’’محبت رقص کرتی ہے‘‘ کی تعارفی تقریب

173

ڈاکٹر نثار احمد نثار
ممتاز صحافی‘ سینئر کالم نویس‘ براڈ کاسٹر اور شاعر اقبال سہوانی کے شعری مجموعے ’’محبت رقص کرتی ہے‘‘ کی تعارفی تقریب جیم خانہ کلب کراچی میں منعقد ہوئی جس کے آرگنائزر تھے تحریک نفاذ اردو اور انجمن ترقی پسند مصنفین۔ صدارت انوار احمد زئی نے کی۔ ڈاکٹر عالیہ امام مہمان خصوصی تھیں جبکہ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل مہمان اعزازی تھے۔ صاحبِ صدر نے کہا کہ اقبال سہوانی اپنے طالب علمی کے زمانے ہی سے علم و ادب کی طرف مائل تھے ان کی ذہنی سطح اپنے ہم عصر ساتھیوں سے الگ نظر آتی تھی اب یہ اہم لکھاریوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی تقریب بہت کامیاب ہے اس ہال میں علم و ادب کی بہت سی اہم شخصیات موجود ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اقبال سہوانی محبتوں کے انسان ہیں۔ ان کی شاعری کی کتاب ’’محبت رقص کرتی ہے‘‘ ایک ایسا نسخہ ہے جس میں زندگی رواں دواں ہے۔ صاحبِ کتاب زندگی کے تجربات رکھتے ہیں بہ ایں سبب ان کے یہاں آپ بیتی اور جگ بیتی کا اظہار ملتا ہے ان کی شاعری میں تصوف شامل ہے لیکن رومانیت بھی ہے۔ اس موقع پر صاحبِ صدر نے اقبال سہوانی کے بہت سے اشعار بھی کوڈ کیے۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر عالیہ امام نے کہا کہ اقبال سہوانی نے صوفیائے کرام کی زندگی کو نظم کرنے کے ساتھ ساتھ محبت اور ہجر کی کیفیات بھی رقم کی ہیں ان کی اس شاعری کی کتاب میں محبتوں کے پھول کھل رہے ہیں اس کتاب کا ٹائٹل بھی جاذب نظر ہے اور شاعری بھی خوب صورت ہے۔ مہمان اعزازی نے کہا کہ وہ خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے کراچی آئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ادب شعر کا فروغ ایک بہت اچھی کاوش ہے۔ پاکستان اسلامی ریاست ہے لہٰذا شاعروں کو چاہیے وہ غزل کے روایتی مضامین کے علاوہ اسلامی تعلیمات بھی اپنی شاعری میں نظم کریں۔ ناصر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اقبال سہوانی بہت اچھے شاعر اور بہت نفیس انسان ہیں۔ ان کی شاعری ان کی صلاحیتوں کا اظہار ہے انہوں نے خوب صورت اشعار کہے ہیں۔ اقبال سہوانی کے مجموعہ کے پبلشر اقبال فرح نے کہا کہ اقبال سہوانی ایک جینوئن شاعر ہیں ان کی ترقی کا سفر جاری ہے۔ ڈاکٹر لبنیٰ عکس نے کہا کہ اقبال سہوانی ایک علمی و ادبی خاندان کے فرد ہیں ان کی شاعری میں محبتیں ہیں انہوں نے امن کا پیغام دیا ہے۔ فہیم اسلام انصاری نے کہا کہ اقبال سہوانی کی شاعری میں نئی فکر نظر آتی ہے نئے امکانات موجود ہیں انہوں نے اپنے تجربات اور معاشرتی ناہمواریوں کو شاعری میں ڈھالا ہے جب کہ ان کے یہاں تصوف کے مضامین بھی موجود ہیں۔قادر بخش سومرو نے کہا کہ اقبال سہوانی کی شاعری میں خلوص و محبت کا درس ہے تاہم انہوں نے غزل کے تمام روّیوں کو برتا ہے‘ وہ جانتے ہیں کہ اس زمانے کے کیا مسائل ہیں انہوں نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے۔ امجد حسین شاہ نے کہا کہ اقبال سہوانی کی شاعری میں نغمگی اور غنائیت ہیں انہوں نے بہت محنت کی ہے جس کے باعث وہ آج شاعری کے اہم مقام پر فائز ہیں۔ تحریک نفاذ اردو پاکستان کراچی کے صدر نسیم شاہ ایڈووکیٹ‘ انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی کے صدر ضغیم اور دی آرٹ فورم کے صدر نجم الدین شیخ نے بھی اقبال سہوانی کے فن و شخصیت پر سیر حاصل بحث کی ان مقررین کے خیالات کے مطابق اقبال سہوانی جدید لب و لہجے کے شاعر ہیں ان کے استعارے اور تشبیہات قابل ستائش اور معلومات میں اضافے کا سبب ہیں۔ اس موقع پر مسز اقبال سہوانی نے بھی گفتگتو کی جس میں انہوں نے اقبال سہوانی کو محبتوں کا سفیر قرار دیا۔ تقریب کی نظامت قندیل جعفری نے کی۔ تقریب کے منتظمین کی جانب سے صاحبان اعزاز کو سندھی ٹوپیاں‘ گلدستے اور اجرکیں پیش کیں۔

