اس رمضان آپ بہت یاد آئے

33

جاوید احمد خان
پروفیسر غفور صاحب کو لیاقت آباد سے ایک خاص انسیت تھی‘ ماہ رمضان ایک بڑی افطار پارٹی کے لیے نذیر صاحب جاکر ان سے پروگرام لے آتے تھے وہ خصوصی طور پر انھیں وقت دے دیتے تھے اسی طرح ہر سال عید ملن کے پروگرام میں بھی آتے تھے غفور صاحب کے افطار کے پروگرام سی ایریا میں اور پیلی کوٹھی سکندر آباد میں زیادہ ہوتے تھے ۔غفور صاحب اپنی تقریر میں اکثر ایک بات کہا کرتے تھے کہ آپ لوگ غور کریں اور جائزہ لیں کہ آپ کے رشتہ داروں میں دوست احباب میں ایسے کچھ لوگ ضرور ہو ں گے جو پچھلے سال رمضان میں ساتھ تھے اور اس سال وہ نہیں ہیں اور پتا نہیں اگلے برس کے رمضان میں ہم میں سے کون ہوگا اور کون نہیں ہوگا۔سچی بات یہی ہے کہ رمضان میں نہ معلوم کیوں ایسے ساتھیوں کی یاد شدت سے آتی ہے جو جو پچھلے سال رمضان میں ہمارے ساتھ تھے اور اب نہیں ہیں ایسے ہی کچھ تحریکی ساتھیوں کی یادوں کو ہم ان کی کچھ خصوصیات کے ساتھ آپ سے شیئر کرنا چاہتے ہیں ۔
پچھلے سال رمضان کی پانچ تاریخ کو ہمارے انتہائی پیارے ہر دلعزیز محبت و خلوص کے پیکر رکن جماعت جناب محمد علی قریشی صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس سال پانچویں روزے کو ان کے بیٹوں اورپوتوں نے ان کی یاد میں درس قرآن اور افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا حسین احمد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تحریکی ساتھی محمد علی قریشی صاحب انتہائی مخلص کارکن تھے لیاقت آباد کی ان گلیوں میں کم وبیش پچھلے پچاس سال انھوں نے دین کی دعوت کی خاطر اپنے پیروں کو خاک آلود کیا ہے ۔وہ لوگوں کے ذاتی اور سماجی مسائل میں دلچسپی لے کر انھیں حل کرانے کی کوشش کرتے اور اس طرح لوگوں کے دلوں میں جماعت اسلامی کے لیے جگہ بناتے تھے ۔لیاقت آباد بلاک 7,8,9,10 اور سکندرآباد پرانا غریب آبادکے در ودیوار مرحوم محمد علی قریشی کے اخلاص اور تحرک کی گواہی دیں گے ہم جب کبھی ان علاقوں میں ڈور ٹو ڈور ان کے ساتھ رابطہ عوام کی مہم چلاتے کوئی گھر ایسا نہ ملتا جہاں سے نکلنے والافرد چاہے وہ بچہ ہو جوان ہو یا بوڑھا اور وہ محمد علی صاحب کو نہ جانتا ہو اس علاقے کے عوام بھی ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے وہ پیدل چلتے تھے گھر سے ان کی دکان کا پیدل کا فاصلہ مشکل سے دس سے پندرہ منٹ کا ہوگا لیکن وہ یہ فاصلہ ایک گھنٹے یا اس سے کچھ زیادہ وقت میں طے کرتے تھے وجہ اس کی یہ تھی وہ راستے میں لوگوں سے نہ صرف سلام دعا کرتے ہوئے بلکہ اکثر کہیں رک کر مصافحہ ،معانقہ ،خیریت کے علاوہ ان کے مسئلے بھی سنتے تھے حسین بھائی کی یہ باتیں بالکل درست ہیں ،میں کبھی جب ان کے محلے کی مسجد دارالسلام میں نماز پڑھنے جاتا تو تو محمد علی صاحب کو پہلی صف میں پاتا، عاجزی و انکساری ان کی شخصیت کا حصہ تھی ہماری دعا ہے اللہ ان کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے۔آمین
پچھلے رمضان کے جمعۃالوداع کو ہمار ایک اور ہردلعزیز ساتھی رکن جماعت جناب مجاہد محمود برکاتی صاحب کا انتقال ہوا میں الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کے افطار ڈنر میں شرکت کے لیے گیا تو وہاں پر جناب منظر عالم صاحب نے اطلاع دی کے مجاہد بھائی کا انتقال ہو گیا ہے ویسے تو وہ کچھ بیمار تھے‘ بلڈ پریشر کے مریض بھی تھے لیکن ایسے شدید بیمار نہیں تھے اور نہ ہی وہ اسپتال میں داخل تھے بس اچانک گھر میں ان کی طبیعت خراب ہوئی ہسپتال لے جایا گیا معلوم ہوا ان کے دل نے کام کرنا چھوڑدیا۔ ڈاکٹروں نے بہت کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے ۔مجاہد بھائی لیاقت آباد میں رہتے تھے جس مکان میں رہتے تھے اسی میں ان کے والد جناب حکیم سید محمود برکاتی صاحب مطب کرتے تھے انہی کے ساتھ مجاہد بھائی اور ان کے بڑے بھائی جناب مختار برکاتی صاحب بھی ہوتے تھے پھر جب انھوں نے لیاقت آباد سے اپنی رہائش فیڈرل بی ایریا تبدیل کی تو وہیں قریب میں مطب بھی کرلیا جہاں محمود برکاتی صاحب اور مجاہد بھائی مطب کرتے تھے لیاقت آباد والے مکان میں مختار بھائی مطب کرتے ہیں ۔ مجاہد بھائی مطب تو فیڈرل بی ایریا میں ہی کرتے تھے لیکن روزانہ لیاقت آباد بھی آتے تھے کہ یہاں دوائیوں کا کارخانہ بھی دیکھتے تھے اس سال جمعیت الفلاح کے تحت یوم باب الاسلام کی تقریب میں ان کی یاد شدت سے آرہی تھی کہ 2016تک جمعیت الفلاح میں یوم ِباب الاسلام کا انتظام مجاہد بھائی کرتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان پر دو مضامین لکھ چکا ہوں ۔آج میں ان کے کچھ ایس ایم ایس تحریر کرنا چاہتا ہوں۔ مجاہد بھائی مجھے اکثر ایس ایم ایس کرتے رہتے تھے جس میں کبھی اشعار ہوتے کبھی کوئی جملہ ہوتا۔ میں جب بھی اپنے ایس ایم ایس کا میل باکس خالی کرنے بیٹھتا تھا جب مجاہد برکاتی کا نام آتا ان کی یاد میں ان پیغامات کو ڈیلیٹ نہیں کرتا ۔ 23جون 2017کو ان کی وفات ہوئی اس سے ڈھائی ماہ قبل مارچ کے مہینے ان کے پانچ پیغامات اس پس منظر میں دیکھیں تو ایک تاثر بنتا ہے وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔یکم مارچ کو انھوں نے ایس ایم ایس کیا ’’تین خوبیاں انسان کو باکما ل بنا دیتی ہیں ،ٹھنڈا دماغ‘ میٹھی زبان اورنرم دل۔‘‘رب العزت ہم سب کو ان خوبیاں سے نوازے‘ آمین۔3مارچ کو یہ اشعار بھیجے:

