شریکِ مطالعہ

154

نعیم الرحمٰن
۔1975ء میں مرحوم سید قاسم محمود نے اردو ادب اور ذوقِ مطالعہ کے فروغ کے لیے سستی کتب کی اشاعت کا بیڑہ اٹھایا اور ’’شاہکار‘‘ بکس کا عظیم منصوبہ شروع کیا۔ شاہکار کے تحت دو سے پانچ روپے کی معمولی قیمت میں دنیا کی بہترین کتابوں کو جریدی انداز میں شائع کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت اردو اور عالمی ادب کی بہترین کتابیں جریدی، پاکٹ بکس، منی بکس اور اخبار کی شکل میں شائع کی گئیں، جن میں ابوالحسن اصفہانی کی قائداعظم محمدعلی جناح کی سوانح حیات، ابن انشا کے سفرنامے، مختارمسعود کی کلاسک ’’آواز دوست‘‘، لواسٹوری، اولیور اسٹوری، مجبور آوازیں، تاریخ عالم اوردیگر بے شمارکتابیں شامل ہیں۔ یہی نہیں، شاہکار کے زیراہتمام مختلف موضوعات پر جریدی انداز میں قسط وار انسائیکلوپیڈیاز بھی شائع کیے گئے جن میں اسلامی انسائیکلوپیڈیا، انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا، فلکیات، ایجادات اور کئی اور انسائیکلوپیڈیاز سے اردو زبان کو مالامال کیا۔ شاہکار کی مقبولیت کے بعد ملک کے نامور پبلشرز شیخ شوکت علی اور نیا ادارہ نے بھی جریدی کتب شائع کرنا شروع کیں۔ شیخ شوکت علی اینڈ سنز نے اے حمید کا تحریرکردہ اردو ادب کا لازوال سلسلہ ’’اردو شعر کی داستان‘‘ اور ’’اردو نثر کی داستان‘‘ قسط وار شائع کیں۔ اس طرح قارئین کوکم قیمت میں عمدہ ادب پڑھنے کا موقع ملا۔
اب تقریباً دو دہائیوں کے بعد محترم راشد اشرف نے ’’زندہ کتابیں‘‘ کے زیرعنوان اردو کی نایاب اور شاہکار کتابوں کی ازسرنو اشاعت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ’’زندہ کتابیں‘‘ میں اردو ادب کی لازوال اور طویل مدت سے اشاعت سے محروم کتابوں کو پیپر بیک انداز میں شائع کیا جارہا ہے۔ راشد اشرف صاحب نے بہت مشکل اور بروقت کام شروع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔
اس کتابی سلسلے میں اب تک 10کتب منصۂ شہود پر آچکی ہیں اورکئی عمدہ اور نایاب کتابیں اشاعت کی منتظر ہیں۔
’’زندہ کتابیں‘‘ کی پہلی کتاب ’’بزم داغ‘‘ شائع کی گئی۔ مولانا احسن مارہروی اور افتخار مارہروی کا تحریر کردہ یہ انتہائی دلچسپ روزنامچہ کم وبیش 70 سال سے نایاب تھا جس میں اردو کے بے مثل شاعر داغ دہلوی کی یادداشتیں شامل ہیں۔ یہ نایاب کتاب اردوکے سنجیدہ قاری کے لیے ایک بے مثال تحفے سے کم نہیں۔
کتابی سلسلے کی دوسری اور تیسری جلد مشترکہ اشاعت پذیر ہوئی، جس میں اردوکے معروف اورگمشدہ نثرنگار اور براڈ کاسٹر آغا محمد اشرف کی دوکتابیں ’’لندن سے آداب عرض‘‘ اور ’’دیس سے باہر‘‘ شائع کی گئیں۔ یہ وہی آغا محمد اشرف ہیں جن کی آپ بیتی ’’ایک دل ہزار داستان‘‘ بہت مشہور ہوئی ہے جس میں ایک پورا دور چلتا پھرتا نظرآتا ہے۔ یہ دونوں کتابیں بھی نصف صدی سے نایاب تھیں۔
راشد اشرف صاحب نے بھارت کے مشہور موسیقار نوشاد کی انتہائی دلچسپ اوربہترین آپ بیتی بھی شائع کی۔ یہ آپ بیتی بھارت کے مشہور فلمی اورادبی رسالے شمع دہلی میں بھی قسط وار شائع ہوچکی ہے اورغالباً پہلی بار کتاب کی صورت میں قارئین کے ہاتھوں میں پہنچی۔ موسیقارِ اعظم کی خوب صورت آپ بیتی سے بھارتی فلمی دنیا کے کئی پوشیدہ گوشے عیاں ہوئے۔ فلموں سے دلچسپی نہ رکھنے والے قارئین بھی ایک بار کتاب شروع کرکے ختم کیے بغیر نہیں چھوڑ سکتے۔
مقبول جہانگیر ہمارے انتہائی مشہور اور انتھک صحافی تھے، جنہوں نے گوناگوں موضوعات پر بے شمارکتابیں لکھیں، ان گنت تراجم کیے۔ شکاریات، پراسرار، خوف ناک، جاسوسی، ادبی… شاید ہی کوئی موضوع ہو جس پر مقبول جہانگیرکی تحریر موجود نہ ہو۔ ’’یارانِ نجد‘‘ مقبول جہانگیر کا نایاب خاکوں کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے اپنے دوستوں اور اپنے دورکی کئی شخصیات کے نثری مرقع پیش کیے ہیں۔ ’’زندہ کتابیں‘‘ میں یارانِ نجد جیسی یادگار کتاب شائع کرکے ایک منفرد ادیب کو عمدہ خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
اس کے بعد چراغ حسن حسرت کے بارے میں کتاب ’’ہم تم کو نہیں بھولے‘‘ بھی بہت عمدہ کتاب ہے۔ چراغ حسن حسرت کی ادبی اور صحافتی خدمات سے کون واقف نہیں! لیکن ’’آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل‘‘ کے مصداق ہم اپنے مشاہیر کو جلد بھلا دیتے ہیں۔ یہ کتاب چراغ حسن حسرت کو یاد کرنے کا اچھا ذریعہ ثابت ہوگی۔ ان کی بے مثال نثرکا مطالعہ ہمارے نوآموز صحافیوں کے لیے بہت اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔


