں الوداع
تیری فرقت میں جئیں گے کس طرح
ایک خلقت ہے پریشاں الوداع
دل کی حالت ہجرِ رمضاں میں نہ پوچھ
تربہ تر ہیں اپنی مژگاں الوداع
خدمتِ مہماں ہے سنت آپؐ کی
اے مسلمانوں کے مہماں الوداع
فرض ہیں روزے، جو، ان کو چھوڑ دے
در حقیقت ہے وہ ناداں الوداع
اک نماز اور فائدے ستّر گنا
کیسے پورا ہو گا نقصاں الوداع
فرق کو عاصیؔ نمایاں کر دیا
اے حق و باطل کی پہچاں الوداع

حصہ