’’شکوہ اگر کوئی ہم سے ہو تو بتادینا
آج ہمیں بھی آپ دل سے دعا دینا
سنا ہے ملتی ہیں اپنوں کی دعائوں سے خوشیاں
دعادے کر دکھ اپنے بھی بھلا دینا
دعا ہم نے بھی کی ہے اپنے رب العزت سے
اے اللہ! میرے اپنے جہاں کہیں بھی ہوں زندگی ان کی خوشیوں سے سجا دینا‘‘

پھر 9مارچ کو پیغام بھیجا کہ “اللہ تعالیٰ رزق کی طرح اچھے اخلاق کی تقسیم بھی فرماتا ہے ۔ رزق سب کو دیتا ہے لیکن اخلاق حسنہ اپنے پسندیدہ بندوں کو دیتا ہے ۔ دوعمل ایسے ہیں جن کا ثواب کبھی تولا نہیں جاسکتا۔ ’’معاف کرنا‘‘ اور ’’انصاف کرنا۔‘‘ 10مارچ کو دو اشعار بھیجے:

عجیب لگتی ہے شام کبھی کبھی
زندگی لگتی ہے بے جان کبھی کبھی
سمجھ آئے تو ہمیں بھی بتانا کہ
کیوں کرتی ہیں یادیں پریشان کبھی کبھی

