رائی بھرا ایمان

22

بینا حسین خالدی ایڈووکیٹ
دس سالہ میراں، آٹھ سالہ صغریٰ، گیارہ سالہ بنگلہ دیشی لڑکی حلیمہ، سگریٹ کے کش لیتی ہوئی چودہ سالہ حمیرا… میری یادداشت میں آج بھی اپنے چہروں کے تاثرات اور حرکات و سکنات کے ساتھ محفوظ ہیں۔ میں جب بھی کسی نابالغ یا نوعمر بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کی خبر پڑھتی یا سنتی ہوں تو دارالامان اور زنانہ جیلوں میں ملنے والی وہ تمام لڑکیاں مجھے یاد آنے لگتی ہیں جو مختلف طریقوں سے معاشرے کے جبر کا شکار ہوکر وہاں پہنچی تھیں۔ ان سب کا تعلق قبائلی، پہاڑی اور میدانی علاقوں سے تھا۔ ان میں سے کوئی خریدی اور بیچی گئی تھی، تو کوئی رسم و رواج کے نام پر اپنے سے دگنی تگنی عمر کے آدمی سے بیاہ دی گئی تھی۔ کوئی وٹہ سٹہ کی بھینٹ چڑھائی گئی تو کوئی پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے گیارہ، بارہ سال کی عمر ہی میں قحبہ گری کے لیے بازار میں لائی گئی تھی۔ نکاح، طلاق، عدت، زنا بالرضا، زنابالجبر، گناہ، ثواب، برائی، بے حیائی کے مفہوم سے قطعی نابلد یہ بچیاں… پورے اسلامی معاشرے کے لیے ایک سوالیہ نشان ہیں۔ جاہلی قبائلی معاشرے کے جبر نے انہیں کیا بنادیا ہے؟ خریدی، بیچی جانے والی شے…! جسم بیچ کر روٹی کمانا ان کی زندگی کا مقصد ٹھیرایا گیا… یہ ظلم کس نے کیا؟ بچپن ہی سے حیا اور پاکیزگی کے تصور سے انہیں ناآشنا رکھا گیا تو آج ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ ذلت، ذلت نہیں ہے۔ نہ ہی قحبہ گری ان کے نزدیک بدکاری ہے، نہ فحاشی… اور نہ ہی یہ اس کو اپنے لیے کوئی گناہ جانتی ہیں، کیونکہ اس برائی کو بحیثیت برائی کبھی کسی نے ان کے سامنے متعارف ہی نہیں کروایا تو پھر وہ اسے بحیثیت برائی کیسے شناخت کرسکتی ہیں؟
ان کے سپاٹ چہروں پر ندامت کی کوئی لہر نہیں ابھرتی۔ جب آپ ان سے پوچھیں کہ تم اس غلیظ دھندے میں کیسے پھنس گئی ہو؟ وہ اجلی نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھیں گی جیسے کچھ سمجھ نہ پائی ہوں… ہم لوگ بچپن سے سنتے، پڑھتے آئے ہیں کہ حیا اور شرم عورت کی فطرت کا حصہ ہیں… ان لڑکیوں کی فطرت کو کیا ہوا؟ شیطانِ لعین نے اللہ رب العزت کو اپنے منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکائوں گا یہاں تک کہ وہ خدائی ساخت (یعنی فطرت) میں میرے حکم سے تبدیلی کریں گے۔ خدائی ساخت یا فطرت میں تبدیلی کے کئی طریقے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز جس مقصد کے لیے پیدا کی ہے اُس مقصد کے برخلاف اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا۔
عورتوں یا لڑکیوں کے ’’رحمِ مادر‘‘ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے تخلیق فرمائے تھے اُس مقصد کے پورا کرنے سے انہیں جبراً روکنا اور کسی انتہائی گھٹیا اور مکروہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر عورت یا لڑکی کو مجبور کردینا خدائی ساخت میں تبدیلی کی بدترین مثال ہے۔
