منتخب حکومتوں نے 5سال میں قوم کو کیا دیا؟۔

96

محمد انور
ملک میں 2008ء سے جاری مسلسل جمہوریت کا دوسرا دور بھی مکمل ہوا، اور 2013ء میں منتخب ہونے والی جمہوری حکومتیں اب ختم ہوچکی ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں نگراں حکومتیں قائم ہوگئیں، مگر ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی اب پہلے سے زیادہ مسائل کا شکار ہوچکا ہے۔ یہاں بجلی کے بحران کے ساتھ پینے کے پانی کی قلت میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جبکہ شہر کے متعدد علاقوں میں سیوریج، گندگی، غلاظت ، بے ہنگم غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات سے اب سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کی شکایات بھی بڑھنے لگی ہیں۔ ایسے میں سوائے جماعت اسلامی کے کوئی بھی سیاسی پارٹی عوام کی دادرسی اور مسائل کے حل کے لیے نظر نہیں آتی۔ کیونکہ دیگر جماعتوں کی سیاست کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی سیاست انسانیت کی خدمت اور ان کو درپیش مسائل کے سدباب کے لیے جدوجہد ہے۔
تپتی دھوپ ہو یا اچانک بارشوں سے ندی نالوں کا بھر جانا، جماعت اسلامی کے پُرجوش کارکن ہمیشہ ہی لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مہنگائی اور منافع خوری کے خلاف بھی صرف جماعت اسلامی ہی آواز اٹھاکر حکمرانوں کی توجہ اس جانب مبذول کراتی ہے۔
ایسی صورت میں کراچی کا بلدیاتی نظام ہو یا ملک کے کسی بھی ادارے کی لوٹ مار، جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے اور انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار کارکن ہمیشہ ہی سرگرم پائے جاتے ہیں۔ جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں صرف اپنے مفادات کے لیے اقتدار میں رہنے کے باوجود شہروں اور ملک کا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کرپاتیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز ملک میں اور پاکستان پیپلز پارٹی ملک کے سب سے بڑے شہر سے تعلق رکھنے والے صوبہ سندھ میں مسلسل دس سال سے حکمرانی کرنے کے باوجود عوامی مسائل حل کرانے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک اور صوبوں میں اقتدار کے مزے لوٹنے والی یہ جماعتیں ملک و قوم کو کچھ بھی نہیں لوٹا سکیں۔ یہاں تک کہ اپنے ہی اعلان کردہ منصوبوں کو بھی مکمل نہیں کراسکیں۔
ہاں البتہ مسلم لیگ(ن) کی منتخب حکومت نے اپنے دور کے آخر میں اپنے وزیراعظم و قومی اسمبلی میں قائد ایوان نوازشریف کو ہی ایوان کیا، وزیراعظم ہاؤس سے بھی باہر کرادیا، جس کے بعد نوازشریف بے بسی سے مسلسل ہر جگہ یہ سوال کرتے ہیں کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ جبکہ ملک کی اپوزیشن پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ناکامی کی وجہ سے بزرگ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کو برخواست کرکے قدرے جوان مراد علی شاہ کو 26 جولائی 2016ء کو چیف منسٹر بنایا، مگر اس کے باوجود وہ کام نہیں کرسکی جس کی عوام کی توقع تھی۔
دونوں جماعتیں کرپشن پر قابو پانے کے دعووں کے برعکس بڑی کرپشن میں ملوث رہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے متعدد رہنما قومی احتساب بیورو (نیب) کے مختلف مقدمات میں اِن دنوں پھنسے ہوئے ہیں۔ سندھ میں 2008ء سے 2018ء تک کھلی کرپشن ہی نہیں بلکہ مثالی بے قاعدگیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس کی وجہ سے نیب متحرک ہوا تو سندھ کی حکومت اور اسمبلی کے اراکین بھی نیب کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔ ان کی کوشش رہی کہ نیب کو سندھ بدر کردیا جائے اور اپنا صوبائی احتساب بیورو تشکیل دے دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین نے سندھ اسمبلی میں اپنی مرضی کی قانون سازی کرنے کی بھی کوشش کی۔
دنیا بھر میں حکومتیں عوام کو جو سہولیات فراہم کرتی ہیں اُن میں صحت کی سہولت سب سے اہم ہے۔ مگر دنیا بھر میں دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے 60 ممالک کے گلوبل ایکسیس ٹو ہیلتھ کیئر انڈیکس (طبی سہولیات تک رسائی کی عالمی فہرست) کے مطابق صحت سے متعلق عالمی درجہ بندی میں پاکستان 52 ویں نمبر پر موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت 45 ویں اور نیپال 50 ویں پوزیشن کے ساتھ پاکستان سے آگے ہیں۔ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے 10 ہزار افراد کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈاکٹروں، نرسوں اور مڈوائف کی مجموعی تعداد کم ازکم 23 مقرر کر رکھی ہے۔ پاکستان اس مقررہ حد پر بھی پورا نہیں اتر رہا۔ جبکہ اکنامک سروے آف پاکستان-2017-18ء کے اعداد و شمار کے مطابق ہر دس ہزار افراد کے لیے دستیاب ڈاکٹروں، نرسوں اور مڈ وائف کی اوسط مجموعی تعداد 17 ہے۔
سندھ میں دس ہزار کی آبادی کے لیے ڈاکٹروں، نرسوں اور مڈ وائف کی اوسط تعداد محض 2.3 ہے۔