11مارچ کو ان کا آخری ایک شعر آیا خاموشیاںہی زندگی میں بہتر ہیں۔ لفظوں سے لوگ روٹھ جاتے ہیں مجاہد بھائی کو ہم سے رخصت ہوئے ایک سال ہو رہا ہے ‘ان کی یادیں اور باتیں ہمارا سرمایہ ہیں دعا ہے اللہ ان کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے آمین۔
ایک اور رکن جماعت جناب بشیر بھائی مرحوم جو محمد علی صاحب کے گھر کے سامنے رہتے تھے 15ستمبر2017بروز جمعہ کو کورنگی میں واقع اپنے دفتر میں کام کے دوران اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔ان سے میری تقریباَ 46 پرانی رفاقت تھی ایک ہی محلے میں رہنے اور جماعت کی سرگرمیوں میں ساتھ رہنے کی وجہ دوستانہ تعلقات بہت گہرے تھے اسی لیے ان کی وفات پر میں اپنے مضمون کا عنوان یہی رکھا تھا کہ تنہائیاں بڑھتی جارہی ہیں پچھلے رمضان میں ہمارے ساتھ محمد علی صاحب کی تدفین کے مراحل اور پھر سراج الحق صاحب کی تعزیت کے لیے آمد اور ان کے گھر درس قرآن کے پروگرام میں فعال تھے لیکن کسے معلوم تھا کہ اب سے تین ماہ بعد یہ بھی ہم سے رخصت ہو جائیں گے بشیر بھائی 1990سے 1992تک لیاقت آباد جماعت اسلامی کے ناظم اعلیٰ بھی رہے ہیں اس سے قبل یہ اپنے حلقے کے طویل عرصے تک ناظم حلقہ بھی رہے ہیں اس سال بشیر بھائی بھی ہمیں بہت یاد آرہے ہیں بشیر بھائی چند ماہ قبل ہی لیاقت آباد سے گلشن معمار شفٹ ہو ئے تھے اب ہمارے ہم مزاج اور ہم خیال لوگ ختم ہوتے جارہے ہیں اسی لیے اب اکثر دل اداس رہتا ہے ۔ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ بشیر بھائی مغفرت اور ان کے درجات کو بلند فرمائے‘آمین۔
اب سے تین ماہ قبل اسی حلقے کے ایک اور پرانے ساتھی رکن جماعت جو کئی سال قبل نارتھ کراچی منتقل ہو گئے تھے جناب حافظ محمد ادریس صاحب کا انتقال ہوگیا۔ایک اور چراغ گل ہو گیا کے عنوان سے ان پر ایک مضمون بھی سنڈے میگزین میں شائع ہو چکا ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے۔آمین
ہمارا کزن طاسین سراج 23برس کا نوجوان جو کافی عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھا اوربڑی بہادری سے اس مرض کا مقابلہ کررہا تھا‘ خاموش طبیعت کا یہ نوجوان ادراۂ نور حق کے میڈیا سیل سے وابستہ تھا۔ مرحوم شمیم احمد صاحب نے اس کا تقرر کیا تھا۔ طاسین کے والد سراج صاحب ہمارے دوست تھے ایک زمانے میں ہمارا ان کا ساتھ تھا میں نے ان کو تحریکی لٹریچر پڑھا یا پھر بہن کے سسرال میں ان کی شادی ہوگئی ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں تین چار سال قبل ان کی اہلیہ کا بھی کینسر کے مرض میں انتقال ہوا تھا ان کے بڑے بیٹے طہ سراج رکن جماعت اور زون دستگیر میں ایک حلقے کے ناظم ہیں طاسین سب سے چھوٹے تھے ۔طاسین کی عیادت کو جب بھی جانا ہوا ہنستا مسکراتاچہرہ تھا جس پر بیماری کی وجہ سے مایوسی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے درمیان میں کئی بار جب جب بھی صحت سنبھل جاتی یہ ادارہ نور حق میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے حاضر ہو جاتے۔ ان کے جنازے میں جمعیت اور جماعت سے وابستہ سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے‘آمین ۔