زنا خواہ بالرضا ہو یا بالجبر، دونوں صورتوں میں بدترین گناہ اور فطری حیا کے خلاف انتہائی مکروہ اور گھنائونا فعل ہے۔ مختلف صورتوں میں اس فعل پر آمادہ کرنے کے لیے عورت یا لڑکی کی رضامندی بالجبر لی جاتی ہے، اور نابالغ بچیوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوپاتا کہ وہ کس گھنائونے مقصد کے لیے استعمال کی جارہی ہیں۔ قبائلی معاشروں میں رسوم و رواج کے طور پر وٹہ سٹہ، ونی، اور رقم کے بدلے میں نکاح کردینا عورتوں یا بچیوں کے جبر و استحصال کی مثالیں ہیں۔ کلچر کی سرپرستی میں گھنائونی رسمیں صدیوں سے بلا روک ٹوک چلی آرہی ہیں اور آج پاکستان میں اس کلچر کی جڑیں اتنی گہری ہوچکی ہیں کہ مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے آگے بے بس ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے وہ تلخ حقائق ہیں جنہیں اگر مزید کھول کر بیان کیا جائے تو بے شمار اندوہناک کہانیاں منظرعام پر آجائیں گی۔ مختصر یہ کہ نوعمر بچیوں کی خریدوفروخت، گداگری کی آڑ میں قحبہ گری، مختلف جرائم میں ان کا استعمال کیا جانا، بنگلہ دیشی بچیوں اور عورتوں کی خریدوفروخت کے مراکز… یہ سب کچھ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ چائلڈ لیبر اور Child Abuse میں کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ آج بھی بہت سے جاہلی قبیلوں میں کسی بچی کے شادی کے قابل ہوجانے کا جو معیار انہوں نے بنایا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ایک بچی جب پانی سے بھرا ہوا مٹکا اپنے پہلو پر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوجائے تو سمجھو کہ وہ شادی کے قابل ہوچکی ہے۔ کم عمری میں شادی پر پابندی کے قانون کی موجودگی کے باوجود یہ رواج ختم نہیں ہوسکا ہے۔
’’پیٹ لکھنا‘‘ یعنی بچی کی پیدائش سے پہلے جب کہ وہ ابھی ماں کے پیٹ ہی میں ہوتی ہے اس کا رشتہ طے کردیا جاتا ہے۔ عام طور پر وٹے سٹے کی شادی میں اس طرح کے رشتے طے کیے جاتے ہیں کہ اگر ایک شخص اپنی بہن، بیٹی کا رشتہ کرتا ہے تو وہ بدلے میں اپنے لیے یا اپنے بیٹے کے لیے رشتہ ضرور لے گا۔ اگر اُس کے لیے کوئی بالغ عورت وٹے میں دینے کے لیے موجود نہیں ہے تو بدلے میں وہ بچی نام لکھ دی جاتی ہے جو ابھی رحمِ مادر میں پل رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح کاروکاری کے واقعات میں مجرم یا ملزم پر قبائلی جرگہ جو جرمانہ عائد کرتا ہے وہ یا تو رقم کی صورت میں ہوتا ہے یا پھر ملزم کی بہن یا بیٹی خواہ اس کی عمر کچھ بھی ہو، جرمانے کے طور پر دے دی جاتی ہے۔ عورتوں اور بچیوں کے متعلق یہ تمام جاہلانہ رسومات اور جرائم معاشرے میں موجود ہوس پرستوں کو ہوس کی تسکین کے نئے راستے دکھانے والے محرکات ثابت ہوتے ہیں۔ جہاں میڈیا معاشرے میں شہوانیت کے عنصر کو ابھارنے والا ثابت ہورہا ہے وہیں متذکرہ بالا یہ تمام رویّے بھی بدکاروں کو یہ دعوت دینے والے ثابت ہوسکتے ہیں کہ جب رسوم و رواج کے نام پر بچیوں کی خرید و فروخت یا ان کی مرضی کے بغیر نکاح کیے جاسکتے ہیں تو وہی بچیاں زنا بالجبر کے لیے آسان شکار کیوں نہیں بن سکتیں؟ بہرحال بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسے گھنائونے واقعات کے پیچھے محرکات و اسباب کچھ بھی ہوں اس کی زیادہ تر ذمے داری عورت سے متعلق معاشرتی رویوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ایک طرف قدیم جہالت ہے تو دوسری طرف جدید جہالت… دونوں ہی جہالتیں عورت کو ایک جنس کے طور پر پیش کرتی ہیں، اور ستم بالائے ستم کہ اس وقت طاغوتی طاقتیں عورت اور مرد کی فطری خدائی ساخت میں تبدیلی کے لیے ایک مضبوط جال بچھا چکی ہیں، اور یہ سب کچھ یکدم نہیں ہوا بلکہ ایک منصوبے کے تحت نوجوان نسل کے لیے تعلیمی اداروں اور تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کی گئیں جو ان کو جنسی عوامل کی طرف راغب کرنے والی تھیں، پھر میڈیا کے ذریعے شہوانیت کے عنصر کو مزید بھڑکایا گیا، پھر مخلوط تعلیمی ادارے طبقۂ اشرافیہ کی بگڑی ہوئی نوجوان نسل کے لیے بدمستیوں کے مواقع فراہم کرنے والے مراکز بنا دیے گئے۔ پھر ایسے شعبے اور اسامیاں پیدا کی گئیں جو مادر پدر آزاد نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر کھپا سکیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسی رسومات داخل کی گئیں جو زنا کو دلکش بناکر پیش کرتی ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کے نام پر بدکاروں اور زانیوں کا دن منایا جانے لگا۔ جب عدلیہ نے اس طوفانِ بدتمیزی میں مداخلت کی تو اقوام متحدہ نے یہ بل بھیج دیا کہ زنابالرضا کو قانون سے ماورا و مستثنیٰ قرار دے دیا جائے تاکہ زنا بالرضا یہاں کا کلچر بن جائے اور آئندہ عدالتوںکو اس میں مداخلت یا روک ٹوک کرنے کا کوئی اختیار ہی باقی نہ رہے۔ یہ بل نہ صرف ان تمام رسوم و رواج کو Legitimize کردینے والا ہے جو عورتوں کی عزتِ نفس، وقار اور حیثیت کو کچل کر اس کی ہستی کو مٹا دینے اور اس کی فطرت کو مسخ کردینے والے ہیں، بلکہ یہ تو اُن مجرموں کی سرپرستی کے لیے بھی بھیجا گیا ہے جو نوعمر بچیوں کو قحبہ گری کے گھنائونے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے لڑکی یا عورت کی رضا بالجبر حاصل کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے اپنی دانست میں یہ بل بھیج کر ہم سے خیر خواہی کا ثبوت دیا۔ گویا اس بل کے ذریعے یہ عالمی ادارہ ہم سے کہنا چاہتا ہے کہ ’’جب تم زنا بالرضا کو روکنے میں ناکام ہوچکے ہو، بارڈر ملٹری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قحبہ گری کے نیٹ ورکس کے اثر رسوخ کے آگے نہیں ٹھیر سکے تو پھر خوامخواہ ان دھندوں کو غیر قانونی قرار دے کر عدالتی ریکارڈ خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے! اس طرح تو پاکستان کی اور زیادہ بدنامی ہوگی۔ سیاست دانوں کی کرپشن اور دہشت گردی کے حوالے سے تو پہلے ہی یہ ملک بہت بدنام ہوچکا ہے۔ اب زانیوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں بھرو گے تو یہ ملک زانیوں کا ملک کہلایا جانے لگے گا۔ ارے میاں کچھ تو اپنی عزت کا خیال کرو، کچھ عقل کے ناخن لو اور ہمارے اس بل کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کا حصہ بناکر دنیا بھر میں اپنی رہی سہی عزت کو بچانے کا انتظام کرو۔ برائی کو برائی کے طور پر شناخت کرتے رہنے سے تو اپنی ہی بدنامی ہوگی، لہٰذا اپنے ملک کے قانون سے اس برائی کو، اور اس کے خلاف دی جانے والی سزا کی دفعات ہی کو مٹا ڈالو… ’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔‘‘
