محنت میں عظمت ہے

37

خاور جتوئی
کسی گاؤں میں علی نامی شخص رہتا تھا، وہ بہت غریب آدمی تھا۔ وہ ہر روز جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر آتا اور شہر میں بیچ دیتا اس سے وہ اپنا اور اپنی بیوی بچوں کا پیٹ پالتا۔ علی کا ایک بیٹا تھا اس کا نام احمد تھا احمد بہت ذہین لڑکا تھا وہ آٹھویں کلاس تک اپنے گاؤں کے اسکول میں پڑھتا رہا اس کی ایک خواہش تھی کہ وہ دل لگا کر خوب محنت کرے تاکہ ان کے والدین سکھ کا سانس لیں سکیں ۔ احمد نے اپنے والد کو شہر میں پڑھنے کے لیے کہا تو احمد کے والد فوراً مان گئے۔
احمد کلاس میں پوزیشن لیتا تھا۔ احمد کے والد نے بمشکل شہر کے اچھے اسکول میں داخلہ کروایا تاکہ احمد پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جائے۔ احمد نے شہر کا ماحول دیکھا تو حیران رہ گیا۔ ہر کسی کے پاس نت نئی چیزیں تھیں۔ وہ جب دیکھتا اس کے دماغ میں بہت سے سوال پیدا ہوتے۔ وہ کئی دن تک خاموش رہا آخر کار اس نے ایک روز سوچا کہ ماسٹر بلال سے پوچھا جائے۔ وہ ان کے پاس چلا گیا۔
احمد نے ہمت کر کے ماسٹر صاحب سے سوال پوچھا ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘ ماسٹر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘ اس نے اگلا سوال تھا ’’کیسے؟‘‘ تو ماسٹر صاحب نے اپنے بیگ سے چاک نکال کر دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘ پہلی لکیر پر محنت لکھا، دوسری لکیر پر ایمانداری اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر (اسکل) لکھا۔
احمد ماسٹر بلال کو چپ چاپ دیکھتا رہا۔ ماسٹر یہ لکھنے کے بعد اس کی طرف مڑے اور بولے’’ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں پہلا زینہ محنت ہے‘ آپ جو بھی ہیں اگر آپ کام کے بدلے کام کریں گے تو کامیاب ہو جائیں گے ۔ مطلب اگر آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہیے آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ ماسٹر نے کہا ’’ہمارے گرد موجود 90 فیصد لوگ سست ہیں ، یہ محنت نہیں کرتے‘‘۔ آپ جوںہی محنت کرتے ہیں آپ 90 فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر 10 فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں۔ آپ ترقی کے لیے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔ اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے۔ ایمانداری چار عادتوں کا پیکیج ہے۔ وعدے کی پابندی‘ جھوٹ سے نفرت‘ زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔
پھر ماسٹر نے بتایا۔ ’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور اسکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے۔ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔ آپ کے دماغ میں بس اتنا ہو کہ میں محنت کروں گا تو کامیاب ہوں۔
احمد ماسٹر صاحب کی باتیں بہت غور سے سن رہا تھا۔ ماسٹر نے یہ بھی بتایا کہ ’’میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا، کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی اور میں نے دنیا کے بے شمار بے ہنر افراد کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا، کیوں؟کہ وہ محنتی تھی۔ تم ان 3لکیروں پر چلنا شروع کر دو۔ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے‘‘۔
ماسٹر صاحب کی باتیں احمد کے دماغ پر گھر کر چکی تھیں۔ احمد نے مکمل ارادہ کرلیا تھا کہ اب وہ ان تین لکیروں پہ عمل کرے گا۔ کامیابی اسی میں تھی۔ کچھ ہی دن گزرے کہ احمد ان کامیاب لوگوں میں سے ایک تھا جو کی لوگ مثال دیا کرتے تھے۔
تو بچو! احمد کی طرح آپ بھی اگر ماسٹر صاحب کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرنے لگ جائیں تو کامیاب ہوجائیں گے۔ اگر آپ پوری ایمانداری اور محنت سے کام کریں گے تو کوئی کام نہ ممکن نہیں ہوگا۔

حصہ