ایک اور تحریکی ساتھی جو لیاقت آباد کے دیرینہ کارکن تھے جناب زاہد علی صدیقی اعظم نگر میں رہتے تھے کئی سال قبل سرجانی ٹائون میں شفٹ ہوگئے تھے لیکن ہر اتوار کو لیاقت آباد میں اپنے دوستوں اور جماعت کے کارکنوں سے ملنے آتے تھے پھر یہ سلسلہ کچھ کم ہوا تو ہر ماہ دو ماہ بعد ضرور علاقے کا چکر لگتا تھا‘ لوگ لیاقت آباد سے تو نکل جاتے ہیں لیکن ان کے اندر سے لیاقت آباد نہیں نکلتا ۔ زاہد بھائی جوشیلے کارکن تھے اتنے پر جوش تھے کہ ہر وقت غصے میں رہتے تھے ویسے وہ ہنس مکھ انسان تھے اور اپنا ایک خاص زاویۂ نگاہ رکھتے تھے اور اسی سے تمام کارکنوں کو دیکھتے تھے۔ جماعت کے لیے بڑے مخلص تھے۔ ہر قسم کے افراد سے ان کا رابطہ رہتا تھا اور بہت سے افراد کو انھوں نے جماعت سے متعارف بھی کرایا‘ ان کے حلقے اعظم نگر سے حال ہی میں ایک صاحب حبیب الرحمن جماعت کے رکن بنے ہیں انھوں نے بتایا میں 1970میں پی پی پی کا کارکن تھا پھر مجھے زاہد بھائی جماعت میں لے کر آئے یہ جماعت کی خاطر لوگوں سے جھگڑا بھی کر لیتے تھے 70,80کی دہائی میں ایک دفعہ ان کے حلقے میں جانا ہوا تو زاہد بھائی جماعت کے دفتر و دارالمطالعہ میں بیٹھنے کے بجائے اس کے سامنے ایک دکان پر بیٹھے تھے معلوم ہوا کہ ان کی لوز ٹاکنگ کی وجہ سے جماعت نے ان کے دفتر و دارالمطالعہ میں بیٹھنے پر پابندی لگا دی ہے۔ خوب کارکن تھے تنقید بھی کرتے تھے پابندیاں بھی قبول کرتے تھے لیکن جماعت کی چوکھٹ سے کبھی رشتہ نہیں توڑا۔ ایک دفعہ مجھ سے غصے میں کہنے لگے جاوید بھائی ہم تو مولانا مودودیؒ کی دو چار کتابیں پڑھ کے پھنس گئے ہیں‘ جائیں تو جائیں کہاں۔ زاہد بھائی ایک اور کام کرتے تھے جو شاید اب کوئی نہیں کرتا یہ کسی ہوٹل میں بیٹھتے اخبار پڑھتے تو اس میں جتنی جماعت کی خبریں یا جماعت کے رہنمائوں کے بیانات وغیرہ ہوتے بال پین سے اس پر سرکل گھما دیتے تاکہ جو کوئی بھی اخبار اٹھائے پہلے جماعت کی خبریں پڑھ لے۔ ہمیں بروقت ان کے انتقال کی خبر نہ مل سکی اس لیے جنازے میں شرکت سے محرومی رہی بعد میں ہم کچھ کارکنوں کے ساتھ ان کے گھر تعزیت کے لیے گئے تھے دعا ہے اللہ تعالیٰ زاہد بھائی کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے۔
شکیل خان لیاقت آباد والے نمایاں نام‘ آرٹس کونسل سے وابستہ ہیں ان کے چھوٹے بھائی سہیل خان جو ایک الیکشن میں میرے الیکشن ایجنٹ بھی تھے دو تین ماہ قبل ان کا بھی انتقال ہو گیا اسی دن ہمارے حلقے کے ایک اور کارکن نعمان کے والد محترم عثمان صاحب کا بھی انتقال ہوا تھا ان دونوں مرحومین کی نماز جنازہ مسجد طیبہ بلاک پانچ میں بعد عصر ہوئی تھی جناب منور حسن صاحب نے نماز جنازہ پڑھایا تھا نماز جنازہ میں حافظ نعیم الرحمن صاحب بھی شریک ہوئے تھے ۔
اس رمضان سے قبل اور تحریکی ساتھیوں کے یہاں بھی کچھ وفاتیںہوئی ہیں اوپر جو کارکن نعمان کے والد کے انتقال کا لکھا ہے کچھ ماہ قبل ان کی بہن کا بھی انتقال ہوا وہ طویل عرصے بیمار تھیں اور اسپتال میں داخل تھیں بلاک 5 کے ایک کارکن توصیف بھائی کے والد محترم مشتاق احمد صاحب کا انتقال ہوا یہ کینسر کے مرض کا شکار تھے سن ستر میں یہ جماعت کے کارکن تھے اسی طرح اسی بلاک پانچ کے رکن اور دیرینہ ساتھی جناب شاہد بھائی کی والدہ کا بھی انتقال ہوا ہم ان سب مرحومین کے لیے دعائے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں۔ آمین

حصہ