وما ادراک ما لیلۃ القدر

32

افشاں نوید
بات ہے ادراک کی… معمولی بات تو نہیں ہے!!! زندگی کے تانے بانے اسی ادراک کے مرہونِ منت ہیں۔ جتنا ادراک ہوتا ہے زندگی میں اتنی ہی ترتیب اور سلیقہ ہوتا ہے، اتنا ہی آزمائشوں سے نکلنے کا حوصلہ ہوتا ہے، اتنا ہی اپنوں اور پرایوں کو برتنے کا فن آتا ہے۔ یہ ادراک ہی ہے جو کہتا ہے کہ دو میں سے کون سا راستہ چننا ہے۔ یہ ادراک ہے جو بتاتا ہے کہ کہاں تک جانا ہے اور کہاں سے رستہ بدلنا ہے یا پلٹ آنا ہے۔
اس ادراک کو ناپنے کا پیمانہ تو ہوگا کچھ؟ سوال کیا گیا۔ اور یہ بھی کہ جب زندگی ادراک سے عبارت ہے تو کیسے حاصل کریں اس ادراک کو، اور کہاں نمو پائے یہ؟
قرآن کا شکوہ اسی عشرے میں تو ہے کہ وما ادراک آہ تم ادراک نہیں رکھتے… یہ افسوس نہیں ہے کہ تم ادراک نہیں رکھتے، بلکہ چھپی ہوئی خواہش ہے کہ کتنا اچھا ہوتا تم ادراک رکھتے۔
یہ ادراک کا عشرہ ہے، ادراک کی راتیں، ادراک کی باتیں… گھومتا تو سب کچھ ادراک ہی کے گرد ہے۔ اس ادراک کے عشرے میں بھی نہ کھوجا، نہ وزن کیا اپنے ادراک کے پیمانوں کا… پھر شاید ’’ویل‘‘ مجھ جیسوں ہی کے لیے ہے!! جو چیز جتنی ضروری ہوتی ہے اتنے ہی جتن کرتے ہیں اس کو پانے کے لیے۔ بیمار لوگ صحت کو پانے کے لیے پیسہ پانی کی طرح خرچ کرتے ہیں۔ بیرون ملک جانا پڑے تو جاتے ہیں۔
بے اولاد گود بھرنے کی خواہش میں کون کون سے علاج کراتے اور منتیں نہیں مانتے! گھر میں پانی نہ آئے تو ٹینکر ڈلوانا ہی پڑتا ہے، بجلی کی آنکھ مچولی میں جنریٹر لانا ہی پڑتا ہے، گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے ایرکنڈیشنر لگوانا ہی پڑتا ہے۔ زندگی راستہ روک کر کہتی ہے: یہ سب ضروری ہے۔ تب ہی زندگی کو آگے بڑھنا ہے۔ لہٰذا ہر ناممکن کو ممکن بناتے چلے جاتے ہیں، اپنے آزمائے ہوئے بازوئوں کو مزید آزماتے ہیں۔ طاق عشرہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ادراک کا حصول بھی اتنا ہی ضروری تھا جتنا زندہ رہنے کے لیے پانی اور بجلی۔ پھر کتنے جتن کیے اس ادراک کے حصول کے لیے؟ جو ادراک حاصل کرنے کے ذرائع تھے اُن تک رسائی کی کس درجے میں کوشش کی؟ بحیثیت مسلمان ہمارے ادراک کی آبیاری کا پہلا ماخذ قرآن کریم ہے… ہے وہ تنہائیوں کا رفیق؟
ادراک کا دوسرا ماخذ کائنات کی سب سے صاحبِ ادراک شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے جو بتاتی ہے کہ سراغِ زندگی پانے کے لیے اپنے من میں ڈوبنا پڑتا ہے۔ سال بھر میں کتنے گھنٹے اس سیرت کے مطالعے کے لیے وقف کیے؟ جو اولیاء اللہ، صوفیائے کرام، شاعر، مفکر، فلاسفر، بڑے ادیب، صاحبانِ وجدان گزرے ہیں،کسی کی قربت اختیار کی؟ کسی کو استاد بنایا؟ جس کی صحبت سے سیکھ سکتے ہوں، جو ہمارے نزدیک صاحبِ ادراک ہوں، اپنے ادراک کی بالیدگی کے لیے اس کے تلامذہ میں ازخود شامل ہوجائیں۔ ان مکتبوں میں داخلے کی نہ فیس ہے، نہ اجازت درکار ہے۔
