ایک فریاد نے زندگی بدل دی

41

ارم سعد
کافی پہلے کی بات ہے ہمارے گھر میں رمضان المبارک کی تیاری بہت اہتمام سے ہوتی تھی، بلکہ ایک ماہ قبل ہی تیاری شروع ہوجاتی تھی۔ گھر کی صفائی ستھرائی، سحر و افطار کے لوازمات کی تیاری، کیونکہ ہمارے گھر میں سحر و افطار کا اچھا خاصا اہتمام کیا جاتا تھا اور رمضان میں اتنا وقت نہیں ہوتا تھا۔ سموسے، کباب، رول، دہی بڑے، مختلف قسم کی چٹنیاں اور کیچپ… یہ سب لوازمات پہلے سے ہی تیار کرلیے جاتے تھے، اور اس کے علاوہ بھی نہ جانے کیا کیا۔ غرض کہ باورچی خانے کے کاموں کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست۔
ہمارا گھرانہ بھی ماشاء اللہ سے خاصا بڑا تھا۔ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ دو چچا اور ہماری فیملی ایک ہی بڑے سے حویلی نما گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ اس لیے گھر میں ہر وقت خوب رونق اور چہل پہل رہتی تھی۔ سب کے کپڑوں کی تیاری بھی پہلے سے کرلی جاتی تھی، مگر صرف رمضان کے چار جمعے کے لیے نئے جوڑے بننے لازمی تھے۔ آخر ہر جمعہ ہمارے گھر میں محلے کی خواتین کے لیے صلوٰۃ و تسبیح کا جو اہتمام ہوتا تھا۔ غرض کہ پورا شعبان انہی تیاریوں میں گزر جاتا۔ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ہمارا گھر سحر و افطار کے اوقات میں کھانوں کی خوشبوئوں سے مہکتا رہتا، اور باقی اوقات ان کی تیاری میں صرف ہوجاتے۔ شاید ہمارے گھر میں رمضان صرف اچھا کھانے پینے کا تہوار تھا، اور پھر انہی مصروفیات میں لگے آخری عشرہ شروع ہوجاتا اور ساتھ ہی عید کی تیاریاں زوروشور سے شروع ہوجاتیں۔ آخری عشرہ تو ویسے بھی عید کی شاپنگ کرتے بازاروں میں گزر جاتا، پھر بھی تیاری ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتی تھی کہ چاند رات آن پہنچتی۔ اور چاند رات تو اتنی مصروف گزرتی کہ عشا کی نماز پڑھنے تک کا وقت نہیں ملتا تھا۔ میری آدھی زندگی کے رمضان انہی معمولات کے ساتھ گزرے، اور شاید باقی زندگی بھی ایسے ہی گزر جاتی اگر میں نے اس فریاد کو نہ سنا ہوتا۔
ہمارے محلے کے ایک گھر نے رمضان سے پہلے قرآن خوانی کا اہتمام کیا تھا، وہاں ایک بچی نے ایک نظم پڑھی ’’قرآن کی فریاد‘‘

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں، دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں
جزدان حریر اور ریشم کے، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہو تی ہے، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جب قول و قسم لینے کے لیے تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے، ہاتھوں میں اٹھایا جاتا ہوں
جس طرح سے طوطا مینا کو کچھ بول سکھائے جاتے ہیں
اس طرح سے پڑھا جاتا ہوں، اس طرح سے سنایا جاتا ہوں
دل سوز سے خالی رہتے ہیں، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہنے کو میں اک اک جلسے میں پڑھ پڑھ کر سنایا جاتا ہوں
ہر بزم میں میرا چرچا ہے، کس بزم میں میری دھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں

٭٭٭
کچھ اُس کی آواز کا سوز تھا اور کچھ شاید الفاظ کی تاثیر یا پھر شاید میری ہدایت کا لمحہ کہ دل کی دنیا میں ہلچل مچ گئی اور گھر آکر بھی قرآن کی اس فریاد نے مجھے بے چین رکھا، اور اس کے الفاظ بار بار دماغ میں گونج رہے ہوتے۔ ہمارے گھر میں بھی تو قرآن کے ساتھ یہی سلوک ہوتا تھا۔ سارا سال قرآن دادی جان کی الماری کے اوپر گرد میں اَٹا رہتا تھا۔ رمضان سے پہلے اس کی گرد جھاڑی جاتی، نئے اور خوب صورت جزدان میں اس کو لپیٹا جاتا اور خوشبوئوں میں اس کو بسایا جاتا، اور پھر دوبارہ اوپر سجا دیا جاتا۔ ہمارے گھر میں طوطا مینا کی طرح بھی نہ پڑھا جاتا تھا۔ ہاں بس ابو جان دادا جان کی برسی پر مسجد میں مولوی صاحب کو کہہ کر مدرسے کے بچوں سے قرآن خوانی کروا کر ان کو کھانا کھلا دیا کرتے تھے۔ البتہ بچے کا کم عمری میں قرآن ختم کرنا بہت اہتمام سے ہوتا تھا، پھر ختم القرآن کی عالی شان تقریب۔
اور ہاں بیٹیوں کی شادی پر یہ لازمی تھا کہ اُن کو قرآن کے سائے میں رخصت کیا جائے۔ اس رات پہلی بار میں نے قرآن کو اٹھا کر پڑھا اور پھر مجھے تجسس ہوا کہ جانوں اس میں لکھا کیا ہے۔ مگر ہمارے گھر میں ترجمے والا قرآن تھا ہی نہیں۔ میں نے کوشش کرکے ترجمے والا قرآن حاصل کیا اور جب اس کو پڑھنا شروع کیا تو ایسا لگا کہ اس سے پہلے شاید میں اندھیرے میں تھی… گھٹا ٹوپ اندھیرے میں۔ مگر اب جیسے یک دَم سب کچھ روشن ہوگیا ہو۔ اور پھر واقعی قرآن کو پڑھنے سے میری زندگی روشن ہوگئی، بلکہ جتنا میں اس کو پڑھتی گئی اتنا ہی سب کچھ سمجھ میں آتا گیا، یہاں تک کہ خدا کی رحمت سے مجھے سچی ہدایت نصیب ہوئی اور پھر میں نے ایک فیصلہ کیا کہ میں قرآن کے ذریعے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیوں میں تبدیلی لائوں گی۔ اللہ کا شکر کہ اُس نے مجھے اس کے لیے اچھی صحبت اور اچھے ساتھیوں سے جوڑ دیا۔ یوں میری زندگی غفلت کے اندھیروںسے نکلی اور میں نے ارادہ کرلیا کہ اس کام کو اپنا مقصدِ زندگی بنا لوں گی ان شاء اللہ۔

حصہ