میری جنت

18

ارم طاہر
درِمیانہ قد، گندمی رنگت، چہرے پر ملائمت کی جھلک، بات میں نرمی اور مروت، انداز میں انکسار و عاجزی۔ کنیز فاطمہ میری پیاری امی جان ہیں، جو رضائے الٰہی سے 14 جنوری 2015ء کو اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔ ان کے لیے ’’تھی‘‘ لکھتے ہوئے میرے قلم کی نوک کتنی بار میرے اشک سے بھیگی یہ میں کیسے بتا سکتی ہوں! اس کیفیت کو وہی محسوس کرسکتے ہیں جو اپنی جنت، اپنی چھائوں کھو چکے ہیں۔
میرے والد کے انتقال کے بعد 21 سال تک وہ ہمیں ماں اور باپ دونوں بن کر سنبھال رہی تھیں۔ ہمیں جب بھی اپنے والد کی کمی محسوس ہوئی وہ باپ کا سا سائبان لیے ہمارے سروں پر تن جاتی تھیں۔ ہر مشکل وقت کو کس صبر و استقلال سے گزارنا ہے اس کا چلتا پھرتا نمونہ میری ماں تھیں۔
جب سے ہم نے شعور کی آنکھ کھولی، اپنی امی کو آس پڑوس کے معصوم بچوں کو قرآن پڑھاتے دیکھا۔ پہلے صرف ناظرہ پڑھایا کرتی تھیں، تقریباً تیس، چالیس کے قریب شاگرد قرآن پڑھنے ہمارے گھر کی چھت پر ایک مدرسے کا سماں باندھ دیتے تھے۔ پھر امی نے قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھا اور اس کو آگے پہنچانے کا فریضہ اپنے ذمے لے لیا۔ دن رات کی قید سے آزاد، کوئی وقت ایسا نہ ہوتا جب امی کی کوئی شاگرد ان سے قرآن سیکھنے نہ آئی ہوئی ہو۔ ساتھ ساتھ ہم بہن بھائیوں کی تربیت بھی جاری رہتی جس میں شرع کا بالخصوص خیال رکھا جاتا۔ امی انتقال سے تین چار سال پہلے تک آس پڑوس کے بچوں کو پیسے دے کر قرآن کا ترجمہ پڑھانے کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ میرے اور بہن بھائیوں کے بچوں کو ہر آیت ترجمہ سے پڑھنے کے دس روپے مقرر کررکھے تھے۔ بچے ان سے لالچ میں زیادہ آیات پڑھتے اور اپنی پاکٹ منی بڑھاتے رہتے، پھر خود ہی شوق اور لگن میں آگے بڑھتے چلے جاتے۔ کہتی تھیں کہ مجھے بچوں کو پاکٹ منی تو دینی ہی ہے تو کیوں ناں قرآن سے جڑ کر ان میں شوق پیدا کرکے دوں۔ ہم ان کی فہم و فراست کی داد دیتے اور اپنے بچوں کی قرآن سے لگن دیکھ کر مطمئن ہوجاتے تھے۔
بڑی بہن اور بہنوئی کے انتقال کے وقت جس طرح انہوں نے یتیم بچوں کو سہارا دیا اس کا تو ایک زمانہ گواہ ہے۔ میری باجی مختار سلطانہ کے انتقال کے وقت میری بھانجیوں کی عمریں بلوغت کو پہنچ چکی تھی اور معصوم سا بھانجا 7 سال کا تھا جو اپنی ماں سے چمٹ کر سوتا تھا اور خوب ضد کرتا تھا۔ اس ننھے فرشتے کو اپنے سینے میں سموکر اس طرح ان بچوں کا سایہ بن گئیں کہ وہ اپنا غم بھول کر نانی امی کے دستِ شفقت کے نیچے آگئے اور صبر و سکون سے اپنے ماں باپ کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کے لیے قرآن حفظ کرنے لگے۔
عبدالرحمن جو آج ماشاء اللہ چوبیس سال کے کڑیل جوان اور حافظِ قرآن ہیں، اپنی جان سے زیادہ پیاری نانی امی کو لحد میں اتارتے وقت آنسوئوں اور ہچکیوں سے رو رہے تھے، گواہ ہیں کہ نانی امی نے ماں اور باپ کے رحلت فرمانے کے بعد ان کے لیے صدقۂ جاریہ کا کیسا اچھا انتظام حافظِ قرآن بناکر کیا۔ چار سال پہلے آخری بھانجی کی شادی کے بعد میری امی جان آہستہ آہستہ اپنی صحت کی تنزلی کی طرف گامزن ہوچکی تھیں۔ اپنی بڑی دختر نیک اختر کی جدائی کے کٹھن سترہ، اٹھارہ سال گزارنا اور پھر نواسیوں کی شادی کے اہم فریضے سے نبرد آزما ہونا کوئی آسان کام تھوڑی تھا، اسی دوران تبلیغِ دین اور فلاحی کاموں میں اپنے آپ کو وقف کرتے کرتے اپنی صحت کی بھی پروا نہیں کرتی تھیں۔ قرآن پڑھنا اور پڑھانا ترجمے کے ساتھ، اور ناظرہ ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ میں ان کی پانچویں اولاد ہوں۔ الحمدللہ مجھے دیکھ کر اور میرے پاس آکر ان کو جو تقویت حاصل ہوتی تھی اس کے کئی لوگ گواہ ہیں، حالانکہ میں اپنی مصروف زندگی سے بہت ہی کم وقت اُن کی نذر کرتی تھی، پھر بھی میں اُن کو اپنے گھر لاکر مطمئن ہوجاتی تھی کہ وہ اکیلی نہیں۔ مجھے کاموں میں مصروف دیکھ کر حتی الامکان میری دل جوئی میں لگی رہتی تھیں اور صرف دعائیں تھیں جو اُن کو چائے دیتے وقت، کھانا کھلاتے وقت میرے چاروں طرف طواف کرتی رہتی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کہ میری کتنی مشکلیں، پریشانیاں، مسائل میری ماں، میری جنت کے آنے سے صفر ہوجاتے تھے۔ اکثر تو ایسے معجزے ہوجاتے کہ میرے بچے بھی حیران ہوکر پوچھتے ’’امی یہ کیسے ہوگیا!‘‘ کبھی UPS جو عرصے سے خراب پڑا ہوا تھا اچانک چلنے لگ جاتا، کبھی کہیں سے کوئی خوش خبری مل جاتی کہ آپ کے بزنس میں فائدہ ہوکر اتنا امائونٹ بڑھ گیا۔ میں اس سب کو اپنی امی جان کے بابرکت قدموں کی دین سمجھتی ہوں، اور وہ دعائیں جو مستقل میرے پیچھے ڈھال بن کر، کبھی سایہ بن کر چلتی تھیں۔ انتقال سے تین دن پہلے سے میری امی کی زبان پر جو کلمہ، آیت کریمہ اور بیماری کی دعائیں جاری ہوئیں وہ زبان پر اُس وقت تک تھیں جب تک قضائے الٰہی کا عندیہ نہ آگیا۔ صرف بیس پچیس دن بستر پر گزارے جب بیٹھنے کی بھی سکت نہیں رہی تھی، ورنہ یہ دعا کہ اے اللہ آخری وقت میں چلتے ہاتھ پیر میں تیرے حضور جائوں، ایسی پوری ہوئی کہ اللہ نے نیند میں ہی اپنے پاس بلا لیا۔
جب تک ان میں سکت تھی دین کے کاموں میں خود بھی لگی رہیں اور اپنے ساتھ اپنے خاندان، پڑوس اور ہم اولادوں کو بھی لگائے رکھا۔ مجھے یاد ہے کہ تیس سال پہلے جب امی کی صحت اچھی تھی، ہم عزیز آباد میں رہتے تھے، وہاں کی مدرسہ درس و تدریس کے لیے جاتے وقت امی کو کہہ جاتیں، اور میری پیاری ماں اُن کے بچوں کے لیے کھانا وغیرہ پکاکر اُن کے گھر لے جاتیں۔ بہت پیار اور اہتمام سے ان کو کھلا کر آتیں کہ دین کے کام میں اگر میں نہ جا سکی تو اس کے کام کے لیے نکلنے والوں کی معاونت تو کرسکتی ہوں۔ ہمیں بھی ہمیشہ اسی طرح اکسایا کہ اگر بچے چھوٹے ہیں تو بھی ان کو لے کر اللہ کے کاموں میں حصہ دار بنو، آگے یہی بچے تمہارے لیے صدقۂ جاریہ بنیں گے۔ خود بھی بڑھ چڑھ کر ہر کام میں اللہ کی رضا کے لیے معاون بن جاتی تھیں۔ بفرزون میں شفٹ ہونے کے بعد علاقے کے ایک ایک گھر میں جاکر دعوت دیتیں۔ کوئی ایسا گھر نہ ہوگا جہاں میری امی کے قدم نہ پہنچے ہوں۔ دین کی دعوت دینے کے لیے آج ان کی مطمئن اور پُرنور بند آنکھیں اور کان ہر طرف سے ان کے لیے گواہیاں بنی آوازیں سن رہے ہوں گے۔ پورے تین دن اور تین راتیں کون سی سانس تھی جو بغیر کلمے کو ان کو آئی ہو! اللہ اللہ کیسا شان دار استقبال ہوا ہوگا میری پیاری امی کا وہاں، جہاں کا وعدہ اللہ نے اپنے نیکوکار بندوں کے لیے کر رکھا ہے۔ سبحان اللہ میری پیاری امی کی دعائوں کا حصار ہم اولادوں کو ہمہ وقت گھیرے رکھتا۔