کیا عشرہ مبشرہ صاحبانِ ادراک نہیں تھے؟ کیا اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیات سے زیادہ ادراک پاسکتے ہیں ہم کسی کی صحبت سے؟ تابعین اور تبع تابعین کے حالاتِ زندگی کے دفتر کے دفتر ہیں لائبریریوں کی زینت، جہاں کا وہ لوگ رخ کرتے ہیں جن کو ڈگری کی طلب ہوتی ہے اپنے کسی تھیسز کے لیے… نہ کہ حق کے متلاشی، علم کے پیاسے ان صحبتوں میں جاکر بیٹھتے ہیں جو صاحبانِ ادراک ہیں، جو کتابوں میں آج بھی زندہ ہیں اور ہمارے منتظر۔ جہاں سارا رمضان کریم عامر لیاقت کے پند ونصائح پر بحث ومباحث میں گزر جائے، سیاست دانوں کی شخصیت کے سوا موضوع گفتگو ہی نہ ہو کوئی قوم کے پاس، وہاں ادراک کی نشوونما کیسے اور کیونکر ہو؟
یہ عشرہ صاحبِ ادراک لوگوں کو مخاطب کررہا ہے۔ مولا ہمیں بھی ہمارے حصے کا ادراک عطا فرمائیے، ورنہ راتیں بھی جائیں گی بن ادراک کے، اور زندگی بھی خدانخواستہ۔

خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
مرے مولا مجھے صاحبِ جنوں کر دے

قدر کی راتیں ہمیں تلاش کرتی ہیں… وہ تو ہم نے قدر نہ جانی ورنہ ہر رات ہی قدر والی رات تھی۔ ہم کہتے ہیں دن کا سورج اور رات کا چاند۔ اللہ کے ولی کہتے ہیں ہر رات کا بھی ایک سورج ہوتا ہے جو متلاشی دلوں کو تلاش کرتا ہے اور اُن کو اپنے نور کی کرنوں سے جگمگا دیتا ہے۔ نیند کے ماتوں سے اس سورج کو سروکار نہیں۔
میں نے کہا: رات تاریک ہے، بینائی کی قوت سلب کرلیتی ہے۔ مقربین نے کہا: رات کی اپنی آنکھیں ہوتی ہیں، تم نہیں دیکھ سکتے مگر رات تمہیں دیکھتی ہے، بڑی گہری نظریں ہیں اس کی، تمہاری ساری حرکات وسکنات کا ریکارڈ رکھ رہی ہیں یہ راتیں۔ جو شر بھی لیے ہوئے ہیں اور خزانے بھی۔ ہر اک اپنے ظرف کے پیمانے بھر رہا ہے۔
رات کے دروازے کو کب زور زور سے بجانا پڑتا ہے! بس رات کی دہلیز پر بیٹھنا ہوتا ہے دیدۂ تر کے ساتھ… پھر تمہارا کام ختم، رات اپنا کام شروع کردیتی ہے۔ رات کی خاموشی، گہرائی اور گیرائی بے معنی نہیں ہے۔ پانے والے تو اسی خاموشی اور تاریکی سے لعل و یاقوت پالیتے تھے، اور بے اختیار ان کی زبان نہیں بلکہ ان کے قلب پکار اٹھتے تھے ’’ربنا ما خلقت ھذا باطلا‘‘
رات کی لوریاں سونے والوں کے لیے کب ہیں! وہ تو جاگنے والوں کے لیے ہوتی ہیں۔ تب وہ گہری نیند کو تھپک کر سلا دیتے ہیں اور ان مدھر لوریوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں جو اُن ساحلوں کی ٹھنڈی ہوا کی جانب چلتی ہیں جہاں محبوب کی سرگوشیاں ہیں۔ کہا گیا: زندگی کی پہیلی کو بوجھنا ہے تو رات سے دوستی کرنی ہوگی، دن کی بھول بھلیاں تو کم ہی رستہ دکھاتی ہیں۔ جو کامیاب رہے وہ رات کے شہسوار تھے۔ رات کا سینہ بے شمار رازوں سے بوجھل ہے، وہ تلاش کرتی ہے شب بیداروں کو کہ اپنے سینہ کے بوجھ ہلکے کردے، وہ راز اُن عاشقوں کے کان میں پھونک دے جو محبوب کی گلیوں میں دیوانوں کی طرح چکر کاٹ رہے ہیں اک جھلکِ دیدار کی طلب لیے۔
