کیا آپ تبدیلی کے لیے تیار ہیں!۔

97

سید مہرالدین افضل
قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کا حکم نہ ماننے، اور اللہ سے بغاوت کرنے کا نقصان صرف آخرت کی زندگی ہی میں نہیں ہو گا… بلکہ دنیا کی زندگی بھی تنگ و تباہ ہوگی۔ اور اگر کوئی قوم نافرمانی کے بجائے ایمان و تقویٰ اور احکام الٰہی کی اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے تو اس پر دنیا میں بھی نعمتیں برسیں گی۔ سورہ طٰہٰ آیت 124 میں ارشاد ہوا: ’’اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے‘‘۔ سورہ مائدہ آیت 66 میں ارشاد ہوا: ’’اور اگر ان اہلِ کتاب نے توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا، جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا‘‘۔ سورہ اعراف آیت 96میں ارشاد ہوا ’’اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے… ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے‘‘۔ سورہ ہود آیت 52 میں حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کرکے فرمایا: ’’اور اے میری قوم کے لوگو! اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا‘‘۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے بھی سورہ نوح آیت 3 میں اہلِ مکہ کو مخاطب کرکے یہ بات فرمائی گئی: ’’اور یہ کہ اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، تو وہ ایک مقرر وقت تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا‘‘۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں سے فرمایا: ’’ایک کلمہ ہے جس کے تم قائل ہوجاؤ تو عرب و عجم کے فرماں روا ہوجاؤ گے‘‘۔ قرآن مجید کی اسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک مرتبہ قحط کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور صرف استغفار ہی کی۔ لوگوں نے عرض کیا: امیرالمومنین آپ نے بارش کے لیے تو دعا کی ہی نہیں۔ فرمایا: میں نے آسمان کے ان دروازوں کو کھٹکھٹا دیا ہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے۔ اور پھر سورہ نوح کی یہ آیات لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ مشہور تابعی حضرت حسنؒ بصری کی مجلس میں ایک شخص نے خشک سالی کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ سے استغفار کرو۔ دوسرے شخص نے تنگ دستی کی شکایت کی، تیسرے نے کہا میرے ہاں اولاد نہیں ہوتی، چوتھے نے کہا میری زمین کی پیداوار کم ہورہی ہے۔ ہر ایک کو وہ یہی جواب دیتے چلے گئے کہ استغفار کرو۔ لوگوں نے کہا: یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ سب کو مختلف شکایتوں کا ایک ہی علاج بتا رہے ہیں؟ انہوں نے جواب میں سورہ نوح کی یہ آیات سنادیں۔
ایک حکایت… اللہ کا سہارا:
عالمگیر بادشاہ کے زمانے میں ایک ریاست کے والی کا انتقال ہوگیا… اس کا بچہ ابھی کم عمر تھا اس لیے کسی اور کو ریاست کا والی بنادیا گیا۔ یہ لڑکا اپنے چند بزرگوں کے مشورے سے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ اسے اپنے والد کی جگہ والیٔ ریاست کے طور پر بحال کیا جائے۔ عالمگیر اس وقت تالاب میں نہارہے تھے۔ انھوں نے لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا اور کہا ہم تمہیں اس تالاب کے اندر ڈبو دیں گے… تو وہ لڑکا ہنسا۔ بادشاہ نے پوچھا کہ تم کیوں ہنستے ہو؟ میں تمہیں ڈبونے والا ہوں۔ لڑکے نے کہا: بادشاہ جس کو بازوئوں میں سنبھال لے وہ کیسے ڈوب سکتا ہے؟ اندازہ کریں کہ ایک دنیاوی بادشاہ پر ایک بچے کو اتنا اعتماد ہوسکتا ہے تو بندوں کو اپنے رب پر کتنا اعتماد ہونا چاہیے۔ اللہ کے سہارے کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا مطلب یہ ہے کہ بس اسی کے ہوجائیں، اسی کو اپنا وکیل اور سہارا بنالیں۔ اس کے سوا کوئی قوت نہیں ہے۔ تمام خزانے اسی کے پاس ہیں۔ وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں۔ انسان اگر اس کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ لے تو اسے وہ قوت اور حمایت حاصل ہوگی جو اسے زمین پر اللہ کے خلیفہ کے طور پر زندگی گزارنے کے لیے درکار ہے۔