شہناز نور‘ جہاں دیدہ شاعرہ ہیں‘ مسلم شمیم ایڈووکیٹ

بزم یاور مہدی کی 130 ویں تقریب شہناز نور کے اعزاز میں منعقد کی گئی جس کی صدارت ممتاز شاعر و نقاد مسلم شمیم ایڈووکیٹ نے کی جنہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ یاور مہدی ایک علم دوست شخصیت ہیں ان کی سماجی خدمات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا یہ قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے بزم یاور مہدی کے تحت پروگرام ترتیب دیتے ہیں یہ ایک اچھا قدم ہے اس طرح ادیبوں‘ شاعرون کی ماہرانہ صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے‘ یہ کام مختلف تنظیموں کو کرنا چاہیے کیونکہ قلم کار بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں اور یہ لوگ معاشرے کی فلاح و بہبود کے عمل میں حصہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہناز بہت اچھا لکھ رہی ہیں یہ سچے جذبات کی ترجمان ہیں ان کا مجموعہ کلام ’’نشاطِ ہجر‘‘ اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ یہ اپنے علمی و ادبی خانوادے کی ترجمان ہیں۔ ان کے والد اور داد سندھی اور پنجابی کے شاعر تھے ان کے والد کی ایک کتاب 1940ء میں امرتسر سے شائع ہوئی تھی۔ پڑھی لکھی خاتون ہونے کے ناتے بہت سوچ سمجھ کر شعر کہتی ہیں زندگی کے گرم و سرد سے گزری ہیں اسی وجہ سے ان کے یہاں معاشرتی ناہمواریوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ان کے یہاں شکست خوردگی نہیں ہے بلکہ مسلسل جدوجہد کا پیغام ہے‘ ان کے بے شمار شعر حالتِ سفر میں ہیں وہ کہتی ہیں کہ:

کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئے
میں بجھ رہی ہوں رواداریاں نبھاتے ہوئے
عجیب خوف ہے اندر کی خامشی کا مجھے
کہ راستوں سے گزرتی ہوں گنگناتے ہوئے
کہاں تک اور میں سمٹوں کہ عمر بیت گئی
دل و نظر کے تقاضوں سے منہ چھپاتے ہوئے
کسی کو میرے دکھوں کی خبر بھی ہو کیسے
کہ میں ہر اک سے ملتی ہوں مسکراتے ہوئے
نہیں ملال کہ میں رائیگاں ہوئی ہوں نورؔ
بدن کی خاک سے دیوار و در بناتے ہوئے

کرن سنگھ نے کہا کہ شنہاز نور بہت حوصلہ مند شاعرہ ہیں‘ انہوں نے سماجی مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا انہوں نے مردوں کے معاشرے میں اپنی شناخت بنائی اپنے فن کا لوہا منوایا۔ ایک زمانہ تھا کہ جب ان کے بغیر کراچی میں مشاعرہ ادھورا سمجھا جاتا تھا۔ وقت اور حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ ادبی منظر نامہ بھی بدل جاتا ہے لیکن آج بھی شہناز نور کی شاعری سر چڑھ کر بولتی ہے۔ یہ سندھ کے مختلف شہروں میں ہماری دعوت پر مشاعرے میں شریک ہوتی رہی ہیں ان کا لہجہ متاثر کن ہے‘ ان کے اشعار دل میں اتر جاتے ہیں۔ مہناز حسن زیدی نے کہا کہ شہناز نور ان کے لیے ایک سائے دار درخت کی طرح ہیں جن سے انہیں بہت سکون حاصل ہے۔ فہیم شناس کاظمی نے کہا کہ محبت و خلوص کا نام شہناز نور ہے وہ اشعار میں ہماری زندگی کا تصاویر پینٹ کرتی ہیں ان کی شاعری میں گہرائی و گیرائی ہے۔ تقریب کے ناظم ندیم ہاشمی نے کہا کہ شہناز نور ادبی منظر نامے کا درخشاں باب ہیں ان کا ترنم شان دار ہے‘ ان کی شاعری جان دار ہے۔ ڈاکٹر عین الرضا نے شہناز نور کے لیے فی البدیہہ قطع پیش کیا۔ اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی شیخ راشد عالم‘ ندیم ہاشمی اور مسلم شمیم نے شہناز نور کی خدمت میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ بزم یاور مہدی کی جانب سے صدر محفل‘ مہمان خصوصی اور مہمان اعزازی شہناز نور کو گلدستے پیش کیے۔ اس موقع پر افطار ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

