فلسطین میں قتلِ عام اور عالمِ اسلام

107

عبدالغفار عزیز
ذرہ برابر عدل و انصاف اور رتی بھر انسانیت بھی باقی ہو تو14 مئی 2018ء سرزمین فلسطین پر غاصبانہ صہیونی قبضہ بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ایک ہی دن میں درجنوں لاشے تڑپا کر اور ہزاروں شہری زخمی کرتے ہوئے بیت المقدس پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کا پیغام دیا جارہا تھا۔ گذشتہ ۰۷برس سے اسی طرح ایک ایک قدم اْٹھاتے ہوئے فلسطین کی سرزمین ہڑپ اور قوم کو موت کے گھاٹ اْتارا جارہا ہے۔ فلسطین کی جگہ نام نہاد اسرائیلی ریاست کے قیام کی 70ویں ’برسی‘ کے موقعیپر امریکی صدر نے ایک ارب 70کروڑ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا۔
اہل فلسطین اس منحوس اعلان کے بعد سے مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔30 مارچ سے انھوں نے مسیرۃ العودۃ (واپسی کا سفر) کی حالیہ تحریک شروع کردی۔ صہیونی افواج نے نہتے فلسطینیوں کے ان جلوسوں پر تباہ کن فائرنگ اور زہریلی گیسوں کی بارش کر دی۔ صرف گذشتہ دو ماہ میں ۰۰۲سے زائد بے گناہ فلسطینی شہری شہید اور ۰۱ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ لیکن صدا?فرین کہ اہلِ فلسطین کی ’واپسی کا سفر‘ جاری ہے۔ مسلسل جنازے بھی اْٹھ رہے ہیں۔ خوف زدہ ہونے کے بجاے وہ جنازوں کو بڑے جلوسوں میں بدل دیتے ہیں۔ اللہ اکبر اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ پسندیدہ ترین نعرہ یہ ہوتا ہے: ہم القدس جارہے ہیں خواہ لاکھوں شہید ہوجائیں اور: لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ ، الشہید حبیب اللہ۔ یہ صرف نعرے نہیں دنیا کے سامنے یہ حقیقت بیان کی جارہی ہے کہ گھر کا مالک کوئی اور ہے۔ قتل و غارت، غنڈا گردی اور امریکی سرپرستی میں کوئی دوسرا اس پر قبضہ جمانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔

فلسطین کے خلاف صہیونی سازشیں

سرزمین مسجد اقصیٰ پر تسلط کی یہ کوششیں 70سال سے ہی نہیں، 121سال پہلے سے جاری ہیں۔29اگست 1897ء کو سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل (Basel ) میں اس مکروہ منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا گیاتھا۔ کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا تھا: ’’صہیونیت کا ہدف سرزمین فلسطین پر یہودی قوم کا علانیہ و قانونی قیام ہے‘‘۔اس صہیونی تحریک کا بانی اور یہودی ریاست کا اعلان کرنے والا آسٹریا کا ایک یہودی رہنما تھیوڈ ورڈ ہرٹزل تھا۔ اس کانفرنس میں چار اقدامات کا اعلان کیا گیا:
-1 دنیا بھر کے یہودیوں کو فلسطین کی طرف ہجرت کا قائل اور ضرورت پڑنے پر مجبور کیا جائے۔
-2 دنیا کے تمام یہودیوں کو مختلف مقامی اور عالمی تنظیموں کے تحت متحد اور منظم کیا جائے۔
-3 یہودیوں کے دل میں اپنی قومیت اور وطنیت کے جذبات اْجاگر کیے جائیں۔
-4 اس صہیونی ہدف کے لیے ہر ممکن عالمی تائید و سرپرستی حاصل کی جائے۔
واضح رہے کہ اس کانفرنس کا انعقاد بنیادی طور پر جرمنی کے شہر میونخ میں ہونا طے پایا تھا۔ وہاں بہت مؤثر اور متمول یہودی آبادی مقیم تھی۔ لیکن خود اس یہودی آبادی نے ہی وہاں کانفرنس کا انعقاد مسترد کردیا۔ بالآخر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی حدود پر واقع شہر میں یہ پہلی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس سے پہلے اور بعد میں کئی مواقع پر یہ تجویز بھی زیربحث آئی کہ مجوزہ صہیونی ریاست ارجنٹائن یا یوگنڈا میں قائم کی جائے۔ ایک موقعے پر یہ برطانوی پیش کش بھی سامنے آئی کہ وہ یوگنڈا میں اپنے زیرتسلط 9 ہزار مربع کلومیٹررقبہ اس ریاست کے لیے دینے کو تیار ہے۔ لیکن یہ تمام تجاویز مسترد کردی گئیں کہ فلسطین کے علاوہ کسی بھی جگہ یہودیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے مذہبی بنیاد نہ ملتی تھی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلسل کانفرنسوں کے انعقاد، چار نکاتی ایجنڈے پر تیزی سے عمل درآمد اور برطانوی، فرانسیسی اور پھر کامل امریکی سرپرستی کے نتیجے میں 14 مئی 1948ء کو اُمت مسلمہ کے قلب میں اس صہیونی ریاست کا مسموم خنجر گھونپ دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن لاکھوں فلسطینی عوام مختلف کیمپوں میں یا بے مروت معاشروں اور ملکوں میں مہاجرت کی خاک چھان رہے ہیں۔ سرزمینِ فلسطین پر ہزاروں سال سے بسنے والے اصل باشندے دہشت گرد اور انھیں مسلسل شہید و زخمی یا بے گھر کرنے والے قاتل اور مالک قرار دیے جارہے ہیں۔
سرزمین فلسطین پر قبضے کی اس داستان الم میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی ہے۔ تقریباً سواسو سال پر محیط اس پورے عرصے میں جتنے بھی عالمی منصوبے، تقسیم کے فارمولے اور صلح کے معاہدے ہوئے، ان تمام معاہدوں اور نقشوں میں بیت المقدس کو مستثنیٰ قرار دیا جاتا رہا۔ ہمیشہ یہی کہا گیا کہ اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ صہیونیت کے علَم بردار اور ان کے سرپرست جانتے ہیں کہ اپنے نبی کے قبلۂ اوّل کا مسئلہ پوری اْمت مسلمہ کے لیے کیا مقام رکھتا ہے۔ اگرچہ عملاً تو اس وقت بھی پورا بیت المقدس صہیونی افواج کے نرغے میں ہے۔ وہاں ہزاروں جدید ترین یہودی بستیاں تعمیر کرکے لاکھوں یہودیوں کو آباد کیا جاچکا ہے۔ مزید بستیوں کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے، لیکن آج بھی تمام عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے ضابطوں اور عالمی طاقتوں کے اعلانات کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔
اپنے مزاج، کردار، بیانات اور اقدامات کی وجہ سے متنازعے ترین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سرخ لکیر بھی عبور کرچکے ہیں۔ ان کا یہودی داماد جیرڈ کشنر اور اس سے شادی کی خاطر عیسائیت چھوڑ کر یہودیت اختیار کرنے والی بیٹی ایوانکا ٹرمپ ان اقدامات کے نفاذ میں پیش پیش ہیں۔ وہ براہِ راست صہیونی رہنماؤں سے ہدایات لیتے او رعلانیہ ان کا اظہار و اقرار کرتے ہیں۔ اس پورے منصوبے میں وہی مختلف ممالک کے دورے اور مختلف حکمرانوں کے ساتھ ساز باز کررہے ہیں۔ 14اگست کو بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کا افتتاح بھی انھوں نے اور ان کے ہمراہ آنے والے 55امریکی سرکاری ذمہ داران نے کیا۔ یہ امر یقینا اتفاقیہ نہیں کہ اس اعلیٰ سطحی امریکی وفد کے سب ارکان یہودی تھے۔ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی سے بظاہر کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی کہ وہاں امریکی قونصل خانہ پہلے بھی کام کررہا تھا۔ اسی عمارت پر اب سفارت خانے کی تختی اور پرچم لگا دیا گیا ہے۔ شہر میں جابجا امریکی سفارت خانے کی راہ دکھانے والے بورڈ لگا دیے گئے ہیں اور بس۔ لیکن اگر اس اقدام کا اصل ہدف اور اہمیت جاننا ہو تو وہ قداآدم تصویر ملاحظہ فرمالیجیے، جو سفارت خانہ قائم ہونے کے 9روز بعد 23 مئی کو بعض یہودی تنظیموں کی طرف سے اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فرائڈ مین (جو خود بھی یہودی ہے) کو پیش کی گئی ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سنیے کہ قہقہوں کے شور میں وصول کی جانے والی اس تصویر میں کہیں مسجد اقصیٰ کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ مسجد اقصیٰ کی جگہ نام نہاد یہودی ہیکل سلیمانی کی شان دار عمارت دکھائی گئی ہے۔ یہی وہ اصل خدشہ ہے جو اہل فلسطین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر واقفِ حال اْمتی کے لیے سوہانِ رْوح بنا ہوا ہے۔

