جیل کہانی، جرائم کی شرح۔۔۔ محرکات، سدباب

29

قدسیہ ملک
’’جیل کہانی‘‘ کے سلسلے کو جسارت سنڈے میگزین میں شائع ہوتے ہوئے 5 ماہ سے زائد کا عرصہ بیت گیا ہے۔ اس سلسلے میں خواتین جیل کے بہت سے کاموں اور واقعات سے قارئین کو آگاہی ہوئی۔ بہت سے بے گناہ افراد اور اُن کے اہلِ خانہ کے بارے میں قارئین ویمن ایڈ ٹرسٹ(WAT) کے توسط سے باخبر ہوئے۔ ویمن ایڈ ٹرسٹ کی جانب سے قیدی خواتین کی مالی، روحانی اور قانونی امداد کے بارے میں لوگوں نے جانا۔ مختلف مدرسات، معلمات، کونسلرز، ذرائع ابلاغ کے افراد کی جیلوں کے دورے کی آگاہی دی گئی، جیلوں میں خواتین کو کروائے جانے والے مختلف کورسز کے بارے میں قارئین نے جانا، جیلوں میں قیدی خواتین کے حالات سے اُن کے اہلِ خانہ کو باخبر کیا گیا۔ ان مضامین کے ذریعے ایک عام شہری کو جیل کے احوال کی بابت اہم معلومات اور جرائم کی سنگینی سے آگاہ کیا گیا۔ ایک فعل کیسے جرم میں تبدیل ہوجاتا ہے؟ اور جرم کی نوعیت اور اس کے کیا کیا محرکات ہوسکتے ہیں؟ یہ تمام نکات بیان کیے گئے تاکہ جسارت کا قاری باخبر ہوکر معاشرے میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور ظلم کو روکنے میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ مقصد نیک تھا اسی لیے این جی او کے ساتھ ساتھ جیل انتظامیہ کا بھرپور تعاون بھی ہمارے ساتھ رہا۔ قیدی خواتین بھی اپنے قصے پورے سیاق وسباق اور اپنے مخصوص انداز میں ہمیں سناتی رہیں، اسی وجہ سے جیل میں بھی جسارت سنڈے میگزین ذوق و شوق سے پڑھا جارہا ہے۔ لوگ اس سلسلے کو پسندکررہے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں آپ کی ای میل، واٹس ایپ اور میسجز سے ہورہا ہے۔
بعض لوگوں کے سوالات یہ ہوتے ہیں کہ معاشرے میں اس قدر جرائم کی آگاہی دینے کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ مجرمین اور جرم کو فروغ دینے کی زمرے میں نہیں آتا؟ کیوں جرائم کی باریکیوں سے قاری کو آگاہ کیا جارہا ہے؟ کیا صرف یہی افراد جو جیلوں میں قید ہیں، مجرم ہیں؟ باقی سب بے گناہ ہیں یا انہوں نے کبھی جرم نہیں کیا؟ کیا تمام مجرم جرم کرتے ہی پکڑے جاتے ہیں؟ ان سوالات کے پیش نظر ہم نے کراچی کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا۔ کچھ معلومات پرنٹ اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ سے اکٹھی کیں اور جو چشم کشا رپورٹ ہمارے سامنے آئی وہ ہم اپنے قارئین کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ اپنی رائے سے ہمیں آگاہ کرتے رہیے گا۔
ماہِ مارچ میں ہونے والے جسارت فورم میں آئی جی سندھ ڈاکٹر آفتاب پٹھان نے کہا تھاکہ آئینِِ پاکستان کی دفعات 227، 228، 229، 230 اور 231 کا خلاصہ یہ ہے کہ اس ملک میں قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہوگی، اور جو قوانین قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہوں گے اُن کو نکالا جائے گا۔ اس کام کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل ہے، اس پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جائے۔ عمل نہ کرنے یا نظرانداز کرنے سے بہت مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ دوسرا، آئین میں وفاق اور صوبوں کے درمیان جو بھی تحریر ہے اُس پر بھی خلوصِ نیت سے عمل ہوجائے۔ تیسرا، اس ملک کا نظام پارلیمانی نظام جمہوریت ہے، اس پر بھی عمل درآمد ہو اور مسلسل انتخابات ہوں۔
اب ہم آتے ہیں جرائم کی شرح کی جانب۔ آپریشن کو 2 سال مکمل ہونے پر رینجرز اور پولیس حکام کی مشترکہ بریفنگ میں نمایاں کامیابیوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات 60 اور ڈکیتی کی وارداتیں 65 فیصد کم ہوگئی ہیں، جبکہ بھتہ خوری میں بھی 70 فیصد کمی آئی ہے۔ حکام نے سندھ میں جرائم کی شرح کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں صوبائی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرکے ختم ہوچکی ہے۔ سندھ میں گزشتہ 10سال پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ پی پی پی کے پہلے دور -2013 2008ء تک شہر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی اپنے عروج پر رہی۔ دوسرے دور یعنی 2018-2013ء میں کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد ان واقعات میں بتدریج کمی آئی ہے، جس میں وفاقی حکومت کے ساتھ پاکستان رینجرز سندھ اور پولیس کا مرکزی کردار ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھی کراچی میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے،کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد شہر میں پولیس والوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور متعدد پولیس افسران اور اہل کاروں کو قتل کیا گیا۔ سانحۂ صفورا گوٹھ میں جہاں آغا خانی برادری کی بس کو نشانہ بناکر درجنوں افراد کو قتل کیا گیا، وہیں بعض اہم شخصیات معروف قوال امجد صابری اور ایس ایس پی سی آئی ڈی چودھری اسلم سمیت متعدد پولیس افسران کو نشانہ بنایا گیا، ان میں اورنگی ٹائون میں قتل ہونے والے7 پولیس اہل کار بھی شامل ہیں۔ جبکہ کراچی ائرپورٹ پر دہشت گرد حملہ ہوا اور نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ بھی اسی دورِ حکومت میں مارا گیا۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 10 سالہ دورِ اقتدار کے دوران 1034 پولیس اہل کار شہید ہوئے، 2013ء میں سب سے زیادہ 205 اہل کار جاں بحق ہوئے۔ 2008ء سے مئی2018ء تک کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بے نظیر آباد (نواب شاہ)، سکھر اور لاڑکانہ ریجن میں پولیس کلنگ میں ایک ہزار 34 پولیس اہل کار اور افسران جاں بحق ہوئے۔ یہ تمام وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے، کیونکہ ان میں یا تو مشہور شخصیات قتل ہوئیں یا پھر پولیس اہلکار۔
اب ہم آتے ہیں اُن افراد کی طرف جو مجرم بناکر ماردیے گئے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق ’’اِن کائونٹر اسپیشلسٹ‘‘ رائو انوار کی جانب سے جہاں 400 سے زائد دہشت گردوں کو مبینہ مقابلوں میں مارنے کے دعوے کیے گئے، وہیں رائو انوار بھی نوجوان نقیب اللہ محسود سمیت چار افراد کو مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کرنے کے جرم میں معطل کردیے گئے۔ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق رائو انوار کی ملیر میں تعیناتی کے 7 سال کے دوران 745 مبینہ پولیس مقابلے ہوئے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق رائو انوار کی ملیر میں تعیناتی کے دوران 192 مبینہ پولیس مقابلے ہوئے، جن میں 444 نوجوانوں کو مارا گیا، جب کہ 553 کیسز میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ 2012ء کے پہلے 10 ماہ میں سب سے زیادہ 195 مقابلے ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2012ء تک ملیر میں پولیس مقابلوں میں سب سے زیادہ 183 ہلاکتیں ہوئیں۔ جنوری 2018ء میں 2 پولیس مقابلے ہوئے اور دونوں میں 8 افراد کو ہلاک کیا گیا۔ کراچی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق 2013ء میں شہر میں بم دھماکوں میں 140ہلاکتیں ہوئیں۔
اب آتے ہیں اُن افراد کی طرف جو بم دھماکوں، چوری اور رہزنی میں مار دیے گئے اور جن کی رپورٹ پولیس کے پاس درج ہے۔ 2014ء میں 32 بم دھماکوں میں36 افراد، 2015ء میں 5 دھماکوں میں 8 افراد، اور 2016ء میں 2 بم دھماکوں میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق 2013ء میں ایک خودکش حملہ ہوا، 2014ء میں 3، اور 2015ء میں ایک خودکش حملہ ہوا، ان حملوں میں مجموعی طور پر 12افراد ہلاک ہوئے۔ 2013ء میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 248 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ 2014ء میں 189، 2015ء میں 153، 2016ء میں 22، اور 2017ء میں 13 ہلاکتیں ہوئیں۔ کراچی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق 2013ء میں شہر میں 1842 افراد قتل ہوئے، 2014ء میں 1460، 2015ء میں 759، 2016ء میں 503، اور 2017ء میں 410 افراد کو قتل کیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق سال 2013ء میں شہر میں اغوا کے1667 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 2014ء میں 1468، 2015ء میں 629، 2016ء میں 1298، اور 2017ء میں اغوا کے 1412 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 2013ء میں شہر میں 1469پولیس مقابلے ہوئے، 2014ء میں 1748، 2015ء میں 1636، 2016ء میں 650، اور 2017ء میں421 پولیس مقابلے ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 2013ء میں بھتہ خوری کے 546، 2014ء میں 450، 2015ء میں 233، 2016ء میں139، اور 2017ء میں 114 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 2013ء میں شہر میں موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کے6352 واقعات رپورٹ ہوئے، سی پی ایل سی کے ریکارڈ کے مطابق رواں سال (2018ء)کے پہلے چار ماہ کے دوران شہر میں 115 افراد قتل ہوئے۔ اس دوران 466 گاڑیاں، 8253 موٹر سائیکلیں چھینی اور چوری کی گئیں۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک 10 ہزار 391 موبائل فون چوری اور چھینے جا چکے ہیں۔ 2018ء میں اغوا برائے تاوان کے3، بھتہ خوری کے20، اور بینک ڈکیتی کا ایک واقعہ ہوا۔
اب ہم آتے ہیں اُن واقعات کی جانب جو گھریلو تشدد کے زمرے میں آتے ہیں اور جن کی کوئی رپورٹ درج نہیں ہوتی، اور جن کا کوئی ریکارڈ نہ تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہوتا ہے، نہ ہی عوام کو اس کی حساسیت کا علم ہوتا ہے، جنہیں عام طور پر ’’گھریلو معاملات‘‘ کہہ کر دبا دیا جاتا ہے۔ گھریلو تشدد کی شکار 52 فیصد خواتین نے تشدد کے بارے میں کسی کو آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی مدد مانگی۔ گھریلو تشدد کی شرح میں آئے روز شدت آتی جارہی ہے جس کا اصل محرک پاکستانی میڈیا ہے۔ کہیں مرد کو سسرال والوں کی زور زبردستی کا سامنا ہوتا ہے تو کہیں ساس، نندیں اور شوہر مل کر عورت کو اس لیے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں کہ یا تو وہ کالی ہے یا جہیز اچھا لے کر نہیں آئی، یا پھر وہ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ گھریلو تشدد کے واقعات میں اتنی شدت دیکھنے میں آرہی ہے کہ اب شاید کراچی کا کوئی گھرانہ ایسا نہ ہو جس نے اپنی دوست، رشتے دار یا کسی ہمسایہ لڑکی سے گھریلو تشدد کے بارے میں سن نہ رکھا ہو۔ صرف کراچی میں رمضان المبارک کے دوران تین واقعات میڈیا کی زینت بن چکے ہیں، جن میں سسرال والوں نے بہو پر تشدد کرکے اُسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایک واقعہ جس میں پہلے گھر والوں نے یہ بیان دیا کہ لڑکی نے اپنے 4 ماہ کے بچے کے ساتھ آٹھویں منزل سے چھلانگ لگائی ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اسے اس کے سسرال والوں نے آٹھویں منزل سے دھکا دیا تھا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ پچھلے ہفتے نارتھ کراچی میں پیش آیا جہاں دو بیٹوں کی ماں کو تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی بڑی بہو کو بھی اسی طرح مارکر واقعے کو خودکشی کا رنگ دیا تھا۔ یہ اور اس طرح کے دیگر واقعات کی رپورٹ اُس وقت درج ہوتی ہے جب کوئی قتل ہوجائے یا پھر معاملہ گھر ہی میں دباکر واقعے کو خودکشی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات شاذونادر ہی رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان واقعات کے بڑے ذمے دار وہ ڈرامے ہیں جو آج کل ہمارا میڈیا دکھا رہا ہے۔ دو بہنوں میں سے ایک کو بطور ڈائن اور دوسری کا کردار روتی دھوتی قربانی کی دیوی۔ اکلوتی ہو یا کثیرالتعداد بیٹیاں، کہانی صرف شادی بیاہ کے گرد گھومتی ہے۔ کسی جوان بیوہ کا کردار ہے تو مجال ہے کہیں یہ دکھایا جائے کہ سرکاری ملازم کی بیوہ پنشن کے حصول سے لے کر دیگر دفتری معاملات میں کیسے نفسیاتی طور پر کچلی جاتی ہے۔ سسرال والوں کو بہو پر ظلم کی ہر حد پار کرتے دکھایا جاتا ہے۔ ایسے ڈراموں سے جہاں معاشرتی ناہمواری میں اضافہ ہورہا ہے وہیں معاشرے میں تشددکی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کہاں ہیں یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے؟ کہاں ہے پیمرا؟ کہاں ہیں ذرائع ابلاغ کے رہنما جو جرم کے ارتکاب سے قبل ہی جرائم کے تدارک کے لیے کام کریں، تاکہ معاشرے کو دوبارہ پاکیزہ، اصلاح پسند، پُرسکون اور صحت مند بنایا جاسکے۔

حصہ