اقوام متحدہ کے یہ خیر خواہانہ پندونصائح ہمارے لیے دعوتِ فکر ہیں کہ برائی سے آگاہ ہونا بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ برائی یا فحاشی کے ادراک سے سوائے ذہنی اذیت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا جب کہ برائی پھلتی پھولتی رہتی ہے۔ ذرا ٹھیریے! مایوس ہونے سے پہلے سولہ، اٹھارہ صدیوں پیچھے جا کر دیکھیے… کیا کہا آپ نے، پیچھے جانا فرسودگی اور قدامت پرستی ہے…! ہمیں آگے دیکھنا چاہیے؟ جی نہیں، مستقبل کی تعمیر ہمیشہ ماضی پر ہوتی ہے… ہمیں پیچھے ہی دیکھنا ہوگا کیونکہ فحاشی و عریانی ایک قدیم ترین کلچر ہے۔ اُس وقت بھی زنا کو برائی کے طور پر شناخت نہیں کیا جاتا تھا جب ایک فاحشہ کا دل جیتنے کے لیے ایک قوم کے سرداروں نے حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کردیا تھا، یا شاید اس سے بھی پہلے جب دیوتائوں کے آگے زنا کرنے کو متبرک مانا جاتا تھا۔ آج اقوامِ متحدہ بھی ہم سے یہی چاہتا ہے کہ زنا کو اپنے معاشرے میں برائی کی حیثیت سے شناخت کرنا چھوڑ دو، تاکہ آئندہ اور موجودہ نئی نسلوں کی فطرت سے حیا کا عنصر ختم ہوسکے اور اس کی کیفیت بھی اوّل الذکر حلیمہ، حضوراں، حمیرا جیسی ہوجائے جو زنا بالجبر اور زنا بالرضا کے مفہوم سے قطعی نابلد تھیں۔
برائی کو برائی جاننا اور اپنے دل میں اس کے لیے ناگواری یا کراہیت محسوس کرنا ایک مسلمان کے دل میں ایمان کی موجودگی کی علامت ہے خواہ وہ ایمان رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ نبیٔ رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ ’’جس نے برائی کے خلاف تلوار سے جہاد کیا وہ بری الذمہ ہوا، جس نے قلم اور زبان سے برائی کے خلاف جہاد کیا وہ بھی بری الذمہ ہوا، اور جس نے طاقت نہ ہونے کی وجہ سے تلوار، قلم اور زبان سے اس برائی کے خلاف جہاد نہ کیا بلکہ صرف دل میں اسے برا جانا تو یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے اور اس کے بعد تو ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں ہے‘‘۔ گویا اس حدیثِ مبارکہ کے مطابق برائی کو محض دل سے برا جاننا اور اس پر کراہیت محسوس کرنا ایمان کا وہ کمزور ترین درجہ ہوسکتا ہے جسے رائی کے دانے کے برابر ایمان کہا جاسکتا ہے۔
مختلف احادیث سے ہمیں روزِ جزا کے جو حالات معلوم ہوتے ہیں ان میں سے ایک اہم بات یہ بھی ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی ٔ محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعتِ کبریٰ کا حق عطا فرمانے کی وجہ سے ان کے امتیوں کو جہنم میں داخلے کے بعد اس سے نجات کی صورت بھی پیدا فرمائیں گے اور حکم ہوگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپؐ کے جو امتی جہنم میں ہیں ان میں سے اُن امتیوں کو جہنم سے باہر نکال لائیں جن کے دل میں ذرہ برابر یا رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہو۔ اوّل الذکر حدیثِ مبارکہ کے مطابق برائی کو برا جاننا رائی بھر ایمان کی علامت ہے۔