۔’’زرد پتوں کابن‘‘ کی تقریب پذیرائی

گزشتہ دنوں امریکا سے تشریف لانے والی شاعرہ عشرت آفرین کی کلیات ’’زرد پتوں کا بن‘‘ کی تقریب پذیرائی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زہرہ نگار نے کی۔ مقررین میں پروفیسر سحر انصاری‘ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم‘ فاضل جمیلی‘ آصف فرخی‘ عقیل عباس جعفری شامل تھے۔ شاہدہ حسن نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر پیرزادہ نے کہا کہ عشرت آفرین کے یہاں پاور فل نظمیں ملتی ہیں جن میں خوب صورت حروف‘ خوش نما استعارے نظر آتے ہیں۔ لڑکی‘ دھوپ‘ پیلے پھول‘ اداس خوشبو‘ بارش‘ دوپہر‘ آنگن ان کی غزلوں کی ردیفیں ہیں جن میں کمال کی شاعری ہے ان کے اشعار میں ماضی‘ حال اور مستقبل کے احوال ملتے ہیں‘ ان کی تخلیقات میں مختلف اقسام کی خوشبوئیں ہیں جو ہمارے ذہن و دل کو معطر کرتی ہیں۔ شاہدہ حسن نے کہا کہ عشرت آفرین کی شاعری علم و آگہی اور گہرے مطالعے کی پیغام بر ہے۔ ان کے استعارے اور تشبیہات گہری معنویت کے حامل ہیں۔ سحر انصاری نے کہا کہ ان کی شاعری کا حوالہ بہت اہم ہیں میری دعا ہے کہ یہ مزید ترقی کریں۔ صاحب اعزاز عشرت آفرین نے کہا کہ ان کے لیے یہ ایک یادگار تقریب ہے کہ جس میں زندگی کے مختلف شعبوں کے کچھ اہم لوگ موجود ہیں۔ آج کچھ ایسی شخصیات بھی یہاں رونق افروز ہیں کہ جن سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر رفاع عام سوسائٹی میں ماضی کی بزم علم ودانش کا بھی تذکرہ کیا جہاں جون ایلیا‘ فہمیدہ ریاض‘ زاہدہ حنا‘ سبط حسن اور علم و ادب کی بہت سی قابل ذکر ہستیاں شریک ہوتی تھیں۔ انہوں نے اپنی نظمیں اور غزلیں سنا کر خوب داد سمیٹی۔ تقریب کی صدر زہرہ نگار نے صدارتی خطبے میں کہا کہ عشرت کی شاعری پسند کرتی ہیں اور عشرت بھی انہیں بہت عزیز ہے کہ جنہوں نے اپنی شاعری میں معاشرتی اقدار کو نظم کیا ہے ان کی شاعری میں شکایات اور حکایات کے علاوہ محبت کی چاشنی بھی ہے جو ہمارے ذہن و دل میں علم و آگہی کے نئے نئے باب کھولتی ہے۔

غزل

حبیب الرحمن

ہونٹوں پر مسکان سجاکر دل میں پیار جگا سکتے تھے
نفرت دوری بغض و حسد کی سب دیواریں ڈھا سکتے تھے
زلفوں کے سر کر لینے کو سختی نے دشوار بنایا
ورنہ ہر دل کی بستی میں دل کے رستے جا سکتے تھے
خود ہی لاکھوں روگ لگائے پاگل دل کو ورنہ ہم بھی
اس دنیا کی سب راہوں پر ہنستے گاتے جا سکتے تھے
روز و شب اس کی گلیوں میں آنا جانا ٹھیک نہیں تھا
مانا بات سہی تھی لیکن کیا دل کو سمجھا سکتے تھے
دنیا نے جب تم سے پوچھا تم خاموش رہے تھے، ہم بھی
اے بے درد زمانے والو کوئی بات بنا سکتے تھے
ہر فتنے کی آگ کے شعلے سرد کیے ہیں ورنہ یارو
جوشیلے نعروں سے ہم بھی جذبوں کو بھڑکا سکتے تھے
اس کی باتوں کے افسوں سے ہم واقف تھے لیکن کتنے
سیدھے بھولے سچے سادے بہکائے میں آ سکتے تھے
دائیں بائیں آگے پیچھے کتنے تھے جب وقت پڑا تو
ہم بھی ان جیسے ہوتے تو تجھ کو چھوڑ کے جا سکتے تھے
دنیا والوں کے پہلو میں دل کب تھا پتھر رکھا تھا
ورنہ مظلوموں کے آنسو سینوں کو دھڑکا سکتے تھے
ہم بھی سب جیسے ہوتے تو کوئی خطاب اچھا سا پا کر
مولوی مفتی سر علامہ مولانا کہلا سکتے تھے
صبر ہمیں تعلیم ہے ورنہ اے بے درد زمانے والو
مظلوموں کی آہیں بن کر فرش سے عرش ہلا سکتے تھے
نہ کوئی دریا اور نہ سمندر جس کو ٹھنڈا کر سکتا تھا
ہم اپنے شعروں سے دلوں میں آگ ایسی بھڑکا سکتے تھے
کن کے پاس گئے تھے ہم بھی گل پاشی کی آس لگائے
پتھر بستی والے پتھر، پتھر ہی بر سا سکتے تھے
جرات ہمت بے باکی سچائی حق گوئی کے صلے میں
ہم تھے، تیر و تبر کے چرکے جو سینے پر کھا سکتے تھے
طعن کے طنز کے دشنامی کے ،پتھر ، اور حبیبؔ کے ہوتے
کون تھے اتنی جرات والے جو تم پر برسا سکتے تھے

حصہ