لاکھ اپنے گرد حفاظت کی لکیریں کھینچوں
ایک بھی ان میں نہیں ماں کی دعائوں جیسی

وہ آخری دن میری آنکھوں سے، آنکھ کی پتلی سے محو نہیں ہوتا جب میں نے اپنی امی کی بند آنکھوں کے پیچھے موت کی خاموشی محسوس کی۔ کاش وہ خاموشی محسوس کرنے والی میں نہ ہوتی، کوئی اور بیٹی یا بیٹا ہوتا۔ میں ہی کیوں اس اندوہناک خبر کی پہلی پیامبر بنی! کاش وقت لوٹ آئے اور میں اپنی آنکھوں میں وہ منظر سمو لوں جب میری امی حیات تھیں۔ وہ دعائوں کا حصار، وہ اٹھے ہوئے ہاتھ، وہ ہلتے ہوئے ہونٹ جس میں میرے اور میرے بچوں کے لیے ان گنت دعائیں چھپی تھیں۔ صرف ہم اولاد ہی نہیں، کون ہے جو اُن سے ملا ہو اور بغیر دعائوں کے واپس مڑا ہو! چاہے وہ گھر میں کام کرتی ملازمہ کی ننھی بیٹی ہو، چاہے راہ چلتے کچرا چننے والے بچے ہوں۔ اپنی پنشن کے پیسوں میں سے دس کے نوٹ والی گڈی الگ رکھتی تھیں جو صرف بچوں کے لیے مخصوص ہوتی تھی۔ میری سہیلیوں کے بچے، پڑوس کے بچے، یا پھر میرے بیٹوں کے ننھے ننھے دوست… سب کی نانی امی بن کر ان کو انعام کے طور پر دس کا کڑکڑاتا نوٹ پکڑا رہی ہوتی تھیں۔

حصہ