رات کا ظرف سمندروں سے بڑا ہے، سب کچھ دیکھتی ہے مگر کچھ نہیں کہتی۔ اس کے آخری پہر حی علی الفلاح کی صدا کتنوں کی نیند کو مزید گہرا کردیتی ہے اور کون مؤذن کی صدا پر کانوں پر تکیہ رکھ کر کروٹ بدل لیتا ہے… رات نے اپنے راز کبھی فاش نہیں کیے۔ کہاگیا: رات تو خود پیاسی ہے۔ جواب آیا: مگر تمہیں تو جھڑی بخش دیتی ہے۔ وہ ولی تھے جو صبح پرندوں کی چہچہاہٹ پر تڑپ اٹھتے تھے کہ اے سورج! تُو نے محبوب کو محبوب سے جدا کردیا۔ ہاں وہی تو تھے جو دن کے سارے غم سینے میں گھونٹ لیتے تھے کہ رات کو سنائیں گے اپنے غموں کی کہانی۔
آخری عشرہ آن لگا ہے، ملن کی راتیں دستک دے رہی ہیں… یہ گھڑی ہے ملن کی، شب قدر ظرف والوں کو ملتی ہوگی اس لیے کہ ظرف پیدا ہی معاف کرنے سے ہوتا ہے، اور معاف کرنا ہم جیسوں کے بس کا کام کہاں! صلاحِ عام ہے کہ معاف کروگے تو معاف کیے جائوگے۔
شبِ قدر کی تلاش ہے تو دل کو مصفی بنانا ہوگا، کسی نے سرگوشی میں کہا تو میں جھکا ہوا سر ہی نہ اٹھا سکی۔ ہمیں حکمِ ربی ملا کہ قدر والی رات کو تلاش کرو… وہ قدر والی رات بھی انسانوں کی تلاش میں ہے کہ کہاں ہے وہ جوہر جس پر وہ اپنے خزانے لٹا دے؟ کہا کسی نے کہ شبِ قدر کو تلاش کرتے ہوئے خود کو تلاش کرنا۔ یہ تلاش کرنے کی رات ہے، محض پڑھنے پڑھانے سے اک قدم اور آگے۔ پڑھنے والے تو کروڑوں ہیں مگر امت غلام ہے، مجبور و مقہور ہے۔
وہ جنھوں نے خود کو تلاش کرلیا تو دنیا سرنگوں ہوگئی ان کے قدموں میں۔ وہ متلاشی تھے قدر کے، جن کا تین سو تیرہ کا قافلہ پلک جھپکتے دنیا کی سپر پاور بن گیا۔ شب قدر کی راتوں میں کیا کیا تلاش کرنا ہے؟ یہ کھوج ہی اصل سرمایۂ حیات ہے۔
٭٭٭
کل فون پر آواز نہ پہچان سکی، نام بھی نامانوس، بولیں: فلاں پروگرام میں ملی تھی ناں تب آپ کا نمبر لیا تھا۔ میں نے خیریت کے بعد فون کرنے کی وجہ دریافت کی، بولیں: آخری عشرہ شروع ہورہا ہے، آپ سے دعا کی درخواست کرنا تھی، آپ کو پچھلے فون پر بتایا تھا کہ میاں سے اَن بَن ہے اس لیے میں دوسرے شہر بیٹی کے پاس ہوں آج کل۔
میں نے کہا: ہم جب قرآنی دعائیں پڑھتے ہیں وہ سب مومنین، مومنات کے لیے ہوتی ہیں، ہم خوش نصیب ہیں کہ عالمگیر برادری کے رکن ہیں، شب و روز حرم و مسجد نبویؐ میں جو دعائیں ہورہی ہیں ہم سب کے لیے ہیں الحمدللہ۔
بولیں: میرا اچھا خاصا حصہ رکھنا ہے آپ کو اپنی دُعا میں۔
میں ہنس پڑی اور کہا کہ کیا آپ کو بشارت ہوئی ہے کہ میں مستجب الدعوات ہوں!!! ہاں غائبانہ دعا کی فضیلت ہے ہمیں کرنا چاہیے، ان شاء اللہ کروں گی۔ لیکن میں بھی اتنی ہی حاجت مند ہوں آپ کی دعاکی۔
بولیں: آخری عشرے میں روز فون کرکے یاد دلاؤں گی کہ میرا حصہ رکھنا ہے آپ کو اپنی دعا میں!!!!