نیا صہیونی منصوبہ:

ٹرمپ حکومت کا جنونی پن صرف سفارت خانے کی منتقلی اور مسجداقصیٰ کی جگہ یہودی ہیکل کی تعمیر تک محدود نہیں ہے۔ خود صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر کوئی انہونی نہ ہوئی تووہ بہت جلد ایک اور تہلکہ خیز اعلان کرنے والے ہیں۔ اس اعلان کو ایک بار پھر امن مذاکرات اور امن معاہدے کا نام دیا جائے گا۔ ’صدی کے سودے‘ (Deal of the Century) منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کو ان مذاکرات کی دعوت تو دی جائے گی، لیکن وہ مانیں یا نہ مانیں دونوں صورتوں میں امریکا خود ہی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے، ایک منصوبہ پیش کردے گا اور کہا جائے گا کہ مسئلہ فلسطین حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے حل کر دیا گیا ہے۔
معروف اسرائیلی ویب سائٹ ’i24 ‘ نے صہیونی خفیہ اداروں کے حوالے سے اس ’جامع حل‘ کے جو خدوخال بتائے ہیں، ان کے مطابق فلسطینیوں کے لیے محدود اختیارات کی حامل ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔اسرائیل اس فلسطینی ریاست کے امن و امان کا ذمہ دار ہوگا۔ بیت المقدس شہر کے کچھ عرب علاقے فلسطینی ریاست کا حصہ ہوں گے، لیکن پرانا شہر (یعنی حرم اقصیٰ کا علاقہ) ’اسرائیلی بیت المقدس‘ کا حصہ ہوگا۔ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت (مسجد اقصیٰ سے دو کلومیٹر دور) ابودیس نامی علاقہ ہوگا۔ غزہ کو بتدریج اس فلسطینی ریاست کا حصہ بنایا جائے گا بشرطیکہ حماس اپنا اسلحہ (بالخصوص میزائل) حکومت کے حوالے کردے۔ ان اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس حتمی حل میں فلسطین سے بے گھر کرکے اپنے ملک سے نکال دیے جانے والے فلسطینیوں کی واپسی کی سرے سے کوئی بات ہی نہیں کی جائے گی۔واضح رہے کہ معروف فلسطینی ’’مرکزِدانش‘‘ (TankThink) الزیتونہ کے مطابق اس وقت فلسطینیوں کی کْل آبادی7.12ملین (ایک کروڑ 27 لاکھ)، ہے جن میں سے49.8ملین (84 لاکھ 90 ہزار) مختلف ممالک میں پناہ گزین کی حیثیت سے جی رہے ہیں۔ یہ کسی بھی ملک کے پناہ گزینوں کا سب سے زیادہ تناسب ہے، یعنی 8.66 فی صد۔ دنیا کا کوئی باضمیر انسان بتائے یہ کیسا منصفانہ حل ہے کہ جس میں لاکھوں انسانوں اور ان کی نسلوں سے ان کی شناخت ہمیشہ کے لیے چھین لی جائے!
ایک سے زیادہ ذرائع سے جاری کیے جانے والے اس منصوبے پر پہلی نظر ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ سابقہ نام نہاد امن منصوبوں ہی کا چربہ ہے۔ ایسے ہر منصوبے، معاہدے اور اعلان کے بعد اہل فلسطین پر ظلم کے مزید پہاڑ توڑے گئے۔ اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتھ خود اہلِ فلسطین کو تقسیم کرتے ہوئے، انھیں ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا گیا۔ مسلم عوام کو یہ دھوکا دیا گیا کہ خود فلسطینیوں نے اسے تسلیم کرلیا ہے تو ہم اسرائیل کو کیوں تسلیم نہیں کرتے؟

(جاری ہے)

حصہ