اب شیطان اور اس کی مددگار طاغوتی طاقتیں حالیہ موضوعِ بحث بل کے ذریعے یہ چاہتی ہیں کہ زنا جیسے کبیرہ گناہ کو برائی کی حیثیت سے شناخت کرنا چھوڑ دیا جائے تاکہ اگر کسی دل میں رائی بھر ایمان ہو تو وہ بھی ختم ہوجائے اور جہنم ان لوگوں سے بھر جائے جو نبیٔ برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہوں اور ان کے دل میں رائی برابر ایمان بھی باقی نہ ہو، اور یہ امتی اُن جہنمیوں میں سے ہوجائیں جن کے بارے میں قرآن بار بار فرماتا ہے ’’وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے‘‘ اور دنیا میں بھی ایک پاکیزہ اسلامی معاشرے کی تشکیل کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے۔
مغربی یورپی معاشرے جنسی بے راہ روی کی تازہ مثالیں ہیں، وہاں بھی زنا بالرضا کو جرم یا برائی کی حیثیت سے نہیں جانا جاتا تھا، اس کے باوجود امریکی جیلیں زنا بالجبر کے مجرموں سے بھری ہوئی ہیں۔ وہاں عورتوں اور مردوں کے آزادانہ اختلاط پر کوئی پابندی نہیں تھی، اس کے باوجود وہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں زنا بالجبر ریکارڈ ہوتے ہیں۔ یورپ کے عظیم مفکر، دانش ور اور فلاسفر سر رچرڈ بیل نے بہت عرصہ پہلے یورپی معاشرے کے زوال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا ’’یورپ شدید اضمحلال کی دہلیز پر ہے، شاندار ماتھے کے پیچھے شدید ذہنی دبائو، روحانی امراض، جنسی بے راہ روی، زنا بالجبر اور بڑھتے ہوئے جنسی امراضِ پوشیدہ ہیں، باہمی پیار اور ایک دوسرے پر اعتبار ختم ہوچکا ہے۔ یورپ کے سامنے ایک ہی انتخاب ہے، نجات کا واحد راستہ… اور یہ راستہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین ہے، دوسرا کوئی انتخاب ہے ہی نہیں۔‘‘
جارج برنارڈ شا نے بھی اسی قسم کا اعتراف ان الفاظ میں کیا تھا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ اگر آج دنیا کی قیادت کرنے کے لیے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آجائیں تو وہ تمام عالمی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، اور ہم بالآخر خوش حالی اور اتفاق کی فضا میں زندگی بسر کررہے ہوں گے۔‘‘
قربان جایئے ہادیٔ برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ انہوں نے اپنی اسلامی تحریک اور انقلابی مہم کا آغاز ہی رسوم و رواج کے خاتمے سے فرمایا تھا۔ معاشرے کے کمزور طبقات بچوں، یتیموں، غلاموں اور عورتوں کے حقوق مقرر فرما کر ان کی عزتِ نفس کو بلند کیا، اور عورتوں کی عزتِ نفس بلند ہوئی تو ایسی کہ ایک زانیہ عورت اپنے آپ کو سزا کے لیے پیش کرکے آپؐ سے بار بار درخواست کرتی ہے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کیجیے۔ احساسِ گناہ، توبہ اور ندامت کے اظہار کا ایسا نظارہ زمین و آسمان نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔
بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اور اس محبت کے حصول کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ مومنین کے قلوب برائی کو برائی جانتے ہوں، اس کا اعتراف کرکے توبہ اور رجوع الی اللہ کرتے ہوں۔ لیکن اگر اس کے برخلاف ایک اسلامی معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کردیا اور ایسے فتنے اس میں داخل کردیے جائیں جو ایک طرف تو انسان کی فطری خدائی ساخت میں بگاڑ پیدا کرکے اسے حیا کے زیور سے محروم کردیں اور دوسری طرف شہوانیت کو بھڑکانے والے ذرائع و رسائل کو عام کردیا جائے، تو ایسا معاشرہ اسلامی تو درکنار انسانی معاشرہ کہلانے کے قابل بھی نہیں رہ جائے گا۔ پھر جب برائی کو روشن خیالی، جدیدیت اور آزادی کے طور پر جانا جائے تو فحاشی ایک عام روش بن جائے گی جس کو روکنے یا اس میں مداخلت کرنے کا عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی حق نہیں رہے گا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آنے والی نسل کے پاس تو ’’رائی بھر ایمان‘‘ بھی باقی نہ بچے گا۔
’’والفتنۃ اشد من القتل‘‘ یہی وہ فتنے ہیں جو قتل سے بھی زیادہ شدید تر مضرت رساں ہیں۔ اس آیت کی تشریح میں سید قطب شہیدؒ فی ظلال القرآن میں لکھتے ہیں ’’ایسے حالات پیدا کردینا بھی فتنہ ہے جن میں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہو۔ انہیں اللہ کے مقرر کردہ نظامِ زندگی سے گمراہ کرنا بھی فتنہ ہے۔ مسلمانوں کے لیے کفر کو مرغوب بنانا اور اسلام سے انہیں دور کرنا، ان کے اخلاق کو خراب کرنا… یہ سب فتنے کی تعریف میں داخل ہیں۔ اللہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ لوگوں کو ان کے دین سے نہ روکا جائے، قوت کے ذریعے یا قوت سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار (میڈیا) کے ذریعے یا معاشرتی حالات کے ذریعے لوگوں کو اسلام سے نہ پھیرا جائے، نیز یہ کہ اسلامی نظام کو وقعت حاصل ہو اور اس کا پلڑا بھاری ہو، اس کے دشمن ہیبت زدہ رہیں اور کسی کو جرأت نہ ہو کہ وہ دینِ اسلام کے پیش کردہ نظام کے مقابلے میں کوئی دوسری بات پیش کرسکے۔
زنا بالرضا یا زنا بالجبر جیسی بدترین برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے میں موجود دینی اصلاحی قوتوں، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خود معاشرے کو مل کر ایک قوت بننا ہوگا، تاکہ فتنوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ رسوم و رواج کے خاتمے کے لیے تبلیغ کا دائرہ وسیع کیا جائے اور دور دراز علاقوں میں دینِ حق کا ظاہر اور باطن دونوں پہلو مکمل طور پر پہنچائے جائیں۔ عورتوں، بچیوں سے متعلق رسوم و رواج، نظریات اور رویّے قرآن کے ذریعے تبدیل کرنے کا کام مشنری بنیادوں پر کیا جائے، کیونکہ برائی کی جڑ رسوم و رواج اور کلچر کی شکل میں ہمارے معاشرے کی بنیادوں میں موجود ہے۔ محض حکومتوں کی تبدیلی اس مسئلے کا شافی حل نہیں ہے۔ زمام کار مومنین صالحین کے ہاتھوں میں اگر منتقل ہو بھی جائے اور رسوم و رواج کے خاتمے کے لیے قانون سازی کردی جائے تب بھی صدیوں سے رائج جہالت کا خاتمہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ بہت سے قوانین برخلاف رسوم و رواج ہمارے یہاں پہلے ہی موجود ہیں، لیکن جو جاہلی قبائلی معاشرے اپنے کلچر کو ریاستی قانون اور الٰہی قانون کے مقابلے میں فوقیت دیتے ہیں وہ ایمان اور اسلام سے بہت دور ہیں۔ اس طرح معاشرے کا 60 فیصد طبقہ جو ایمان اور اسلام کے مفہوم سے ناآشنا ہے کس طرح ایک اسلامی انقلاب یا اسلامی پاکستان کا حامی ہوسکتا ہے؟
داعیانِ اسلام کو اس پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

حصہ