رمضان بدلنے کے لیے تھا۔ اب رخصت ہورہا ہے۔ بدلا کیا؟ جن کے تعلقات خراب تھے اپنوں سے، کتنوں نے بڑھ کر گلے لگایا؟ ہاں کرنے والے کاموں کا یارا نہیں۔ جو نہ کرنے والے لایعنی کام ہیں اُن میں آخری عشرہ برباد کرنا کون سی نیکی ہے؟ مثلاً ہر اک کو اِن باکس کرنا کہ لیلۃ القدر ہے مجھے معاف کردیں۔ آپ نے ہمارا کیا بگاڑا ہے، معافی تو اُن سے مانگیں جن کی حق تلفی کی ہے۔
ہر اک سے دعا کی درخواست کرنا کہ پلیز مجھے ضرور مقدس رات دعا میں یاد رکھیں۔ سوچیں آپ کس کے لیے دعا کرتے ہیں؟ جو آپ کا محسن ہوتا ہے، آپ دیدۂ تر کے ساتھ اُس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جس نے برے وقت میں آپ کو مشکل سے نکالا ہوتا ہے اُس کا چہرہ آپ کی نظروں میں رہتا ہے، جن کے ساتھ آپ نے احسان کا معاملہ کیا ہو وہ خود آپ کو بار بار احساس دلاتے ہیں کہ آپ ان کی دعا کا حصہ ہیں۔
اگر ہماری خواہش ہے کہ ہم لوگوں کی دعا کا حصہ بنیں، تو یہ کارِ خیر واٹس ایپ میسج اور فیس بک کی پوسٹ سے نہیں ہونے جارہا۔ نیت کریں کہ خدا کی خلق کے دکھ بانٹیں گے تاکہ ان کی دعاؤں کا حصہ بنیں۔ یہ طاق راتیں فیس بک پر منانے کے لیے نہیں ہیں، یہ عشرہ اس لیے نہیں کہ دعا بھی دوسرے ہی کرلیں ہمارے لیے۔ یہ رجوع کا عشرہ ہے کہ خود روٹھے ہوئے رب کو منائیں، خود اپنا محاسبہ کریں کہ اگر مشکلات ہیں تو کیوں ہیں؟ بہت ممکن ہے رب ہمارے پلٹنے کا منتظر ہو۔ یہ اعتکاف کا عشرہ ہے کہ کٹ رہو دنیا سے، اپنی سوچوں، اپنے معمولات کی تشہیر سے گریز کریں۔ فیس بک کے مالکان تو خوش کہ رمضان میں اُن کی ویلیو اور بڑھ گئی، مسلمانوں نے سحر کے اوقات میں بیس لاکھ گھنٹہ زیادہ فیس بک استعمال کی عام دنوں سے۔
اگر ہم اپنی وابستگیاں، اپنے شوق، وقت کے ضیاع کا احساس… کچھ بھی نہ کرسکے تو رمضان کتنا دکھی واپس جائے گا کہ میں ان لوگوں پر طلوع ہوا جو لعلکم تتقون کا فلسفہ ہی نہ سمجھ سکے۔ مولا رحم کردیجیے ہم پر… رحم کے سوا کوئی معاملہ نہ کیجیے گا۔

حصہ