معروف کالم نگار نصراللہ خان سے اردو کا کون سا قاری واقف نہیں ہے! اُس دور میں جب ٹی وی چینل موجود نہیں تھے، اخبار ہی خبرکا واحد ذریعہ ہوتے تھے اورکسی روزنامے میں زیادہ کالم شائع نہیں کیے جاتے تھے، اُس دور میں جن کالم نگاروں نے شہرت حاصل کی اُن میں چراغ حسن حسرت، عبدالمجید سالک، ابراہیم جلیس، مجید لاہوری، انعام درانی اور نصراللہ خان شامل ہیں۔ نصراللہ خان کا شخصی خاکوں کا مجموعہ ’’کیا قافلہ جاتا ہے‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ یہ کتاب بھی طویل مدت سے نایاب تھی اورصاحبِ ذوق قاری اس کی جستجو میں تھے۔ ’’کیا قافلہ جاتا ہے‘‘ کو شائع کرکے راشد اشرف نے ادب کی بڑی خدمت کی ہے۔ نصر اللہ خان کی غیر مطبوعہ آپ بیتی ’’اک شخص مجھی سا تھا‘‘ بھی ’’زندہ کتابیں‘‘ کے آئندہ اشاعتی پروگرام میں شامل تھی جس کا ادب کے متوالوں کو بے چینی سے انتظار تھا، لیکن اب اس کتاب کا ذکر بھی نہیں آرہا، اس سلسلے میں وضاحت ہونی چاہیے۔
’’بھوپت ڈاکو کی سوانح عمری‘‘ بھی شائع ہوچکی ہے۔ اردوکے صاحبِ طرز ادیب ملا واحدی کے بارے میں ان کے معاصرین کی رائے پر مبنی کتاب ’’ملا واحدی معاصرین کی نظر میں‘‘ ایک عمدہ کتاب ہے جو قارئین کی نذر کی گئی۔ اردو کے منفرد جاسوسی ناول نگار ابن صفی کے بارے میں کتاب ’’ابن صفی، کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا‘‘ بھی مصنف کے پرستاروں کے لیے ایک عمدہ تحفہ ہے۔
ادارے کی جانب سے مشہور بھارتی ادیب رام لعل کی آپ بیتی ’’کوچۂ قاتل‘‘ بھی پاکستانی قارئین کے لیے تحفۂ خاص کی حیثیت رکھتی ہے جس میں بھارتی ادبی سرگرمیوں اور معروف ادبا کے بارے میں معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ اگلی کتاب معروف ادیب اور براڈ کاسٹر اخلاق احمد دہلوی کی خودنوشت ’’یادوں کا سفر‘‘ ہے۔ یہ بھی ایک نایاب کتاب ہے جس کی عرصۂ دراز سے ادبی دیوانوں کو تلاش تھی۔
