تبدیلی ووٹ سے ہی آئے گی

44

سید اقبال چشتی
تبدیلی کی خواہش اب تک عوام میں تھی اور وہ اپنی قسمت بدلنے کے لیے دو سیاسی جماعتوں کو آزما چکے ہیں، مگر اب تک ملک اور عوام کی قسمت نہیں بدلی، جب کہ تبدیلی کا نعرہ اب اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی سنائی دے رہا ہے لیکن ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تبدیلی عوامی امنگوں کے مطابق ہوگی یا پھر اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کی تبدیلی لائے گی۔ اگر واقعی عوامی خواہشات کے مطابق کرپشن سے پاک قیادت کا نام تبدیلی ہے، جو اس ملک کو قرضوں سے نجات اور ملک و قوم کو ترقی و خوش حالی کے راستے پر لے کر جائے گی تو سمجھ میں آتا ہے کہ تبدیلی کی یہ خواہش صحیح ہے، لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ اُس تبدیلی کی بات کررہی ہے جو گزشتہ کئی سال سے عوام دیکھتے آئے ہیں تو اس ملک اور قوم کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، مخالف حمایت کرنے لگے یا پھر حمایت کرنے والا مخالف ہوجائے۔ لیکن جب سیاسی پارٹیاں کسی کو سیڑھی بنا کر یا انگلی پکڑ کر اقتدار کی مسند تک پہنچنے کی کوشش کریں تو یقینا اس طرح تبدیلی نہیں آتی اور نہ ہی سیاسی قیادت اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوتی ہے کیونکہ اس طرح اقتدار حاصل کرنے والے دوسرے کے احسان کے بو جھ تلے دبے رہتے ہیں۔ حمایت کی سیڑھی اور انگلی پکڑ کر اقتدار میں آنے والے بے بس ہوتے ہیں۔ بظاہر اقتدار سیاسی قیادت کے پاس نظر آتا ہے لیکن اصل میں اقتدار کی ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی اور ہی بیٹھا ہوتا ہے اس لیے عوام کی تبدیلی کی خواہش کو ہائی جیک کرکے ایک بار پھر مصنوعی قیادت کے ذریعے عوامی امنگوں کا خون کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
تبدیلی کا نعرہ نیا نہیں ہے بلکہ ہر سیاسی جماعت عوام کو تبدیلی کے لیے تیار کرتی ہے لیکن یہ تبدیلی کا نعرہ اس وقت تحریک انصاف سے منسوب کر دیا گیا ہے اور لوگ یہی سوچ رہے ہیں کہ آئندہ تحریک انصاف کامیابی حاصل کرے گی اس لیے بڑے بڑے نام اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں یا کرائے جا رہے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند اسٹیبلشمنٹ ہر اچھے برے کی تحریک انصاف میں شمولیت کا اس طرح پرچار کرتی ہے جیسے کوئی انقلاب آگیا ہو۔ لیکن کل تک جو سیاسی شخصیات بدعنوان اور عوام دشمن تھیں آج جب ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے کا ساتھ دینے کے لیے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو وہ سب کے سب ’’عوام دوست‘‘ اور ’’تبدیلی کے بڑے نشان‘‘ بن گئے اس لیے ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ قومی سیاست میں گملا قیادت تشکیل نہ دے۔ مگر کیا کریںاس گملا قیادت بلکہ طفیلی پودے اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہوتے ہیں جنھیں جہاں اور جس طرح چاہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ طفیلی پودے ہیں جو کل تک پیپلز پارٹی میں تھے اور اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے اب اپنے زندہ رہنے کا انتظام نئی پارٹی میں شمو لیت اختیار کرکے کر رہے ہیں‘ جنھیں سیاسی زبان میں ’’اشرافیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ طفیلی پودے اگر کسی تناور درخت کے ساتھ چمٹ جائیں تو تناور درخت بھی کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ یہ طفیلی پودے ساری توانائی چوس لیتے ہیں اور پھر ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جن کے خلاف کرپشن کا جہاد شروع کیا گیا تھا اب وہی کرپٹ لوگ کرپشن کے خلاف جہاد کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں یعنی چور مچائے شور چور چور اگر یہی تبدیلی کے عنوانات ہیں تو پھر اس ملک اور عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔
تبدیلی کا نعرہ لگانے والی جس پارٹی میں الیکشن ٹکٹ کے حصول کے لیے لڑائی جھگڑے تک نوبت آجائے اور جس کے کارکنان ہی نہیں‘ سینیٹرز تک اپنے مقامی رہنمائوں کے خلاف مظاہرے اور پریس کانفرنس کرکے اپنے رہنمائوں کی کرپشن اور اقرابا پروری کی داستانیں سنائیں اور مرکزی قیادت کی طرف سے کارکنان کی شکایات کا نوٹس نہ لینے پر اپنے ہی دفاتر میں توڑ پھوڑ کریں اور اپنی قیادت کو ایک کمرے میں بند کردیں‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر واقعی تبدیلی آگئی تو ملک کس قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگا۔ ایک طرف کرپشن کے شہنشاہ کھڑے ہوں گے اور دوسری طرف عدم برداشت کے حامل کارکنان ہوں گے۔ لیکن لگتا نہیں ہے کہ کرپٹ ٹولے کے ساتھ عوام کسی طرح بھی انصاف کریں گے کیونکہ ان لوگوں کی سابقہ اور موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی عوام کے سا منے ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کے حوالے کرنے والا سابق وزیر خارجہ تحریک انصاف کے ٹکٹ سے کس منہ سے الیکشن میں کھڑا ہو گا‘ کیا عوام ڈاکٹر عافیہ کی بے گناہی کو چھوڑ کر قوم اور ملک کے مجرم کو ووٹ دیں گے جس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں یقینا عوام کا ضمیر ابھی مردہ نہیں ہوا ہے اس لیے عوام اپنے دشمن کو اچھی طرح جا نتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام لوگ جن کے نام آف شور کمپنی میں آئے اور اب تبدیلی کے نعرے میں چھپ کر کرپشن کے خلاف آواز بلند کرکے کس طرح عوام کو ووٹ دینے کے لیے راضی کریں گے؟ جس کے نائبین حج کرپشن اور ملکی دولت کی لوٹ مار میں ملوث ہوں وہ کیا تبدیلی لے آئیں گے‘ جس تبدیلی کے نعرے لگانے والے 21 ارکان اسمبلی نوٹوں کی چمک دیکھ کر اپنا ووٹ سینٹ الیکشن میں فروخت کردیں کیا ان پیسوں کے لالچی عوامی نمائندے عوام کے پاس تبدیلی کے نعرے کے ساتھ جا پائیں گے‘ جن ارکان اسمبلی کی کارکردگی گالم گلوچ اور پارلیمانی بدتہذیبی سے بھری ہو کیا وہ ملک کو اسلامی اور فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں؟ جن کی تربیت میں اسلام کی کوئی رمق نظر نہ آتی ہو‘ جنھوں نے عوام سے مسائل کے حل کے جھوٹے وعدے کیے ہوں اور صرف اپنے الو سیدھے کیے ہوں کیا وہ عوام سے نظریں ملا پائیں گے؟ اس لیے سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ تبدیلی ایمپائر کی انگلی پکڑ کر نہیں عوام کی خد مت کرکے آتی ہے۔ مگر کیا کہیں اگر کسی پر سرمایہ کاری کی گئی ہو اور وہ نقصان کا باعث بن جائے تو پھر اپنے سرمائے کو بچانے کے لیے کسی کا سہارا تو لینا ہی پڑتا ہے اسی لیے اسٹیبلشمنٹ انتخابات سے قبل ’’متحرک‘‘ ہو گئی ہے۔
کراچی میں جس پارٹی کو دہشت گردی کا سرٹیفکیٹ پریس کانفرنسوں میں دیا گیا‘ ایک بار پھر وہی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر ہوگئی ہے۔ جن سرکاری عمارتوں پر ایم کیو ایم کے دفاتر قائم تھے اور جہاں سے ٹارگٹ کلرز پکڑے گئے تھے‘ جہاں سے زمین میں مدفون اسلحہ برآمدکر کے میڈیا کے سامنے نمائش کے انداز میں پیش کیا گیا تھا‘ آج پھر وہی دفاتر اُسی تنظیم کو واپس کیے جا رہے ہیں‘ جو ممبران اسمبلی بری طرح ناکام ہو چکے اور جنھوں نے کراچی کے مسائل میں اضافے کے سوا کوئی کام نہیں کیا ان کو دوبارہ زندہ کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ کرپشن سے پاک قیادت کا راستہ روکا جائے۔ اگر کسی مصنوعی طریقے سے عوامی خواہشات اور اُمنگوں کے برخلاف کوئی فیصلہ کیا گیا تو یہ راستہ ملک کی تباہی کی طرف ہی جائے گا اس لیے آزمائے ہوئے اور کرپٹ عناصر پر بھروسہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے بلی سے دودھ کی رکھوالی کروانا۔ اس لیے صاف اور شفاف الیکشن ہی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اگر واقعی تبدیلی چاہتی ہے تو عوام کی رائے کا احترام کرے کیونکہ اب ملک کسی مصنوعی قیادت کو پروان چڑھا کر اقتدار کی مسند تک پہنچانے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے کہ جب بھی مصنوعی قیادت کو پروان چڑھایا گیا اُس نے ملک کی تباہی اور بربادی کے ساتھ ساتھ عوام کو غلامی کے تحفے دیے ہیں۔
اسمبلیاں اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو گئی ہیں‘ اب عوامی نمائندوں کی جگہ نگراں سیٹ اَپ آچکا ہے۔ یہ نگراں حکومت ملک میں انتخابات کا عمل مکمل کرانے کے بعد اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کرے گی‘ آنے والے انتخابات جس کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے اور نگراں وزیر اعظم نے‘ جو کہ سابق چیف جسٹس ہیں‘ ایک وزیر اعظم کو نااہل کیا تھا اور اس وقت بھی اعلیٰ عدلیہ کی کرسی پر جو چیف جسٹس ہیں انہوں نے بھی ایک وزیر اعظم کو نا اہل کیا ہے۔ کرپشن کے خلاف لڑی جانے والی یہ جنگ اب دو جج صاحبان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس طرح انتخابات کراتے ہیں اس لیے نگراں وزیراعظم اور اعلیٰ عدلیہ سے یہی اُمید رکھنی چاہیے کہ وہ الیکشن صاف اور شفاف کرائیں گے اور عوام جس کو چاہیں منتخب کریں کیونکہ اصل تبدیلی عوام کے ووٹوں سے ہی آئے گی۔

حصہ