وفاق اور سندھ حکومت نے کراچی کے لیے گزشتہ 5 سالہ دور میں کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہیں کیا۔ وفاق نے شہر کے لیے گرین بس منصوبے کا سنگِ بنیاد 10 جولائی 2014ء کو رکھا، اسے 3 سال یعنی 2017ء میں مکمل ہونا تھا، مگر تاحال مکمل نہ ہوسکا۔ کراچی کے لیے آب رسانی کے منصوبے ’کے فور‘ کو بھی گزشتہ سال دسمبر تک مکمل کیا جانا تھا مگر اِس سال دسمبر تک بھی اس کی تکمیل کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کی تکمیل پر وفاق کوکوئی اعتراض نہیں ہے، اس پروجیکٹ کو سندھ حکومت کو ایگزیکیوٹ کرنا ہے، مگر تاحال اس منصوبے کے لیے بنیادی کام بھی نہیں کرایا جاسکا۔ اسی طرح کراچی کے سیوریج نظام کی بہتری کے لیے ایس 3 کا منصوبہ جسے ہر حال میں مکمل ہونا تھا، مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ اب مزید کئی برسوں تک بھی مکمل نہیں ہوگا کیونکہ وفاق نے اس منصوبے کے لیے اُس وقت تک مزید فنڈز جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک جاری کیے گئے فنڈز کا حساب نہیں دیا جاتا۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ترجیحی بنیادوں پر بلدیہ عظمیٰ کراچی اور شہر کے ضلعی بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور امورِ کار پر ضرب لگائی، ساتھ ہی ان اداروں میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں پر آنکھیں بند رکھیں۔ صفائی کے نظام کے لیے سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے نام سے 2015ء میں علیحدہ ادارہ تشکیل دیا جو 3 ایم ڈی کی تبدیلی کے باوجود مکمل طور پر فنکشنل نہ ہوسکا۔
جمہوری ادوار میں ہمیشہ کی طرح گزشتہ دس برسوں سے کراچی ترقی سے تنزلی کی طرف جانے لگا۔ کراچی کی ترقی ہمیشہ منتخب بلدیاتی ادوار میں ہوئی جو ایک مثال ہے۔ مگر تمام جمہوری ادوار میں کراچی کو نقصان پہنچایا گیا، یا یہاں نقصانات ہوتے رہے۔
کراچی کی تاریخ جمہوریت کے لیے قربانی دینے کے حوالے سے جانی جاتی ہے مگر اس کی بدقسمتی کہ جمہوری حکومتوں کے بیشتر ادوار میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے سے اسے براہِ راست نقصان پہنچا۔
کراچی میں ریکارڈ ترقیاتی کام سابق صدر جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویزمشرف کے دور میں ہوئے، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں ادوار میں بنیادی جمہوری نظام بھرپور طریقے سے رائج تھا۔
ختم ہونے والے جمہوری دور میں سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے، لیکن لاہور اور کراچی کے بلدیاتی اختیارات پر شب خون مارکر انہیں کم کردیا گیا۔
کراچی کی بلدیہ کے پاس نہ تو پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام ہے اور نہ ہی نکاسی آب کے امور، اور نہ ہی صفائی ستھرائی کے بنیادی کاموں کی ذمے داری۔ نتیجے میں کراچی پیاسا ہونے کے ساتھ گندگی اور غلاظت کا بھی شکار ہوگیا۔ یہاں ہے تو اب صرف جمہوری نظام ہے۔ کیا ایسا جمہوری نظام آئندہ ملک کے سب سے بڑے شہر سمیت ملک اور قوم کی ترقی کا ضامن ہوگا؟ اس کا جواب صرف قوم کو دینا ہوگا اور آنے والے انتخابات کے ذریعے دینا ہوگا۔
جمہوری دور پر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی
اور خواجہ اظہارالحسن کا تبصرہ
جمہوریت کے مسلسل دس سالہ دور میں سندھ اور وفاقی حکومتوں کا کردار کیا رہا اور اس سے عوام کو کیا فائدہ ہوا؟ اس سوال کے جواب میں سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے حزبِ اختلاف کے رہنما خواجہ اظہارالحسن کا کہنا ہے کہ سندھ میں گورننس نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی تو کون سے منصوبے اور کیسے منصوبے؟ اِس بار سندھ حکومت نے اپوزیشن جماعت کے حلقوں کے ساتھ تو دشمنوں جیسا سلوک کیا لیکن اپنے علاقوں کو بھی اجاڑ دیا۔ نہ کام کرایا اور نہ ہی فنڈز ریلیز کیے۔ پورے دور میں بدانتظامی اور بدعنوانی عروج پر رہی۔ بلدیاتی سطح پر اپنے لوگوں کو ایڈمنسٹریٹرز اور ایم سی لگاکر کھل کر لوٹ مار کی گئی۔ خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے کراچی سمیت سبھی حلقوں کے ساتھ دشمنوں والا رویہ روا رکھا گیا۔
جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ جمہوری حکومتوں کے دور میں جمہوری عمل آگے بڑھا ہے، توقع تھی کہ جمہوریت کے ثمرات عوام کے حق میں مؤثر ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ عوام کے دیرینہ مسائل حکومتوں کی توجہ اور ان کے بجٹ کا بڑا حصہ نہ پاسکے۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ سندھ کے اندر تعلیم اور صحت کے امور حکومتی توجہ حاصل نہ کرسکے، اسی طرح بڑے ترقیاتی کام اور بلدیاتی امور آج بھی متاثر ہیں۔ سندھ کے بڑے شہر کچرے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے، اسی کے نتیجے میں عوام کے مسائل اجاگر ہوں گے اور حل بھی ہوں گے۔

حصہ