’’طرزِ بیاں اور‘‘ پرانی کتابوں کا اتوار بازار، کتابوں پر تبصرے، خاکے، مقالے اور بہت کچھ اس میں شامل ہے۔ یہ بھی ایک عمدہ اور یادگار کتاب ہے۔ اس کے بعد اختر حمید خان کی ’’سفرِ امریکا کی ڈائری‘‘ زندہ کتابیں کے سلسلے کی بارہویں کتاب ہے۔ علی سفیان آفاقی کی کتاب ’’چاند چہرے‘‘ میں مدھو بالا، مینا کماری، ریکھا اور ہیما مالنی کی یادوں کو تازہ کیا گیا ہے۔ فلم سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک دل چسپ کتاب ہے جس میں بہت کچھ نیا اور انوکھا پڑھنے کو ملتا ہے۔ ادارے کی تازہ ترین اشاعت مشہور صحافی اور دانش ور مجاہد بریلوی کی والدہ سیدہ انیس فاطمہ بریلوی کی دونایاب کتب ہیں جو کہ ایک ساتھ شائع ہوئی ہیں۔ کوئی پچیس سال قبل ان میں سے ایک کتاب’’یادیں اور خاکے‘‘ نظر سے گزری تھی۔ ’’اَن کہی کہانیاں‘‘ اس میں عام انسانوں کے دلدوز خاکے شامل ہیں۔ لیکن اے حمید کے لکھے شخصی خاکوں پر مبنی کتاب ’’سنگ دوست‘‘ اشاعتی پروگرام میں شامل ہونے کے باوجود اب تک منظرعام پر نہیں آئی۔ مستقبل کے پروگرام میں بھی اے حمید کا سوانحی ناول ’’ڈربے‘‘ اور ’’امرتسر کی یادیں‘‘ شامل ہیں۔
ادب دوستوں کی خواہش ہے کہ راشد اشرف ’’زندہ کتابیں‘‘ کا یہ اشاعتی سلسلہ جاری رکھنے میں کامیاب ہوں اور مزید نایاب کتابیں اشاعت پذیر ہوتی رہیں۔ لیکن اس کے لیے کتاب دوستوں کا تعاون لازمی ہے۔ صاحبِ طرز ادیب، صحافی اور دانش ور چراغ حسن حسرت کی شخصیت اور تصانیف پر مبنی کتاب صرف 100 کی تعداد میں شائع ہوئی ہے۔ اردو کتب کا ہزار، پانچ سو اور تین سو کی تعداد سے گھٹ کر سو تک پہنچ جانا لمحہ فکریہ ہے۔ اس صورت میں راشد اشرف جیسے ادب کے خدمت گار کس طرح کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے! تاہم تازہ کتاب 400 کی تعداد میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کچھ بہتر ہے۔
٭٭٭
بڑے اوراہم ادبی جرائدکے ساتھ محترم ضیا الرحمن ضیا کئی سال سے ایک شاندار ’’ادبی ڈائجسٹ‘‘ شائع کر رہے ہیں جس میں عمدہ سفید کاغذ پر بہترین پرنٹنگ کے ساتھ اردوکی یادگار منتخب تحریریںشائع کی جاتی ہیں۔ صوری اور معنوی اعتبار سے اس خوب صورت جریدے کی قیمت 200 روپے معقول ہے۔ موجودہ دور میں ضیا الرحمن ضیا انتہائی خاموشی سے پس منظر میں رہتے ہوئے ادب کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی تحسین کی جانی چاہیے۔
حال ہی میں ادبی ڈائجسٹ کا پندرہواں شمارہ منظرعام پر آیا ہے، جس کا آغاز سرور انبالوی کی خوب صورت نعت سے ہوا ہے:

شعورِ زیست کب واقف تھا استدراک سے پہلے
جہان نے آگہی پائی حضورِ پاک سے پہلے
سرور انبالوی وہ تھے مزمل اور مدثر بھی
نہ جچتی تھی کوئی پوشاک اس پوشاک سے پہلے

مرحوم شفیع عقیل کا ’’مولانا چراغ حسن حسرت‘‘ پر مضمون اس شمارے کا تحفۂ خاص ہے۔ شفیع عقیل نے ادب، صحافت، مصوری اور دیگر شعبوں کی نمایاں شخصیات پر بہت عمدہ شخصی خاکے تحریرکیے ہیں۔ چراغ حسن حسرت پر یہ مضمون بھی انہی مضامین میں سے ایک ہے جس نے حسرت صاحب کے بارے میں کئی یادیں تازہ کردیں۔ حال ہی میں ’’زندہ کتابیں‘‘ کے سلسلے میں راشد اشرف نے ’’چراغ حسن حسرت…ہم تم کو نہیں بھولے‘‘ کے نام سے بہت عمدہ کتاب شائع کی ہے۔ شفیع عقیل کے مضمون اور اس کتاب سے اردو کے ایک محسن کی خدمات اور شخصیت ایک مرتبہ پھر قارئین کے سامنے آئے ہیں۔
دوسرا مضمون ’’ابا کے لیے محبت کے ساتھ‘‘ میں بھارت کی مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی نے اپنے والد کیفی اعظمی کی یادیں تازہ کی ہیں جس میں کیفی اعظمی اور ان کی اہلیہ شوکت اعظمی کے بارے میں دل چسپ معلومات ہیں۔ اس مضمون کا ترجمہ حمیرا خلیق نے بہت اچھا کیا ہے۔ شوکت اعظمی نے اپنی آپ بیتی میں بہت عمدگی سے کیفی سے شادی اور ابتدائی دورکی باتوں کا ذکر کیا ہے۔ شبانہ کے اس مضمون میں کچھ نئے گوشے سامنے آئے۔
لطیف قریشی کی کتاب پر جمیل یوسف صاحب نے عمدہ مضمون لکھا ہے جس کے بعد لطیف قریشی کی کتاب کی تلاش ہے۔ کہانیوں میں اشفاق احمدکا افسانہ ’’سونی‘‘ پہلے نہیں پڑھا تھا اس لیے زیادہ لطف آیا۔ بانو قدسیہ کا ’’بھائی چارہ‘‘ مرحومہ کی اچھی تحریروں میں شامل کیا جائے گا۔ بھارتی مصنف غیاث احمد گدی کی تحریریں بہت کم پاکستانی قارئین کو میسر ہوتی ہیں۔ ان کا افسانہ ’’سرنگ‘‘ اور قاضی عبدالستار کا ’’مجریٰ‘‘ بھی اس شمارے کا تحفہ ہیں۔ تقی حسین خسرو کا افسانہ ’’پل کے اُس پار‘‘، رئیس فاطمہ کا ’’پیاس کا صحرا‘‘ اور شہناز شورو کا ’’حویلی‘‘ بھی شمارے میں شامل اچھی کاوشیں ہیں۔
شعری حصے میں جون ایلیا، انور شعور اور صہبا اختر کے کلام کا تو اپنا ایک مقام ہے، لیکن استادِ محترم خالد علیگ کی غزل کا تو جواب نہیں۔ اسی کے اشعار پر شریکِ مطالعہ کا اختتام کرتا ہوں:

وہ چراغِ بزم وفا ہوں میں، جسے بزم نے یہ صلہ دیا
سرِ شام مجھ کو جلا دیا، سرِ صبح مجھ کو بجھا دیا
مرے زخم زخم یہ جسم وجاں، میں نفس نفس میں دھواں دھواں
مجھے زندگی سے بھی کیا ملا، مجھے زندگی نے بھی کیا دیا
یہی منصفی ہے تو منصفو! مرا خون تم کو معاف ہے
نہ گواہیاں نہ شہادتیں، مجھے فیصلہ بھی سنا دیا

ضیا الرحمن ضیا اتناخوبصورت پرچہ شائع کرنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

حصہ