اللہ تعالیٰ کو بندے کی توبہ پسند ہے:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم دن میں ستّر مرتبہ اور سو مرتبہ استغفار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے کتنا خوش ہوتے ہیں اس کا اندازہ اس روایت سے کیجیے کہ ایک مسافر صحرا میں آرام کے لیے لیٹتا ہے تو اس کی آنکھ لگ جاتی ہے اور وہ سوجاتا ہے۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ اونٹ جس پر اس کا سامانِ زندگی تھا، غائب ہے۔ صحرا میں بھٹکتا پھرتا ہے، کہیں اونٹ کا سراغ نہیں ملتا۔ مایوس ہوجاتا ہے کہ اب موت سامنے ہے۔ موت کے انتظار میں لیٹ جاتا ہے، پھر آنکھ لگ جاتی ہے۔ جاگتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اونٹ موجود ہے۔ خوشی کے مارے آسمان کی طرف چہرہ اٹھا کر کہتا ہے: اے اللہ تُو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ یعنی کہنا کچھ چاہتا ہے، کہتا کچھ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کو اس بندے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جب اس کا بندہ گناہ سے توبہ کرتا ہے۔
اللہ کو توبہ کرنے والے پسند ہیں، لیکن سچی توبہ۔ سچی توبہ کی کچھ شرائط ہیں: ندامت کے احساس سے دل میں غم کی کیفیت پیدا ہو…گناہ سے رک جائیں…آئندہ نہ کرنے کا عزم ہو… نیکیوں میں اضافہ کریں کیوں کہ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔
اللہ پردہ رکھتا ہے:
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ہے، بارش نہیں ہورہی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اہلِ ایمان کو لے کر میدان میں نکلتے ہیں اور بارش کی دعا کرتے ہیں۔ لیکن بارش نہیں ہوتی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ سے پوچھتے ہیں کہ بارش کیوں نہیں ہوتی؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہاں ایک فرد ایسا ہے جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے سب کی دعا قبول نہیں ہورہی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ ایک بندہ جو بہت زیادہ گناہ گار ہے باہر آجائے۔ وہ شخص سنتا ہے اور سمجھ جاتا ہے کہ وہ میں ہوں۔ اللہ سے دل ہی دل میں توبہ کرتا ہے اور فریاد کرتا ہے کہ میرا پردہ رکھ لے… اور بارش ہوجاتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ کوئی باہر آیا نہیں اور بارش ہوگئی؟ اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں کہ اس بندے نے توبہ کرلی ہے۔
استغفار سے درجات کی بلندی:
دنیا میں معافی ملنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ بہت سے بہت آپ اپنی پوزیشن اور گریڈ پر بحال کردئیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ڈی موشن ہوجاتی ہے۔ بہت سے بہت ری اسٹور کردیتے ہیں… جبکہ اللہ تعالیٰ نہ صرف گناہ معاف کرتا ہے بلکہ ان گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلیا اللہ تعالیٰ اس کو ہر تنگی سے نکال دیتا ہے اور ہر طرح کے غم اور افسوس سے بچا لیتا ہے اور وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ تنگی کا علاج استغفار ہے… غم کا علاج استغفار ہے۔ اللہ رب العالمین کا وعدہ ہے کہ اگر تم توبہ کرلو تو میں تمہارے پچھلے گناہ معاف کردوں گا… باز آجائو۔ ندامت کا احساس ہوگا تو آنکھ سے آنسو بھی بہیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جس آنکھ سے اللہ کے خوف سے آنسو نکل پڑیں اس پر جہنم کی آگ حرام ہے۔ اللہ کے حقوق صرف ندامت، آئندہ گناہ نہ کرنے کے عزم اور زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے سے ادا ہوجائیں گے، لیکن جو بندوں کے حقوق زائل کیے ہیں وہ انہیں ادا کرنے ہوں گے یا معافی مانگنی ہوگی… اور اگر ان کا انتقال ہوگیا ہے تو ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنی ہوگی۔ لیکن اگر حرام کھا رہے ہیں، حرام کما رہے ہیں، پھر کتنے ہی آنسو بہالیں اور استغفار کریں، توبہ قبول نہ ہوگی۔

حصہ