سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

41

(تیسرا اور آخری حصہ)
یہ تھا وہ پاکستان جس کے لیے مسلمان ہند نے ایسی ایسی قربانیاں پیش کیں جس کی کوئی مثال تاریخ اسلام میں موجود نہیں جبکہ قربانیاں دینے والے اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ جن جن علاقوں میں پاکستان بننا ہے وہ ان کے علاقے نہیں۔ پاکستان بننے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں مسلمانان ہند نے محض اس لیے ہجرت کرنا اور موجودہ پاکستان آنا پسند کیا کہ انھیں اسلام اور اسلامی نظام سے پیار تھا اور اس جرم کی سزا انھیں آج تک مل رہی ہے اس کے باوجود وہ اس پاکستان سے پیار کرتے ہیں اس لیے کہ وہ اللہ سے پیار کرتے ہیں لیکن اس خطہ کے لوگ گزشتہ ستر برس سے غدار ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ تاریخ کا ایسا المیہ ہے جس کو تاریخ ہمیشہ سیاہ ترین حرفوں سے لکھے گی اور اس کو جتنا مٹانے کی کوشش کی جائے گی اس کی سیاہی کم ہونے کی بجائے اور گہری ہوتی جائے گی۔
قاتلانہ حملہ
مارشل لا اٹھنے کے بعد اکتوبر 1963ء میں سید مودودی نے جماعت اسلامی کا سالانہ جلسہ لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایوب خان کی حکومت نے اس کو روکنے کی پوری پوری کوشش کی اور منٹو پارک کی بجائے بھاٹی دروازے کے باہر تنگ جگہ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی۔ بعد ازاں لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا گیا۔ 25 اکتوبر کو جلسہ شروع ہوا۔ سید مودودی نے تقریر شروع ہی کی تھی جلسہ گاہ میں موجود نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کی جس سے جماعت اسلامی کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا تاہم مولانامودودی بچ گئے۔
جماعت پر پابندی
ایوب خان نے 6 جنوری 1964ء کو جماعت اسلامی کو خلافِ قانون قرار دے دیا۔ سید مودودی اور جماعت اسلامی کے 65 رہنماؤں کو گرفتار کر کے قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس قید کا دورانیہ 9 ماہ رہا جس کے بعد انہیں عدالیہ عظمیٰ کے فیصلے پر رہا کردیا گیا۔
دوبارہ گرفتاری
1967ء میں عید کے چاند کے مسئلے پر شریعت کا مسئلہ بتانے کے جرم میں سید مودودی کو پھر گرفتار کرلیا اور دو ماہ تک بنوں جیل میں رکھا گیا۔
یومِ شوکت اسلام
مشرقی پاکستان کے اشتراکی رہنما مولانا بھاشانی نے یکم جون 1970ء کو پورے ملک میں اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے اعلان کیا تب سید مودودی نے اسلام کی عظمت و شوکت کا جھنڈا بلند کرنے کے لیے پورے ملک میں “یومِ شوکتِ اسلام” منانے کا اعلان کیا۔ اور 31 مئی 1970ء کو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شوکتِ اسلام مظاہرہ ہوا اور سینکڑوں جلوس نکالے گئے۔
سقوط ڈھاکہ
جب مشرقی پاکستان میں بغاوت ہوئی تو بھارت نے باغیوں کی مدد کے لیے مشرقی پاکستان پر کھلم کھلا حملہ کردیا۔ اس وقت سید مودودی اور جماعت اسلامی نے ملک بچانے کے لیے بھارتی فوجوں، ہندوؤں اور سوشلسٹوں کامقابلہ کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دیں لیکن ملک نہ بچ سکا اور بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیا۔ فوج نے بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور تقریباًً ایک لاکھ پاکستانی فوجی اور شہری بھارت کی قید میں چلے گئے۔ بالآخر 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔
امارت سے علیحدگی
سید مودودی مسلسل خرابی صحت کی بنا پر 4 نومبر 1972ء کو جماعت اسلامی کی امارت سے علیحدہ ہوگئے۔ وہ 26 اگست 1941ء کو امیر جماعت مقرر ہوئے تھے اور قیدو بند کے وقفہ کے علاوہ 31 سال 2 ماہ اور8 دن تک جماعت کی امارت پر فائز رہے۔
تفہیم القرآن
امارت سے علیحدگی کے بعد انہوں نے تمام تر توجہ تصنیف و تالیف کے کام خصوصاً تفہیم القرآن کی طباعت اور توسیع اشاعت پر مرکوز کردی۔ چودہویں صدی ہجری میں اس عظیم کتاب کی تالیف نے اس صدی کو یادگار بنا دیا، اس عظیم علمی خدمت کو مسلمانوں کی تاریخِ علم و ادب کبھی فراموش نہ کرسکے گی۔ اس کتاب نے لوگوں کی زندگیوں کے رخ بدل دیے، یہ وہاں تک پہنچی جہاں تک سید مودودی کی دیگر تصانیف نہ پہنچ سکتی تھیں۔اس نے جدید طبقے کو بھی مسخر کیا اور قدیم طبقے نے بھی اقامت دین کا سبق اس کتاب سے سیکھا ہے۔
بیرونی سفر
1956ء سے 1974ء تک کے عرصے میں آپ نے دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کیا۔ اپنے متعدد دوروں کے دوران انہوں نے قاہرہ، دمشق، عمان، مکہ، مدینہ، جدہ، کویت، رباط، استنبول، لندن، نیویارک، ٹورنٹو کے علاوہ کئی بین الاقوامی مراکز میں لیکچر دیے۔ انہی سالوں میں آپ نے 10عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1959ء اور 1960ء میں قرآن پاک میں مذکور مقامات کی جغرافیائی کیفیت کا مشاہدہ کرنے کے لیے سعودی عرب، اردن، (بشمول یروشلم) شام اور مصر کا تفصیلی مطالعاتی دورہ کیا۔ انہیں مدینہ یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں مدعو کیا گیا۔ آپ 1962ء سے اس جامعہ کے قیام تک اس کی اکیڈمک کونسل کے رکن تھے۔ آپ رابطہ عالم اسلامی کی فاؤنڈیشن کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ اور اکیڈمی آف ریسرچ آن اسلامک لا مدینہ کے بھی رکن تھے۔ آپ کی تصانیف کا عربی، انگریزی، فارسی، ترکی، بنگالی، جرمن، فرانسیسی، ہندی، جاپانی، سواحلی، تامل، تیلگو سمیت 22 زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ جبکہ مدینہ یونیورسٹی، ریاض، سوڈان، مصر اور دیگر کئی ممالک میں سید مودودی کی کتابیں نصاب تعلیم کا حصہ ہیں۔
انتقال
1979ء میں سید مودودی کے گردے اور قلب میں تکلیف ہوئی جس کے علاج کے لیے آپ ریاست ہائے متحدہ امریکا گئے جہاں ان کے صاحبزادے بطور معالج برسر روزگار تھے۔ آپ کے چند آپریشن بھی ہوئے مگر 22 ستمبر 1979ء کو 76 برس کی عمر آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ کاپہلا جنازہ بفیلو، ریاست نیویارک میں پڑھا گیا اور پھرآپ کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آپ کا جنازہ قطر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، سابق صدر اخوان المسلمون شام علامہ یوسف القرضاوی نے پڑھایا۔

حصہ